06/10/2026
" عشال فاطمہ کیس "
سلطان کالونی کی رہائشی نجی کالج میں زیر تعلیم آئی سی ایس کے فرسٹ ائر کی طالبہ عشال فاطمہ کو اتوار کو صبح تقریبا ساڑھے نو بجے بے ہوشی کی حالت میں سب سے پہلے علی احمد خان اسپتال لایا گیا جہاں فوری طور پر طبی امداد شروع کر دی گئی ، جب اسے وہاں لایا گیا تو اس کی شوگر بہت زیادہ ہائی اور بلڈ پریشر نہ ہونے کے برابر تھا ،
اسے اسپتال پہنچانے والے جب فرار ہو گئے تو علی احمد خان اسپتال کی انتظامیہ نے ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے علاج جاری رکھا اور پولیس کو آگاہ کیا جس کے بعد پولیس وہاں پہنچی اور ریسکیو 1122 کی ایمبولینس میں عشال کو ڈی ایچ کیو اسپتال منتقل کیا گیا جہاں عشال فاطمہ سوموار کی صبح دس بجے تک زندگی موت کی کشمکش میں رہنے کے بعد دم توڑ گئی ،
علی احمد خان اسپتال کے تمام سی سی ٹی وی کیمرے ورکنگ میں تھے اور وہاں سے ملنے والی سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے ملزموں کو ٹریس کرنے میں مدد ملی ،
سی سی ٹی وی فوٹیج میں واضع طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ سرخ رنگ کی ایک کار علی احمد خان اسپتال کی ایمرجنسی میں تیزی سے آکر رکتی ہے پچھلی سیٹ سے ایک لڑکا نکل کر بھاگ کر وہیل چئیر لاتا ہے اس دوران گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر بیٹھا ایک نوجوان ماسک لگائے ہوئے اترتا ہے اور اسپتال کا سیکیورٹی گارڈ بھی وہاں پہنچ جاتا ہے دونوں اسے ایمرجنسی میں داخل کرواتے ہیں اس کا نام اور والد کا نام درست لکھواتے ہیں اور علاج شروع ہوتے ہی باہر نکلتے ہیں اور اسی سرخ رنگ کی کار میں ان کا تیسرا ساتھی جو ڈرائیونگ کر رہا ہوتا ہے کے ساتھ بیٹھ کر اسپتال سے راہ فرار اختیار کرتے ہیں ،
پولیس تھانہ سیٹلائیٹ ٹاون نے اتوار کے روز عشال کے والد ارشاد حسین کی مدعیت میں 4 جون سے لاپتہ طالبہ کے مبینہ اغوا کا مقدمہ اس وقت درج کیا جب اس کی والدہ کو ایک موبائل نمبر سے کال موصول ہوئی جس میں اسے بتایا گیا کہ ان کی بیٹی علی احمد خان اسپتال میں داخل ہے ،
عشال فاطمہ کی پوسٹ ماڑٹم رپورٹ آج منگل کو جاری کی جائے گی جبکہ فرانزک رپورٹ آنے میں ابھی کچھ وقت درکار ہو گا ،
عشال کے لواحقین کے مطابق اس کے جسم کے مختلف حصوں پر نشانات موجود تھے ،
پولیس ذرائع کے مطابق تھانہ سیٹلائیٹ ٹاون پولیس نے مقدمہ درج کر کے مرکزی ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے اور واقعے میں استعمال ہونے والی گاڑی بھی تحویل میں لے لی ہے ، ملزمان سے دوران تفتیش اصل حقائق سامنے آ سکیں گے -
#پاکستان