ایک نظم

ایک نظم ایک نظم

25/08/2026

رشتے

رشتے
آدمی کی کمزوری ہیں
یا
کمزوری کے احساس کا نتیجہ
یہ ناگ پھنی کی وہ باڑھ ہیں
جسے فصل کی حفاظت کے لئے
کھیت کی منڈیروں پر لگا دیا جاتا ہے
اور
ناگ پھنی کا قرب
ضرر سے خالی نہیں ہے

جاوید ندیم

24/08/2026

گھر سے بھاگی ہوئی لڑکی

جب پہرے دار کتے اسے گھسیٹ کر گھر لے آٸے
اس کے چہرے کی دیوار پر گندے نعرے لکھے گئے

اس کے ہونٹوں سے
مسکراہٹ کا اسٹیکر لعنت ملامت کی بارش میں پھٹ چکا تھا

اس کے خواب آنکھوں میں
گیلے کاغذ کی طرح تعبیر کے حروف سے محروم ہو چکے تھے

رشتہ داروں نے اس کی قسمت کا فیصلہ
اس کے ماتھے پر ایک کیل کی طرح ٹھونک دیا تھا

وہ ڈسٹ بن کے کچرے کی طرح
موت کے ڈھیر پر پھینکی جائے گی

لیکن ایک بار پھر
وہ گھر سے بھاگ نکلی

صبح
ریل کی پٹری پر
سورج کی کرنوں کے ساتھ
سرخ لباس میں
دلہن بنی
پڑی ہوئی تھی

بخشن مہرانوی
ترجمہ:احمد آزاد

21/08/2026

"پالتو"

محبت کا صرف یہ پہلو بدصورت ہے کہ وہ کسی کو پالتو بنانے کی قوت رکھتی ہے

میں نے ایک پرندے کو دانہ ڈالا
اب وہ روز میری دیوار پہ بیٹھا ہوتا ہے

ایک بھوکے کو روٹی دی
وہ مجھے آج تک دعائیں دیتا ہے

ایک کتے کو پانی پلایا
وہ جہاں مجھے دیکھے دم ہلاتا ہے

ایک اندھے کو راستہ دکھایا
وہ مجھے آواز سے پہچان لیتا ہے

ایک محبت کی پیاسی لڑکی کی طرف دیکھا
وہ روز میرا راستہ دیکھتی ہے

ایک روتے بچے کو اٹھایا
وہ مجھے دیکھتے ہی میری طرف بھاگا آتا ہے

ایک عورت کو بوسہ دیا
وہ ہر رات میری گود میں گھستی ہے

اچانک سی ہو جانے والی چیزوں میں کسی کا یک دم آغوش میں آ جانا خوبصورت ہے

صرف موت اس منصوبے کو سمجھتی ہے
وہ طے شدہ منصوبہ نہیں بناتی
اور کبھی بھی آ سکتی ہے

اچانک سی آ جانے والی چیزوں میں موت سب سے خوبصورت ہے

وہ اس قدر رحم دل ہے کہ ہم اسے جانتے ہیں
جبکہ پیدائش سے پہلے ہم زندگی سے لاعلم تھے

اچانک سے پیدا ہو جانے والی چیزوں میں زندگی سب سے خوبصورت ہے

وہ کہیں سے بھی اگ سکتی ہے اور کہیں سے بھی پھوٹ پڑتی ہے

پھر نیند ہے
وہ اپنی دنیا آباد کرتی ہے
خواہش خوف اور موت کو وہاں غلبہ نہیں

اچانک سی آ جانے والی چیزوں میں نیند سب سے خوبصورت ہے

نیلی آنکھوں والی بلی رک کر مجھے دیکھتی ہے
احسان مند آنکھوں سے محبت نہیں کی جا سکتی
نہ شکریے کے ساتھ
نہ ستائش
یہ فرضی باتیں ہیں

اچانک سی آ جانے والی چیزوں میں رحم سب سے خوبصورت ہے

جب کسی کو معاف کر دو
اس کو ایک موقع اور دے دو
چلتے چلتے رک جاؤ
ایک چیونٹی کو دیکھ کر اپنا راستہ بدل جاؤ

اچانک سی آ جانے والی چیزوں میں بارش سب سے خوبصورت ہے

بھیگتے بھیگتے گھر آ جاؤ
اور اس چیونٹی کے خیریت سے گھر پہنچنے کی دعا کرو

میں کسی لمحے بھی تمہارا ہاتھ جھٹک سکتا ہوں
ایک کتے کے ساتھ رہنا عادت ہے
اور ایک عورت کے ساتھ سونا وقتی نشہ ہے

اچانک سی ہو جانے والی چیزوں میں جدائی سب سے خوبصورت ہے

کسی کو جدا کرنا
اس کو اس کے حوالے کرنا ہے
اس سے پہلے کہ وہ اپنی جبلت ترک کر دے

کتے کو بھیڑیے کے حوالے کر دو
اس کے پالتو بننے سے پہلے

پرندے کو دیوار سے اڑا دو
عورت کو گود سے اتار پھینکو
محبت کو آزادی کے ساتھ قبول کرو

طاہر راجپوت

13/08/2026

جب جنگل بستی میں آیا

میرے چاروں اور مکانوں سے آتی آوازیں
سڑکوں پر لہراتی ان گنت موٹر کاریں
اسکولوں سے چھنتی زندہ ہنستی بھن بھن
لیمپ پوسٹ سے بہتی جگمگ دھارا
ہنستے لوگوں سے بھرپور دوکانیں سڑکیں
اخباروں میں چھپنے والی اونچے انسانوں کی باتیں
جو برسوں میں پورے ہوں گے ایسے منصوبوں کی باتیں کہتی ہیں
ہم سب زندہ ہیں
عرصے تک زندہ رہنا ہے
اگلے بیس برس میں بستی
اپنی پکی سڑکیں لے کر
جنگل کے کونے کونے میں
بستی کا محفوظ تصور پہنچا دے گی لیکن جنگل
سڑکیں بننے سے پہلے ہی
جنگل کا قانون اٹھائے آ جاتا ہے
بستی جنگل بن جاتی ہے
سب زندہ ہیں
بستی جنگل
عرصے تک زندہ رہنا ہے
بستی جنگل

فضل تابش

12/08/2026

اے خالق کائنات!
زیست کی یہ پوشاک
اب میرے ناپ کی نہیں رہی

اے ربِ سحر!
یہ پوشاک،
کبھی ململ سی نرمی لیے
کبھی خوابوں کے رنگوں میں رنگی ہوئی،
کہیں دل کے پیوند لگے ہیں بے ترتیب
کہیں خواہشوں کے دھاگے ہیں الجھے
کہیں صبر کے بٹن ادھ کھلے،
تو کبھی اُداسی کی سلائیوں سے چپ چاپ سلی ہوئی

اے روحِ رواں!
یہ پوشاک،
کہیں امید کے گوٹوں سے چمکتی،
کہیں مایوسی کی شکنوں میں الجھی
کبھی دل کے پیمانے سے بڑی
کہ ہر موڑ پہ سرکتی چلی جائے،
اور کبھی احساسات کی گٹھری لیے
اتنی تنگ کہ سانس بھی نہ لے پائے

اے مالکِ ازل!
زیست کی یہ پوشاک،
کسی ریشمی خواب جیسی ہے
جس پر خیالوں کے کڑھاوے ،
یادوں کی گل کاری ،
ادھوری باتوں کی مروّج گرہیں،
اور خواہشوں کے بٹن ہیں
جو وقت کی سوئی سے کبھی بند،
کبھی کھلے رہ جاتے ہیں

اے ربِّ جمال!
یہ پوشاک،
تُو نے بخشی ضرور،
مگر یہ اب میرے حرفوں،
خواہشوں اور دردوں کے سانچے میں
ٹھیک سے ڈھل نہیں پاتی
بس، کبھی کبھی
بہت خوبصورت لگتی ہے،
اور اکثر بہت بوجھل

یا قلبی!
میں تھک چکی ہوں
یہ رفو گری اب میرے بس کی بات نہیں

ثمرین اعجاز

10/08/2026

پچھلے جنم کی ایک نظم

مجھے لگتا ہے
زمین کے کسی گمنام منطقے میں
ہم کبھی ساتھ ساتھ رہتے تھے
مجھے اب تمہارا نام یاد نہیں
تمہاری شکل بھی یاد نہیں
مگر یہ لگتا ہے
کہ شاید کئی صدیاں پہلے
کسی پچھلے جنم کی سیڑھیوں پر
ہم ساتھ ساتھ بیٹھتے تھے
وہ سیڑھیاں کہاں تھیں
اور پچھلا جنم کہاں ہوا تھا
مجھے تو یاد نہیں
شاید تم کو بھی یاد نہ ہوگا
ہاں بس اتنا یاد ہے
ایک چھوٹے سے گھر میں
ہم سر شام دیوتا کے لئے دیے جلاتے تھے
اور دیوں کے قریب ایک پنچھی رہتا تھا
جو بادل برکھا اور دھوپ کے گیت گاتا تھا
گیت سنتے سنتے
اور دیے بجھنے سے پہلے ہی
ہم نمدوں پر سو جاتے تھے
اور پھر ہم دونوں مل کر
ایک جیسا کوئی خواب دیکھتے تھے
بہت سے تالابوں جنگلوں
اور باغوں کا خواب
صبح دم انگنائی میں سورج اتر آتا تھا
پنچھی پیڑوں پر
اور ایک بادل چھت پر بیٹھ جاتا تھا
پھر ہم چوکھٹ پر بیٹھ کر
رنگوں کی بازگشتیں سنتے ہوئے
ایک تالاب کو دیکھتے رہتے تھے
مجھے لگتا ہے یہ ہم ہی تھے
جو تالاب کی طرف دیکھتے اور بازگشتیں سنتے تھے
ہاں شاید ہم ہی تھے
اب یہ یاد نہیں اس سمے ہمارے نام کیا تھے

تبسم کاشمیری

30/07/2026

بات "تم ٹھیک ہو ؟"سے بہت آگے بڑھ چکی ہے
اب لوگ مجھ سے خیریت بھی نہیں پوچھتے
شائد وہ سمجھ گئے ہیں :
پرندہ حوصلے سے نہیں پروں سے اُڑتا ہے ۔

لوگ مجھ سے دور بھاگتے ہیں
شائد وہ میری روح میں پڑی ان یادوں کو سونگھ لیتے ہیں جن کی تدفین ابھی تک نہیں ہوئی ۔

میں سڑکوں پر خود سے ایسے بھاگتا ہوں جیسے میں نے خود کو پکڑ لیا تو میں خود کو مار دونگا ۔

میں سارا دن اپنی ناکام محبت کی کہانی بھلانے کے لیے مختلف کہانیاں بُنتا رہتا ہوں
جیسے :
زندگی ایک کہانی ہے
جس میں، میں تم سے نہیں مل پاتا ۔

میں اپنے دن اور گولیاں ایک ساتھ چباتا ہوں
میں اپنا سر تکیہ پر رکھتے ہوئے ایسے محسوس کرتا ہوں جیسے میرا سر خود ایک تکیہ ہو جس پر کسی پہاڑ نے سر رکھ دیا ہو ۔

مجھے نیند آتی ہے تو میں اتنا خوش ہوتا ہوں کہ جیسے میں مر گیا ہوں ۔

نسیم خان

28/07/2026

سَرِشْت

خیال کا خیال میں مدغم ہونا
مرقد سے اٹھتے اگر بتیوں کے دھواں جیسا ہے
راتوں رات کسی کا دیوتا مر سکتا ہے
راتوں رات کسی کو اپنی زندگی کے فیصلوں کی ڈور خود سنبھالنی پڑ سکتی ہے

دنیا ہمیں آنکھوں سمیت قبول نہیں کرتی،
کیونکہ
آنکھوں میں خواب ہوتے ہیں
جو ہمارے اطراف میں بسنے والوں کو اژدہا بن کر ڈستے ہیں

نیند گم ہونے کی خبر
سب کو محظوظ کرتی ہے
اور
آنکھوں سے بڑے خواب رکھنے والوں کو دنیا تمسخر بھری نگاہ سے دیکھتی ہے

حسد و کینہ بھری اک نظر
جیتے جاگتے آدمی کو زندہ سلامت نگل لیتی ہے
اور تقدیر بھیڑیے کے منہ سے نوالہ چھیننے کی بجائے
آدمی کے نصیب میں حیات لکھتی ہے

بھیڑیا لفظ زندگی سے نفرت کرتا ہے
کیونکہ
آدمی کی آخری سانسیں ہی بھیڑیے کا خواب پورا کر سکتی ہیں

یاد رہے
فطرت کو ملغوب کرنے کے لیے مصنوعی چہرہ بھی کام نہیں آتا !

حنا قریشی

19/07/2026

انکشاف🍂

مگر اک عمر ____!

ہم نے زندگی کو زندگی
محسوس کرنے کی طلب میں
رائگاں کر لی....!

نوشی گیلانی

Address

Shahkot

Telephone

+923130505308

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when ایک نظم posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share