04/08/2022
سکردو/ کے ٹو کی مہم جوئی کے دوران حادثے کا شکار ہونے والے کوہ پیماہ جان سنوری کی فیملی نے سکردو شہر میں معروف آرٹسٹ محمد افضل کے بنائے ہوئے پوسٹرز کا دورہ کیا ۔
محمد افضل نے معروف کوہ پیماؤں محمد علی سدپارہ مرحوم اور جان سنوری کے مقپون پولو گراؤنڈ کے سامنے دیوار پر پورٹریٹس بنائے گئے ہیں ۔
فن مصوری کی دنیا میں مثبت تبدیلیوں کو جتنی فائن آرٹس شعبے کے باہر مقبولیت ملی ہے ان میں پینٹنگز کا نمایاں کردار ہے ۔
معروف مصور افضل صاحب نے اپنے سماجی دائرے میں شامل کئی قابلِ ذکر شخصیات کی تصاویر بھی کھینچی تھیں جن میں یوسف رضا (سابق وزیر اعظم پاکستان) عمران خان ( سابق وزیر اعظم پاکستان) و دیگر پاکستان کے معروف سماجی ، ادیبی ، مذہبی اور سیاسی شخصیت بھی شامل ہیں اور بہت سے مشہور فنکاروں کی پینٹنگ کا اعزاز بھی حاصل ہے وہ اپنے کام پر بہت توجہ دیتے ہیں۔ جس کے نتیجے میں اس کے کام میں نکھار پیدا ہوتا ہے بہت سے نئے آنے والے فائن آرٹسٹوں کیلئے ایک مثال ہیں
1998 سے فن مصوری سے وابستہ ہونے والے محمد افضل ایک تکنیکی فائن آرٹسٹ ہیں جنھوں نے پینٹنگ کو فن کے طور پر استعمال کرنا شروع کیا۔ وہ زندگی کے مختلف پہلوؤں پر پینٹنگ کرتے ہیں۔ جیسے کہ شخصیات سے، تاریخی ، خوبصورت مناظر و مقامات یا پھر تمثیلی کہانیوں کے حروف کی تصاویر ۔
ایک اور اہم بات ان تصویروں کو بنانے کے لیے استعمال کیے جانے والے برش کا سائز، سٹروک اور رنگ ہیں۔ افضل صاحب ان تصویروں کو بنانے کے لیے جو برش استعمال کرتے ہیں وہ دوسرے مصور عام طور اس سائز کے کینوسوں پر کم کم اور کہیں کہیں استعمال کرتے ہیں۔ پھر ان کی تصویر جوٹ پر ہوں یا کینوس پر وہ رنگ کئی تہیں لگاتے ہیں لیکن کوئی بھی تہہ گہری، دبیز یا موٹی نہیں ہوتی، ٹرانسپیرنٹ ہوتی ہیں۔ شاید ان تصویروں میں ماحول کی خوابناکی کے بعد یہی بات ہے جو انھیں ان کے ہمعصروں سے الگ کرتی ہے
محمد افضل ایک مصور ہے انہوں نے اپنی کام سے خوب نام کمایا اور فن مصوری میں الگ پہچان بنائی ، ان کے فن پاروں سے نئی فکر ، نئی سوچ اور نیا انداز نمایاں ہوتا ہے ۔
افضل صاحب کی تخلیقی صلاحیتوں کا اظہار مختلف صورتوں میں ہوتا وہ گلگت بلتستان کے ایک منفرد مصور، مجسمہ ساز اور دیوار فن کے ماہر بھی ہیں۔ ان کے فن پر ان کے گہرے مطالعے کے اثرات نمایا ہے ۔ وہ آرٹ کی مختلف تحریکوں سے وقف اور پھر ممتاز مصوروں کی صحبت نے انہیں مصوری کے جدید رویوں سے روشناس کرایا ہے لیکن حقیقت یہ ہے افضل صاحب کے فن کی اپنی دھج ہے۔ ان کی مصوری میں ادب، موسیقی، مجسمہ سازی، رقص اور تصوف کے رنگ اپنی بہار دکھاتے ہیں۔ جدت اور روایت ان کی مصوری میں گلے ملتے نظر آتے ہیں ۔
مصوری ہندوستان میں مغلیہ سلطنت کے عہد میں اپنے منفرد اور انوکھی وضع کا ایک فن ہے جسے مغل حکمران اپنے ساتھ وسط ایشیاء سے لائے۔ دراصل اِس فن کا مرکز ایران تھا۔ اولاً مغلوں کا فن مصوری خالصتاً ایرانی تھا تاہم بعد میں اِس میں ہندوستانی فن مصوری کی آمیزش سے یہ ایک نیا انداز اِختیار کرگیا۔ ایرانی اور ہندوستانی فن مصوری کے امتزاج کو مغل فن مصوری کہا جاتا ہے۔
تاریخ کے اعتبار سے مصوری نہایت ہی اعلیٰ مقام رکھتی ہے۔ یہ نہ صرف ثقافتی، سماجی اور مذہبی حالات کی عکاسی کرتی ہے بلکہ اس سے معاشی اتار چڑھا¶ کے اثرات کا بھی بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اقوام کی تہذیب و تمدن پرکھنے میں بھی مصوری اہم کردار ادا کرتی ہے ۔
افضل صاحب بنیادی طور پر اسکردو سے تعلق رکھتے ہیں۔ اور اپنی فیلڈ میں ماہر پیشہ ور ہونے اکثر حالت سفر میں رہتے ہیں جس سے انہیں مختلف ماحول میں مختلف لوگوں کے ساتھ اور مختلف ثقافت میں کام کرنے کا موقع ملتا ہے۔ جو کہ ان کی وسیع النظری میں اضافہ کا باعث بنتا ہے
افضل صاحب کے پاس ایک بھاری کلیکشن ہے جس میں انہوں نے عرضی مناظر کی خوبصورت عکاسی کی ہے انہیں قدرت کے مناظر کی پینٹنگ سے پیار ہے ۔ وہ قدرت کی ہنرمندی پر یقین رکھتے ہیں۔۔