08/20/2026
بائبل کے مطابق فرعون غرق نہیں ہوا تھا
یہودی عقیدے کے مطابق فرعون کی ساری فوج غرق ہوگئی تھی مگر فرعون کنارے پہ کھڑا رہا تھا اور زندہ سلامت واپس اپنے محل میں آگیا تھا پھر اس کے بعد وہ طبعی موت مرا تھا
عہد نامہ قدیم اور عہد نامہ جدید میں کسی ایک جگہ بھی فرعون کے غرق ہونے کی خبر نہیں ہے جبکہ قران اس کے الٹ بات کرتا ہے
سورہ یونس 90 تا 92 میں فرعون کے پانی میں غرق ہونے اس کے معافی مانگنے اور اس کی لاش کو محفوظ کرنے کی تفصیل آئی ہے
اب یہ بہت بڑا تضاد ہے بائبل اور قران کا جس پر یہودی علما اعتراض اٹھاتے رہے ہیں کہ اگر تمہارا قران یہ کہہ رہا ہے کہ فرعون کی لاش محفوظ ہے تو پھر دکھاو وہ کہاں ہے؟
1898 میں مصر میں محکمہ آثار قدیمہ کھدائی شروع کرتا ہے تو وہاں سے فرعون کی ممی دریافت ہوجاتی ہے مگر ابھی یہ معلوم نہیں کہ یہ آخری فرعون ہے یا کوئی پہلے والا فرعون ہے
1935 تک تحقیقات سے یہ فائنل ہو جاتا ہے کہ یہ آخری فرعون کی لاش ہے مگر یہ مرا کیسے تھا یہ فائنل نہیں ہوا
1952 میں حضرت موسی پر بننے والی مشہور زمانہ فلمThe Ten Comandmint میں بھی اینڈ پہ فرعون کو واپس اپنے محل میں جاتے دکھایا گیا ہے
1984 میں فرعون کے پاوں میں پھپھوندی لگ جاتی ہے
حکومت مصر اسے فرانس لے جانے کا پروگرام بناتی ہے
فرعون کا باقائدہ پاسپورٹ بنتا ہے اور فرانس کی حکومت فرعون کو دنیا کا سب سے بڑا گارڈ آف آنر دیتی ہے
فرانس کے ڈاکٹروں کی ٹیم ڈاکٹر مورس بکائلے کی سربراہی میں فرعون کی باڈی کا معائنہ شروع کرتے ہیں تو ڈاکٹر مورس بکائلے کو یہ دیکھ کر شاک لگتا ہے کہ باڈی کے اندر سمندری نمکیات موجود ہیں
ڈاکٹر مورس بکائلے مصر کا رخ کرتا ہے پھر وہ قران کے الفاظ سمجھنے کے لئیے اردن کے دیہاتی ایریاز میں جاتا ہے
وہ اپنی پوری تحقیق کے بعد 1990 میں مشہور زمانہ کتاب بائبل قران اور سائنس لکھتا ہے جس میں وہ اعتراف کرتا ہے کہ قران تاریخ کیمسٹری طب اور سائنس پہ زیادہ بات کرتا ہے جبکہ بائبل زیادہ تر صرف اخلاقیات پہ بات کرتی ہے
ہم دکھائیں گے عنقریب تم کو اپنی نشانیاں افق میں اور تمہارے اپنے نفسوں میں تاکہ یہ بات کھل جائے کہ یہی حق ہے ( فصلت53)
ہمیں یہ بات سمجھ لینی چاہئیے کہ قران کی مکمل تفسیر لکھنا کسی انسان کے بس کا کام نہیں
ایسئ ہزاروں آیات ہیں قران میں جن میں سے کچھ عیاں ہوچکی ہیں اور باقی وقت کی ترقی کے ساتھ ہوتی جائیں گی
#