SaimaNoreen PTIsmt

SaimaNoreen PTIsmt FBR Tax Lawyer, Family Lawyer , Civil & Criminal Lawyer ⚖️💻📎🖋️📝📖📚📌📍

ایسے کیسز میں جہیز کے سامان کی واپسی کے لیے فیملی کورٹ میں باقاعدہ دعویٰ دائر کیا جاتا ہے جس کے ساتھ جہیز کی مکمل لسٹ، ر...
18/04/2026

ایسے کیسز میں جہیز کے سامان کی واپسی کے لیے فیملی کورٹ میں باقاعدہ دعویٰ دائر کیا جاتا ہے جس کے ساتھ جہیز کی مکمل لسٹ، رسیدیں (اگر موجود ہوں)، تصاویر یا گواہان بطور ثبوت پیش کیے جاتے ہیں، عدالت شواہد کی بنیاد پر فیصلہ کرتی ہے کہ لڑکی کو کون سا سامان واپس ملے گا یا اس کی موجودہ مالیت ادا کی جائے گی، عموماً وہی سامان یا اس کی ویلیو کلیم کی جا سکتی ہے جو نکاح یا شادی کے وقت دیا گیا ہو، کیس کا دورانیہ حالات اور شواہد پر منحصر ہوتا ہے لیکن عام طور پر چند ماہ سے لے کر ایک سال تک لگ سکتا ہے، شوہر کا عدالت میں پیش ہونا ضروری ہوتا ہے تاہم اگر وہ پیش نہ ہو تو عدالت یکطرفہ کارروائی (ex-parte) بھی کر سکتی ہے، بچوں کے نان نفقہ اور کسٹڈی کے معاملات بھی اسی کیس کے ساتھ یا الگ درخواست کے ذریعے حاصل کیے جا سکتے ہیں، اس سارے عمل میں درست قانونی رہنمائی اور مضبوط کیس پریزنٹیشن بہت اہم ہوتی ہے تاکہ خاتون کو مکمل انصاف مل سکے۔

In such cases, a proper suit for recovery of dowry articles is filed in the Family Court along with a detailed list of items, supporting evidence such as receipts, photographs, or witnesses; the court decides on the basis of evidence whether the actual items should be returned or their market value be paid, the claimant (wife) can only recover those items which were given at the time of marriage, the duration of the case may vary depending on evidence and court proceedings but generally it may take a few months to a year, the appearance of the husband is important, however if he fails to appear the court may proceed ex-parte, matters of child maintenance and custody can also be claimed within the same proceedings or through separate applications, proper legal assistance ensures effective case handling and better chances of relief.



Dowry recovery procedure, Family court Pakistan, Legal process for dowry case, Child custody law, Maintenance claim Pakistan, Ex-parte proceedings, Lawyer services Pakistan, Court case duration, Legal consultation

بچوں کی حضانت (Custody) کے حوالے سے گارڈین اینڈ وارڈز ایکٹ 1890 کے سیکشن 12 اور 25 کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔ آپ کی طلب کے م...
18/04/2026

بچوں کی حضانت (Custody) کے حوالے سے گارڈین اینڈ وارڈز ایکٹ 1890 کے سیکشن 12 اور 25 کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔

آپ کی طلب کے مطابق ان کی تفصیلات اور اہم عدالتی فیصلے درج ذیل ہیں:
1. سیکشن 12 (عارضی تحویل - Interim Custody)
یہ سیکشن عدالت کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ کیس کے فیصلے تک بچے کی حفاظت اور تحویل کے لیے عارضی حکم جاری کرے۔
• مقصد: جب تک اصل کیس (سیکشن 25) کا فیصلہ نہیں ہوتا، بچہ کس کے پاس رہے گا یا والدین سے ملاقات کیسے ہوگی۔
• اہم نکتہ: عدالت بچے کی فوری فلاح و بہبود کو دیکھتی ہے۔
اہم ججمنٹ:
• 2021 MLD 560: اس میں قرار دیا گیا کہ باپ کو بچے سے ملنے کے حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ اگر مستقل کسٹڈی کا فیصلہ ابھی نہیں ہوا، تب بھی ملاقات کا شیڈول بنانا عدالت کی ذمہ داری ہے۔
2. سیکشن 25 (مستقل تحویل - Permanent Custody)
یہ سیکشن اس وقت استعمال ہوتا ہے جب ایک سرپرست (Guardian) اپنے وارڈ (بچے) کی مستقل تحویل کا مطالبہ کرتا ہے جو اس کی تحویل سے نکل چکا ہو۔
• بنیادی اصول: اس سیکشن کے تحت فیصلہ صرف اور صرف "Welfare of the Minor" (بچے کی بھلائی) کی بنیاد پر ہوتا ہے۔
اہم ججمنٹس:
• PLD 2018 Supreme Court 341: سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ ماں کی دوسری شادی خود بخود اسے کسٹڈی سے محروم نہیں کرتی۔ اگر بچہ ماں کے پاس خوش اور محفوظ ہے، تو کسٹڈی اسے ہی دی جائے گی۔
• 2004 SCMR 1839: عدالت نے قرار دیا کہ محض باپ کی مالی حیثیت بہتر ہونا کسٹڈی حاصل کرنے کے لیے کافی نہیں، بلکہ بچے کا ذہنی اور جذباتی لگاؤ دیکھا جائے گا۔
3. ماں اور باپ کے حقوق اور قانونی نکات
• ماں کا حق (Hizanat): اسلامی قوانین اور عدالتی رواج کے مطابق، لڑکا 7 سال تک اور لڑکی بلوغت تک ماں کے پاس رہنے کی حقدار ہے، بشرطیکہ ماں کا کردار اور حالات بچے کے لیے سازگار ہوں۔
• باپ کا حق: باپ بچے کا قدرتی نگہبان (Natural Guardian) ہے اور تمام اخراجات کا ذمہ دار ہے۔ اگر ماں بچے کی صحیح تربیت نہ کر سکے یا وہ دوبارہ شادی کر لے (کسی اجنبی سے)، تو باپ کسٹڈی کلیم کر سکتا ہے۔
• بچے کی مرضی (Preference): اگر بچہ سمجھدار ہے (عام طور پر 9 سال سے زائد)، تو عدالت اس سے پوچھ سکتی ہے کہ وہ کس کے ساتھ رہنا چاہتا ہے (1995 SCMR 1206).
آئینِ پاکستان اور بچوں کے حقوق
آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 35 ریاست کو پابند کرتا ہے کہ وہ "ماں اور بچے" کے تحفظ کے لیے اقدامات کرے۔ عدالتیں اس آرٹیکل کی روشنی میں ہمیشہ "بچے کی فلاح و بہبود" (Welfare of the Minor) کو سب سے مقدم رکھتی ہیں۔ قانون کی نظر میں ماں یا باپ کے حقوق سے زیادہ بچے کا مفاد اہم ہوتا ہے۔
3. ماں اور باپ کے حقوق (قانونی نقطہ نظر)
• ماں کا حق (حقِ حضانت): اسلامی قانون اور پاکستانی عدالتی رواج کے مطابق، کم عمری میں بچہ ماں کے پاس رہنے کا زیادہ حقدار ہے (لڑکوں کے لیے 7 سال اور لڑکیوں کے لیے بلوغت تک)۔ تاہم، اگر ماں دوسری شادی کر لے (کسی اجنبی سے) یا اس کا کردار مشکوک ہو، تو یہ حق ختم ہو سکتا ہے۔
• باپ کا حق: باپ بچے کا "قدرتی نگہبان" (Natural Guardian) ہے۔ وہ بچے کے اخراجات اٹھانے کا پابند ہے۔ اگر ماں بچے کی صحیح پرورش نہ کر سکے یا وہ بچے کو باپ سے دور لے جائے، تو باپ کسٹڈی کا دعویٰ کر سکتا ہے۔
4. اہم عدالتی ججمنٹس (Judgments)
الف) بچے کی فلاح و بہبود (2004 SCMR 1839)
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ کسٹڈی کے کیسز میں نہ تو ماں کا حق دیکھا جائے گا نہ باپ کا، بلکہ صرف یہ دیکھا جائے گا کہ بچے کا مستقبل کہاں بہتر ہے۔ اگر باپ زیادہ امیر ہے لیکن بچہ ماں سے مانوس ہے، تو بچہ ماں کو ہی ملے گا۔
ب) ماں کی دوسری شادی (PLD 2018 SC 341)
اس فیصلے میں واضح کیا گیا کہ محض دوسری شادی کر لینا ماں کو کسٹڈی سے محروم نہیں کرتا۔ اگر ماں کا دوسرا شوہر (سوتیلا باپ) بچے کے لیے شفیق ہے اور بچہ وہاں خوش ہے، تو عدالت کسٹڈی ماں کے پاس برقرار رکھ سکتی ہے۔
ج) سیکشن 12 کے تحت ملاقات کا حق (2021 MLD 560)
عدالتوں نے طے کیا ہے کہ باپ کو بچے سے ملنے سے نہیں روکا جا سکتا۔ اگر کسٹڈی ماں کے پاس ہے، تو باپ کو ہفتہ وار یا ماہانہ بنیادوں پر عدالت کے اندر یا باہر ملاقات کا حق حاصل ہے، کیونکہ باپ سے محرومی بچے کی شخصیت پر منفی اثر ڈالتی ہے۔
5. قانونی نکات (Key Legal Points)
1. بچے کی ترجیح: اگر بچہ سمجھدار ہے (عام طور پر 9 سال سے اوپر)، تو جج اسے چیمبر میں بلا کر اس کی اپنی مرضی بھی پوچھ سکتا ہے۔
2. حالات کی تبدیلی: کسٹڈی کا فیصلہ کبھی "حتمی" نہیں ہوتا۔ اگر حالات بدل جائیں (مثلاً ماں بیمار ہو جائے یا باپ بیرون ملک چلا جائے)، تو کسٹڈی کا کیس دوبارہ کھولا جا سکتا ہے۔
3. خرچہ (Maintenance): کسٹڈی چاہے جس کے پاس بھی ہو، بچے کا خرچہ اٹھانا باپ کی قانونی ذمہ داری ہے۔

11/02/2026
03/02/2026

مشال یوسفزئی کے بارے میں بات کرنا بھی نہیں چاہتی اسے اور مروت کو باقاعدہ مشترکہ ہدف سونپا گیا ہے کہ علیمہ خان کو نشانہ بنایا جائے اور خان کی بہنوں کو متنازع بنایا جائے یہ وہ عناصر ہیں جو دانستہ طور پر نظریۂ خان کو مجروح کرنے اور اس کی روح کو مسخ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں



17/01/2026

Address

ایڈووکیٹ صائمہ نورین چیمبر نمبر 3 جسٹس امیر بھٹی بلاک ڈسٹرکٹ کورٹس وہاڑی
Vehari
61100

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when SaimaNoreen PTIsmt posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share