29/08/2026
غازی دوست محمد خان کاکڑ
برطانوی اقتدار کے خلاف ژوب کی مزاحمت کا ایک نمایاں کردار
انیسویں صدی کے آخری حصے میں ژوب کا علاقہ برطانوی سلطنت کے لیے ایک اہم سرحدی خطہ بن چکا تھا۔ افغانستان کے ساتھ قربت، دشوار گزار پہاڑی جغرافیہ اور مقامی قبائل کی مضبوط خودمختاری کے باعث برطانوی حکومت کو ژوب میں اپنا سیاسی اقتدار قائم کرنے میں مشکلات کا سامنا تھا۔ اسی دور میں کاکڑ قبائل کے بعض بااثر سرداروں نے برطانوی مداخلت کی مخالفت کی۔ ان مزاحمتی رہنماؤں میں دوست محمد خان کا نام نمایاں طور پر سامنے آتا ہے۔ تاریخی مطالعات میں شاہ جہاں، شاہباز خان، دوست محمد خان اور بنگل خان کو ژوب میں برطانوی اقتدار کے خلاف مزاحمت کرنے والے اہم سرداروں میں شمار کیا گیا ہے۔
دوست محمد خان کا مزاحمتی مرکز
برطانوی ریکارڈ کے مطابق دوست محمد خان کے گرد تقریباً 250 افراد پر مشتمل ایک گروہ جمع تھا، جس میں مختلف علاقوں سے آنے والے مفرور اور برطانوی مخالف افراد بھی شامل تھے۔ برطانوی دستاویزات نے دوست محمد کو ’’outlaw‘‘ کے الفاظ سے بیان کیا، تاہم مقامی تاریخی تناظر میں یہی شخصیت برطانوی اقتدار کے خلاف مزاحمت کرنے والے ایک قبائلی رہنما کے طور پر دیکھی جاتی ہے۔
دوست محمد خان اور ان کے بیٹے بنگل خان نے ژوب کے شمالی پہاڑی علاقوں میں اپنے مضبوط ٹھکانے قائم کیے ہوئے تھے۔ ایک تاریخی ماخذ کے مطابق وہ ان کاکڑ خاندانوں اور قبائل پر دباؤ ڈالتے تھے جنہوں نے برطانوی حکومت کے ساتھ مفاہمت کرلی تھی، جبکہ مختلف مفرور اور مزاحمت کاروں کو اپنے علاقوں میں پناہ بھی دیتے تھے۔
1890ء کی ژوب مہم
1890ء میں برطانوی حکومت نے دوست محمد خان کی مزاحمت کو ختم کرنے کے لیے ایک بڑی فوجی مہم شروع کی۔ اس مہم کی قیادت میجر جنرل سر جارج وائٹ کر رہے تھے اور فوج کی تعداد تقریباً 2,000 سپاہیوں پر مشتمل تھی، جبکہ اس کے ساتھ بڑی تعداد میں معاون عملہ بھی موجود تھا۔ برطانوی حکومت کے مطابق مہم کا مقصد دوست محمد کو گرفتار کرنا یا اسے کاکڑ علاقے سے باہر نکالنا تھا۔
برطانوی منصوبے میں ابتدا میں یہ بھی شامل تھا کہ دوست محمد خان اور ان کے ساتھیوں کا افغانستان کی طرف فرار کا راستہ بند کیا جائے۔ لیکن برطانوی حکومت افغانستان کے امیر کے ساتھ کسی سیاسی کشیدگی سے بچنا چاہتی تھی، اس لیے سرحد کے بہت قریب فوجی کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس فیصلے نے دوست محمد خان کے لیے افغانستان کی طرف نکلنے کا راستہ کھلا رکھا۔
تھنیرشپا کی طرف پیش قدمی
برطانوی فوج نے دوست محمد خان کے مضبوط مرکز تھنیرشپا (Tahnishpa/Thanishpa) کی طرف تین مختلف راستوں سے پیش قدمی کی۔ اس فوجی حکمتِ عملی کا مقصد علاقے کا جغرافیائی علم حاصل کرنا اور مختلف قبائل پر برطانوی فوج کی طاقت کا اثر ظاہر کرنا بھی تھا۔
برطانوی ریکارڈ کے مطابق 11 اکتوبر 1890ء کو فوج نے تھنیرشپا پر قبضہ کرلیا، لیکن وہاں کوئی بڑا معرکہ پیش نہیں آیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ دوست محمد خان برطانوی فوج کی آمد سے پہلے ہی اپنے بیٹے بنگل خان کے ساتھ افغانستان کی طرف روانہ ہوچکے تھے۔
برطانوی تعاقب
دوست محمد خان اور بنگل خان نے افغانستان کی طرف فرار اختیار کیا۔ برطانوی فوج نے ان کا تعاقب کیا اور 18th Bengal Lancers کے ایک دستے نے انہیں پکڑنے کی کوشش کی، لیکن دونوں باپ بیٹا برطانوی تعاقب سے بچ نکلنے میں کامیاب ہوگئے۔
یہ واقعہ اس لحاظ سے اہم ہے کہ برطانوی حکومت نے ایک بڑی فوجی مہم کے ذریعے دوست محمد خان کے مضبوط مرکز تک رسائی تو حاصل کرلی، لیکن خود دوست محمد خان کو گرفتار نہیں کرسکی۔
برطانوی اقتدار کے تناظر میں دوست محمد خان
دوست محمد خان کی مزاحمت کو صرف ایک شخص کی مزاحمت سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ یہ اس دور کی قبائلی سیاست، مقامی خودمختاری اور برطانوی سرحدی پالیسی کے درمیان کشمکش کا بھی حصہ تھی۔ برطانوی حکومت ژوب میں سیاسی معاہدوں اور قبائلی سرداروں کے ذریعے اپنا اثر قائم کر رہی تھی، جبکہ کچھ قبائلی رہنما اس انتظام کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ دوست محمد خان اور بنگل خان اسی مخالف دھڑے کے نمایاں افراد میں شامل تھے۔
1890ء کی مہم کے بعد برطانوی فوج نے ژوب میں اپنا اثر مزید مضبوط کیا۔ تاریخی ریکارڈ کے مطابق اس مہم کا نتیجہ صرف فوجی کارروائی تک محدود نہیں تھا بلکہ اس کے سیاسی اثرات بھی اہم تھے؛ برطانوی حکومت نے مختلف قبائل کو اپنے انتظامی نظام میں شامل کرنے اور مقامی مزاحمت کو محدود کرنے کی کوشش کی۔
دوست محمد خان کی تاریخی اہمیت
غازی دوست محمد خان کاکڑ کی شخصیت ژوب کی تاریخ کے اُس دور کی نمائندگی کرتی ہے جب مقامی قبائل اپنی روایتی آزادی اور اختیار کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے تھے اور برطانوی حکومت سرحدی علاقوں میں اپنا اقتدار وسیع کر رہی تھی۔
ان کے بارے میں دستیاب برطانوی ریکارڈ نسبتاً زیادہ تر 1890ء کی فوجی مہم تک محدود ہے۔ ان کی پیدائش، مکمل شجرۂ نسب، ابتدائی زندگی، افغانستان پہنچنے کے بعد کے حالات اور وفات کے بارے میں مستند اور باہم متفق تفصیلات دستیاب تاریخی مواد میں بہت کم ملتی ہیں۔ اس لیے ان امور کے بارے میں مقامی روایات یا غیرمصدقہ معلومات کو حتمی تاریخی حقیقت کے طور پر پیش کرنا مناسب نہیں۔
تاہم یہ بات تاریخی ریکارڈ سے واضح ہے کہ دوست محمد خان ژوب کے اُن کاکڑ سرداروں میں شامل تھے جنہوں نے برطانوی اقتدار کو چیلنج کیا، اپنے گرد مزاحمتی افراد جمع کیے، تھنیرشپا میں مضبوط مرکز قائم رکھا اور 1890ء کی بڑی برطانوی فوجی مہم کے باوجود گرفتاری سے بچ کر افغانستان چلے گئے۔
ژوب کی تاریخ میں دوست محمد خان کا نام اسی مزاحمتی دور کی ایک اہم علامت کے طور پر محفوظ ہے۔