عورتوں کے پوشیدہ امراض کا علاج ۔۔

عورتوں کے پوشیدہ امراض کا علاج ۔۔ PCOD
PCOS
va**na issue




breast tight problems

25/08/2026
25/08/2026

اللہ کرے مجھے موت آجائے 😭 میری عمر 39 سال ہے ۔ میری بیوی کی عمر 29 سال ہے۔ شادی کو 08 سال ہو گئے ہیں۔اسکو پہلے بھی طلاق ہوئی ہے میں نے اس لئے کر لی کہ زمانے کی ٹھوکریں لگ چکی سمجھدار ہوگی۔مگر شادی کے 06 ماہ بعد ہی اسکا افیئر پکڑا تھا۔ رو رو کے معافیاں مانگی میں نے دل سے معاف کردیا ۔ ہمارا 05 سال کا ایک بیٹا بھی ہے۔ دنیا کی ہر آسائش اسکو دی ہوئ ہے۔ کبھی کسی چیز کی کمی نہیں دی۔ 01 سال اپنے ساتھ دبئی بھی رکھا سب کی مخالفت کے باوجود۔ کبھی کوئی روک ٹوک بلاوجہ کی پابندیوں میں نہیں رکھا کہ کہیں غلط نہ سمجھ لے باغی نہ ہو جائے ۔ اب تک سب ٹھیک چل رہا ہے مسئلہ یہ ہے میں 10 ماہ سے سعودی میں جاب کر رہا ہوں۔ مجھے اسکی خاص دوست نے کال کرکے اسکے نئے افیئر کا بتایا کہ میں نہیں چاہتی آپکا گھر خراب ہو وہ کہیں اور لگی ہوئی ہے اور مجھے فورس کر رہی ہے کہ میرا‌ساتھ دے اسکو ملنے میں۔وہ اسکا ساتھ دینے سے منع کر چکی ہے۔ تب سے اسکا دماغ خراب ہو چکا ہے۔ جب سے یہ سب سنا ہے میرے دماغ نے کام کرنا بند کر دیا ہے اپنی بیوی سے اس بارے بات نہیں کی مگر اسکا ہر وقت اب لڑنا اور جان بوجھ کے بار بار طلاق مانگنا وطیرہ بن چکا ہے۔ میں چھوڑ تو دوں مگر مجھے اپنے بیٹے پہ ترس آتا ہے وہ رل جائیگا۔ آپ مجھے برادرانہ مشورہ دیں میں کیا کروں اب سوچ سوچ کے میرا دماغ ختم ہو چکا ہے۔

22/08/2026

میری شادی کو تقریباً سوا سال ہو چکا ہے۔ میں 25 سال کی ہوں اور میرے شوہر 28 سال کے ہیں۔ وہ عادات کے بہت اچھے، کیئرنگ اور لونگ ہیں، لیکن میں اس زندگی سے بری طرح تھک چکی ہوں اور اب سمجھ نہیں آ رہا کہ کیا کروں۔
میرے شوہر کی نائٹ جاب ہے، جس کی وجہ سے میں پوری رات اکیلی گزارتی ہوں۔ صبح وہ کام سے واپس آتے ہیں، پھر جم چلے جاتے ہیں، وہاں سے آ کر ناشتہ کرتے ہیں اور سو جاتے ہیں۔ شام کو 5 یا 6 بجے اٹھتے ہیں، چائے سنیکس لیتے ہیں، رات کا کھانا کھاتے ہیں اور پھر 8 بجے دوبارہ آفس کے لیے نکل جاتے ہیں۔
پورے دن میں وہ مجھے مشکل سے 2 سے 3 گھنٹے دیتے ہیں، اور اکثر اس وقت میں بھی انہیں باہر کوئی کام نکل آتا ہے تو وہ وقت صرف 1 گھنٹہ رہ جاتا ہے۔ آپ خود بتائیں، کیا ایک نئے شادی شدہ جوڑے کے لیے یہ وقت کافی ہے؟
یہ تو پورے ہفتے کا روٹین ہے، اوپر سے ہر دوسرے ویک اینڈ پر وہ اپنے دوستوں کے گھر نائٹ سٹے کے لیے چلے جاتے ہیں۔ جب میں منع کرتی ہوں تو غصہ ہو جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ "باقی لوگوں کی بیویاں نہیں روکتیں، صرف تم ہی روکوگی"۔ اور پھر بھی وہ چلے جاتے ہیں۔ ہمارا ابھی کوئی بچہ بھی نہیں ہے۔
لوگ مجھے صبر کی تلقین کرتے ہیں اور مثالیں دیتے ہیں کہ آرمی یا نیوی والوں کی بیویاں بھی تو 5-6 مہینے اکیلی رہتی ہیں۔ میں انہیں کیسے سمجھاؤں کہ وہ اگر مہینوں اکیلی رہتی ہیں تو پھر کئی مہینے اکٹھے بھی گزارتی ہیں، اور انہیں پتہ ہوتا ہے کہ ان کے شوہر شہر میں نہیں ہیں۔ میرے کیس میں تو میرا شوہر روز میرے سامنے ہوتا ہے، اسی گھر میں ہوتا ہے، لیکن پھر بھی میں اکیلی ہوتی ہوں۔ یہ اکیلا پن اس دور رہنے والے اکیلے پن سے کہیں زیادہ تکلیف دہ ہے۔
وہ اپنی جاب کی ٹائمنگ تبدیل نہیں کر سکتے کیونکہ یہ ایک فل ٹائم نائٹ شفٹ ہے۔ میں ان سے محبت کرتی ہوں لیکن اس طرح گھٹ گھٹ کر جینا اب میرے لیے ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔ مجھے جاب چینج کرنے کا مشورہ مت دیجیے گا، بس یہ بتائیں کہ اس سچویشن کو کیسے ہینڈل کروں؟ کیا میرا یہ ڈیمانڈ کرنا غلط ہے؟

20/08/2026

ہر دفعہ حمل ضائع ہونے پر بیوی کو ڈاکٹر کے پاس لے جانے کے بجائے اپنا سیمن ٹیسٹ کروائیں، نہ کہ بیوی کےلیے وبالِ جان بن جائیں کہ "تمہاری وجہ سے سب ہو رہا ہے۔"

19/08/2026

میری شادی کو 2.5 سال ہو گئے ہیں اور یہ لانگ ڈسٹینس میرج ہے۔ اس دوران میرے شوہر ہر سال 15 دن کے لیے پاکستان آتے رہے ہیں۔ ہر بار جب وہ آتے تھے تو بلا وجہ مجھے بری طرح مارتے تھے۔ مارنے کے بعد ایسا رویہ کرتے تھے جیسے انہیں یاد ہی نہ ہو کہ انہوں نے کیا تھا۔ آخری بار ہم ترکی گئے تھے، اور وہاں کا تجربہ بھی بہت خوفناک تھا۔ وہ صرف اپنے لیے کھانا آرڈر کرتے تھے اور مجھے دن میں صرف ایک بار کھانے کی اجازت دیتے تھے، اور وہ بھی مینو میں سب سے سستی چیز۔ وہ تمام مشہور میوزیم گئے لیکن ٹکٹ صرف اپنے لیے لیا، اور مجھے گھنٹوں اکیلا باہر انتظار کرنا پڑا۔ جب ہم مال گئے تو انہوں نے جان بوجھ کر مجھے تنگ کرنے کے لیے خود کو چھپا لیا۔ وہ ایک دکان میں چھپ گئے اور میں 2 گھنٹے تک روتے ہوئے انہیں ڈھونڈتی رہی۔ میرے پاس نہ پیسے تھے نہ انٹرنیٹ، اس لیے میں نہ ان سے رابطہ کر سکتی تھی نہ کسی سے مدد مانگ سکتی تھی۔

مجھے سمجھ نہیں آ رہا کہ اب کیا کروں۔ میں یہ بات اپنے گھر والوں سے بھی شیئر نہیں کر سکتی کیونکہ میرے گھر والے بھی زہریلے اور لالچی ہیں۔ میں خود کو بالکل بے بس محسوس کرتی ہوں اور سمجھ نہیں آ رہی کہ مدد کے لیے کہاں جاؤں۔

میری بہن عاصمہ کا بلڈ پریشر تین چار ماہ سے مسلسل شوٹ کررہا تھا انہوں نے قریبی نجی ڈاکٹر کو چیک اپ کروایا ہاٸی بی پی کی م...
19/08/2026

میری بہن عاصمہ کا بلڈ پریشر تین چار ماہ سے مسلسل شوٹ کررہا تھا انہوں نے قریبی نجی ڈاکٹر کو چیک اپ کروایا ہاٸی بی پی کی میڈیسن لے کر استعمال کررہے تھیں لیکن کوٸی افاقہ نہیں ہورہا تھا مسلسل بلڈ پریشر اپ رہ رہا تھا ایک دن اچانک چہرے اور جسم پر سوزش آنی شروع ہوگٸی ہم مزید پریشان ہوگٸے اور کسی پروفیسر ڈاکٹر سے چیک اپ کے لیے ہوسپٹل چلے گٸے جب بلڈ ٹیسٹ لیے گٸے تو پتہ چلا کہ بہن عاصمہ کو تو گردوں کا پرابلم شروع ہوگیا ہے کریٹینین 15.3 اور یوریا 224 پر جاچکا ہے
اور eGfr .3 اور جسم میں پانی بڑھ رہا ہے سانس تنگ ہورہی تھی ہم نے PkLi ہوسپٹل میں فوری داخل کروایا گردوں کے سینٸر پروفیسر نیفرالوجسٹ ڈاکٹر سے علاج شروع کیا لیکن کریٹینن اور یوریا نیچے نہ آیا اور ڈاکٹر نے کہا کہ ان کے ڈیلاٸیسز کے علاوہ کوٸی حل نہیں ہے فوری ڈیلائیسز کروائیں ان کے گردے مکمل ختم ہوچکے ہیں
اب ان کے ہفتہ میں دو بار ساری زندگی ڈیلاٸیسز کروانے پڑیں گے
یا گردے کا ارینج کرکے کڈنی ٹرانسپلانٹ کروالیں ہم اتنی حثیت نہیں رکھتے تھے کہ گردے کا ٹرانسپلانٹ کروالیں کیونکہ اس کے اخراجات بہت زیادہ تھے ہم نے بہن عاصمہ کے ڈیلاٸیسز کی تیاری شروع کردی فیملی میں سب کو پتہ تھا تو ایک کزن نے فون کرکے مجھے حکیم عبدالقدیر صاحب کا بتایا کہ وہ گردوں کی امراض میں بہت قابل طبیب ہیں پلیز ایک بار عاصمہ بہن کو وہاں لے چلیں حکیم صاحب نے بہت سے گردوں کے مریض ٹھیک کیے ہیں شاید اللہ پاک کرم کردیں
میں نے اپنے گھر میں والدین سے مشورہ کیا اور بہن عاصمہ کو لے کر حکیم صاحب کی طرف روانہ ہوگیا دو گھنٹے کے سفر کے بعد ہم حکیم صاحب کے مطب پر پہنچ گٸے حکیم صاحب کو ملے بالکل ینگ عمر طبیب جدید دور کے پڑھے ہوٸے کوالیفاٸیڈ طبیب تھے بہت ہی خوش اخلاق اور ملن سار طبیت کے مالک تھے ہم سے پہلے چار پانچ مریض ان کے پاس بیٹھے ہوٸے تھے انہیں چیک اپ کرنے کے بعد ہم سے آنے کی وجہ پوچھی ہم نے بہن عاصمہ کی رپوٹس اور کنڈیشن انہیں بتادی انہوں نے کہا پہلے جوس یا چاٸے پٸیں پھر میڈیسن لکھتے ہیں آپ کافی دور سے آٸے ہیں اور ہمارے مہمان ہیں فریش منٹ کے بعد انہوں نے اچھی طرح چیک اپ کرنے کے بعد میڈیسن لکھ کر دے دی اور کہا یہ بہت جلد ٹھیک ہوجاٸیں گی پریشان نہ ہوں آپ درست جگہ پر تشریف لے آٸے ہیں ہم نے بہت زیادہ کڈنی فیلٸیر مریض ٹھیک کیے ہیں ہمارا باپ دادا سے گردوں کے مریضوں پر تجربہ ہے

ہم نے میڈیسن لینے کے بعد فیس ادا کی اور اجازت طلب کی اور واپسی گھر کو روانہ ہوگٸے گھر جاکر میڈیسن شروع کرلی دو چار دن میڈیسن کھاتے ہوٸے گزرے تھے کہ بہن کی طبیت میں بہتری آنا شروع ہوگٸی ہم ایک ماہ کی میڈیسن لائے تھے 15 دن بعد رپوٹس کرواکر چیک کیا تو کریٹین اور یوریا بالکل نارمل تھا اور eGFR جو تھا 120 پر آگیا تھا گردے مکمل ٹھیک ہوگئے تھے پیشاب کُھل کر آنا شروع ہوگیا کریٹینن اور یوریا اور بلڈ پریشر بالکل نارمل ہوگیا یعنی گردے بالکل صحت مند ہوگٸے تھے ہم نے حکیم صاحب کو خوشخبری سناٸی تو انہوں نے کہا میرا کام تو اچھی میڈیسن دینا ہے شفإ تو اللہ پاک کریم دیتے ہیں یہ سب اللہ پاک کے کرم ہیں پھر انہوں نے کہا آپ اس ماہ کی میڈیسن مکمل کھلائیں مزید پھر ایک ماہ کی میڈیسن کھلادیں تاکہ دوبارہ زندگی میں گردوں کو مسلہ نہ بنے ہم نے اُن کے کہنے کے مطابق دو ماہ مکمل میڈیسن کھلائی اور آج الحَمْدُ ِلله میری بہن بالکل ٹھیک ہے
میں نے یہ تحریر انسانیت کی بھلاٸی کے لیے لکھی ہے کہ اگر کسی کا کوٸی بھاٸی بہن ماں باپ گردوں کی مرض میں مبتلا ہے تو ایک بار ان حکیم صاحب سے لازمی رابطہ کرلیں انہوں نے بہت سے گردے فیل کے مریض بالکل ٹھیک کیے ہیں
میں اپنی بہن کی رپوٹس بھی ساتھ لف کررہا ہوں تاکہ آپ کو مکمل یقین ہوجائے
اس اللہ کے نیک بندے حکیم صاحب پر ۔۔
اللہ پاک آپ کے بہن بھائیوں بزرگوں کو بھی تندرستی عطاء فرمائیں ---------------------------------------

کچھ دوستوں کے اسرار پر حکیم صاحب کا مکمل ایڈریس لکھ رہا ہوں
حکیم صاحب کا نام عبدالقدیر
ایڈریس ۔ اڈا وجھیانوالہ تحصیل میانچنوں ضلع خانیوال
حکیم صاحب کا نمبر
03061772088
اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیٸر کردیں شاید آپ کی وجہ سے کسی کا بھلا ہوجاٸے ۔۔

تمام رپورٹس نارمل ہیں، پھر بھی حمل کیوں نہیں ہو رہا؟کیا آپ کی تمام رپورٹس نارمل ہیں، الٹراساؤنڈ بھی ٹھیک ہے، ہارمونز بھی...
18/08/2026

تمام رپورٹس نارمل ہیں، پھر بھی حمل کیوں نہیں ہو رہا؟

کیا آپ کی تمام رپورٹس نارمل ہیں، الٹراساؤنڈ بھی ٹھیک ہے، ہارمونز بھی نارمل ہیں، لیکن پھر بھی حمل نہیں ٹھہر رہا؟

اگر آپ کئی ماہ سے حمل کی کوشش کر رہی ہیں تو صرف یہ دیکھنا کافی نہیں کہ چند رپورٹس نارمل ہیں۔

حمل ٹھہرنے کے لیے صرف ایک ہارمون یا ایک ٹیسٹ ذمہ دار نہیں ہوتا۔ بیضہ بننے اور خارج ہونے کا عمل، بیضہ دانی کی کیفیت، بچہ دانی، فاللوپین ٹیوبز، ہارمونز، غذائی کیفیت اور شوہر کے سپرم سمیت کئی عوامل کو ایک ساتھ دیکھنا پڑتا ہے۔

اگر رپورٹس نارمل ہیں تو مسئلہ کہاں ہو سکتا ہے؟

بہت سی خواتین میرے پاس اپنی رپورٹس کی ایک پوری فائل لے کر آتی ہیں اور کہتی ہیں:

"ڈاکٹر صاحبہ، سب کچھ نارمل ہے، پھر حمل کیوں نہیں ہو رہا؟"

ایسی صورت میں صرف ایک نئی رپورٹ کروانا ہمیشہ درست طریقہ نہیں ہوتا۔

سب سے پہلے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ:

ماہواری باقاعدہ ہے یا نہیں؟
بیضہ باقاعدگی سے خارج ہو رہا ہے یا نہیں؟
بیضہ دانی کی صورتحال کیا ہے؟
بچہ دانی اور فاللوپین ٹیوبز میں کوئی مسئلہ تو نہیں؟
شوہر کا سیمن اینالیسس ہوا ہے یا نہیں؟
عمر اور حمل کی کوشش کا دورانیہ کیا ہے؟
پہلے حمل، اسقاط حمل یا کسی آپریشن کی تاریخ تو نہیں؟
وزن، غذائیت، تھائیرائڈ یا دیگر طبی مسائل تو موجود نہیں؟

اسی لیے فرٹیلٹی کی جانچ ہمیشہ ہر خاتون کے لیے ایک جیسی نہیں ہوتی۔

پانچ ایسے ٹیسٹس اور جائزے جن پر بعض خواتین میں توجہ دینا ضروری ہو سکتی ہے

یہ بات بہت اہم ہے:

ان میں سے ہر ٹیسٹ ہر خاتون کے لیے ضروری نہیں ہوتا۔

صحیح ٹیسٹ کا فیصلہ آپ کی عمر، علامات، ماہواری، سابقہ طبی تاریخ اور پہلے سے موجود رپورٹس دیکھنے کے بعد کیا جاتا ہے۔

۱۔ وٹامن ڈی

وٹامن ڈی کی کمی بہت عام ہے، اور بعض خواتین میں اس کی جانچ طبی صورتحال کے مطابق مفید ہو سکتی ہے۔

اگر آپ کو پہلے سے وٹامن ڈی کی کمی معلوم ہے، دھوپ کی کمی ہے، غذائی خطرات موجود ہیں یا ڈاکٹر کو اس کی ضرورت محسوس ہو تو خون کا مناسب ٹیسٹ کروایا جا سکتا ہے۔

لیکن صرف یہ سوچ کر کہ "مجھے حمل نہیں ہو رہا، اس لیے لازماً وٹامن ڈی کم ہوگا" خود سے علاج شروع کرنا درست نہیں۔

۲۔ وٹامن بی بارہ

وٹامن بی بارہ کی کمی خاص طور پر بعض غذائی عادات اور طبی حالات میں پائی جا سکتی ہے۔

اگر آپ کی غذا میں جانوروں سے حاصل ہونے والی غذائیں بہت کم ہیں، خون کی کمی کی کوئی خاص وجہ ہے، معدے یا آنتوں کا مسئلہ ہے یا ڈاکٹر کو غذائی کمی کا شبہ ہو تو وٹامن بی بارہ کی جانچ مناسب ہو سکتی ہے۔

لیکن اسے ہر خاتون کے لیے لازمی فرٹیلٹی ٹیسٹ سمجھنا درست نہیں۔

۳۔ فیرٹن اور آئرن کی صورتحال

بعض خواتین میں خون کا عام ٹیسٹ بظاہر اطمینان بخش ہونے کے باوجود آئرن کے ذخائر کم ہو سکتے ہیں۔

خاص طور پر اگر ماہواری بہت زیادہ آتی ہو، مسلسل تھکن رہتی ہو، کمزوری ہو یا آئرن کی کمی کا سابقہ موجود ہو تو ڈاکٹر فیرٹن سمیت مناسب ٹیسٹس تجویز کر سکتے ہیں۔

اہم بات یہ ہے کہ صرف رپورٹ دیکھ کر خود سے آئرن کی گولیاں شروع نہ کریں۔

۴۔ تھائیرائڈ اور دیگر ہارمونز

حمل کے معاملے میں صرف چند "عام ہارمون ٹیسٹس" دیکھ لینا کافی نہیں ہوتا۔

تھائیرائڈ کی خرابی بعض خواتین میں ماہواری اور بیضہ کاری کو متاثر کر سکتی ہے۔

اسی طرح اگر ماہواری بے قاعدہ ہو، بہت کم یا بہت زیادہ ہو، دودھ جیسا اخراج ہو یا ہارمونل علامات موجود ہوں تو ڈاکٹر ضرورت کے مطابق مزید ہارمونز کی جانچ کر سکتے ہیں۔

۵۔ وہ چیز جو اکثر نظر انداز ہو جاتی ہے: شوہر کا سیمن اینالیسس

یہ شاید اس مضمون کا سب سے اہم نکتہ ہے۔

اگر حمل نہیں ٹھہر رہا تو صرف خاتون کے ٹیسٹس کرواتے رہنا درست طریقہ نہیں۔

فرٹیلٹی کی جانچ میں مرد کی طرف سے بھی مناسب تشخیص شامل ہونی چاہیے، اور ابتدائی جانچ میں سیمن اینالیسس ایک اہم حصہ ہے۔

اس لیے اگر آپ کی تمام رپورٹس نارمل ہیں لیکن شوہر کا سیمن اینالیسس ابھی تک نہیں ہوا، تو صرف مزید خواتین کے ٹیسٹس کروانے سے پہلے اس پہلو پر بھی ڈاکٹر سے بات کریں۔

اور فاللوپین ٹیوبز؟

ایک اور اہم سوال جو بہت سی خواتین پوچھتی ہیں:

"میرا الٹراساؤنڈ نارمل ہے، کیا اس کا مطلب ہے کہ میری ٹیوبز بھی کھلی ہیں؟"

ضروری نہیں۔

بعض صورتوں میں فاللوپین ٹیوبز کی جانچ کے لیے مخصوص ٹیسٹ درکار ہوتے ہیں، جیسے ہائسٹروسیلپنگوگرافی یا مناسب متبادل، اور یہ فیصلہ آپ کی طبی تاریخ کے مطابق کیا جاتا ہے۔

یعنی صرف "الٹراساؤنڈ نارمل ہے" سن کر مکمل فرٹیلٹی ورک اَپ کو نارمل قرار نہیں دیا جا سکتا۔

کیا آپ کو یہ پانچوں ٹیسٹس ابھی کروانے چاہئیں؟

ضروری نہیں۔

یہی وہ جگہ ہے جہاں سوشل میڈیا کی بہت سی معلومات خواتین کو پریشان کر دیتی ہیں۔

کسی ایک وٹامن، سپلیمنٹ یا خون کے ٹیسٹ کو حمل نہ ٹھہرنے کی واحد وجہ سمجھنا درست نہیں۔

کچھ خواتین کو غذائی کمی کی جانچ کی ضرورت ہوتی ہے۔

کچھ خواتین کو ہارمونز کی جانچ کی ضرورت ہوتی ہے۔

کچھ میں ٹیوبز کی جانچ اہم ہوتی ہے۔

کچھ میں بیضہ کاری یا بیضہ دانی کی صورتحال کو مزید سمجھنا ضروری ہوتا ہے۔

اور بعض اوقات مسئلہ مردانہ فرٹیلٹی سے متعلق بھی ہو سکتا ہے۔

اسی لیے رپورٹس کا مجموعی جائزہ کسی ایک ٹیسٹ سے زیادہ اہم ہے۔

آپ کو کب فرٹیلٹی کنسلٹیشن لینی چاہیے؟

اگر آپ کی عمر ۳۵ سال سے کم ہے اور باقاعدہ ازدواجی تعلق کے باوجود ایک سال سے حمل نہیں ٹھہرا، تو فرٹیلٹی کی جانچ کے بارے میں ڈاکٹر سے مشورہ کرنا مناسب ہے۔

اگر عمر ۳۵ سال یا اس سے زیادہ ہے تو عموماً چھ ماہ کی کوشش کے بعد ہی جانچ کا مشورہ دیا جاتا ہے۔

اور اگر عمر ۴۰ سال سے زیادہ ہے، ماہواری بے قاعدہ ہے، پہلے سے کوئی ایسی بیماری موجود ہے جو فرٹیلٹی کو متاثر کر سکتی ہے، یا سابقہ حمل یا اسقاط حمل سے متعلق کوئی خاص مسئلہ ہے، تو زیادہ جلدی مشورہ لینا مناسب ہو سکتا ہے۔

صرف مزید ٹیسٹس نہیں، صحیح سمت ضروری ہے

اگر آپ کئی رپورٹس کروا چکی ہیں لیکن پھر بھی سمجھ نہیں آ رہا کہ اگلا قدم کیا ہونا چاہیے، تو شاید آپ کو مزید ٹیسٹس کی فہرست نہیں بلکہ اپنی موجودہ رپورٹس کا مکمل اور انفرادی جائزہ درکار ہے۔

آن لائن کنسلٹیشن میں آپ اپنی موجودہ رپورٹس، ماہواری کی تفصیل، سابقہ طبی تاریخ اور حمل کی کوشش سے متعلق معلومات شیئر کر سکتی ہیں۔

اس کے بعد یہ فیصلہ کیا جا سکتا ہے کہ:

کون سا ٹیسٹ واقعی ضروری ہے؟

کون سا ٹیسٹ فی الحال نہیں چاہیے؟

غذا اور طرزِ زندگی میں کیا تبدیلی مناسب ہے؟

اور اگلا طبی قدم کیا ہونا چاہیے؟

آن لائن فرٹیلٹی کنسلٹیشن

اگر آپ اسلام آباد میں نہیں ہیں یا کلینک آنا آپ کے لیے مشکل ہے تو آپ گھر بیٹھے آن لائن کنسلٹیشن لے سکتی ہیں۔

اپنی موجودہ رپورٹس اور مسئلے کی تفصیل شیئر کریں اور اپنی صورتحال کے مطابق رہنمائی حاصل کریں۔

اگر آپ کی ضرورت ہو تو آپ کے لیے آپ کی طبی صورتحال، غذائی ضروریات اور فرٹیلٹی کے اہداف کو مدنظر رکھتے ہوئے خصوصی ڈائٹ پلان کے بارے میں بھی رہنمائی کی جا سکتی ہے۔

ایک اہم بات

انٹرنیٹ پر موجود ہر فرٹیلٹی ٹیسٹ، وٹامن یا سپلیمنٹ ہر خاتون کے لیے ضروری نہیں ہوتا۔

براہِ کرم صرف اس مضمون کی بنیاد پر خود سے ٹیسٹس، ادویات یا سپلیمنٹس شروع نہ کریں۔

آپ کی عمر، علامات، ماہواری، سابقہ طبی تاریخ، شوہر کی رپورٹس اور موجودہ ٹیسٹس کو ایک ساتھ دیکھ کر ہی بہتر فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔

اگر آپ کی رپورٹس نارمل ہونے کے باوجود حمل نہیں ٹھہر رہا، تو اپنی رپورٹس لے کر مناسب فرٹیلٹی کنسلٹیشن حاصل کریں۔

صحیح سوال کا جواب ہمیشہ "ایک اور ٹیسٹ" نہیں ہوتا — کبھی صحیح جواب موجودہ رپورٹس کو صحیح تناظر میں سمجھنا ہوتا ہے۔

Address

Khanewal Road
Vehari
65

Telephone

+923061772088

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when عورتوں کے پوشیدہ امراض کا علاج ۔۔ posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to عورتوں کے پوشیدہ امراض کا علاج ۔۔:

Shortcuts

Share

Category