MORAL STORIES

MORAL STORIES All of these different urdu stories provide good examples of morals, each containing an important moral and an important lesson to learn.

08/30/2026
08/20/2026

بائبل کے مطابق فرعون غرق نہیں ہوا تھا
یہودی عقیدے کے مطابق فرعون کی ساری فوج غرق ہوگئی تھی مگر فرعون کنارے پہ کھڑا رہا تھا اور زندہ سلامت واپس اپنے محل میں آگیا تھا پھر اس کے بعد وہ طبعی موت مرا تھا
عہد نامہ قدیم اور عہد نامہ جدید میں کسی ایک جگہ بھی فرعون کے غرق ہونے کی خبر نہیں ہے جبکہ قران اس کے الٹ بات کرتا ہے

سورہ یونس 90 تا 92 میں فرعون کے پانی میں غرق ہونے اس کے معافی مانگنے اور اس کی لاش کو محفوظ کرنے کی تفصیل آئی ہے
اب یہ بہت بڑا تضاد ہے بائبل اور قران کا جس پر یہودی علما اعتراض اٹھاتے رہے ہیں کہ اگر تمہارا قران یہ کہہ رہا ہے کہ فرعون کی لاش محفوظ ہے تو پھر دکھاو وہ کہاں ہے؟

1898 میں مصر میں محکمہ آثار قدیمہ کھدائی شروع کرتا ہے تو وہاں سے فرعون کی ممی دریافت ہوجاتی ہے مگر ابھی یہ معلوم نہیں کہ یہ آخری فرعون ہے یا کوئی پہلے والا فرعون ہے
1935 تک تحقیقات سے یہ فائنل ہو جاتا ہے کہ یہ آخری فرعون کی لاش ہے مگر یہ مرا کیسے تھا یہ فائنل نہیں ہوا
1952 میں حضرت موسی پر بننے والی مشہور زمانہ فلمThe Ten Comandmint میں بھی اینڈ پہ فرعون کو واپس اپنے محل میں جاتے دکھایا گیا ہے

1984 میں فرعون کے پاوں میں پھپھوندی لگ جاتی ہے
حکومت مصر اسے فرانس لے جانے کا پروگرام بناتی ہے
فرعون کا باقائدہ پاسپورٹ بنتا ہے اور فرانس کی حکومت فرعون کو دنیا کا سب سے بڑا گارڈ آف آنر دیتی ہے
فرانس کے ڈاکٹروں کی ٹیم ڈاکٹر مورس بکائلے کی سربراہی میں فرعون کی باڈی کا معائنہ شروع کرتے ہیں تو ڈاکٹر مورس بکائلے کو یہ دیکھ کر شاک لگتا ہے کہ باڈی کے اندر سمندری نمکیات موجود ہیں
ڈاکٹر مورس بکائلے مصر کا رخ کرتا ہے پھر وہ قران کے الفاظ سمجھنے کے لئیے اردن کے دیہاتی ایریاز میں جاتا ہے
وہ اپنی پوری تحقیق کے بعد 1990 میں مشہور زمانہ کتاب بائبل قران اور سائنس لکھتا ہے جس میں وہ اعتراف کرتا ہے کہ قران تاریخ کیمسٹری طب اور سائنس پہ زیادہ بات کرتا ہے جبکہ بائبل زیادہ تر صرف اخلاقیات پہ بات کرتی ہے

ہم دکھائیں گے عنقریب تم کو اپنی نشانیاں افق میں اور تمہارے اپنے نفسوں میں تاکہ یہ بات کھل جائے کہ یہی حق ہے ( فصلت53)

ہمیں یہ بات سمجھ لینی چاہئیے کہ قران کی مکمل تفسیر لکھنا کسی انسان کے بس کا کام نہیں
ایسئ ہزاروں آیات ہیں قران میں جن میں سے کچھ عیاں ہوچکی ہیں اور باقی وقت کی ترقی کے ساتھ ہوتی جائیں گی
#

08/09/2026

کرنے کا کام تھا جو ہمیں کہا گیا ۔ اور کر کس نے دیا ۔ اب بیٹھو موج مناؤ

وہ بڑی خوشی خوشی آیا اور اس نے بتایا کہ اس نے چھ کروڑ میں ایک پلاٹ خریدا ہے ۔ اپنی خوشی پر قابو پانے کی کوشش کرتے ہوے کہنے لگا “بس خاص کرم ہوگیا ۔ آٹھ نو کروڑ کا پلاٹ تھا مجھے چھ کروڑ میں مل گیا “ میرے استفسار پر انہوں نے بتایا کہ بیچنے والا ضرورت مند تھا ۔ اس کی بیوی کو کینسر ہوگیا تھا اور وہ اسے علاج کے لئے فوری طور پربیرون ملک لے جانا چاہتا تھا ۔ اس لئے اس نے پلاٹ سستا فروخت کر دیا ۔ میں نے اس سے کہا کہ کسی کی ایسی مجبوری سے فائدہ اٹھانا مناسب نہیں ہے ۔ میری بات پوری ہونے سے پہلے ہی وہ آگ بگولہ ہوگیا اور مہذب قسم کی گالیاں دیتے ہوے رخصت ہوگیا ۔ اس کےرخصت ہونے کے بعد مجھے ایک واقعہ یاد آرہا ہے جو روح کو تڑپا رہا ہے اور دل کو رولا رہا ہے ۔ میرے ایک عزیز رکن اسمبلی رہے ہیں ان کے ایک بیورو کریٹ دوست چھ ماہ کےایک کورس کے لئے برطانیہ گئے ۔انہیں کلاس سے اکثر دیر ہو جاتی تھی ۔ ایک روز پروفیسر صاحب نے مسلسل دیر سے آنے کی وجہ دریافت کی تو انہوں نے بتایا کہ میرا ہاسٹل دور ہے ۔ پیدل آنا ممکن نہیں ہے اور اس طرف سے بس باقاعدگی سے نہیں ملتی ۔ پروفیسر صاحب نے سائیکل خریدنے کا مشورہ دیا ۔انہوں نے سائیکل خرید لی اور کلاسیں باقاعدگی سے لینے لگے ۔ کورس ختم ہوا تو پروفیسر صاحب نے سائیکل فروخت کرنے کے لئے مختلف جگہوں پر نوٹس لگانے کا مشورہ دیا ۔ یونیورسٹی کےمختلف مقامات پر سائیکل براے فروخت کے نو ٹس لگا دئیے گئے ۔ تیسرے دن ایک ممی ڈیڈی ٹائپ لڑکا آگیا ۔ اس نے سائیکل خریدنے کی خواہش کا اظہار کیا اور ساتھ ہی سائیکل دیکھنے اور اسے ٹیسٹ کرنے کی اجازت مانگی ۔ لڑکے نے سائیکل چلا کر دیکھنی شروع کر دی آدھ گھنٹہ بعد اس کی تسلی ہوگئی تو اس نے سائیکل کی قیمت دریافت کی۔ سائیکل 160 پونڈ میں خریدی گئی تھی ۔ آدھی قیمت پر بھی فروخت ہوجاتی تو مناسب تھا ۔ مگر بارگینگ کے پیش نظر قیمت 90 پونڈ بتا دی گئی ۔ تاہم انگریز لڑکے نے بار گینگ نہیں کی اور قیمت ادا کرکے ُ سائیکل لے کر چلا گیا ۔ دو دن کے بعد وہ انگریز لڑکا واپس آگیا ۔ وہ قدرے ناراض دکھائی دیتا تھا غصے سے چہرہ بھی قدرے سرخ تھا اور بلا وجہ بڑ بڑ کر رہاتھا ۔ اس نے دریافت کہ آپ نے یہ سائیکل کیوں بیچی ہے ۔ اسے بتایا گیا کہ کورس مکمل ہوچکا ہے اور اب پاکستان واپس جانا ہے اس لئے سائیکل فروخت کرنا ضروری تھا ۔ یہ سن کر انگریز لڑکے کا غصہ تیز ہوگیا اور وہ کہنے لگا “ تو سائیکل بیچنا آپ کی مجبوری تھی میں نے نیٹ پر چیک کیا ہے ۔ یہ نئی سائیکل 160 پونڈ کی ہے اور یہ 120 پونڈ کی ہے ۔آپ نے یہ سائیکل 90 پونڈ میں فروخت کرکے بڑی زیادتی کی ہے”اس کے بعد اس نے اپنی جیب سے 30 پونڈ نکال کر تقریبا” پھینکتے ہوے کہا” آپ مجھے ساری عمر اس Guilt میں رکھنا چاہتے تھے کہ میں نے ایک شخص کی مجبوری سے ناجائز فائدہ اٹھایا تھا”

اشتراک

Salat with translation
07/20/2026

Salat with translation

07/14/2026

Surah Nisa Ayat 12 Urdu translation about terkah
﴿۞ وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِن لَّمْ يَكُن لَّهُنَّ وَلَدٌ ۚ فَإِن كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ ۚ مِن بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِينَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ ۚ وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِن لَّمْ يَكُن لَّكُمْ وَلَدٌ ۚ فَإِن كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُم ۚ مِّن بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ ۗ وَإِن كَانَ رَجُلٌ يُورَثُ كَلَالَةً أَوِ امْرَأَةٌ وَلَهُ أَخٌ أَوْ أُخْتٌ فَلِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ ۚ فَإِن كَانُوا أَكْثَرَ مِن ذَٰلِكَ فَهُمْ شُرَكَاءُ فِي الثُّلُثِ ۚ مِن بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصَىٰ بِهَا أَوْ دَيْنٍ غَيْرَ مُضَارٍّ ۚ وَصِيَّةً مِّنَ اللَّهِ ۗ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَلِيمٌ﴾
[ النساء: 12]

Ayat With Urdu Translation
اور جو مال تمہاری عورتیں چھوڑ مریں۔ اگر ان کے اولاد نہ ہو تو اس میں نصف حصہ تمہارا۔ اور اگر اولاد ہو تو ترکے میں تمہارا حصہ چوتھائی۔ (لیکن یہ تقسیم) وصیت (کی تعمیل) کے بعد جو انہوں نے کی ہو یا قرض کے (ادا ہونے کے بعد جو ان کے ذمے ہو، کی جائے گی) اور جو مال تم (مرد) چھوڑ مرو۔ اگر تمہارے اولاد نہ ہو تو تمہاری عورتوں کا اس میں چوتھا حصہ۔ اور اگر اولاد ہو تو ان کا آٹھواں حصہ (یہ حصے) تمہاری وصیت (کی تعمیل) کے بعد جو تم نے کی ہو اور (ادائے) قرض کے (بعد تقسیم کئے جائیں گے) اور اگر ایسے مرد یا عورت کی میراث ہو جس کے نہ باپ ہو نہ بیٹا مگر اس کے بھائی بہن ہو تو ان میں سے ہر ایک کا چھٹا حصہ اور اگر ایک سے زیادہ ہوں تو سب ایک تہائی میں شریک ہوں گے (یہ حصے بھی ادائے وصیت و قرض بشرطیکہ ان سے میت نے کسی کا نقصان نہ کیا ہو (تقسیم کئے جائیں گے) یہ خدا کا فرمان ہے۔ اور خدا نہایت علم والا (اور) نہایت حلم والا ہے

Surah An-Nisa Full Urdu
(1) اولاد کی عدم موجودگی میں بیٹے کی اولاد یعنی پوتے بھی اولاد کے حکم میں ہیں، اس پر امت کے علما کا اجماع ہے (فتح القدیر وابن کثیر) اسی طرح مرنے والے شوہر کی اولاد خواہ اس کی وراث ہونے والی موجودہ بیوی ہو یا کسی اور بیوی سے۔ اس طرح مرنے والی عورت کی اولاد اس کی وارث ہونے والے موجودہ خاوند سے ہو یا پہلے کے کسی خاوند سے۔
(2) بیوی اگر ایک ہوگی تب بھی اسے چوتھا یا آٹھواں حصہ ملے گا۔ اگر زیادہ ہوں گی تب بھی یہی حصہ ان کے درمیان تقسیم ہوگا، ایک ایک کو چوتھائی یا آٹھواں حصہ نہیں ملے گا، یہ بھی اجماعی مسئلہ ہے (فتح القدیر)
(3) کلالہ سے مراد وہ میت ہے جس کا باپ ہو نہ بیٹا۔ یہ اکلیل سے مشتق ہے۔ اکلیل ایسی چیز کو کہتے ہیں جو کہ سرکو اس کے اطراف (کناروں) سے گھیر لے، کلالہ کو بھی کلالہ اس لئے کہتے ہیں کہ اصول وفروع کے اعتبار سے تو اس کا وارث نہ بنے لیکن اطراف وجوانب سے وارث قرار پا جائے (فتح القدیر وابن کثیر) اور کہا جاتا ہے کہ کلالہ کلل سے مشتق ہے جس کے معنی ہیں تھک جانا۔ گویا اس شخص تک پہنچتے پہنچتے سلسلۂ نسل ونسب تھک گیا اور آگے نہ چل سکا۔
(4) اس سے مراد اخیافی بہن بھائی ہیں جن کی ماں ایک ہو باپ الگ الگ کیونکہ عینی بھائی بہن یا علاتی بہن بھائی کا حصہ میراث اس طرح نہیں ہے اور اس کا بیان اسی سورت کے اخیر میں آرہا ہے اور یہ مسئلہ بھی اجماعی ہے (فتح القدیر) اور دراصل نسل کے لئے مردو زن «لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الأُنْثَيَيْنِ» کا قانون چلتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بیٹے بیٹیوں کےلئے اس جگہ اور بہن بھائیوں کے لئے آخری آیت نساء میں ہر دو جگہ یہی قانون ہے البتہ صرف ماں کی اولادمیں چونکہ نسل کا حصہ نہیں ہوتا اس لئے وہاں ہر ایک کو برابر کا حصہ دیا جاتا ہے۔ بہرحال ایک بھائی یاایک بہن کی صورت میں ہر ایک کو چھٹا حصہ ملے گا۔
(5) ایک سے زیادہ ہونے کی صورت میں یہ سب ایک تہائی حصے میں شریک ہوں گے۔ نیز ان میں مذکر اور مونث کے اعتبار سے بھی فرق نہیں کیا جائے گا۔ بلاتفریق سب کو مساوی حصہ ملے گا، مرد ہو یا عورت۔ ملحوظہ :ماں زاد یعنی اخیافی بھائی بعض احکام میں دوسرے وارثوں سے مختلف ہیں۔(1) یہ صرف اپنی ماں کی وجہ سے وارث ہوتے ہیں۔
(2) ان کے مرد اور عورت، حصے میں مساوی ہوں گے۔
(3) یہ اس وقت وارث ہوں گے جب کہ میت کلالہ ہو۔ پس باپ دادا بیٹا اور پوتے وغیرہ کی موجودگی میں یہ وارث نہیں ہوں گے۔
(4) ان کے مرد وعورت کتنے بھی زیادہ ہوں، ان کا حصہ ثلث (ایک تہائی) سے زیادہ نہیں ہوگا اور جیسا کہ اوپر کہا گیا ان کو اپنے مرنے والے اخیانی بھائی سے جو مال ملے گا اس میں مرد اور عورت کا حصہ برابر ہوگا یہ نہیں کہ مرد کو عورت سے دوگنا دیا جائے۔ حضرت عمر (رضي الله عنه) نے اپنے دور خلافت میں یہی فیصلہ کیا تھا اور امام زہری فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رضي الله عنه) نے یہ فیصلہ یقیناً اس وقت ہی کیا ہوگا جب ان کے پاس نبی (صلى الله عليه وسلم) کی کوئی حدیث ہوگی۔ (ابن کثیر)
(6) میراث کے احکام بیان کرنے کے ساتھ ساتھ یہ تیسری مرتبہ کہا جا رہا ہے کہ ورثے کی تقسیم، وصیت پر عمل کرنے اور فرض کی ادائیگی کے بعد کی جائے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان دونوں باتوں پر عمل کرنا کتنا ضروری ہے۔ پھر اس پر بھی اتفاق ہے کہ سب سے پہلے قرضوں کی ادائیگی کی جائے گی اور وصیت پر عمل اس کے بعد کیا جائے گا لیکن اللہ تعالیٰ نے تینوں جگہ وصیت کا ذکر دین (قرض) سے پہلے کیا حالانکہ ترتیب کے اعتبار سے دین کا ذکر پہلے ہونا چاہئے تھا۔ اس میں حکمت یہ ہے کہ قرض کی ادائیگی کو تو لوگ اہمیت دیتے ہیں، نہ بھی دیں تو لینے والے زبردستی بھی وصول کر لیتے ہیں۔ لیکن وصیت پر عمل کرنے کو غیر ضروری سمجھا جاتا ہے اور اکثر لوگ اس معاملے میں تساہل یا تغافل سے کام لیتے ہیں اس لئے وصیت کا پہلے ذکر فرما کر اس کی اہمیت واضح کر دی گئی۔ (روح المعانی ) ملحوظہ :اگربیوی کا حق مہر ادا نہ کیا گیا ہو تو وہ بھی دین (قرض) میں شمار ہوگا اور اس کی ادائیگی بھی وراثت کی تقسیم سے پہلے ضروری ہے۔ نیز عورت کا حصہ شرعی اس مہر کے علاوہ ہوگا۔
(7) بایں طور کہ وصیت کے ذریعے سے کسی وارث کو محروم کر دیا جائے یا کسی کا حصہ گھٹا بڑھا دیا جائے یا یوں ہی وارثوں کو نقصان پہنچانے کے لئے کہہ دے کہ فلاں شخص سے میں نے اتنا قرض لیا ہے درآں حالیکہ کچھ بھی نہ لیا ہو۔ گویا اضرارکا تعلق وصیت اور دین دونوں سے ہے اور دونوں کے ذریعے سے نقصان پہنچانا ممنوع اور کبیرہ گناہ ہے۔ نیز ایسی وصیت بھی باطل ہوگی۔utah

Surah Nisa Ayat 11 Urdu translation about terkah﴿يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ ۖ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَ...
07/14/2026

Surah Nisa Ayat 11 Urdu translation about terkah

﴿يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ ۖ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ ۚ فَإِن كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ ۖ وَإِن كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ ۚ وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِن كَانَ لَهُ وَلَدٌ ۚ فَإِن لَّمْ يَكُن لَّهُ وَلَدٌ وَوَرِثَهُ أَبَوَاهُ فَلِأُمِّهِ الثُّلُثُ ۚ فَإِن كَانَ لَهُ إِخْوَةٌ فَلِأُمِّهِ السُّدُسُ ۚ مِن بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِي بِهَا أَوْ دَيْنٍ ۗ آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ لَا تَدْرُونَ أَيُّهُمْ أَقْرَبُ لَكُمْ نَفْعًا ۚ فَرِيضَةً مِّنَ اللَّهِ ۗ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا﴾
[ النساء: 11]

Ayat With Urdu Translation
خدا تمہاری اولاد کے بارے میں تم کو ارشاد فرماتا ہے کہ ایک لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے حصے کے برابر ہے۔ اور اگر اولاد میت صرف لڑکیاں ہی ہوں (یعنی دو یا) دو سے زیادہ تو کل ترکے میں ان کادو تہائی۔ اور اگر صرف ایک لڑکی ہو تو اس کا حصہ نصف۔ اور میت کے ماں باپ کا یعنی دونوں میں سے ہر ایک کا ترکے میں چھٹا حصہ بشرطیکہ میت کے اولاد ہو۔ اور اگر اولاد نہ ہو اور صرف ماں باپ ہی اس کے وارث ہوں تو ایک تہائی ماں کا حصہ۔ اور اگر میت کے بھائی بھی ہوں تو ماں کا چھٹا حصہ۔ (اور یہ تقسیم ترکہ میت کی) وصیت (کی تعمیل) کے بعد جو اس نے کی ہو یا قرض کے (ادا ہونے کے بعد جو اس کے ذمے ہو عمل میں آئے گی) تم کو معلوم نہیں کہ تمہارے باپ دادؤں اور بیٹوں پوتوں میں سے فائدے کے لحاظ سے کون تم سے زیادہ قریب ہے، یہ حصے خدا کے مقرر کئے ہوئے ہیں اور خدا سب کچھ جاننے والا اور حکمت والا ہے

Address

Vancouver, BC

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when MORAL STORIES posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category