20/03/2026
ماسکو میں چینی سفارت خانے نے ان ممالک کی فہرست جاری کی جن پر دوسری جنگ عظیم کے بعد سے امریکہ نے بمباری کی ہے۔ یہ فہرست، جس میں 30 سے زائد ممالک شامل ہیں، تلخ سچائیوں سے پردہ اٹھاتے ہیں۔
امریکی بمباری کا نشانہ بننے والے ممالک کی فہرست:
• جاپان (1945) | کوریا اور چین (1950–1953) | گوئٹے مالا (1954–1969) | انڈونیشیا (1958) | کیوبا (1959–1961) | کانگو (1964) | لاؤس اور ویتنام (1961–1973) | کمبوڈیا (1969–1970) | گریناڈا (1983) | لبنان اور شام (1983–1984) | لیبیا (1986–2015) | ایل سلواڈور اور نکاراگوا (1980) | ایران (1987 اور 2025) | پاناما (1989) | عراق (1991-2015) | کویت (1991) | صومالیہ (1993-2011) | بوسنیا (1994-1995) | سوڈان (1998) | افغانستان (1998 اور 2001-2015) | یوگوسلاویہ (1999) | یمن (2002-2025) | پاکستان (2007-2015) | شام (2014-2015)۔
چین نے اس فہرست کو شائع کرتے ہوئے زور دیا:
"ہمیں کبھی نہیں بھولنا چاہیے کہ دنیا کے لیے اصل خطرہ کون ہے۔"
یہ فہرست کچھ بڑے سوالات اٹھاتی ہے:
1. کیا مغربی دنیا نے کبھی امریکہ کے خلاف اپنا غصہ ظاہر کیا ہے؟ کیا کبھی واشنگٹن کے خلاف متحد، اعلیٰ یقین کا اظہار ہوا ہے؟
3. کیا ان جرائم کے لیے امریکہ کو کسی پابندی کا سامنا کرنا پڑا ہے؟
پورا عالمی نظام جسے ہم "بین الاقوامی برادری" کہتے ہیں، خاموش تماشائی کے سوا کچھ نہیں رہا۔ جبکہ امریکہ نے ڈاکو جیسے ممالک پر حملہ کرکے قوموں کے خوابوں کو ڈراؤنے خوابوں میں بدل دیا ہے۔
کوئی مذمت نہ مذمت۔ بس ایک بزدل، بے شرم اور منافق آفاقی ضمیر!
یہ فہرست اب کیوں جاری کی گئی؟
جہاں مغربی میڈیا نے اسرائیل پر ایران کے جوابی حملے کی شدید مذمت کی ہے اور ایران کو "عالمی خطرہ" قرار دیا ہے، وہیں چین نے مغرب کے دوہرے معیار کو بے نقاب کرنے کے لیے یہ فہرست جاری کی ہے۔ چین کا پیغام واضح ہے: حملوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تاریخ کے ساتھ، امریکہ کے پاس دوسروں کو مشورہ دینے کی کوئی اخلاقی حیثیت نہیں ہے۔
دنیا کو یاد رکھنا چاہیے کہ اصل خطرہ کہاں ہے۔ جب امریکہ قتل عام شروع کرتا ہے تو مغربی میڈیا خاموش رہتا ہے لیکن دوسروں کو جمہوریت کا سبق سکھاتا ہے۔ یہ فہرست جھوٹ سے دنیا چلانے والوں کے لیے ایک مکروہ دستاویز ہے۔
❓ آپ کی کیا رائے ہے؟
کیا اب وقت نہیں آیا کہ دنیا کو غیر سنسر شدہ سچائیوں کا سامنا کرنا پڑے؟@