Zhob Rang ژوب رنگ

Zhob Rang ژوب رنگ ژوب شہر اور اسکے گردنواح کے خوبصورت اور تاریخی مقامات علاقائ اتن و موسیقی پر مبنی ویڈیوز اور معلومات کے لئے ژوب رنگ پیج لائک کریں
(1)

30/08/2026

شپونکی کلی سباک زئ ژوب

بیٹ نیکہبیٹ نیکہ، جنہیں بیٹنی اور بٹن کے ناموں سے بھی یاد کیا جاتا ہے، پشتونوں کے بہت سے قبائل کے ایک عظیم اور معروف جدِ...
30/08/2026

بیٹ نیکہ
بیٹ نیکہ، جنہیں بیٹنی اور بٹن کے ناموں سے بھی یاد کیا جاتا ہے، پشتونوں کے بہت سے قبائل کے ایک عظیم اور معروف جدِ امجد گزرے ہیں۔ «پشتانہ شعرا» کی پہلی جلد، صفحہ 45 پر اس بزرگ کے بارے میں لکھا ہے کہ پشتونوں کے علمِ انساب کے ماہرین اور ان مورخین نے جنہوں نے اسماالرجال مرتب کیے، شیخ بیٹنی کو پشتونوں کے بہت سے قبائل کا جدِ اعلیٰ قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق بیٹنی، غرغښت اور سربن کے بھائی تھے۔ پشتونوں کی قومی روایات بھی کسی حد تک اس بات کی تائید کرتی ہیں۔
مورخین میں سب سے پہلے مغل بادشاہ اکبر کے عہد کے مورخ ابوالفضل نے اس قومی روایت کا ذکر کیا۔ اس کے مطابق پشتونوں کے یہ تین بزرگ مشہور تھے، تاہم ان کے نام کے بارے میں مورخین نے مختلف الفاظ استعمال کیے ہیں؛ بعض نے انہیں بیٹ، بعض نے بیٹنی اور بعض نے بٹن لکھا ہے۔
نعمت اللہ ہروی اور خانجہان خان لودی نے اپنی کتاب مخزن افغانی میں شیخ بیٹنی کی اولاد، ان کے قوم کے مشاہیر اور اولیاء کا تفصیلی ذکر کیا ہے۔ چونکہ آئینِ اکبری 1006ھ اور مخزن افغانی 1018ھ میں تحریر ہوئی، اس لیے یہ کہا جا سکتا ہے کہ پشتونوں کی قومی روایات اور رجال کے تاریخ نویسوں میں ان کا شمار قدیم ترین مؤرخین میں ہوتا ہے۔ نعمت اللہ نے اپنے نسب ناموں کے سلسلے میں مجمع الانساب اور اخباری احمدی جیسی ان کتابوں کے حوالے بھی دیے ہیں جو ان سے پہلے لکھی جا چکی تھیں اور جن میں پشتونوں کے انساب کا ذکر موجود تھا۔ اخوند درویزہ ننگرہاری نے بھی، جو 1048ھ تک زندہ رہے، پشتونوں کے انساب بیان کیے ہیں۔ ان تمام مورخین نے شیخ بیٹنی کا کسی نہ کسی انداز میں ذکر کیا ہے۔
بیٹ نیکہ کی سخاوت
پشتونوں میں بیٹ نیکہ کے بارے میں ایک مشہور مثل بھی چلی آ رہی ہے:
«چې خدای یې ورکوي، بټن یې یار شي»
یعنی: جسے اللہ عطا کرنا چاہے، بیٹ نیکہ اس کا مددگار بن جاتا ہے۔
یہ مثل بیٹ نیکہ کی سخاوت اور شفقت کی اس روایت کی طرف اشارہ کرتی ہے جس کے مطابق انہوں نے اپنے بیٹے اسماعیل کو اپنے بھائی سربن کے حوالے کر دیا تھا۔
سلیمان ماکو کی روایت
ان تمام تاریخی حوالوں سے بھی زیادہ قدیم ایک اہم تصنیف سلیمان ماکو کی تذکرۃ الاولیاء ہے، جو 612ھ کے بعد لکھی گئی۔ اس کتاب کے محفوظ رہ جانے والے چند صفحات میں شیخ بیٹنی کا ذکر موجود ہے۔
سلیمان ماکو روایت کرتے ہیں کہ شیخ بیٹنی کے بھائی سربن بے اولاد تھے اور اپنے بھائی سے اولاد کے لیے دعا کی درخواست کرتے تھے۔ چنانچہ شیخ بیٹنی نے اپنا بیٹا اسماعیل اپنے بھائی سربن کو دے دیا۔ اسماعیل سربن کے گھر میں پرورش پانے لگے اور روایت کے مطابق ان کے وسیلے سے سربن کو بہت سی اولاد نصیب ہوئی۔
سلیمان ماکو مزید لکھتے ہیں کہ اسماعیل کا مزار کوہِ کَسّی پر واقع ہے اور وہ خود وہاں جا کر اس مزار کی زیارت کر چکے تھے۔
نعمت اللہ ہروی نے بھی مخزن افغانی میں تقریباً اسی روایت کو بیان کیا ہے۔ ان کے مطابق سربن مالی مشکلات کا شکار اور بے اولاد تھے۔ شیخ بیٹنی نے انہیں اپنا بیٹا اسماعیل دے دیا۔ اسماعیل کی آمد کے بعد سربن کو اولاد، مال اور دولت کی فراوانی نصیب ہوئی۔ بعد میں اسماعیل نے ریاضت و عبادت کے ذریعے روحانی مقام حاصل کیا۔ روایت میں ان کا مزار کوہِ سلیمان پر بتایا گیا ہے۔
یوں سلیمان ماکو کی روایت، جو نعمت اللہ ہروی سے تقریباً چار سو سال قدیم ہے، اور نعمت اللہ کی روایت ایک دوسرے سے کافی مشابہ ہیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آٹھویں صدی ہجری تک بھی شیخ بیٹنی کے بارے میں پشتونوں میں قدیم روایات موجود تھیں۔
بیٹ نیکہ کا زمانۂ حیات
بدقسمتی سے شیخ بیٹ نیکہ کے حالاتِ زندگی کے بارے میں بہت کم معلومات محفوظ رہ سکی ہیں۔ مورخین نے بھی ان کے زمانۂ حیات کی واضح تاریخ بیان نہیں کی۔ بعض روایات میں انہیں غور کے بادشاہوں کا معاصر بتایا گیا ہے۔ اگر یہ روایت درست تسلیم کی جائے تو اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ بیٹ نیکہ کا زمانۂ حیات تقریباً 300ھ سے 400ھ کے درمیان رہا ہوگا۔
بیٹ نیکہ کا قدیم پشتو شعر
سلیمان ماکو نے اپنی تذکرۃ الاولیاء میں بیٹ نیکہ کی زبان سے ایک شعر بھی نقل کیا ہے، جسے پشتو ادب کی تاریخ میں انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔
روایت کے مطابق جب شیخ بیٹنی بوڑھے ہو گئے تو وہ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کرتے اور دعا کرتے تھے کہ اللہ ان کے خاندان، سربن اور غرغښت کے خاندانوں میں برکت عطا فرمائے۔ روایت کے مطابق ان کی دعا قبول ہوئی اور پشتونخوا کی سرزمین ان کی اولاد سے آباد ہو گئی۔ کہا جاتا ہے کہ وہ یہ مناجات رات کے وقت کَسّی پہاڑ میں گشت کرتے ہوئے پڑھا کرتے تھے۔
ان سے منسوب یہ شعر یوں ہے:
لویه خدایه لویه خدایه
ستا په مینه په هر ځایه
اے عظیم خدا! اے عظیم خدا!
تیری محبت ہر جگہ ہے۔
غر ولاړ دی درناوي کې
ټوله ژوي په زارۍ کې
پہاڑ تیرے احترام میں کھڑے ہیں،
تمام جاندار تیرے حضور فریاد کرتے ہیں۔
دلته دي د غرو لمنې
زموږ کږدۍ دي پکې پلنې
یہاں پہاڑوں کے دامن ہیں،
اور ان میں ہماری کشادہ خیمہ بستیاں ہیں۔
دا وګړي ډېر کړې خدایه
لویه خدایه لویه خدایه
اے خدا! ان لوگوں کی تعداد بڑھا دے،
اے عظیم خدا! اے عظیم خدا!
دلته لږ زموږ اوربل دی
ووړ کورګی دی ووړ بورجل دی
یہاں ہمارا مختصر سا گھرانہ ہے،
چھوٹا سا گھر اور چھوٹا سا آنگن ہے۔
مېنه ستا کې موږ مېشته یو
بل د چا په مله تله نه یو
ہم تیری محبت میں آباد ہیں،
ہم کسی اور کے سہارے پر منحصر نہیں۔
هسک او زمکه نغښته ستا ده
د مړو وده له تا ده
آسمان اور زمین تیرے ہی ہیں،
زندگی اور موت تیرے اختیار میں ہیں۔
دا پالنه ستا ده خدایه
لویه خدایه لویه خدایه
یہ پرورش بھی تیری ہی ہے، اے خدا!
اے عظیم خدا! اے عظیم خدا!
اس شعر کو پشتو ادب کی قدیم ترین محفوظ روایات میں شمار کیا جاتا ہے اور اس میں اللہ تعالیٰ کی حمد، دعا، اولاد و قوم کی افزائش، قدرتِ الٰہی اور خانہ بدوش پشتون زندگی کے عناصر نمایاں ہیں۔
مصنف نے اس مناجات کے خیالات کا تقابل قدیم آریائی مذہبی کتاب رِگ وید (Rigveda) کی بعض مناجات سے بھی کیا ہے اور ان کے درمیان فکری مماثلت کی نشاندہی کی ہے۔ تاہم یہ تقابل ایک تاریخی و ادبی رائے ہے، اسے بیٹ نیکہ کے زمانے یا ان کی تاریخی شخصیت کے قطعی ثبوت کے طور پر نہیں لینا چاہیے۔
ماخذ: یہ مضمون معروف افغان ادیب و محقق عبدالرؤف بینوا کی کتاب «افغانستان نومیالي» میں بیٹ نیکہ کے حوالے سے دی گئی معلومات کی بنیاد پر مرتب کیا گیا ہے۔

30/08/2026

سباک زئ ڈیم ژوب
30/08/2026

سباک زئ ڈیم ژوب

غازی دوست محمد خان کاکڑبرطانوی اقتدار کے خلاف ژوب کی مزاحمت کا ایک نمایاں کردارانیسویں صدی کے آخری حصے میں ژوب کا علاقہ ...
29/08/2026

غازی دوست محمد خان کاکڑ
برطانوی اقتدار کے خلاف ژوب کی مزاحمت کا ایک نمایاں کردار
انیسویں صدی کے آخری حصے میں ژوب کا علاقہ برطانوی سلطنت کے لیے ایک اہم سرحدی خطہ بن چکا تھا۔ افغانستان کے ساتھ قربت، دشوار گزار پہاڑی جغرافیہ اور مقامی قبائل کی مضبوط خودمختاری کے باعث برطانوی حکومت کو ژوب میں اپنا سیاسی اقتدار قائم کرنے میں مشکلات کا سامنا تھا۔ اسی دور میں کاکڑ قبائل کے بعض بااثر سرداروں نے برطانوی مداخلت کی مخالفت کی۔ ان مزاحمتی رہنماؤں میں دوست محمد خان کا نام نمایاں طور پر سامنے آتا ہے۔ تاریخی مطالعات میں شاہ جہاں، شاہباز خان، دوست محمد خان اور بنگل خان کو ژوب میں برطانوی اقتدار کے خلاف مزاحمت کرنے والے اہم سرداروں میں شمار کیا گیا ہے۔
دوست محمد خان کا مزاحمتی مرکز
برطانوی ریکارڈ کے مطابق دوست محمد خان کے گرد تقریباً 250 افراد پر مشتمل ایک گروہ جمع تھا، جس میں مختلف علاقوں سے آنے والے مفرور اور برطانوی مخالف افراد بھی شامل تھے۔ برطانوی دستاویزات نے دوست محمد کو ’’outlaw‘‘ کے الفاظ سے بیان کیا، تاہم مقامی تاریخی تناظر میں یہی شخصیت برطانوی اقتدار کے خلاف مزاحمت کرنے والے ایک قبائلی رہنما کے طور پر دیکھی جاتی ہے۔
دوست محمد خان اور ان کے بیٹے بنگل خان نے ژوب کے شمالی پہاڑی علاقوں میں اپنے مضبوط ٹھکانے قائم کیے ہوئے تھے۔ ایک تاریخی ماخذ کے مطابق وہ ان کاکڑ خاندانوں اور قبائل پر دباؤ ڈالتے تھے جنہوں نے برطانوی حکومت کے ساتھ مفاہمت کرلی تھی، جبکہ مختلف مفرور اور مزاحمت کاروں کو اپنے علاقوں میں پناہ بھی دیتے تھے۔
1890ء کی ژوب مہم
1890ء میں برطانوی حکومت نے دوست محمد خان کی مزاحمت کو ختم کرنے کے لیے ایک بڑی فوجی مہم شروع کی۔ اس مہم کی قیادت میجر جنرل سر جارج وائٹ کر رہے تھے اور فوج کی تعداد تقریباً 2,000 سپاہیوں پر مشتمل تھی، جبکہ اس کے ساتھ بڑی تعداد میں معاون عملہ بھی موجود تھا۔ برطانوی حکومت کے مطابق مہم کا مقصد دوست محمد کو گرفتار کرنا یا اسے کاکڑ علاقے سے باہر نکالنا تھا۔
برطانوی منصوبے میں ابتدا میں یہ بھی شامل تھا کہ دوست محمد خان اور ان کے ساتھیوں کا افغانستان کی طرف فرار کا راستہ بند کیا جائے۔ لیکن برطانوی حکومت افغانستان کے امیر کے ساتھ کسی سیاسی کشیدگی سے بچنا چاہتی تھی، اس لیے سرحد کے بہت قریب فوجی کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس فیصلے نے دوست محمد خان کے لیے افغانستان کی طرف نکلنے کا راستہ کھلا رکھا۔
تھنیرشپا کی طرف پیش قدمی
برطانوی فوج نے دوست محمد خان کے مضبوط مرکز تھنیرشپا (Tahnishpa/Thanishpa) کی طرف تین مختلف راستوں سے پیش قدمی کی۔ اس فوجی حکمتِ عملی کا مقصد علاقے کا جغرافیائی علم حاصل کرنا اور مختلف قبائل پر برطانوی فوج کی طاقت کا اثر ظاہر کرنا بھی تھا۔
برطانوی ریکارڈ کے مطابق 11 اکتوبر 1890ء کو فوج نے تھنیرشپا پر قبضہ کرلیا، لیکن وہاں کوئی بڑا معرکہ پیش نہیں آیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ دوست محمد خان برطانوی فوج کی آمد سے پہلے ہی اپنے بیٹے بنگل خان کے ساتھ افغانستان کی طرف روانہ ہوچکے تھے۔
برطانوی تعاقب
دوست محمد خان اور بنگل خان نے افغانستان کی طرف فرار اختیار کیا۔ برطانوی فوج نے ان کا تعاقب کیا اور 18th Bengal Lancers کے ایک دستے نے انہیں پکڑنے کی کوشش کی، لیکن دونوں باپ بیٹا برطانوی تعاقب سے بچ نکلنے میں کامیاب ہوگئے۔
یہ واقعہ اس لحاظ سے اہم ہے کہ برطانوی حکومت نے ایک بڑی فوجی مہم کے ذریعے دوست محمد خان کے مضبوط مرکز تک رسائی تو حاصل کرلی، لیکن خود دوست محمد خان کو گرفتار نہیں کرسکی۔
برطانوی اقتدار کے تناظر میں دوست محمد خان
دوست محمد خان کی مزاحمت کو صرف ایک شخص کی مزاحمت سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ یہ اس دور کی قبائلی سیاست، مقامی خودمختاری اور برطانوی سرحدی پالیسی کے درمیان کشمکش کا بھی حصہ تھی۔ برطانوی حکومت ژوب میں سیاسی معاہدوں اور قبائلی سرداروں کے ذریعے اپنا اثر قائم کر رہی تھی، جبکہ کچھ قبائلی رہنما اس انتظام کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ دوست محمد خان اور بنگل خان اسی مخالف دھڑے کے نمایاں افراد میں شامل تھے۔
1890ء کی مہم کے بعد برطانوی فوج نے ژوب میں اپنا اثر مزید مضبوط کیا۔ تاریخی ریکارڈ کے مطابق اس مہم کا نتیجہ صرف فوجی کارروائی تک محدود نہیں تھا بلکہ اس کے سیاسی اثرات بھی اہم تھے؛ برطانوی حکومت نے مختلف قبائل کو اپنے انتظامی نظام میں شامل کرنے اور مقامی مزاحمت کو محدود کرنے کی کوشش کی۔
دوست محمد خان کی تاریخی اہمیت
غازی دوست محمد خان کاکڑ کی شخصیت ژوب کی تاریخ کے اُس دور کی نمائندگی کرتی ہے جب مقامی قبائل اپنی روایتی آزادی اور اختیار کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے تھے اور برطانوی حکومت سرحدی علاقوں میں اپنا اقتدار وسیع کر رہی تھی۔
ان کے بارے میں دستیاب برطانوی ریکارڈ نسبتاً زیادہ تر 1890ء کی فوجی مہم تک محدود ہے۔ ان کی پیدائش، مکمل شجرۂ نسب، ابتدائی زندگی، افغانستان پہنچنے کے بعد کے حالات اور وفات کے بارے میں مستند اور باہم متفق تفصیلات دستیاب تاریخی مواد میں بہت کم ملتی ہیں۔ اس لیے ان امور کے بارے میں مقامی روایات یا غیرمصدقہ معلومات کو حتمی تاریخی حقیقت کے طور پر پیش کرنا مناسب نہیں۔
تاہم یہ بات تاریخی ریکارڈ سے واضح ہے کہ دوست محمد خان ژوب کے اُن کاکڑ سرداروں میں شامل تھے جنہوں نے برطانوی اقتدار کو چیلنج کیا، اپنے گرد مزاحمتی افراد جمع کیے، تھنیرشپا میں مضبوط مرکز قائم رکھا اور 1890ء کی بڑی برطانوی فوجی مہم کے باوجود گرفتاری سے بچ کر افغانستان چلے گئے۔
ژوب کی تاریخ میں دوست محمد خان کا نام اسی مزاحمتی دور کی ایک اہم علامت کے طور پر محفوظ ہے۔

ژوب خوبصورت لوگوں اور اونچی بلڈنگوں کا شہر
29/08/2026

ژوب خوبصورت لوگوں اور اونچی بلڈنگوں کا شہر

کلی سباک زئ ژوب وطن
29/08/2026

کلی سباک زئ ژوب وطن

شیخان مسجد ژوب نماز جمعہ کا منظر  #ژوب    #فوٹو
28/08/2026

شیخان مسجد ژوب نماز جمعہ کا منظر
#ژوب #فوٹو

اکاخیلاکاخیل اصل میں غلجی پشتون ہیں، جو سلیمان خیل کی ایک شاخ سمجھے جاتے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر لوگ خانہ بدوش زندگی گزا...
28/08/2026

اکاخیل
اکاخیل اصل میں غلجی پشتون ہیں، جو سلیمان خیل کی ایک شاخ سمجھے جاتے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر لوگ خانہ بدوش زندگی گزارتے ہیں اور ان کی کوئی مخصوص مستقل آبادی نہیں ہے۔ وہ عموماً خیموں میں رہتے ہیں اور دریاں، خیمے اور جوال (غلہ رکھنے کے تھیلے) بُننے میں مہارت رکھتے ہیں۔
مصنف ڈپٹی محمد حیات خان کی کتاب تاریخِ حیاتِ افغانی کے مطابق، اکاخیل کی کچھ تعداد افغانستان کے صوبہ غزنی کے علاقے مقر میں بھی آباد ہے۔ افغانستان پر سوویت حملے کے بعد بعض اکاخیل افغانستان سے ہجرت کرکے پاکستان آگئے اور پاکستان کے مختلف شہروں، خصوصاً پشاور اور کراچی میں آباد ہوئے۔
اکاخیل محنتی لوگ ہیں اور ان میں سے بعض افراد تجارت سے وابستہ ہیں۔ اکاخیل کے نوجوان اتن میں بھی بہت ماہر سمجھے جاتے ہیں۔ خوشی، شادی اور دیگر تقریبات میں ان کے نوجوان اپنی خوبصورت لمبی زلفوں کے ساتھ مہارت سے اتن پیش کرکے محفل کو گرمائے رکھتے ہیں۔
ایک مشہور روسی ماہرِ بشریات (Ethnographer) کی مردم و ثقافتی تحقیق کے مطابق، بیسویں صدی کے وسط میں اکاخیل کی تعداد تقریباً 35 ہزار خاندان بتائی گئی تھی۔۔۔۔ #اکاخیل
پشتو میں

اکاخیل

اکاخيل په اصل کې غلجي پښتانه دي چې د سليمان خيلو يو ښا خ ګڼل کيږي چې زياتره يې په پوونده ډول ژوند کوي او ځانته کو مه ځانګړې سېمه نه لري٠دوی اکثره په کېږديو کې ژوند کوي او د ټغرو،کيږ ديو او جو الو نو په او بد لو کې ښه مهارت لري٠
دتا ر يخ حيات ا فغا ني د ليکوال ډپټي محمد حيا ت خان په قول د اکا خيلو يو شمير د غزني و لايت په مقر کې هم ا ستو ګنه لري٠ يو شمير اکا خيل په ا فغا نستان باندې د شوروي تر ير غل وروسته له هيواده وليږ ديدل او پا کستان ته کډ وال شول چې دهغه هبواد په مختلفو ښارو نو لکه پېښور او کر اچۍ کې استو ګنه لري٠ اکا خپل زيارکښه خلک دي،ځيني خلک يې د سو داګر يو په کا رونو بو خت دي٠
دا کا خيلو ځو انان په ا تڼ کې ډېر تکړه دي او د خو ښيو او خو شاليو او ودونو کې ددوی ځو انان چې ښا يسته او ړدې څڼې لري په خپلو ماهرانه اتڼو نو سره محفلونه تاوده ساتي٠ د روسي نامتو اتنو ګرافر داتنو ګر افيکو څېړ نو له مخې د اکا خيلو شمېر د شلمې زېږ دېزې پېړۍ په نيمايې کې د ٣٥ زره کو رنيو په شا او خوا کې ښودل شوی دی

Address

Zhob
85200

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Zhob Rang ژوب رنگ posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Zhob Rang ژوب رنگ:

Shortcuts

Share