23/01/2022
سانحہ شانگلہ ایک بار ضرور پڑھیں..!
خط بنام
تمام سیاسی مشران شانگلہ
میں اپنے چھوٹی سی جنت اپنے چھوٹے مگر خوشحال گھرانے کا ایک چھوٹا سا ایک ننھا سا پھول تھا، میں اپنے بابا کی چہرے کا مسکان تھا، میں اپنے نانا کی گود کی خوبصورتی تھا اور شاید میں بڑا ہوکر مستقبل میں شاید اپکا ہی ووٹر بننے کی جسارت کرتا لیکن قیامت خیز سانحے نے مجھ سے دنیا کو یا دنیا سے مجھے چھین لیا۔
اپریل 2021 میرے نانا کے گھر پر سلائیڈنگ ہوا تھا جس کے باعث میرے ننھیال کو اپنا گھر چھوڑ کر کرایہ کے مکان میں رہنا پڑا اور اس دوران میرے نانا جنہیں اپکے اس مفلوج زدہ سسٹم پر بڑا یقین تھا، انھوں نے امداد کیلئے ہر دروازہ کھٹکھٹایا لیکن کہیں بھی ان کی شنوائی نہ ہوسکی۔ اور اخرکار میرے نانا اپکے سسٹم سے مایوس ہوگئے اور اسی طرح امدن کم اور خرچے ذیادہ اخرکار جنوری 2022 میں انہیں اپنے خطروں کے بیچ والے مکان واپس لوٹنا پڑا۔ یہ ایک ایسا گھر تھا جو پہاڑ کے بڑے بڑے پتھروں کے نیچے تھا اور ہر وقت کسی بھی ناگہانی افت کا خطرہ موجود تھا لیکن مجبوری بھی عجیب بلا ہے خود ہم سب کو موت کے منہ میں لے کر آئی۔
اپنے نانا کے گھر لوٹنے کی خوشی میں شامل ہونے کیلئے میں بھی گیا اور اس وقت میں اپنے نانا کے گود میں تھا جب پہاڑ کے بے رحم پتھروں نے ہمارے گھر کا پتہ اخر ڈھوند ہی لیا اور چند ہی منٹوں میں سب کچھ خاک ہوگیا۔
میں نانا کی گود میں ہمیشہ کیلئے سوگیا، ہنگامہ برپا ہوگیا، کیا یہ قیامت تھا ہمارے لئے شاید یہی قیامت تھا۔ لوگ جوق در جوق انا شروع ہوگئے، ریسکیو کی ٹیمیں بھی آگئ، پولیس بھی پہنچ گئی، نیوز بریک کی گئی، سوشل میڈیا پر تصاویر اور لائیو ویڈیوز کی بھرمار ہوگئی، لیکن اب سب کچھ خاک ہوچکا تھا۔ ریسکیو کی ٹیموں نے ہمیں نکالنے کی کوششیں شروع کی اور میری فیملی کے کچھ افراد کو زخمی حالات میں مٹی اور پتھروں کے اس بڑے ڈھیر کے نیچے سے نکال لیا لیکن میری بہن اور میرے نانا اور ان کے ایک دوست کی لاش ہی برآمد کرسکے۔
لوگوں کی ایک بھیڑ جمع ہیں اور میں اب سن رہا ہوں کہ اب اپ تمام سیاسی مشران ریسکیو آپریشن والی جگہ پر اتے ہیں اور فوٹو سیشن کرکے واپس لوٹ جاتے ہوں، اپکے پاس تو کوٹ بھی ہوگا ٹھنڈ بھی نہیں لگے گی اور شاید چتھری بھی ہوگی جس سے اپ بارش سے بچنے کی کوشش کروگے لیکن میں مٹی اور پتھروں کی اس ڈھیر میں پڑا ہوں اور ٹھنڈ سے لرز رہا ہوں۔ بہت تکلیف میں شوکت یوسفزئی صاحب جب میں نے سنا کہ میری نانی کو سوات ریفر کیا گیا اور واپسی میں انہیں 8000 روپے ایمبولنس کو دینے پڑے، حکومت اپکی ہی ہیں نہ شوکت صاحب، وقار صاحب اور سدید صاحب۔
امیرمقام صاحب پچھلے بائیس سالوں سے اپ سیاست میں ہیں لیکن اپ ایک ایسا ہسپتال نہ بنا سکے جس میں میرے گھر والوں کا علاج ہوسکتا ہوں۔ ڈاکٹر عباد صاحب اپ جائے وقوعہ پر دو دفعہ تشریف لائے ہوں اور فوٹو سیشن بھی کی لیکن کیا ہمارا ہسپتال ایسا ہونا چاہیے؟
عزت مآب جناب محمود خان صاحب اپ نے پشاور میں بیٹھ کر ہیٹر والے کمرے سے میرے لئے تین لاکھ روپے کا اعلان کردیا جس کیلئے بھی میرے بابا کو خوار ہونا پڑیگا، لیکن کیا اپ نے برف کی ٹھنڈ سے کپکپاتی ہوئی جسم کے بارے میں زرہ بھی سوچا۔
کیا اچھا ہوتا کہ یہ تین لاکھ روپے اس سانحے سے پہلے سیفٹی وال کیلئے استعمال کئے جاتے۔
مجھے نہیں پتہ کہ یہ ریسکیو والے میری کپکپاتی جسم کو ڈھونڈنے میں کامیاب ہوگی یا نہیں لیکن میری ایک التجا ہیں اپ سب سے کہ اگر مجھے ڈھونڈ لیا گیا تو براہ کرم میرے جنازے میں پہلی صف میں کھڑے ہوکر تصویر مت کھینچنا، اس سلائیڈ والے ایریا میں کوٹ پہن کر چتھری ہاتھ میں پکڑے ہوئے کھبی نہ انا کیونکہ مجھے تکلیف ہوتی ہیں۔ میرا سارا خاندان مجھ سے بچھڑ گیا، اپ خواب غفلت میں سورہے تھے جب میرے اوپر پہاڑ کے بے رحم پتھر غضب ڈھا رہے تھے ۔
اگر اپ کو واقعی ہم سے ہمدردی ہیں تو ایک ایسا ہسپتال ضرور بنائے جہاں بروقت علاج ہوسکے، ایک ایسا مظبوط نظام بنائے جہاں کسی خورشید کو امداد کیلئے خوار نہ ہونا پڑے،
تحریر: افتخار حسین