04/04/2024
محترم Aimal Wali Khan بلامقابلہ سینیٹر منتخب.
گزشتہ کچھ دنوں سے دوست حضرات ایمل ولی خان پر بلاجواز تنقید کررھے ھیں. ان کے علم میں اضافہ کرتا چلو.
ایک تو کمال مھارت کےساتھ Awami National Party نے آصف علی زرداری کے ساتھ اتحاد بنا کر نہ صرف سینیٹ کی نشست حاصل کی بلکہ بلوچستان سے حاصل کی جو کہ ھمیشہ غیر جمھوری کنٹرول کیلئے مشھور ھے. اس کے بدلے نیشنل نے صدارتی ووٹ زرداری کو دیا. خواتین و بیوروکریٹ سینیٹرشپ کیلئے بھی پیپلز کے امیدواران کی حمایت کی. لیکن حاصل بہت کچھ کرلیا گیا.سینیٹر بننے کا مقصد احتجاجی تحریک سے پیچھے ھٹنا ھرگز نہیں بلکہ اس کو مزید تقویت اور دوام بخشےگی. تحریک کو تو ابھی آغاز لینے دے. کیا جلدی ھے. پکچر ابھی باقی ھے میرے یار...
جو قوتیں مسلسل پختون قیادت کو صوبائی و قومی اسمبلی سے دور رکھ رھے تھے. ایمل ولی خان نے سینیٹر بن کر ان کو اھم پیغام پہنچھائے,. ایک تو یہ کہ پارلیمںٹ کا حصہ بننا کوئی اھم مسئلہ نہیں قوم پرستوں کیلئے. اپ نے دھاندلی کی. ھم سینیٹ میں آگئے. یہ شکست فاش ھوگئی. دوسرا اھم پیغام , بلوچستان جو ان قوتوں کا ھب ھے وھاں سےجیتنا, یعنی ان کو گھر میں گھس کر مارنا ھوا. تیسرا. جو قوتیں ایمل خان کو پارلیمنٹ سے روک رھی تھی. ایمل خان نے ان کو منہ توڑ شکست دیدی. کیا اب ان غیر جھھوری قوتوں کے ارادے بدل جائنگے یہ اھم سوال ھے. کیا ایمل ولی خان کی اواز کو دبایا جاسکتا ھے. میری رائے کہ مطابق بلی تھیلے سے باھر آچکی. اب بکرے کی ماں کب تک خیر منائگی.