29/12/2024
شفیق خان نے عمران خان کی کال پر اسلام آباد احتجاج میں شرکت کی اور 26 نومبر 2024 کو ڈی چوک کے قریب موجود تھے۔ انہیں ایک سنائپر کی گولی لگی اور وہ موقع پر ہی شہید ہوگئے۔ ایک ویڈیو میں ساتھی مظاہرین کو یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ وہ شہید ہو گئے ہیں اور رینجرز براہ راست لوگوں پر فائرنگ کر رہے ہیں۔ ان کی میت کو قریبی ہسپتال منتقل کیا گیا، اور یہ تمام واقعہ ریکارڈ کیا گیا اور بطور ثبوت موجود ہے۔ بعد میں ان کے خاندان نے تصدیق کی کہ ان کی میت تبھی حوالے کی گئی جب انہیں ایک حلف نامے پر دستخط کرنے پر مجبور کیا گیا جس میں کہا گیا تھا کہ شفیق خان کی موت کسی حادثے میں ہوئی، نہ کہ سیکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے۔ ان کی عمر 45 سال تھی۔ وہ دو بچوں کو سوگوار چھوڑ گئے ہیں۔