13/12/2025
سوال تھا کہ جنت میں کس مذہب کے لوگ داخل کیے جائیں گے؟ یہودی، عیسائی یا پھر مسلمان؟
اس سوال کے جواب کے لیے تینوں مذاہب کے علما کو مدعو کیا مسلمانوں کی طرف سے بڑے عالم امام محمد
عیسائیوں کی طرف سے ایک بڑے پادری
اور یہودیوں کی طرف سے ایک بڑے ربی کو بلا کر ان کے سامنے یہی سوال رکھا گیا
جنت میں کون جائے گا؟
یہودی، عیسائی یا پھر مسلمان؟
مسلمانوں کی طرف سے امام محمد عبده نے کھڑے ہو کر ایسا مدلل جواب دیا کہ محفل میں بیٹھے تمام ناقدین کے ساتھ عیسائی پادری اور یہودی ربی اپنا سا منہ لے کر رہ گئے اور بغیر کوئی جواب دیے خاموشی سے اٹھ کر چلے گئے۔
آپ کا جواب مختصر، جامع، معقولیت سے بھرپور، ادب و احترام کے ساتھ رواداری کی عمدہ مثال اور حکمت و دانائی کا مرقع تھا۔ ان کے جواب نے سارے مسلمانوں کے چہروں پر مسکراہٹ بکھیر دی اور یہ بحث ہمیشہ کے لیے ختم ہوگئی۔
آپ نے فرمایا۔
اگر یہودی جنت میں جاتے ہیں تو ہم بھی ان کے ساتھ جنت میں جائیں گے کیونکہ ہم ان کے نبی حضرت موسیٰ علیہ السلام پر ایمان رکھتے ہیں، اور انہیں اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے بندوں کی ہدایت کے لیے نبی بنا کر بھیجا۔
اگر عیسائی جنت میں گئے تو ہم بھی ان کے ساتھ ہی جنت میں جائیں گے کیونکہ ہم حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر بھی ایمان رکھتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے انہیں بھی اپنی مخلوق کی رہنمائی اور ہدایت کے لیے نبی بنا کر بھیجا۔
لیکن اگر مسلمان جنت میں گئے تو ہم صرف اللہ کی رحمت کے ساتھ اکیلے ہی جنت میں جائیں گے۔
ہمارے ساتھ کوئی یہودی اور عیسائی نہیں جائے گا، کیونکہ انہوں نے ہمارے نبی اکرم حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نہیں مانا اور نہ ہی ان پر ایمان لائے ہیں۔