Ch. Sikander Khan

Ch. Sikander Khan Ch. Sikander Khan
Chairman Inter Union Council Health Committee Sialkot

10/07/2026

جموں کشمیر الیکشن بائیکاٹ مہم 10/07/2026
ڈیرہ چوہدری سکندر خاں

کمبیرج سنٹرل مسجد ( Cambridge Central Mosque) دیکھنے کا اتفاق ہوا جو کہ برطانیہ کے شہر کمبیرج میں واقع ہے۔ یہ مسجد نہ صر...
04/10/2024

کمبیرج سنٹرل مسجد ( Cambridge Central Mosque) دیکھنے کا اتفاق ہوا جو کہ برطانیہ کے شہر کمبیرج میں واقع ہے۔ یہ مسجد نہ صرف عبادات کے لیے ہے بلکہ اس کی تعمیر میں ماحولیاتی استحکام اور اسلامی فن تعمیر کو بہت اہمیت دی گئی ہے۔ کمبیرج سنٹرل مسجد کا تصور 2008 میں سامنے آیا، جب کمبیرج میں مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی آبادی کے لیے ایک بڑی اور جدید مسجد کی ضرورت محسوس کی گئی۔ کمبیرج یونیورسٹی سے منسلک پروفیسر عبدالحکیم مراد نے اس منصوبے کو آگے بڑھایا۔ مسجد کا باضابطہ افتتاح 2019 میں کیا گیا۔
یہ مسجد برطانیہ کی پہلی ایکو-مسجد (Eco Mosque) ہے۔ اس کا ڈیزائن اور تعمیر ماحول دوست اور توانائی کی بچت کو مدنظر رکھ کر کیا گیا ہے۔ مسجد کی تعمیر میں قابل تجدید توانائی، بارش کے پانی کو دوبارہ استعمال کرنے کے نظام، اور کم توانائی خرچ کرنے والے وسائل کا استعمال کیا گیا ہے۔ اسے “زیرو-کاربن” عمارت کے طور پر ڈیزائن کیا گیا ہے، جو توانائی کے ضیاع کو کم سے کم کرتا ہے۔مسجد کو ماحولیاتی اور تعمیری ڈیزائن کی بنا پر کئی قومی اور بین الاقوامی ایوارڈز سے نوازا گیا ہے، جن میں برطانوی ادارے بھی شامل ہیں جو ماحولیاتی تحفظ اور پائیدار تعمیرات کو فروغ دیتے ہیں۔
کمبیرج سنٹرل مسجد کا فن تعمیر اسلامی اور برطانوی دونوں طرزوں کا حسین امتزاج ہے۔ مسجد کی داخلی جگہوں میں خوبصورت لکڑی کے ستون استعمال کیے گئے ہیں جو درختوں کا تصور دیتے ہیں اور یہ قدرتی خوبصورتی اور اسلامی روحانیات کی علامت ہیں۔ مسجد کی عمارت میں قدرتی روشنی کا بھرپور استعمال کیا گیا ہے۔
مسجد کے مرکزی ہال میں تقریباً 1000 نمازیوں کی گنجائش موجود ہے۔ اس کے علاوہ ایک کمیونٹی سینٹر، لائبریری، کلاس رومز اور بچوں کے کھیلنے کی جگہ بھی موجود ہے۔مسجد کے ساتھ ایک خوبصورت گارڈن ہے جو سکون اور روحانیت کے احساس کو مزید بڑھاتا ہے۔ کمبیرج سنٹرل مسجد نہ صرف مسلمانوں کے لیے عبادت کا مقام ہے بلکہ یہ مختلف کمیونٹی ایونٹس، تعلیمی سیمینارز، اور سماجی تقریبات کا مرکز بھی ہے۔ اس مسجد کے قیام سے مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان ہم آہنگی اور دوستی کو فروغ دینے کی کوشش کی گئی ہے۔
مسجد کی تعمیر کی لاگت تقریباً 23 ملین پاؤنڈ تھی۔ اس فنڈنگ میں زیادہ حصہ قطر کی حکومت اور دیگر عالمی اسلامی اداروں نے دیا، جب کہ باقی مقامی مسلم کمیونٹیز نے اس میں تعاون کیا۔ آپ جب کبھی بھی کمبیرج جائیں تو اس خوبصورت مسجد کا لازمی وزٹ کریں۔

برطانیہ میں کیمبرج یونیورسٹی (University of Cambridge) کا یادگار دورہ کیا جو کہ برطانیہ کی قدیم ترین اور مشہور یونیورسٹی...
03/10/2024

برطانیہ میں کیمبرج یونیورسٹی (University of Cambridge) کا یادگار دورہ کیا جو کہ برطانیہ کی قدیم ترین اور مشہور یونیورسٹیوں میں سے ایک ہے۔ اس کی بنیاد 1209ء میں رکھی گئی تھی، اور یہ آکسفورڈ یونیورسٹی کے بعد دنیا کی دوسری قدیم ترین انگریزی زبان کی یونیورسٹی ہے۔
کیمبرج یونیورسٹی کو مختلف کالجوں میں تقسیم کیا گیا ہے، جن کی تعداد 31 ہے ہر کالج اپنی الگ تاریخ اور روایات رکھتا ہے۔ اس یونیورسٹی کے گریجویٹز میں کئی نوبل انعام یافتہ شخصیات، نامور سائنسدان، ادیب، اور سیاستدان شامل ہیں۔ کیمبرج یونیورسٹی کو دنیا کی بہترین تحقیقی اداروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہاں سے پڑھنے والے طلباء نے مختلف شعبوں میں انقلاب برپا کیا، جیسے کہ طبیعیات میں آئزک نیوٹن، نظریات میں چارلس ڈارون، اور ادب میں میلکم برڈبری۔ یونیورسٹی میں سائنس، انجینئرنگ، اور ہسٹری جیسے مختلف مضامین کی اعلیٰ سطح کی تعلیم فراہم کی جاتی ہے، جس کی وجہ سے اسے دنیا بھر میں شہرت حاصل ہے۔
علامہ محمد اقبال صاحب نے 1905ء میں کیمبرج یونیورسٹی کے ٹرینیٹی کالج (Trinity College) میں فلسفہ کی تعلیم حاصل کی۔ چوہدری محمد علی، جو پاکستان کے چوتھے وزیر اعظم بنے، نے کیمبرج یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ وہ پاکستان کی آئین سازی میں اہم کردار ادا کرنے والے افراد میں شامل تھے۔ ڈاکٹر عطا الرحمٰن، ایک معروف پاکستانی کیمیادان، اور سائنسدان ہیں۔ وہ بھی کیمبرج یونیورسٹی کے ایمانوئیل کالج (Emmanuel College) سے تعلیم یافتہ ہیں۔ چوہدری رحمت علی گوجر بانی تحریک پاستان اور خالق لفظ “پاکستان” بھی کیمبرج یونیورسٹی کے تعلیم یافتہ ہیں۔
کیمبرج یونیورسٹی پاکستانی طلباء کے لیے ایک نمایاں تعلیمی مقام رہی ہے، جہاں سے تعلیم حاصل کر کے کئی معروف شخصیات نے دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کیا۔
اس شہر میں چلتے ہوئے علم کی خوشبو محسوس ہوتی ہے اور تاریخی انفراسٹرکچر کی کشش آپ کو ماضی میں لے جاتی ہے، جو کہ بہت حسین احساس لگتا ہے۔

انگلینڈ کے شہر کیمبرج میں بانی تحریک پاکستان اور خالق لفظ “پاکستان” چوہدری رحمت علی گوجر کی قبر پر فاتحہ خانی پڑھی۔ چوہد...
01/10/2024

انگلینڈ کے شہر کیمبرج میں بانی تحریک پاکستان اور خالق لفظ “پاکستان” چوہدری رحمت علی گوجر کی قبر پر فاتحہ خانی پڑھی۔

چوہدری رحمت علی ایک پاکستانی قوم پرست، سیاسی رہنما اور "پاکستان" کا نام تجویز کرنے والے ممتاز شخصیت تھے۔ ان کی ولادت 16 نومبر 1897 کو مشرقی پنجاب (اب پاکستان کا حصہ) میں ہوئی۔ انہوں نے برطانوی ہندوستان میں مسلمانوں کے حقوق کے لیے آواز بلند کی اور مسلمانوں کے لیے ایک الگ ریاست کی ضرورت پر زور دیا۔
چوہدری رحمت علی نے 1933 میں "اب یا کبھی نہیں: ہم اور ہمارا مستقبل" کے نام سے ایک کتابچہ شائع کیا، جس میں پہلی بار "پاکستان" کا تصور پیش کیا گیا۔ اس کتابچے میں انہوں نے مسلمانوں کے لیے ایک الگ ریاست کا نظریہ دیا جو کہ موجودہ پاکستان کے علاقوں پر مبنی تھا، اور اس ریاست کا نام "پاکستان" رکھنے کی تجویز دی۔ اس نام میں "پاک" کا مطلب پاکیزہ، اور "ستان" کا مطلب جگہ یا ملک ہے۔ اس نام میں پنجاب، افغانیہ (خیبر پختونخوا)، کشمیر، سندھ، اور بلوچستان کے علاقوں کو شامل کیا گیا تھا۔
چوہدری رحمت علی نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی علاقے میں حاصل کی۔ بعد ازاں، انہوں نے اعلیٰ تعلیم کے لیے برطانوی تعلیمی اداروں کا رخ کیا۔ انہوں نے کیمبرج یونیورسٹی، انگلینڈ سے تعلیم حاصل کی، جو دنیا کی مشہور یونیورسٹیوں میں شمار ہوتی ہے۔
چوہدری رحمت علی کی سوچ اور نظریات نے برصغیر کے مسلمانوں میں قومیت اور علیحدہ ملک کے مطالبے کو تقویت دی، لیکن وہ مسلم لیگ کی قیادت سے مختلف نقطہ نظر رکھتے تھے۔ پاکستان کے قیام کے بعد وہ ملک میں اہم سیاسی کردار ادا نہیں کر سکے اور زندگی کے آخری حصے میں برطانیہ چلے گئے، جہاں وہ 12 فروری 1951 کو انتقال کر گئے۔
رحمت علی کا کردار پاکستان کی تاریخ میں اہم مقام رکھتا ہے کیونکہ انہوں نے ایک الگ مسلم ریاست کا تصور سب سے پہلے پیش کیا، جو بعد میں قائداعظم محمد علی جناح اور مسلم لیگ کے قیادت میں حقیقت کا روپ دھار گیا۔

دنیا کی سب سے قدیم اور تاریخی پارلیمنٹ، یوکے پارلیمنٹ کا اندر سے دورہ کرنے کا موقعہ ملا۔ 🏛️ یہاں پہنچ کر برطانیہ کی سیاس...
29/09/2024

دنیا کی سب سے قدیم اور تاریخی پارلیمنٹ، یوکے پارلیمنٹ کا اندر سے دورہ کرنے کا موقعہ ملا۔
🏛️ یہاں پہنچ کر برطانیہ کی سیاست، تاریخ اور ثقافت کو قریب سے دیکھا، جو واقعی حیران کن تھا۔ یہ جگہ نہ صرف برطانوی جمہوریت کا مرکز ہے بلکہ صدیوں کی سیاست، تاریخ اور ثقافت کا گہوارہ بھی ہے۔
یہ عمارت 11ویں صدی سے موجود ہے اور 1215 میں میگنا کارٹا کی منظوری کے بعد سے برطانوی قانون سازی کا مرکز رہی ہے۔ آج یہاں دونوں ایوان، ہاؤس آف کامنزاور ہاؤس آف لارڈز، مل کر قانون سازی کرتے ہیں اور دنیا بھر میں جمہوری اقدار کا علمبردار ہیں۔ ہاؤس آف کامنز (House of Commons) یہ وہ جگہ ہے جہاں عوام کے منتخب کردہ نمائندے (MPs) برطانیہ کے مسائل پر بات چیت اور قانون سازی کرتے ہیں جن کی تعداد 650 ہوتی ہے۔ اس ایوان کا ماحول واقعی میں متحرک اور تاریخی اہمیت کا حامل تھا۔ 1341 میں قائم ہونے والا یہ ایوان جمہوری روایت کا حقیقی عکاس ہے، جہاں عوام کی آواز حقیقی معنی میں سنی جاتی ہے۔
ہاؤس آف لارڈز (House of Lords) یہ ایوان برطانیہ کے اشرافیہ اور مقرر کردہ لارڈز پر مشتمل ہے جن کی تعداد 800 ہے، جو قانون سازی کا بغور جائزہ لیتے ہیں اور اسے بہتر بناتے ہیں۔ اس ایوان کی قدیم روایات اور شاہی آداب آج بھی ایسے ہی چلتے ہیں۔
ان دو ہاوسز کے علاوہ یہاں ویسٹ منسٹر ہال جو 11ویں صدی1097 میں بنایا گیا اہمیت کا حامل ہے، یہ شاندار ہال پارلیمنٹ کی قدیم ترین عمارت ہے، جہاں تاریخ کے اہم ترین مقدمات اور تقاریب منعقد ہو چکی ہیں۔ اسکے علاوہ بیگ بین (Big Ben) جو کےلندن کا مشہور گھنٹہ گھر ہے، جسے اب "ایلیزابیتھ ٹاور" بھی کہا جاتا ہے، پارلیمنٹ کا ایک حصہ ہے جو دنیا بھر میں مشہور ہے۔
یہاں آکر برطانوی جمہوریت کے سفر کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا جو واقع ایک شاندار تجربہ رہا۔

سکاٹ لینڈ کا دورہ کرنے کا شاندار موقعہ ملا! اس خوبصورت ملک کے دلکش مناظر اور تاریخ نے بہت متاثر کیا۔ سفر کا آغاز سکاٹ لی...
28/09/2024

سکاٹ لینڈ کا دورہ کرنے کا شاندار موقعہ ملا! اس خوبصورت ملک کے دلکش مناظر اور تاریخ نے بہت متاثر کیا۔ سفر کا آغاز سکاٹ لینڈ کی دارالحکومت ایڈنبرا (Edinburgh) سے کیا جو اپنے تاریخی حسن سے پوری دنیا کو متاثر کرتا ہے، یہاں قدیم عمارات اور جدید زندگی کا حسین امتزاج دیکھنے کو ملا۔ پھر گلاسگو (Glasgow) کی رونقوں سے لطف اندوز ہوئے، جو اپنے ثقافتی ورثے اور آرکیٹیکچر کے لئے مشہور ہے۔ اس کے بعد لس (Luss) گاؤں گئے جہاں جھیل کا شفاف پانی، تاریخی کاٹجز اور قدرتی حسن کا نظارہ کیا۔سکاٹ لینڈ میں دوست ملک زاہد صاحب کی پرتکلف مہمان نوازی نے سفر کا مزہ دوبالا کر دیا۔ یہ خوبصورت سفر ہمیشہ یاد رہے گا۔

Address

Sialkot
51310

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Ch. Sikander Khan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category