13/03/2026
Amjad Hussain Advocate Bilawal Bhutto Zardari Sadia danish Enginer Muhammad Ismail
بلتستان کے حالیہ پرتشدد واقعات — سنجیدہ اور غیر جانبدارانہ جائزے کی ضرورت
رہبر اعظم سید علی خامنائی کی شہادت پر گلگت بلتستان میں حالیہ دنوں پیش آنے والے پرتشدد واقعات انتہائی افسوسناک، تشویشناک اور قابلِ مذمت ہیں۔ ان واقعات کے دوران کئی افراد کی شہادت ہوئی، سکولوں سمیت سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچایا گیا اور مختلف مقامات پر لوٹ مار کے افسوسناک واقعات بھی سامنے آئے۔ اس تمام صورتحال نے نہ صرف قیمتی انسانی جانوں کا نقصان کیا بلکہ خطۂ بلتستان کے پرامن تشخص کو بھی شدید متاثر کیا، جو ہمیشہ سے بھائی چارے، مذہبی ہم آہنگی اور امن کی علامت سمجھا جاتا رہا ہے۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ اس صورتحال کے بعد بعض حلقوں کی جانب سے یہ مؤقف اختیار کیا جا رہا ہے کہ اگر سیاسی نمائندے بروقت مداخلت کرتے اور لوگوں کو روکنے کی کوشش کرتے تو شاید حالات اس قدر خراب نہ ہوتے۔ تاہم بحیثیت ایک سیاسی کارکن میں پوری ذمہ داری کے ساتھ یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اس تمام صورتحال کے دوران میں نے خود کو انتہائی بے بس محسوس کیا۔ جب لوگوں کو روکنے اور حالات کو قابو میں رکھنے کی کوشش کی گئی تو بعض مقامات پر بات یہاں تک پہنچ گئی کہ ہاتھا پائی کی نوبت آ گئی اور لوگ کسی کی بات سننے کے لیے تیار نہیں تھے۔
اس واقعے نے مجھے شدت سے اس بات کا احساس دلایا کہ اگر گلگت بلتستان میں بلدیاتی نظام فعال ہوتا اور بلدیاتی انتخابات باقاعدگی سے ہوتے — جو کہ بدقسمتی سے گزشتہ 22 سالوں سے نہیں ہوئے — تو شاید حالات کی نوعیت مختلف ہوتی۔ بلدیاتی نظام دراصل جمہوریت کی بنیاد اور وہ نرسری ہوتا ہے جہاں سے مقامی قیادت جنم لیتی ہے۔ اگر ہر محلے، ہر گلی اور ہر وارڈ میں منتخب نمائندے موجود ہوتے تو وہ اپنے اپنے علاقوں میں کھڑے ہو کر لوگوں کو سمجھا سکتے تھے، انہیں مشتعل ہونے سے روک سکتے تھے اور ممکن تھا کہ حالات کو بروقت قابو میں لایا جا سکتا۔
بدقسمتی سے گلگت بلتستان میں گراس روٹ سطح کی سیاسی نمائندگی کا خلا شروع سے ہی موجود رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ حقیقی اور نظریاتی سیاسی کارکنوں کو کمزور کرنے کے لیے بھی مختلف حربے استعمال کیے گئے۔ اہل اور مخلص سیاسی کارکنوں کی جگہ بعض اوقات ایسے نام نہاد افراد کو آگے لایا گیا جنہیں حکومت میں مختلف عہدوں، کوآرڈینیٹرشپس اور دیگر مراعات کے ذریعے نوازا گیا۔ اس عمل نے نہ صرف سیاسی جماعتوں کو کمزور کیا بلکہ حقیقی کارکنوں اور اصل قیادت کا راستہ بھی روکا اور انہیں پس منظر میں دھکیل دیا۔
آج جب خطہ ایک مشکل اور نازک صورتحال سے گزر رہا تھا تو یہی نام نہاد قیادت ہر جگہ غائب نظر آئی، جبکہ اصل سیاسی کارکن محدود وسائل اور اختیار کے باوجود حالات کو بہتر بنانے اور لوگوں کو پرامن رہنے کی تلقین کرنے کی کوشش کرتے رہے۔
یہ بھی ضروری ہے کہ ہم اس پورے واقعے کے اسباب اور پس منظر کا سنجیدگی اور غیر جانبداری کے ساتھ جائزہ لیں۔ ایسے واقعات محض چند گھنٹوں میں پیدا نہیں ہوتے بلکہ ان کے پیچھے کئی عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔ لہٰذا ضروری ہے کہ ان واقعات کی وجوہات کا مکمل تجزیہ کیا جائے تاکہ آئندہ ایسے سانحات سے بچا جا سکے۔
میں ریاست پاکستان اور متعلقہ اداروں سے پرزور مطالبہ کرتا ہوں کہ بلتستان میں پیش آنے والے حالیہ واقعات کے اسباب اور حقائق سامنے لانے کے لیے شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں۔ ساتھ ہی خطے میں حقیقی جمہوری اور سیاسی عمل کو مضبوط کیا جائے، بلدیاتی انتخابات جلد از جلد کروائے جائیں اور اصل سیاسی جماعتوں اور مقامی اسٹیک ہولڈرز کے لیے سیاسی میدان کو کھلا رکھا جائے تاکہ عوامی نمائندگی مضبوط ہو اور مستقبل میں ایسے حالات سے بہتر انداز میں نمٹا جا سکے۔
آخر میں اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اہلِ بلتستان کو امن و سکون عطا فرمائے، ہمیں ہر قسم کے انتشار اور فتنوں سے محفوظ رکھے اور ہمارے خطے کو ہمیشہ بھائی چارے، اتحاد اور امن کا گہوارہ بنائے رکھے۔
آمین
تحریر: بشارت ظہیر