04/11/2024
اب تیرا نام بھی آئے گامیرے نام کے ساتھ
زندگی اپنی گزر جائے گی آرام کے ساتھ
آپ خواہ مرد ہوں یا عورت آپ کا ہر ڈاکومینٹ آپکی اپنی ملکیت ہے
خواہ یہ ڈاکومینٹ آپکو آپکے والد ، والدہ یا شوہر، بیوی کی وجہ سے ملا ہے۔
کبھی بھی اپنے نام کے ساتھ شوہر کانام نا جوڑیں ۔ پیدائیش کے وقت ماں باپ نے جو نام دے دیا بس تاحیات اسی کو اپنی شناخت و پہچان رکھیں ۔ سول اسٹیٹس کے کالم میں شادی شدہ اور شوہر کا نام لکھوائیں۔
اسپین بارسلونا میں ایک بہو /بیوی اپنے شوہر کے گھر جہاں ساس سسر دیور نند اسکے بچے جیٹھ جیٹھانی ان کے بچے سب ایک ساتھ ایک ہی گھر میں، دو ڈھائی سال رہی بچہ پیدا کیا ۔ آمدنی کم اخراجات زیادہ کچھ پاکستان میں بیوہ بہنیں غریب بھائیوں بیٹیوں کی ماہانہ مدد اور برے وقت کے لئے پیسے بچانے کی حکمت عملی جس کا جتنا بھی احترام کیا جائے کم ہے۔ مگر جہاں کوئی تنازعہ ہوا بہو کو بہلا پھسلا کر راضی کیا اور میٹھی گولی دے کر پاکستان ننہی پوتی سمیت اسکے میکہ چھوڑ آئے۔ بہو کا ریزیڈینٹ پرمٹ ، ڈاکٹر کو دکھانے والا ہیلتھ کارڈ، اور ہر طرح کا ریکارڈ ، فون کی ہسٹری بھی صاف سب کچھ لے کر کہا کہ یہ ہمارا ہی دیا ہواتھا۔ اسپین میں ایک چھت تلے سب رہتے تھے مگر ایمپادرونامینتو دوسرے لفظوں میں ڈومیسائل سب کا مختلف جگہوں کا اور تفتیش کے وقت آرام سے کہہ دینا کہ وہ تو یہاں نہیں رہتی یہ تو کسی اور کا گھر ہے۔
کچھ صورتوں میں بیوی بہو کو کسی ایمرجنسی میں کچھ دن کے لئے پاکستان جانا پڑ جاتا ہے جیسے کہ ماں باپ میں سے کوئی بستر مرگ پر ، ایسے میں بہو کو کہا جاتا ہے کہ بچوں کا اسکول کا حرج ہوگا یا سرکار حکومت سے کوئی مالی مدد کا انسپکشن ہونے کا امکان ہے یانوزائیدہ بچہ کے ڈاکومینٹ پروسسں میں ہیں اور وہ ماں کے ساتھ نہیں جا سکتا۔ پاکستان جانے کے بعد اسے اسکے تمام ڈاکومینٹس سے محروم کر کے نوزائدہ بچے اور گھر سسرال سے بیدخل اور کسی رشتہ دار کو پاور آف اٹارنی دیکر تین طلاق کا نوٹس اتنی جلدی بھیجواتے ہیں جیسے کہ وہ کوئی بہت بڑی آفت ہو۔ مقامی اداروں اور اہل محلہ کوجھوٹی کہانیاں سنا کر مختلف بہتان لگا دیتے ہیں۔
اگر بہو نے اسپین میں بچہ پیدا نہیں کیا اور سسرال سے نہیں بنی اس نے آٹھ نو سال اسپین میں شوہر کے ساتھ رہائشی گزاری اور اسے بھی بہانے سے پاکستان میکہ بھجوادیا اور تمام ڈاکومینٹ لے لئے اور آرام سے کہہ دیا کہ یہ پیپر ہم نے بنوائے تھے اور ہم ہی واپس لے سکتے ہیں کیونکہ ہمارے ہیں۔
کچھ شوہر اپنی بیوی اور پاکستان میں پیدا ہوئے بچے کوفیملی ویزہ پر پہلی بار اسپین بلواتے ہیں اور اپنی حیوانی فطرت اور کچھ خاندانی چپقلش کے نتیجہ میں انکے ڈاکومینٹ ہی نہیں بنواتے یعنی اسپین کا ریزیڈینٹ پرمٹ ۔ کچھ شوہروں کے پاس اسپین کی نیشنیلیٹی ہے اسکے باوجود اپنی بیوی بچوں کو ریزیڈینٹ پرمٹ نہ بنوا کر اعصابی تشدد دیتے ہیں۔ بہت آرام سے کہتے ہیں کہ اگر ہم نے پیپر نہیں بنوانے تھے تو لے کرکیوں آتے؟؟
دراصل ہر رکاوٹ کی وجہ شرائط کا پورا نہ ہونا
جیسے کہ جائداد میں حصہ
بہن بھانجی کی شادی سالے یا اسکے بیٹے سے، کسی کی بے عزتی کرنے میں بیوی کی غیر جانبداری وغیرہ وغیرہ
انصاف کے حصول اور درست معلومات کے لئے رابطہ کریں
واضح رہے ہم مظلوم خواتین کو بااختیار خودمختار بناتے ہیں۔ اپنے حقوق کے ساتھ ساتھ اپنی ذمہ داریاں ، لوکل قوانین سے واقفیت اور ان کا احترام مزید اہل محلہ اور مختلف ثقافتوں اور مذاہب کے لوگوں کے ساتھ رواداری اور پیار محبت اخلاق کے ساتھ رہنا بھی سکھاتے ہیں۔
جو خواتین چادر اور چار دیواری میں رہنا چاہتی ہیں وہ اپنے ساتھ ہونے والی ہر زیادتی ظلم اور جبر کو تقدیر کا فیصلہ سمجھ کر اپنے باپ بھائیوں کے رحم وکرم پر صبر شکر اور توکل کر کے اپنے ملک پاکستان میں ہی بیٹھیں ۔
ڈاکٹر ہما جمشید
بارسلونا اسپین خواتین ایسوی ایشن آسے سوپ