صداۓ حرمین شریفین Sadaye Haramain Sharifain

صداۓ حرمین شریفین  Sadaye Haramain Sharifain سبحان الله،الحَمْدُ ِلله،الله أكبر،

معارف الحدیثکتاب: کتاب المناقب والفضائلباب: رسول اللہ ﷺ کے فضائل اور مقامات عالیہحدیث نمبر: 1972عَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ ق...
18/08/2026

معارف الحدیث
کتاب: کتاب المناقب والفضائل
باب: رسول اللہ ﷺ کے فضائل اور مقامات عالیہ
حدیث نمبر: 1972

عَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَأَوَّلُ مَنْ يَنْشَقُّ عَنْهُ الْقَبْرُ وَأَوَّلُ شَافِعٍ وَأَوَّلُ مُشَفَّعٍ. (رواه مسلم)

ترجمہ:
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں قیامت کے دن تمام اولاد آدم کا سید (سردار) ہوں گا اور میں پہلا وہ شخص ہوگا جس کی قبر شق ہوگی (یعنی قیامت کے دن اللہ تعالی کے حکم سے سب سے پہلے میری قبر شق ہوگئی اور میں سب سے پہلے اپنی قبر سے اٹھوں گا) اور میں شفاعت کرنے والا پہلا شخص ہوگا (یعنی اللہ تعالی کی طرف سے سب سے پہلے شفاعت کی اجازت مجھے ملے گی اور سب سے پہلے میں ہی اس کی بارگاہ میں شفاعت کروں گا) اور میں ہی وہ شخص ہوں جس کی شفاعت سب سے پہلے قبول فرمائی جائے گی۔ (صحیح مسلم)

تشریح
اللہ تعالی کی طرف سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو علم و معارف عطا ہوئے اور آپ کے ذریعے امت کو ملے جو انسانی زندگی کے مختلف شعبوں سے متعلق ابواب میں منقسم ہیں ان میں سے ایک مناقب و فضائل کا باب بھی ہے حدیث کی قریبا سبھی کتابوں میں “کتاب المناقب” یا “ابواب المناقب” جیسے عنوانات کے تحت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ ارشادات روایت کئے گئے ہیں جن میں آپ نے بعض خاص اشخاص و افراد یا خاص طبقات کے وہ مناقب و فضائل بیان فرمائے ہیں جو اللہ تعالی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر منکشف فرمائے یہ باب بعض پہلوؤں سے حدیث کے اہم ابواب میں سے ہیں اس میں امت کے لیے ہدایت کا بہت بڑا سامان ہے اج بنام خدا اس باب کی احادیث کی تشریح کا سلسلہ شروع کیا جا رہا ہے اور اس کا آغاز چند ان حدیثوں کی تشریح سے کیا جارہا ہے جن میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے حکم و ارشاد “ وَأَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ” کی تعمیل کرتے ہوئے اپنے رب کریم کے خصوصی انعامات کا اور ان کے مقامات عالیہ کا ذکر فرمایا ہے جن پر آپ کو فائز کیا گیا تھا ساتھ ہی انشاءاللہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے شمائل و خصائل اور خاص احوال سے متعلق احادیث بھی تشریح کے ساتھ نظر ناظرین کی جائیں گی۔

تشریح ..... رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالی نے مجھ پر ایک خاص انعام یہ بھی فرمایا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کی پوری نسل میں (جس میں تمام انبیاء علیہم السلام بھی شامل ہیں) مجھے سب سے اعلی مقام و مرتبہ عطا فرمایا ہے مجھے سب کا سید و آقا بنایا ہے اس کا پورا ظہور جس کو سب آنکھوں سے دیکھیں گے قیامت کے دن ہو گا اور اسی دن اللہ تعالی کے ان خصوصی انعام کا بھی ظہور ہوگا کہ جب مردوں کے قبر سے اٹھنے کا وقت آئے گا تو بحکم خداوند سب سے پہلے میری قبر اوپر سے شق ہو گی اور میں سب سے پہلے قبر سے باہر آؤں گا اور پھر جب شفاعت کا دروازہ کھلنے کا وقت آئے گا تو باذن خداوندی سب سے پہلے میں ہی شفاعت کرنے والا ہوں گا اور میں ہی پہلا وہ شخص ہوں گا جس کی شفاعت کو اللہ تعالی کی طرف سے شرف قبول حاصل ہوگا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح کے عظیم خداوندی انعامات کا اظہار اللہ تعالیٰ ہی کے حکم سے اس لیے بھی فرماتے تھے کہ امت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام عالی سے واقف ہو اور اس کے قلب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ عظمت اور محبت پیدا ہو جو ہونی چاہیے اور پھر دل میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کا جذبہ اور داعیہ ابھرے نیز اللہ تعالی کی اس نعمت عظمیٰ کے شکر کی توفیق ہو کہ اس نے ایسے عظیم المرتبت پیغمبر کا امتی بنایا الغرض آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس طرح ارشادات تحدیث نعمت اور شکر نعمت کے علاوہ امت کی ہدایت و تربیت کے اسباب بھی ہیں۔
یہاں ایک یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے متعدد حدیثیں اس مضمون کی مروی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ فلاں پیغمبر پر مجھے فضیلت نہ دی جائے آپ کے اس طرح کے ارشادات کا مطلب (جو شارحین نے لکھا ہے اور خود ان حدیثوں کے سیاق و سباق سے معلوم ہوتا ہے) یہ ہے کہ اللہ تعالی کہ کسی بھی پیغمبر کے ساتھ مقابلہ اور موازنہ کرکے ان کو کمتر ثابت کرنے کی بات نہ کی جائے اس میں ان کی کسر شان اور سوء ادب کا اندیشہ ہے ورنہ االلہ تعالی نے اپنی کتاب پاک قرآن مجید میں فرمایا ہے “ تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ” (یہ ہمارے رسول ہیں جن میں سے بعض کو ہم نے بعض پر فضیلت اور برتری دی ہے) اور قرآن مجید میں متعدد آیتیں ہیں جن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تمام انبیاء و مرسلین سے افضل ہونا واضح طور پر ثابت ہوتا ہے مثلا “وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ” اور “وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا كَافَّةً لِّلنَّاسِ ..... الاية” وغيرها

The Clock Tower signals the entry into the month of Rabi’a Al Awwal 1448.
13/08/2026

The Clock Tower signals the entry into the month of Rabi’a Al Awwal 1448.

Rare images from the roof of Holy Ka’bah during the first restoration and renewal work during the reign of King Fahd bin...
13/08/2026

Rare images from the roof of Holy Ka’bah during the first restoration and renewal work during the reign of King Fahd bin Abdul aziz, and these are pictures taken between the month of Muharram and Rabi’a Al-Awwal 1415 AH corresponding to June and November 1994.

صور نادرة من سطح الكعبة المشرفة خلال أعمال الترميم الأولى في عهد الملك فهد بن عبد العزيز -رحمه الله-، وهذه الصور التقطت بين شهر محرم وربيع الأول 1415هـ الموافق 1994م

معارف الحدیثکتاب: کتاب الاخلاقباب: دوسروں پر رحم کھانے والے اللہ کی رحمت کے مستحق ہیںحدیث نمبر: 251عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَب...
27/07/2026

معارف الحدیث
کتاب: کتاب الاخلاق
باب: دوسروں پر رحم کھانے والے اللہ کی رحمت کے مستحق ہیں
حدیث نمبر: 251

عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « لاَ يَرْحَمُ اللَّهُ مَنْ لاَ يَرْحَمُ النَّاسَ » (رواه البخارى)

ترجمہ:
حضرت جریر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ لوگ اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت سے محروم رہیں گے جن کے دلوں میں دوسرے آدمیوں کے لیے رحم نہیں اور جو دوسروں پر ترس نہیں کھاتے ۔ (بخاری ومسلم)

تشریح
اس حدیث میں “ الناس ” کا لفظ عام ہے ، جو مومن و کافر اور متقی و فاجر سبکو شامل ہے ، اور بلا شبہ رحم سب کا حق ہے ، البتہ کافر اور فاجر کے ساتھ سچی رحمدلی کا سب سے بڑا تقاضا یہ ہونا چاہئے کہ اس کے کفر اور فجور کے انجام کا ہمارے دل میں درد ہو ، اور ہم اس سے اس کو بچانے کی کوشش کریں ، اس کے علاوہ اگر وہ کسی دنیوی اور جسمانی تکلیف میں ہو ، تو اس سے اس کو بچانے کی فکر کرنا بھی رحمدلی کا یقیناً تقاضا ہے ، اور ہم کو اس کا بھی حکم ہے ۔

یہ منفرد لمحہ پاکستانی وقت کے مطابق دن 2 بج کر 26منٹ اور 44 سیکنڈ پر وقوع پذیر ہوگا جس کے باعث خانہ کعبہ کا سایہ نظر نہی...
15/07/2026

یہ منفرد لمحہ پاکستانی وقت کے مطابق دن 2 بج کر 26منٹ اور 44 سیکنڈ پر وقوع پذیر ہوگا جس کے باعث خانہ کعبہ کا سایہ نظر نہیں آئیگا۔

یہ ایک ایسا منفرد لمحہ ہے، جس کے ذریعے دنیا بھر کے لاکھوں مسلمان کمپاس یا موبائل ایپس کے بغیر بھی انتہائی درستگی کے ساتھ قبلے کی سمت معلوم کر سکتے ہیں۔

The maintenance of the Kaabah continues
16/04/2026

The maintenance of the Kaabah continues

Address

Mecca

Opening Hours

Monday 9am - 5pm
Tuesday 9am - 5pm
Wednesday 9am - 5pm
Thursday 9am - 5pm
Friday 9am - 5pm

Telephone

+923468000406

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when صداۓ حرمین شریفین Sadaye Haramain Sharifain posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category