28/08/2025
اریگیشن ڈیپارٹمنٹ سے تھوڑا بہت تعلق ہونے کے ناطے میں یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ صورتحال اتنی ابتر نہیں جتنی بعض حلقے ظاہر کر رہے ہیں۔
ہمارے ہیڈورکس اور بیراجز اپنی تاریخ میں موجودہ سیلاب سے کہیں بڑے ریلوں کا سامنا کر چکے ہیں۔
1973 اور 2010 کے تباہ کن سیلابوں میں بھی الحمدلله یہ سٹرکچر مظبوط و قائم رہا۔۔۔۔اور پانی کی ترسیل اور ڈسپرسن کے ذریعے بڑے پیمانے پر دباؤ کم کیا گیا تھا۔۔۔۔ اس بار بھی موثر حکمت عملی کے تحت انشاءاللہ ہم سرخرو ہوں گے۔۔۔۔
ہاں، نشیبی علاقے ہمیشہ کی طرح متاثر ہوتے ہیں اور وہاں کے باسیوں کے لئے دل بے حد اداس اور فکر مند ہے۔ اللہ تعالیٰ اُن کی حفاظت فرمائے۔
جہاں تک ہیڈ پنجند پر 13 لاکھ کیوسک پانی کے ریلے کی بات کی جا رہی ہے۔۔۔یہ وضاحت ضروری ہے کہ ہیڈ پنجند کو اپ گریڈ کیا جا چکا ہے اور اس کی موجودہ گنجائش تقریباً 11 لاکھ کیوسک ہے۔۔۔۔ اضافی پانی کو ڈسپرسن میکنزم کے تحت منظم انداز میں تقسیم کر دیا جائے گا یعنی فلڈ ڈرینز، بڑی نہروں اور فلڈ ویز کے ذریعے پانی کو مختلف سمتوں میں پھیلا کر متوازن کیا جائے گا۔
اس سے ہیڈ پنجند پر دباؤ کنٹرول میں رکھا جائے گا۔۔۔اور اصل ڈیزائن کیپیسٹی سے تجاوز کرنے نہیں دیا جائے گا۔۔۔۔۔یہ ممکن بھی نہیں ہوتا ۔۔
مزید یہ کہ ہمیں صرف پنجند تک محدود نہیں رہنا بلکہ آگے دریائے سندھ پر موجود بیراجز کی صلاحیت بھی پیشِ نظر رکھنی چاہیے۔ گُدو بیراج تقریباً 12 سے 13 لاکھ کیوسک سنبھالنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جبکہ سکھر بیراج اور کوٹری بیراج بھی قریباً 11 لاکھ کیوسک تک پانی گزرنے کی گنجائش رکھتے ہیں
۔ اس طرح کا مربوط نظام پانی کے دباؤ کو مرحلہ وار ڈسپرسن کے ذریعے آگے منتقل کرتا ہے تاکہ کسی ایک مقام پر تباہ کن دباؤ نہ بنے۔
سوشل میڈیا پر بعض اوقات حد سے زیادہ خوف و ہراس پھیلایا جاتا ہے، لیکن ہمیں حقیقت پسندی، ٹیکنیکل اپڈیٹس پر اعتماد اور حوصلہ تینوں کو ساتھ لے کر چلنا چاہئے ۔۔
انشاءاللہ اللہ کی مدد سے یہ آزمائش بھی آسان ہوگی۔۔
اللہ ہم سب کا نگہبان ہو۔
فی امان اللہ۔۔۔
" گل ساج "
ایکس گورنمنٹ کنٹریکٹر اریگیشن ڈیپارٹمنٹ ۔