03/08/2026
وہاڑی (وہاڑی میڈیا نیوز) ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر وہاڑی محمد مشتاق بلوچ نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایات کے مطابق ضلع وہاڑی میں محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کی مشترکہ ٹیمیں گرین بیگز میں آٹے کی وافر مقدار میں دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل متحرک ہیں۔ 10 کلوگرام گرین بیگ آٹا 1,100 روپے جبکہ 20 کلوگرام گرین بیگ آٹا 2,200 روپے کے مقررہ سرکاری نرخوں پر عوام کو فراہم کیا جا رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے تمام مراکز کی باقاعدہ نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ شہریوں کو معیاری آٹا سرکاری نرخوں پر بلا رکاوٹ دستیاب رہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے مختلف آٹا فراہمی سنٹرز کا دورہ اور فلور ملز مالکان کے ساتھ ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر جنرل سیکرٹری فلور ملز ایسوسی ایشن ضلع وہاڑی سابق چیئرمین میونسپل کمیٹی وہاڑی شیخ محمد حسین، سابق ناظم و سینئر رہنماء چوہدری محمد صفدر گجر، چوہدری عاصم کمبوہ بھی موجود تھے۔ ڈی ایف سی مشتاق بلوچ نے مزید کہا کہ جہاں کسانوں کے معاشی مفادات کا تحفظ حکومت پنجاب کی ترجیح ہے وہیں عام شہری کو معیاری آٹا مناسب قیمت پر فراہم کرنا بھی حکومت کی اولین ذمہ داری ہے، جس کے لیے محکمہ خوراک بھرپور انداز میں اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہا ہے۔ ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر وہاڑی محمد مشتاق بلوچ نے کہا ہے کہ گندم کی درآمد کو پنجاب حکومت یا پنجاب فوڈ ڈیپارٹمنٹ کی کارکردگی سے جوڑنا درست نہیں، کیونکہ گندم کی درآمد کا فیصلہ وفاقی حکومت کی پالیسی کے تحت کیا جاتا ہے، جبکہ پنجاب حکومت نے اپنے دائرۂ اختیار میں کسانوں کے مفاد، عوام کو سستے آٹے کی فراہمی اور گندم کے وافر ذخائر کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت نے کسانوں کے تحفظ کے لیے گندم کی امدادی قیمت 3 ہزار 500 روپے فی 40 کلوگرام مقرر کی، جس کا مقصد کاشتکار کو اس کی محنت کا مناسب معاوضہ فراہم کرنا تھا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ موجودہ مارکیٹ میں گندم کی قیمت تقریباً 4 ہزار 600 سے 4 ہزار 700 روپے فی 40 کلوگرام تک پہنچ چکی ہے، جو اس امر کا ثبوت ہے کہ کسان کو بہتر مالی فائدہ حاصل ہو رہا ہے۔
محمد مشتاق بلوچ نے کہا کہ پنجاب حکومت کی پالیسی ہے کہ کسانوں کے گھروں سے زبردستی گندم نہ اٹھائی جائے، انہوں نے واضح کیا کہ محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کی کارروائیاں کسانوں کے خلاف نہیں بلکہ ذخیرہ اندوزوں، ناجائز منافع خوروں اور مڈل مین مافیا کے خلاف کی جا رہی ہیں تاکہ مصنوعی قلت اور قیمتوں میں غیر ضروری اضافے کا قبل از وقت سدباب کیا جا سکے۔ ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر نے بتایا کہ پنجاب حکومت نے اپنی ضروریات کے مطابق تقریباً 50 لاکھ میٹرک ٹن گندم خریدی، جبکہ مزید تقریباً 10 لاکھ میٹرک ٹن گندم پاسکو کے ذخائر سے حاصل کر کے صوبائی ذخائر کو مزید مستحکم بنایا گیا، تاکہ عوام کو سال بھر بلا تعطل گندم اور آٹے کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب پاکستان کا سب سے بڑا گندم پیدا کرنے والا صوبہ ہے، جو نہ صرف اپنی ضروریات پوری کرتا ہے بلکہ سندھ کے بعض علاقوں، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر سمیت دیگر علاقوں کی ضروریات پوری کرنے میں بھی کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ اس موقع پر شیخ محمد حسین، چوہدری صفدر گجر اور دیگر نے کہا کہ قومی غذائی تحفظ وفاق اور تمام صوبوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے، اس لیے کسی ایک پہلو کو بنیاد بنا کر پنجاب حکومت یا محکمہ خوراک کی کارکردگی پر سوال اٹھانا زمینی حقائق کے برعکس ہے۔