07/01/2021
چلانّی ،،، ٹآرہ ،،، باورچی خانہ ،،، کچن
بالکل ایسا ہی چھوٹا سا کچن تھا ،،، جس کی دیواروں پر اماں نے ماہر مستری کی طرح ہاتھ سے مٹی کا لیپ کیا تھا ،،، اس دیوار پر کانے کے فریم میں جڑا شیشہ جھولتا رہتا ، جس کی ٹرے پر سرسوں کے تیل کی بوتل ،، تاج کی شکل کی سرمے دانی، پاوڈر اور کنگھی پڑی رہتی ، یہ چار پانچ چیزیں اس دور کی فیشن انڈسٹری تھیں۔
کچن کا دروازہ جالی کا تھا ،،، جس پر سردیوں میں پٹ سن کا ٹاٹ لٹکا رہتا ، صبح صبح تیار ہو کر جب کچن میں ٹاٹ کی دبیز تہہ پر آلتی پالتی مار کے چولہے کے قریب بیٹھنا تو توے پر اماں کی انگلیوں کے بیچ گھومتی شرماتی آلو والی روٹی بھوک بھڑکا دیتی ،،،، اماں روٹی کو یوں گھماتی جیسے کسی عرس پر کوئی مست ملنگ گھومتا ہے ، جونہی روٹی جنگیر میں آتی مکھن کا پیڑا شڑپ سے بغل گیر ہوتے ہوئے خود کو روٹی کے عشق میں فنا کر دیتا ، گویا دو جسم ایک جان ہوں۔
دہی کی کٹوری میں شکر کا چھڑکاو کر کے روٹی کے کناروں کو میری پوسٹ کی طرح اگنور کرنا اور عین وسط میں سے کڑکتا نوالہ اٹھا کر دہی میں غسل دینا ،،، ٹھنڈے ہاتھوں میں گرمی روٹی ٹکور کرتی ، اور اسی اثناء میں دوسری روٹی نیکسٹ پلیز get a side , and make a room for me کہتی ہوئی چنگیر کی رونق بڑھاتی۔
چائے کی نقش و نگار والی پیالی سے ٹھٹھرتے ہونٹ جو لگنے تو گویا زندگی کی رمق لوٹ آنی ، ایک ایک گھونٹ بڑے اہتمام سے نگلنا۔۔۔
جب کہنا اچھا امی جی ، چلتا ہوں تو ۔۔۔
اپنے آٹے والے ہاتھ پلو سے صاف کر کے اماں نے سر پر پھیر کے محبت بھرا بوسہ دینا ، اتنا معتبر اتنا، معتبر جذبہ کہ جس کی تاثیر روح تک محسوس ہوتی ۔
جب کچے گھر کی جگہ پکی دیواریں کھڑی کرنے کا فیصلہ ہوا تو آپا نے کال کر کے کچھ وقت کے لئے مہلت مانگی ، جیسے پرانے گھر میں انکا کچھ رہ گیا ہو ، گھر آئیں، اور ان در و دیوار کو ایک ٹک دیکھتی رہیں ، اسپیشلی وہ کچن کی دیوار جس پر انہوں نے حسین پھلکاریاں کندہ کی تھیں ، کیسے محبت ہو جاتی ہے ان مٹی کے در و دیوار سے ،، آپا نے ہم سب کو آبدیدہ کر دیا ،،، سب کی آنکھیں نم اور دل غمزدہ تھے ۔۔۔
یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے اس آنگن میں رہنے والے مکینوں سے ہی برکتیں اور رونق تھی بس ،،، اور وہ سارا منظر آنکھوں کے آگے گھوم گیا جب صحن میں دھوپ سینکتے تمام بہن بھائی اور ابا اماں بیٹھا کرتے تھے ۔۔۔۔ دل کی آنکھوں سے وہ بیتا زمانہ دیکھ رہی تھیں ، جیسے ابھی کچھ روز بعد وہ نئے طرز تعمیر کا گھر تو دیکھ پائیں گی مگر وہ منظر شاید پردہ تخیل پہ وہ تصویر دوبارہ نہ بنا پائے جو اسوقت موجود تھی ۔۔۔
سب کچھ ویسا ہی نظر آرہا تھا ،،،، مگر اس سارے منظر میں اچانک ہی کچھ دھندلا گیا تھا ،،،
ماں ،،، نظروں کے سامنے سے اچانک ہنستی کھیلتی اوجھل ہو گئی تھی ۔ کپکپاتے ،،، لرزتے ہونٹوں اور گھگیائی آواز میں آپا بس اتنا ہی کہہ پائی ،،،
ماں ۔۔۔ ماں یاد آتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
۔۔۔آسی