04/30/2020
ایران میں شہدا کی فیملی کے ساتھ پچھلے سال
( 18/02/2019) ہونیوالے ایک سیمنار میں ایک شہید کی والدہ نے بتایا کہ میرا ایک ہی بیٹا تھا جو اٹھارہ سال کی عمر میں شہید ہو ا .
میں اب بوڑھی ہوگئی ہوں بظاہر تنہا ہوں مگر میرا بیٹا میرے ساتھ ہے وہ میرا خیال رکھتا ہے میں جب نماز پڑھنے بیٹھتی ہوں تو اسے پاس بیٹھے محسوس کرتی ہوں .جب سوتی ہوں میرا بیٹا میرے پاوں دباتا ہے جب باہر کہیں روڈ پار کرنی ہوتی ہے اور کوئی میری مدد کے لیے آگے بڑھتا ہے تو میں کہتی ہوں کہ تمہاری مدد کی ضرورت نہیں میرے بیٹے نے میرا ہاتھ پکڑ ا ہوا ہے .
ایک اور شہید کی والدہ نے بتایا کہ میرے تین بیٹے شہید ہیں اور جب تیسرے بیٹے کی شہادت کی خبر آئی تو مجھے امام خمینی رحمتہ اللہ علیہ سے ملنے کے لیے لے کر گئے .میں نے دیکھا امام کی آنکھیں آنسووں سے تر تھیں امام نے مجھ سے کہا
میں آپ شھدا کی ماوں سے بہت شرمندہ ہوں .مجھے آپ سب معاف کردیجیے گا .یہ سن کر میں تڑپ گئی اور کہا
آقا جان .
افسوس کے میرے تین ہی بیٹے تھے اگر اور بیٹے ہوتے تو اسلام پر فدا کردیتی مگر آپ کی آنکھوں میں آنسو نہ دیکھتی.
اس عظیم ماں نے مزید بتایا کہ - - -میرے تینوں بیٹے رات میں ایک ساتھ مجھ سے ملنے آتے ہیں میں ان کے کمرے کو صاف ستھرا کرتی ہوں وہ تینوں میرے آس پاس ہوتے ہیں . لوگ کہتے ہیں تم کیسے تنہا رہ رہی ہو مگر میں کہتی ہوں میرے بچے ہر رات مجھے ملنے آتے ہیں میں رات کسی کے گھر نہیں ٹھرتی اپنے گھر واپس آجاتی ہوں .
جو لوگ ان سب باتوں کو افسانہ کہتے ہیں وہ ایک بار شہدا کی سمت قدم بڑھا کر تو دیکھیں.