09/05/2026
دنیا میں ہزاروں کنویں موجود ہیں۔
کئی دریا صدیوں میں خشک ہوگئے۔
جھیلیں سکڑ گئیں۔
زیرِ زمین پانی ختم ہوگیا۔
مگر سعودی عرب کے خشک اور پتھریلے صحرا میں ایک ایسا کنواں موجود ہے جو ہزاروں سال سے مسلسل پانی دے رہا ہے۔
زمزم۔
سائنسدانوں کے لیے یہ صرف ایک مذہبی مقام نہیں، بلکہ ایک حیران کن جغرافیائی راز بھی ہے۔
کیونکہ مکہ مکرمہ کا علاقہ قدرتی طور پر شدید خشک شمار ہوتا ہے۔ وہاں بارش نہایت کم ہوتی ہے، درجہ حرارت انتہائی بلند رہتا ہے، اور زمین کی ساخت ایسی نہیں کہ بڑے پیمانے پر پانی محفوظ رہ سکے۔
پھر سوال پیدا ہوتا ہے:
آخر زمزم کا پانی آتا کہاں سے ہے؟
اور یہ کبھی ختم کیوں نہیں ہوتا؟
جدید تحقیق کے مطابق زمزم کا کنواں تقریباً 35 میٹر گہرا ہے۔ اس کے اندر مختلف چٹانی تہیں موجود ہیں جو زیرِ زمین پانی کو ذخیرہ کرتی ہیں۔ ماہرینِ ارضیات کا کہنا ہے کہ اردگرد کی وادیوں سے بارش کا کچھ پانی زمین کے اندر جذب ہوکر اس نظام کا حصہ بنتا ہے۔
لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ اتنی کم بارش کے باوجود زمزم مسلسل لاکھوں افراد کی ضرورت پوری کرتا رہتا ہے۔
ہر سال حج اور عمرہ کے دوران کروڑوں لیٹر پانی استعمال ہوتا ہے۔
دن رات پمپنگ جاری رہتی ہے۔
پھر بھی پانی کی سطح خطرناک حد تک کم نہیں ہوتی۔
یہی وہ مقام ہے جہاں سائنس خاموش ہونے لگتی ہے… اور تاریخ بولنا شروع کرتی ہے۔
ہزاروں سال پہلے…
جب مکہ صرف ایک سنسان وادی تھی…
نہ وہاں شہر تھا، نہ بازار، نہ زندگی کا کوئی نشان۔
صرف پتھر، ریت اور خاموشی۔
اسی بے آب و گیاہ صحرا میں حضرت ابراہیمؑ اللہ کے حکم پر اپنی زوجہ حضرت ہاجرہؑ اور ننھے بیٹے حضرت اسماعیلؑ کو چھوڑ کر واپس روانہ ہوگئے۔
یہ کوئی عام فیصلہ نہیں تھا۔
ایک ماں اور بچے کو ایسے صحرا میں چھوڑ دینا جہاں پانی تک موجود نہ ہو… انسانی عقل کے مطابق ناممکن تھا۔
حضرت ہاجرہؑ نے پوچھا:
“کیا یہ اللہ کا حکم ہے؟”
جب جواب “ہاں” میں ملا تو انہوں نے صرف اتنا کہا:
“پھر اللہ ہمیں ضائع نہیں کرے گا۔”
یہ الفاظ تاریخ کے سب سے طاقتور جملوں میں شمار ہوتے ہیں۔
وقت گزرتا گیا۔
پانی ختم ہوگیا۔
گرم ہوا چل رہی تھی۔
ریت تپ رہی تھی۔
ننھے اسماعیلؑ پیاس سے بے چین ہونے لگے۔
ایک ماں کے لیے اس سے بڑا عذاب کوئی نہیں کہ وہ اپنے بچے کی تکلیف دیکھے اور کچھ نہ کرسکے۔
حضرت ہاجرہؑ پانی کی تلاش میں صفا پہاڑی کی طرف دوڑیں۔
اوپر پہنچ کر دور تک دیکھا۔
کچھ نہ ملا۔
پھر وہ مروہ کی طرف بھاگیں۔
ریت اتنی گرم تھی کہ پاؤں جل رہے تھے۔
دل میں خوف تھا۔
مایوسی تھی۔
لیکن امید ابھی باقی تھی۔
وہ سات مرتبہ صفا اور مروہ کے درمیان دوڑتی رہیں۔
آج بھی دنیا بھر کے مسلمان حج اور عمرے میں یہی عمل دہراتے ہیں۔
اسے “سعی” کہا جاتا ہے۔
یہ صرف عبادت نہیں…
یہ ایک ماں کی جدوجہد کی یادگار ہے۔
اور پھر…
وہ لمحہ آیا جس نے صحرا کی تقدیر بدل دی۔
حضرت اسماعیلؑ کے قدم زمین پر رگڑے…
اور اچانک زمین سے پانی پھوٹ نکلا۔
صحرا کے بیچ ایک چشمہ جاری ہوگیا۔
صاف، ٹھنڈا اور میٹھا پانی۔
حضرت ہاجرہؑ حیران رہ گئیں۔
وہ جلدی جلدی پانی جمع کرنے لگیں اور کہنے لگیں:
“زم زم… رک جا، رک جا۔”
اسی نسبت سے اس پانی کا نام “زمزم” پڑ گیا۔
یہ صرف ایک چشمہ نہیں تھا۔
یہ زندگی کی ابتدا تھی۔
مورخین کے مطابق زمزم کے ظاہر ہونے کے بعد وہاں قافلے رکنے لگے۔
پرندے پانی کے باعث اس علاقے کے اوپر منڈلانے لگے۔
پھر لوگ آنے لگے۔
آبادیاں بنیں۔
اور وقت کے ساتھ یہی وادی دنیا کے مقدس ترین شہر مکہ مکرمہ میں تبدیل ہوگئی۔
سائنس زمزم کے پانی پر کئی تحقیقات کرچکی ہے۔
کئی رپورٹس کے مطابق اس پانی میں کیلشیم، میگنیشیم اور فلورائیڈ جیسے معدنیات عام پانی کے مقابلے میں منفرد تناسب میں موجود ہیں۔
بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ یہی معدنیات اسے ایک الگ ذائقہ دیتے ہیں۔
ایک دلچسپ بات یہ بھی سامنے آئی کہ زمزم کے پانی میں جراثیم کی افزائش عام پانی کے مقابلے میں کم دیکھی گئی۔
اس کی ایک وجہ پانی میں موجود قدرتی معدنیات کو سمجھا جاتا ہے۔
کئی محققین نے اس بات پر بھی حیرت ظاہر کی کہ اتنے بڑے پیمانے پر استعمال کے باوجود زمزم کے پانی کی کوالٹی مسلسل برقرار رہتی ہے۔
آج سعودی حکومت زمزم کے پانی کو جدید فلٹریشن اور مانیٹرنگ سسٹمز کے ذریعے مسلسل چیک کرتی ہے تاکہ اس کی صفائی اور معیار برقرار رہے۔
مگر اصل حیرت آج بھی وہی ہے:
یہ پانی مسلسل آرہا کہاں سے ہے؟
کچھ ماہرین کہتے ہیں کہ زیرِ زمین چٹانی راستے مسلسل پانی فراہم کرتے ہیں۔
کچھ اسے قدرتی واٹر ریچارج سسٹم قرار دیتے ہیں۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ دنیا کے کئی دوسرے زیرِ زمین ذخائر وقت کے ساتھ کم ہوجاتے ہیں۔
زمزم اب بھی جاری ہے۔
اور یہی بات اسے منفرد بناتی ہے۔
نبی کریم ﷺ نے زمزم کے بارے میں فرمایا:
“زمزم اس مقصد کے لیے ہے جس مقصد سے اسے پیا جائے۔”
اسی لیے دنیا بھر سے آنے والے مسلمان اسے عقیدت سے پیتے ہیں۔
کوئی شفا کی نیت سے۔
کوئی رزق کی دعا کے ساتھ۔
کوئی روحانی سکون کے لیے۔
کئی حاجیوں کا کہنا ہے کہ شدید گرمی اور تھکن کے باوجود زمزم پینے کے بعد ایک عجیب تازگی محسوس ہوتی ہے۔
گویا یہ صرف جسم کی پیاس نہیں بجھاتا…
روح کو بھی سکون دیتا ہے۔
اگر غور کریں تو زمزم کی اصل کہانی صرف ایک کنویں کی نہیں۔
یہ امید کی کہانی ہے۔
ایک ماں کی جدوجہد کی کہانی۔
ایک نبی کے یقین کی کہانی۔
اور اس حقیقت کی کہانی کہ کبھی کبھی دنیا کے سب سے بڑے معجزے خاموشی سے جنم لیتے ہیں۔
صحرا میں۔
تنہائی میں۔
مایوسی کے آخری لمحے میں۔
آج دنیا جدید ٹیکنالوجی سے بھر چکی ہے۔
مصنوعی جھیلیں بنائی جارہی ہیں۔
سمندری پانی کو صاف کرکے پینے کے قابل بنایا جارہا ہے۔
مگر ہزاروں سال پہلے ایک سنسان صحرا میں ظاہر ہونے والا یہ کنواں آج بھی انسانوں کو حیران کررہا ہے۔
شاید اسی لیے زمزم صرف مذہبی علامت نہیں رہا…
یہ دنیا کے عظیم ترین رازوں میں شمار ہونے لگا ہے۔
ایک ایسا راز جسے سائنس سمجھنے کی کوشش کرتی ہے…
اور ایمان محسوس کرتا ہے۔