05/24/2026
💔 اُس دن میرا لمبے بالوں اور بازوؤں پر ٹیٹوز والا بیٹا پہلی بار محلے کی دینی محفل میں جانے پر راضی ہوا تھا… مگر گھر سے نکلتے وقت اُس نے اپنے ابّو سے صرف ایک سوال پوچھا: “ابو… لوگ مجھے دیکھ کر یہ تو نہیں کہیں گے کہ میں مسجد یا دین والوں کے قابل نہیں ہوں؟” 🥀
یہ چند سال پہلے کی بات ہے۔
جمعرات کی شام تھی۔
مغرب کے بعد محلے کی جامع مسجد میں ایک دینی بیان ہونا تھا، جہاں شہر کے مشہور عالم صاحب آ رہے تھے۔
اُسی شام میرے شوہر کے فون پر ہمارے بیٹے احد کی کال آئی۔
مہینوں بعد۔
“السلام علیکم ابو…”
آواز میں عجیب جھجھک تھی۔
میرے شوہر فوراً سیدھے ہو کر بیٹھ گئے۔
“وعلیکم السلام بیٹا… خیریت ہے؟”
چند لمحے خاموشی رہی۔
پھر احد نے آہستہ سے پوچھا:
“اگر میں آج آپ کے ساتھ بیان سننے چلوں تو…؟”
میں نے کچن میں کھڑے کھڑے رونا شروع کر دیا تھا۔
کیونکہ میرا بیٹا برسوں سے دین، مسجد اور مذہبی لوگوں سے دور بھاگتا تھا۔
لمبے بال۔
بازوؤں پر ٹیٹوز۔
کان میں چھوٹا سا اسٹڈ۔
راتوں کی محفلیں۔
موٹر بائیکس۔
اور اندر کہیں بہت گہرا خالی پن۔
محلے والوں نے اُسے “بگڑا ہوا لڑکا” کہنا شروع کر دیا تھا۔
کئی بار جب وہ مسجد کے باہر سے گزرتا، کچھ لوگ طنزیہ نظروں سے دیکھتے۔
“آج کل کے بچے…”
“استغفراللہ، شکل دیکھی ہے؟”
حالانکہ سچ یہ تھا…
وہ اندر سے بہت نرم دل لڑکا تھا۔
بس زندگی میں کہیں کھو گیا تھا۔
میرے شوہر نے فوراً کہا:
“بیٹا، ابھی آ جاؤ۔”
پھر احد نے ایک ایسا سوال کیا جس نے ہمارا دل توڑ دیا۔
“میں کیا پہنوں…؟”
یہ صرف کپڑوں کا سوال نہیں تھا۔
یہ اُس خوف کا سوال تھا… جو لوگوں نے اُس کے دل میں بھر دیا تھا۔
میرے شوہر نے نرمی سے کہا:
“جیسے ہو ویسے آ جاؤ… اللہ کے راستے پر آنے کے لیے فرشتہ ہونا ضروری نہیں ہوتا۔”
رات کو جب وہ آیا تو میں دروازے پر ہی رک گئی۔
گرمی کے باوجود اُس نے فل بازو والی شرٹ پہن رکھی تھی۔
صرف اپنے ٹیٹوز چھپانے کے لیے۔
صرف اس ڈر سے کہ کہیں دین والے اُسے حقارت سے نہ دیکھیں۔
راستے بھر وہ خاموش رہا۔
گاڑی میں عجیب خاموشی تھی۔
پھر اچانک اُس نے دھیمی آواز میں پوچھا:
“ابو… اگر لوگ گھوریں تو؟”
میرے شوہر چند لمحے خاموش رہے۔
پھر بولے:
“بیٹا… اللہ کے گھر آنے والوں کو لوگ نہیں، اللہ دیکھتا ہے۔”
بیان شروع ہونے سے پہلے ہم مسجد کے صحن میں پہنچے۔
وہاں کرسیاں لگی تھیں۔
لوگ حلقوں میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔
میں عورتوں کے حصے میں چلی گئی، جبکہ میرے شوہر احد کو لے کر مردوں کی طرف گئے۔
بعد میں میرے شوہر نے مجھے بتایا کہ اُس لمحے اُن کے دل میں عجیب خیال آیا۔
جیسے کسی نے دل میں کہا ہو:
“اُسے حارث صاحب کے پاس بٹھاؤ۔”
حارث صاحب مسجد کی انتظامیہ میں تھے۔
سفید داڑھی۔
سادہ لباس۔
اور ایسا دل… جو شاید لوگوں کے ظاہری حلیوں سے پہلے اُن کی تھکن دیکھ لیتا تھا۔
میرے شوہر احد کو اُن کے پاس بٹھا کر پیچھے بیٹھ گئے۔
چند منٹ بعد حارث صاحب نے احد کے بازو کی طرف دیکھا جہاں شرٹ کے نیچے سے ہلکی سیاہی جھلک رہی تھی۔
میرے شوہر گھبرا گئے۔
اُنہیں لگا اب شاید کوئی نصیحت ہوگی۔
مگر حارث صاحب مسکرائے اور بولے:
“یہ ڈیزائن تم نے خود بنائے ہیں؟”
احد چونک گیا۔
“جی…”
“بہت خوبصورت ہاتھ ہے تمہارا… تم artist ہو؟”
قسم سے…
میرے شوہر کہتے ہیں اُس لمحے اُنہوں نے برسوں بعد اپنے بیٹے کے چہرے پر وہ معصوم حیرانی دیکھی تھی جو صرف محبت سے پیدا ہوتی ہے۔
احد آہستہ سے بولا:
“جی… خود بناتا ہوں۔”
حارث صاحب ہنس دیے۔
“اللہ نے ہنر دیا ہے تمہیں۔”
بس…
اتنی سی بات تھی۔
مگر بعض اوقات ایک نرم جملہ انسان کو اُس جگہ واپس لے آتا ہے جہاں سے وہ بہت دور جا چکا ہوتا ہے۔
بیان شروع ہوا۔
عالم صاحب نے اچانک کہا:
“کبھی کبھی اللہ کے سب سے قریب وہ انسان ہوتا ہے… جسے دنیا سب سے زیادہ گناہگار سمجھ رہی ہوتی ہے۔”
احد نے پہلی بار سر اٹھا کر پوری توجہ سے سنا۔
پھر عالم صاحب بولے:
“اگر کوئی ٹوٹا ہوا انسان دین کی طرف ایک قدم بڑھا کر آ گیا ہے… تو اُسے دھکا مت دو۔ شاید وہ برسوں بعد ہمت کر کے یہاں تک پہنچا ہو۔”
قسم سے…
اُس رات میرا بیٹا خاموشی سے روتا رہا۔
بیان ختم ہونے کے بعد وہ کافی دیر مسجد کے صحن میں بیٹھا رہا۔
پھر اچانک اُس نے میرے شوہر سے کہا:
“ابو… کیا اللہ واقعی میرے جیسے لوگوں کو بھی معاف کر دیتا ہے؟”
میرے شوہر کی آنکھیں بھر آئیں۔
اُنہوں نے صرف اتنا کہا:
“بیٹا… اللہ سے دور گناہ نہیں کرتے… مایوسی کرتی ہے۔”
اُس رات مجھے ایک بہت بڑی بات سمجھ آئی۔
لوگ دین سے اپنے گناہوں کی وجہ سے کم…
دین والوں کے رویوں کی وجہ سے زیادہ دور ہوتے ہیں۔
اگر کوئی ٹوٹا ہوا انسان اللہ کی طرف آ رہا ہو، تو اُس کے بال، کپڑے، ٹیٹوز یا ماضی مت دیکھو۔
کیونکہ شاید اُس کی ماں برسوں سے تہجد میں اُس کے لیے رو رہی ہو۔
اور یاد رکھو…
Listen to the sighs .
ہدایت بحث سے کم، محبت سے زیادہ ملتی ہے۔