17/09/2024
سننے کو بھیڑ ہے سر محشر لگی ہوئی
تہمت تمہارے عشق کی ہم پر لگی ہوئی
آباد کر کے شہر خموشاں ہر ایک سو
کس کھوج میں ہے تیغ ستم گر لگی ہوئی
آخر کو آج اپنے لہو پر ہوئی تمام
بازی میان قاتل و خنجر لگی ہوئی
لاوتو قتل نامہ میرا میں بھی دیکھ لوں
کس کس کی مہر ہے سر محضر لگی ہوئی