29/03/2026
پچھلے کچھ عرصے سے ہمارے بہت ہی پیارے بھائی ملک محمد سلمان صاحب بے زبان کتوں اور جانوروں کے بارے میں لکھ رہے ہیں کہ کیسے انہیں بیدردی سے قتل کیا جا رہا ہے تو اسی ایک کالم کو پڑھتے ہوئے خیال آیا کہ ہمارے بچپن کے دنوں میں
کبھی ہمارے گاؤں کی فضا میں ایک عجیب سی مانوسیت ہوا کرتی تھی۔ لوگ کم تھے، دل بڑے تھے، اور زندگی میں سادگی کے ساتھ ایک خاموش محبت بسی ہوئی تھی۔ انہی محبتوں میں ایک محبت ان بے زبان مخلوق کے لیے بھی تھی جو نہ بول سکتی تھیں، نہ اپنے دکھ بیان کر سکتی تھیں، مگر پھر بھی ہمارے معاشرے کا حصہ تھیں۔
مجھے آج بھی وہ دن یاد ہیں جب ہمارے گھروں میں روٹیاں بنتی تھیں تو صرف انسانوں کے لیے نہیں بنتی تھیں۔ نانی اماں دو روٹیاں الگ رکھ دیتی تھیں جنہیں ہم "کتے کی روٹی" کہتے تھے۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں تھی، یہ ایک سوچ تھی، ایک روایت تھی، ایک احساس تھا کہ اللہ کی مخلوق میں صرف انسان ہی نہیں، جانور بھی شامل ہیں۔
شام ڈھلتی، گاؤں میں خاموشی اترتی، اور پھر کہیں نہ کہیں سے ایک آوارہ کتا آ کر دہلیز کے باہر بیٹھ جاتا۔ نہ وہ شور کرتا، نہ دروازہ کھٹکھٹاتا، بس خاموشی سے انتظار کرتا۔ جیسے اسے یقین ہوتا تھا کہ یہاں اس کے لیے بھی کچھ رکھا گیا ہے۔ اور پھر نانی اماں وہ روٹی باہر رکھ دیتیں۔ وہ کتا خاموشی سے کھاتا، دم ہلاتا، اور واپس چلا جاتا۔ نہ شکایت، نہ مطالبہ صرف ایک خاموش شکریہ۔
یہی وہ کتے تھے جو ہمارے گاؤں کی حفاظت بھی کرتے تھے۔ رات کی خاموشی میں اگر کوئی انجان شخص گاؤں میں داخل ہوتا تو یہی بے زبان سب سے پہلے آواز بلند کرتے۔ ان کی بھونک میں ایک خبرداری ہوتی، ایک اطلاع ہوتی کہ کوئی اجنبی داخل ہو چکا ہے۔ وہ ہمارے محافظ تھے، ہمارے ساتھی تھے، اور ہمارے ماحول کا حصہ تھے۔
مگر افسوس…
آج وہی بے زبان مخلوق ہمارے معاشرے میں غیر ضروری سمجھ لی گئی ہے۔
آج انہیں زہر دیا جاتا ہے…
انہیں گولیوں سے مارا جاتا ہے…
انہیں گاڑیوں کے نیچے روند دیا جاتا ہے…
اور یہ سب کچھ اس لیے کہ وہ بول نہیں سکتے… شکایت نہیں کر سکتے… اور اپنا دفاع نہیں کر سکتے۔
یہ کیسا معاشرہ بن گیا ہے جہاں انسان اپنی حفاظت کے لیے جانوروں کو ختم کر رہا ہے؟
یہ کیسی ترقی ہے جہاں رحم ختم ہو گیا اور بے حسی عام ہو گئی؟
اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ ایک پیاسی بلی کو پانی پلانے والی عورت کو جنت ملی، اور ایک بلی کو بھوکا مارنے والی عورت جہنم کی مستحق قرار دی گئی۔ یہ صرف مذہبی واقعہ نہیں بلکہ انسانیت کا درس ہے۔
جانور ہمارے ماحول کا حصہ ہیں، قدرت کے توازن کا حصہ ہیں، اور سب سے بڑھ کر اللہ کی مخلوق ہیں۔
ان کا قتل صرف ایک جانور کا قتل نہیں، بلکہ ہماری انسانیت کا قتل ہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے بچوں کو دوبارہ وہی سبق دیں جو ہمیں ہمارے بڑوں نے دیا تھا
کہ روٹی صرف انسان کی نہیں ہوتی
کہ دہلیز صرف انسان کے لیے نہیں ہوتی
کہ محبت صرف بولنے والوں کے لیے نہیں ہوتی
ہمارے گاؤں کی وہ "کتے کی روٹی" دراصل انسانیت کی روٹی تھی۔
وہ روٹی صرف ایک کتے کو نہیں کھلائی جاتی تھی، بلکہ اس سے دلوں میں رحم، محبت اور احساس کو زندہ رکھا جاتا تھا۔
آج اگر ہم واقعی ایک بہتر معاشرہ چاہتے ہیں، تو ہمیں دوبارہ وہی روایت زندہ کرنی ہوگی۔
ایک روٹی نکالیں…
ایک پیالہ پانی رکھیں…
اور یاد رکھیں…
بے زبان مخلوق بھی اللہ کی امانت ہے
اور امانت کا خیال رکھنا ہی اصل انسانیت ہے۔
تحریر: شہباز افضل 🍂