24/08/2026
گھر سے بھاگی ہوئی لڑکی
جب پہرے دار کتے اسے گھسیٹ کر گھر لے آٸے
اس کے چہرے کی دیوار پر گندے نعرے لکھے گئے
اس کے ہونٹوں سے
مسکراہٹ کا اسٹیکر لعنت ملامت کی بارش میں پھٹ چکا تھا
اس کے خواب آنکھوں میں
گیلے کاغذ کی طرح تعبیر کے حروف سے محروم ہو چکے تھے
رشتہ داروں نے اس کی قسمت کا فیصلہ
اس کے ماتھے پر ایک کیل کی طرح ٹھونک دیا تھا
وہ ڈسٹ بن کے کچرے کی طرح
موت کے ڈھیر پر پھینکی جائے گی
لیکن ایک بار پھر
وہ گھر سے بھاگ نکلی
صبح
ریل کی پٹری پر
سورج کی کرنوں کے ساتھ
سرخ لباس میں
دلہن بنی
پڑی ہوئی تھی
بخشن مہرانوی
ترجمہ:احمد آزاد