23/08/2026
سکردو میں بجلی بحران کے خاتمے کیلئے پاور ہاؤسز کی پرانی مشینری تبدیل کرکے جدید مشینری نصب کیا جائے گا۔ وزیر برقیات گلگت بلتستان
سکردو شہر میں بجلی کو طویل لوڈشیڈنگ سے شہری، سیاح اور تاجر برادری کو سخت مشکلات درپیش ہیں جس کا احساس ہے۔ صوبائی وزیر برقیات سید توقیر مہدی
ڈویژنل گرڈ کا قیام ناگزیر ہوچکا ہے تاکہ بجلی کی منصفانہ تقسیم ہوسکے۔ سید توقیر مہدی
اسلام آباد (پ ر) صوبائی وزیر برقیات سید توقیر مہدی نے سکردو شہر میں بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سکردو میں بجلی کی لوڈشیڈنگ پر قابو پانے کے لیے تمام پاور ہاؤسز کی پرانی مشینری تبدیل کرکے جدید مشینری نصب کی جائے گی، جبکہ محکمہ برقیات اور واپڈا کے حکام بجلی کی لوڈشیڈنگ میں کمی لانے کے لیے جامع حکمت عملی مرتب کریں گے۔
اپنے ایک بیان میں صوبائی وزیر برقیات نے کہا کہ گزشتہ دنوں واپڈا پاور ہاؤس میں تکنیکی خرابی کے باعث شہریوں، تاجر برادری اور سیاحوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، جس کا حکومت کو مکمل احساس ہے، خراب مشینوں کی مرمت ہوچکی ہے اور پیر کے روز سکردو منتقل کرکے پاور ہاوس کو دوبارہ فعال کیا جائے گا۔ سکردو کے مختلف بجلی گھروں میں موجود پرانی مشینری کو تبدیل کرکے جدید مشینری کی تنصیب کے لیے پروپوزل تیار کر لیا گیا ہے، جسے وزیراعلیٰ گلگت بلتستان کے سامنے پیش کرکے خصوصی گرانٹ کی منظوری حاصل کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ دس سال کے دوران سکردو میں بجلی کی پیداوار میں ایک کلوواٹ کا بھی اضافہ نہیں ہوا، جبکہ اس عرصے میں آبادی اور بجلی کی طلب میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے۔ اس وقت سکردو میں بجلی کی پیداوار مجموعی طلب کے مقابلے میں تقریباً 20 فیصد رہ گئی ہے، جس کے باعث بجلی کے بحران میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
سید توقیر مہدی نے کہا کہ سکردو گلگت بلتستان کا دارالحکومت اور خطے کا اہم تجارتی و انتظامی مرکز ہے، جہاں بلتستان کے مختلف علاقوں سے لوگ کاروبار، روزگار اور تعلیم کے لیے مقیم ہیں۔ یہ امر تشویشناک ہے کہ بلتستان کے بعض علاقوں میں 24 گھنٹے بجلی دستیاب ہے، جبکہ سکردو شہر میں طویل دورانیے کی لوڈشیڈنگ کا سامنا ہے۔ اس صورتحال کے تدارک کے لیے ڈویژنل گرڈ کا قیام ناگزیر ہے تاکہ پورے ریجن میں بجلی کی منصفانہ تقسیم یقینی بنائی جا سکے۔
صوبائی وزیر برقیات نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت کی بھرپور توجہ شغرتھنگ اور ہرپوہ پاور پراجیکٹس کی تکمیل پر مرکوز ہے، کیونکہ ان منصوبوں کی تکمیل کے بغیر بجلی کی لوڈشیڈنگ کا مستقل خاتمہ ممکن نہیں۔ وزیراعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین ایڈووکیٹ کی قیادت میں حکومت کی اولین ترجیح بجلی کے بحران کا خاتمہ ہے اور جاری توانائی منصوبوں کو جلد از جلد مکمل کرنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔