08/09/2026
تعلیم دشمنی اور بے حسی کی انتہا: کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی سے افغان ڈاکٹروں کی بے دخلی ایک سیاہ باب
کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی سے 20 افغان ڈاکٹروں کی بے دخلی جن میں سے 7 اپنے فائنل ایئر کی دہلیز پر کھڑے تھے محض ایک انتظامی فیصلہ نہیں، بلکہ انسانیت، علمی اقدار اور ہمسایوں کے حقوق کا سرعام قتل ہے۔ سالہا سال کی محنت، دن رات کی مشقت اور سنہرے مستقبل کے خوابوں کو ایک ہی جھٹکے میں مٹی میں ملا دینا انتہائی افسوسناک اور شرمناک ہے۔
تعلیم اور صحت دو ایسے شعبے ہیں جو سیاست اور سفارتی تلخیوں سے بالاتر ہوتے ہیں۔ جو ڈاکٹر کل انسانی زندگیوں کی بقا کی جنگ لڑنے کی تیاری کر رہے تھے، انہیں پالیسی اور کوٹہ کے نام پر اچانک نکال باہر کرنا بے حسی کی بدترین مثال ہے۔ ان طالب علموں نے اپنے ملک کے نامساعد حالات سے نکل کر برسوں پاکستان میں تعلیم حاصل کی، یہاں کے ہسپتالوں میں مریضوں کی خدمت کی، لیکن فائنل ایئر کے موڑ پر آ کر ان کا تعلیمی سفر چھین لینا ان کے ساتھ صریح ناانصافی ہے۔
سفارتی محاذ پر اختلاف یا پالیسیوں کی تبدیلی کی آڑ میں ان طلبہ کے کیریئر کو تباہ کرنا انتہائی کم ظرفی ہے ان گھٹیا فیصلوں نے نہ صرف پاکستان کے اعلیٰ تعلیمی اداروں کے علمی وقار کو دھچکا پہنچایا ہے، بلکہ ایک اسلامی اور پڑوسی ملک کے عوام میں شدید دل شکنی کا باعث بھی بنا ہے۔
انتظامیہ اور حکام بالا سے مطالبہ ہے کہ اس فیصلے پر فی الفور نظرثانی کی جائے اور زیرِ تعلیم طلبہ بالخصوص فائنل ایئر کے ڈاکٹروں کو ان کی ڈگریاں مکمل کرنے کی اجازت دی جائے، تاکہ تعلیمی اداروں کو سیاسی کھینچ تان سے پاک رکھا جا سکے۔