11/06/2026
سوال:
کیا مسجد نبوی ﷺ میں چالیس نمازیں ادا کرنا حج یا عمرہ کا لازمی حصہ ہے؟ اگر کسی شخص کو چالیس نمازیں پڑھنے کا موقع نہ ملے تو کیا اس کا عمرہ متاثر ہوگا؟
جواب:
نہیں، مسجد نبوی ﷺ میں چالیس نمازیں ادا کرنا عمرہ کا حصہ یا شرط نہیں ہے۔ اگر کسی شخص کو مدینہ منورہ میں اتنا قیام نصیب نہ ہو کہ وہ مسجد نبوی ﷺ میں چالیس نمازیں ادا کر سکے، تو اس کے عمرہ کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑتا اور اس کا عمرہ بالکل درست ہوتا ہے۔
البتہ مسجد نبوی ﷺ میں چالیس نمازیں ادا کرنے کی ایک عظیم فضیلت احادیثِ مبارکہ میں وارد ہوئی ہے۔ اس لیے عمرہ یا حج کے سفر کے دوران، اگر ممکن ہو، تو اس سعادت کو حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“جو شخص میری مسجد (مسجد نبوی ﷺ) میں چالیس نمازیں اس طرح ادا کرے کہ اس کی کوئی نماز فوت نہ ہو، اس کے لیے آگ سے براءت، عذاب سے نجات اور نفاق سے بری ہونے کا پروانہ لکھ دیا جاتا ہے۔”
(مسند احمد، حدیث: 12583)
کتبہ: شیخ محمد افتخار الحسن رضوی
۱۱ جون ۲۰۲۶