11/09/2026
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ، مزدور کی اجرت میں بھی اضافہ ضروری
آج پھر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ حکومت کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پٹرول کی قیمت میں 5 روپے 58 پیسے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 4 روپے 18 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے۔
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہر اضافہ براہِ راست عام آدمی کی زندگی کو متاثر کرتا ہے۔ ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھتے ہیں، اشیائے ضروریہ مہنگی ہوتی ہیں اور گھر کا بجٹ مزید مشکل ہو جاتا ہے۔ اس تمام صورتحال کا سب سے زیادہ بوجھ مزدور اور کم آمدنی والے طبقے کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ جب مہنگائی مسلسل بڑھ رہی ہے تو مزدور کی اجرت کب بڑھے گی؟
مزدور سارا دن سخت محنت کرکے اپنے بچوں کے لیے دو وقت کی روٹی، تعلیم، علاج اور گھر کے دیگر اخراجات پورے کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن جب آمدنی وہی رہے اور پٹرول، بجلی، اشیائے خورونوش، ٹرانسپورٹ اور دیگر ضروریات مسلسل مہنگی ہوتی جائیں تو ایک محنت کش خاندان کے لیے زندگی گزارنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔
حکومت سے ہمارا مطالبہ ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ مزدور کی اجرت میں بھی مناسب، منصفانہ اور فوری اضافہ کیا جائے، تاکہ محنت کش طبقہ مہنگائی کے بڑھتے ہوئے بوجھ تلے دبنے سے محفوظ رہ سکے۔
اگر مزدور کی آمدنی مناسب ہوگی تو وہ اپنے بچوں کو تعلیم دلا سکے گا، ان کی بنیادی ضروریات پوری کر سکے گا اور انہیں کم عمری میں محنت مزدوری پر بھیجنے کی معاشی مجبوری سے بچا سکے گا۔
مزدور کو صرف ہمدردی نہیں، اس کی محنت کے مطابق مناسب اجرت چاہیے۔
پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں تو مزدور کی اجرت بھی بڑھنی چاہیے۔ محنت کش خوشحال ہوگا تو اس کا گھر، اس کے بچے اور معاشرہ بہتر مستقبل کی طرف بڑھ سکیں گے۔