Inside District Rahim yar Khan

Inside District Rahim yar Khan This page is for mutual benifit of peoples. Here u can get the latest Information about current news.

کچے میں امن کے دعوے داروں سے سوال ہے دن دیہاڑے ڈکیتیوں کا کیا ہوگا؟ 🥹مہنگائی، بیروزگاری اور جان کے لالے جنگل کا بھی کوئی...
04/27/2026

کچے میں امن کے دعوے داروں سے سوال ہے دن دیہاڑے ڈکیتیوں کا کیا ہوگا؟
🥹مہنگائی، بیروزگاری اور جان کے لالے
جنگل کا بھی کوئی قانون ہوتا ہے اس شہر میں خوف وہراس اور وحشت کا راج ہے۔
چوری، ڈکیتی، مہنگائی

04/23/2026
04/02/2026

رحیم یار خان:

گرلز کالج روڈ پر ڈکیتی کی واردات، 22 سے 23 سالہ نوجوان احد سے نامعلوم ملزمان موٹر سائیکل چھین کر فرار ہوگئے۔

ملزمان دو تھے، ایک نے لال ہیلمٹ جبکہ دوسرے نے نقاب پہن رکھا تھا۔

واقعے کی اطلاع ملتے ہی سی سی ڈی اور تھانہ اے ڈویژن پولیس فوری موقع پر پہنچ گئی اور کارروائی شروع کر دی گئی۔ فرار ہونے کی سی سی ٹی وی ویڈیو موصول

حادثات تو ہوتے ہیں ان پر قابو بھی پالیا جاتا ہے لیکن یہ نہیں ہوتا کہ دنیا کی ساتویں ایٹمی قوت کے معاشی دارالخلافے کی فائ...
01/18/2026

حادثات تو ہوتے ہیں ان پر قابو بھی پالیا جاتا ہے لیکن یہ نہیں ہوتا کہ دنیا کی ساتویں ایٹمی قوت کے معاشی دارالخلافے کی فائیر بریگیڈ کی گاڑیوں میں پانی تک نہ ہو۔ پوری انتظامیہ ملکر وسائل نہ ہونے کے باعث آگ پر قابو ہی نہ پاسکے۔
اللہ تعالیٰ تمام متاثرین کے جانی اور مالی نقصان کا بہترین نعم البدل عطا فرمائے۔ آمین 🤲

جب تاریخ گواہی دے گی…رحیم یار خاناطلاع کے مطابق مخدوم سید احمد محمود 12 جنوری بروز پیر ایک مرتبہ پھر لاہور سے لندن روانہ...
01/11/2026

جب تاریخ گواہی دے گی…
رحیم یار خان

اطلاع کے مطابق مخدوم سید احمد محمود 12 جنوری بروز پیر ایک مرتبہ پھر لاہور سے لندن روانہ ہو رہے ہیں، جہاں وہ معمول کے طبی معائنے اور چند ضروری ٹیسٹ کروائیں گے۔ توقع ہے کہ مختصر قیام کے بعد ہفتہ عشرہ میں وہ دوبارہ وطن واپس لوٹ آئیں گے اور حسبِ روایت اپنے احباب اور چاہنے والوں کے درمیان موجود ہوں گے۔ ان شاء اللہ۔

ایک موذی مرض پر قابو پانے اور مکمل صحت یابی کے بعد، جب دو ہفتے قبل مخدوم سید احمد محمود لندن سے وطن واپس پہنچے تو لاہور میں ان کی قیام گاہ عقیدت، محبت اور احترام کا مرکز بن گئی۔ اس روز سے اب تک عیادت کرنے والوں کا ایک نہ تھمنے والا سلسلہ جاری ہے۔ ملک کے طول و عرض سے، بالخصوص ان کے آبائی ضلع رحیم یار خان سے سیاسی، سماجی اور مختلف مکتبۂ فکر سے تعلق رکھنے والی نامور شخصیات خوشبودار گلدستے لیے ان کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور صحت یابی پر دلی مسرت و مبارک باد پیش کرتی رہیں

یہ مناظر اس حقیقت کی گواہی دیتے ہیں کہ مخدوم سید احمد محمود محض ایک سیاسی نام نہیں، بلکہ اپنے چاہنے والوں کے دلوں میں بسنے والی ایک زندہ روایت ہیں—اخلاص، وفا اور عقیدت کی علامت۔

میرے لیے خوشگوار حیرت کا باعث وہ لمحہ تھا جب تصدیق کے ساتھ یہ خبر سامنے آئی کہ مخدوم صاحب کی وطن واپسی پر چوہدری محمد منیر صاحب اپنے صاحبزادگان کے ہمراہ لاہور پہنچے اور ان کی رہائش گاہ پر مزاج پرسی و عیادت کی۔ صحت یابی پر تہنیتی کلمات اور خلوص بھرے جذبات کے اظہار میں جس اخلاقی وقار، سماجی شعور اور وسیع القلبی کا مظاہرہ کیا گیا، وہ محض دو شخصیات یا دو خاندانوں تک محدود نہیں بلکہ پورے ضلع رحیم یار خان کے لیے ایک خوش آئند پیغام اور نیک شگون ہے۔ ہمارا دین، ہماری تہذیب اور ہماری معاشرتی اقدار بھی ہمیں اسی رواداری، شائستگی اور احترامِ باہمی کا درس دیتی ہیں۔

یہ بات کہنے میں کوئی تامل نہیں کہ اگر گزشتہ دو اڑھائی دہائیوں پر محیط ضلع رحیم یار خان کی قومی اور بلدیاتی سیاست کا سنجیدہ جائزہ لیا جائے تو متعدد مواقع پر مخدوم سید احمد محمود اور ان کے خاندان کے ساتھ روا رکھا گیا سلوک کسی طور بھی مناسب یا قابلِ جواز دکھائی نہیں دیتا۔

2001ء میں ضلعی ناظم منتخب ہونے کے بعد باغ و بہار میں پیش آنے والا ناخوشگوار واقعہ ہو، یا پنجاب میں 2015ء کے آخری بلدیاتی انتخابات کے موقع پر ضلع کونسل میں مخدوم سید احمد محمود (پاکستان پیپلز پارٹی) کی واضح اکثریت کو طاقت اور سرمایہ کے بل پر اقلیت میں بدل دینے کی روایت—یہ سب ہمارے پُرامن ضلع کی سیاسی تاریخ کے وہ سیاہ باب ہیں جن کی کوئی معقول توجیہ ممکن نہیں۔

حالیہ دنوں پاکستان کی عدالتِ عظمیٰ کی جانب سے تقریباً چالیس برس بعد ذوالفقار علی بھٹو کے عدالتی قتل کا اعتراف ایک تاریخی موڑ کے طور پر سامنے آیا، جسے بجا طور پر سراہا گیا۔ جب بھی ضلع رحیم یار خان کی سیاسی تاریخ لکھی، پڑھی یا سنی جائے گی، مخدوم سید احمد محمود اس مقدمۂ حق میں سرخرو اور استقامت کے ساتھ کھڑے دکھائی دیں گے۔

ذاتی ملاقاتوں میں جب کبھی ماضی کے ان تلخ واقعات کا ذکر چھیڑا گیا، تو مخدوم صاحب نے ہمیشہ بردباری اور وقار کا مظاہرہ کیا۔ ان کے لبوں پر نہ شکوہ آیا، نہ شکایت—البتہ ان واقعات کے تذکرے پر دل کے کسی نہاں خانے سے افسوس کی ایک ہلکی سی گرد ضرور اٹھتی محسوس ہوئی، جو خاموش مگر بامعنی گواہی تھی۔

مخدوم سید احمد محمود سیاست میں فاؤل پلے کے قائل ہیں نہ ہی ایسے ہتھکنڈوں کو قبول کرتے ہیں۔ وہ اپنے مزاج کے آدمی ہیں—آزاد سوچ کے حامل، خود فیصلے کرنے والے اور اصولوں پر کبھی سمجھوتہ نہ کرنے والے۔
گزشتہ دو عشروں سے ان کی زبان سے ایک ہی بات تسلسل کے ساتھ سننے کو ملتی ہے کہ وہ سیاست کو منصب یا مفاد کے لیے نہیں، بلکہ عزت اور وقار کے ساتھ نبھانے پر یقین رکھتے ہیں۔ ان کا صاف اور دوٹوک مؤقف ہے کہ جس مقام پر عزت پر آنچ آئے، وہ راستہ انہیں کسی صورت قبول نہیں۔ یہی فکری استقامت اور اصولی وابستگی ہمیشہ دلوں کو چھوتی رہی ہے۔

سیاست میں رواداری، احترام اور برداشت کے باب میں وہ اپنے بزرگوں کی روشن روایتوں کے امین ہیں اور اپنی اولاد کی تربیت بھی انہی اعلیٰ اقدار پر کر رہے ہیں۔
دعا ہے کہ اللہ ربّ العزت مخدوم سید احمد محمود کو صحتِ کاملہ، عاجلہ اور دائمی عطا فرمائے۔ ان کے صبیح چہرے پر خوشیوں کے گلاب یونہی مہکتے رہیں اور وہ اسی وقار، متانت اور خلوص کے ساتھ اپنے چاہنے والوں کے درمیان سلامت رہیں۔
آمین۔

12/31/2025

نیا سال، نئی امیدیں، نئی خوشیاں، سب کے لیے خوشیوں بھرا سال ہو! 🎉
Happy Newyear 2026

12/29/2025

رجب بٹ کی عدالت میں پیشی کے دوران ہنگامہ آرائ۔۔۔۔۔۔

وکلاء نے رجب بٹ کو تشدد کا نشانہ بنایا وجہ معلوم نہ ہوسکی۔۔۔۔

کراچی میں وکلاء نے رجب بٹ کی دھلائی کردی
12/29/2025

کراچی میں وکلاء نے رجب بٹ کی دھلائی کردی

جو انسان صلح کو اپنا لیتا ہے، وہ دلوں کو جوڑنے والا پل بن جاتا ہے۔صلح کرنے والا ہمیشہ عزت اور سکون کا وارث بنتا ہے۔اللہ ...
12/28/2025

جو انسان صلح کو اپنا لیتا ہے، وہ دلوں کو جوڑنے والا پل بن جاتا ہے۔
صلح کرنے والا ہمیشہ عزت اور سکون کا وارث بنتا ہے۔
اللہ پاک دونوں بھائیوں اور صلح کروانے والوں کو اس کا اجر عظیم عطا فرمائے آمین

رانا جاوید اور راجہ سولنگی کے درمیاں آٹھ سال بعد صلح

Address

Midlothian, VA

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Inside District Rahim yar Khan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share