08/06/2020
کچھ دنوں سے کچھ لوگوں کے پوسٹس اور کمنٹس دیکھ کر دلی دکھ ہوا۔ تعمیری تنقید ان کا حق ہیں لیکن ایسے بندے کو ٹارگٹ کرنا جو کہ اپنے حلقے کے عوام کی زندگی بہتر بنانے کیلۓ دن رات ایک کیۓ ہوۓ ہے یہ وہی اصغر خان ہے جب پچھلی حکومت میں گولیوں کی بوچھاڑ میں دو ملکوں کو مذاکرات کے میز پہ لا کے بارڈر کو کھول دیا تھا آپ لوگ بتانا پسند فرمائنگے کہ جب جب بھی بارڈر کو بند کردیا گیا ہے کونسا ایسا لیڈر ہے جو اصغر خان کی طرح اپنےعوام کیساتھ کندھا ملا کے کھڑا ہوا ہو۔ کیا اس کو عوام کی اس درد کا احساس نہیں ہےیقینا ہے اپنے حد تک تو محنت کر رہا ہے, بارڈر اکیلۓ اصغر خان سے تو نہیں کھل سکتا بجاۓ ان کا طاقت بننے کے ایک منظم سازش کے تحت ان کی کردار کشی کی جارہی ہے۔