03/04/2018
انگلستان کا ایک ماڈریٹ وزیر اعظم جان میجر ہوا کرتا تھا۔ ایک بار ہمارے وزیر اعظم صاحب انگلستان کے دورے پر تھے تو پاکستان کی ٹیم نے شاندار کارکردگی دکھا کر میچ جیت لیا۔ وزیر اعظم صاحب نے کھڑے کھڑے فی کھلاڑی بیس ہزار پونڈ کے انعام کا اعلان کردیا۔ جان میجر سرجھکا کر سوچ میں ڈوب گیا بالآخر اپنی بے بسی پر آنسو بہاتے ہوئے بولا میں تو پارلیمنٹ کی منظوری کے بغیر بیس پونڈ بھی نہیں دے سکتا، پاکستانی وزیر اعظم کتنا خوش قسمت ا ور طاقتور ہے جس نے کھڑے کھڑے ہر کھلاڑی پر بیس ہزار پونڈ کی بارش کردی۔
مارگریٹ تھیچر آئرن لیڈی مشہور تھی اور کئی بار انگلستان کی وزیر اعظم بنی۔ ایک بار زچ ہو کر کہنے لگی کہ 10۔ڈائوننگ سٹریٹ(رہائش وزیر اعظم) کا فرنیچر اتنا پرانا ہے کہ پلنگوں سے لے کر صوفوں تک کی چولیں ڈھیلی ہوچکی ہیں۔ کتنے برس محنت کی تو پارلیمنٹ نے نئے فرنیچر کے لئے چند ہزار پونڈ منظور کئے۔
چند برس قبل ایک یتیم سا برطانوی وزیر اعظم پریشان رہتا تھا کیونکہ اس پر الزام لگا کہ اس نے ہاوس آف لارڈز کی رکنیت اور خطابات پونڈوں کے عوض دئیے ہیں۔ ہر صبح ایک بدتمیز کانسٹیبل اس کی تلاشی لینے سرکاری رہائش گاہ پہ پہنچ جاتا تھا۔ یہ جرات، یہ مجال؟ محترم ارشاد بھٹی صاحب پریشان رہتے ہیں کہ پاکستان کے نہایت خوبصورت وزیر اعظم ہائوس میں سب کچھ ہونے کے باوجود وزیراعظم نے ڈھائی کروڑ کا باتھ روم بنوا لیا۔ ایک اور کالم نگار دوست کو صدمہ ہے کہ زرداری صاحب نے بطور صدر اپنے پرنسپل سیکرٹری سلمان فاروقی اور سیکرٹری آصف حیات کو سرکاری خزانے سے ا یک ایک کروڑ روپے عیدی دے دی۔ مختصر یہ کہ پاکستانی جمہوریت دنیا کی منفرد اور انوکھی جمہوریت ہے۔ حکمرانوں، سیاستدانوں، سیاسی حواریوں اور درباریوں کی جو موجیں پاکستان میں ہیں ان کی مثال دنیا میں کہیں نہیں (ڈاکٹر صفدر محمود، انتخاب ناصر محمود اعوان)