Shaukat Anwar Chaudhry

Shaukat Anwar Chaudhry Passionate about serving humanity with dignity & compassion.

Honored to serve as Chairman of Al-Anwar Welfare Trust & Jamia Hafia Rizvia, committed to empowering lives through education, healthcare, poverty relief & environmental sustainability.

پاکستان کی پستی سے بلندی کی راہ: ایمانداری، شعور، اور حقیقی قیادت کی ضرورتپاکستان ایک خوبصورت سرزمین ہے، جہاں قدرتی وسائ...
27/11/2025

پاکستان کی پستی سے بلندی کی راہ: ایمانداری، شعور، اور حقیقی قیادت کی ضرورت

پاکستان ایک خوبصورت سرزمین ہے، جہاں قدرتی وسائل، ذہین نوجوان، اور بے پناہ صلاحیتیں موجود ہیں۔ مگر بدقسمتی سے پچھلی کئی دہائیوں سے پاکستان ایک مخصوص طبقے کی کرپشن، نااہلی اور خودغرضی کا شکار چلا آ رہا ہے۔ عوام کو بنیادی سہولیات سے محروم رکھا گیا، تعلیم و صحت کو نظر انداز کیا گیا، اور اداروں کو کمزور کر کے چند خاندانوں اور طاقتور اداروں کے مفاد کا محافظ بنا دیا گیا۔

ہم جب برطانیہ، ترکی، سعودی عرب یا دیگر ترقی یافتہ ممالک میں قدم رکھتے ہیں تو دل دکھ سے بھر جاتا ہے۔ صاف ستھرا ماحول، منظم نظام، عوامی خدمت پر مامور ادارے، ایمانداری سے کام کرنے والے لوگ، اور قانون کی حکمرانی نظر آتی ہے۔ وہاں کا ہر وزیر، کونسلر، پولیس آفیسر، یا سرکاری ملازم خود کو عوام کا خادم سمجھتا ہے۔ اور یہی ایک فلاحی ریاست کی پہچان ہے۔

جب ہم پاکستان واپس آتے ہیں تو وہی گندگی، کرپشن، بد نظمی، رشوت، ملاوٹ، جھوٹ، اور اقربا پروری ہمارا منہ چڑاتی ہے۔ عوام ایک طرف تعلیم اور روزگار سے محروم ہیں، تو دوسری طرف اپنے ہی ووٹ سے چُنے ہوئے لوگ ان کے وسائل لوٹ رہے ہیں۔ بدقسمتی سے اس قوم کو شعور دینے والا کوئی نہیں، نہ نظام تعلیم ایسا ہے، نہ میڈیا اور نہ ہی سیاسی قیادت۔ قوم اب بھی دُھول کی تھاپ پر ناچنے والوں کے پیچھے لگتی ہے، بغیر سوچے سمجھے جذباتی نعروں پر جان دیتی ہے، اور پھر خود ہی اپنی حالت پر ماتم کرتی ہے۔

*حل کیا ہے؟*

1. *تعلیم و شعور:* عوام کو سب سے پہلے تعلیم اور شعور کی ضرورت ہے تاکہ وہ اچھے اور بُرے کی پہچان کر سکیں۔ اسکول، مساجد، میڈیا اور سوشل میڈیا کو اس میں کردار ادا کرنا ہوگا۔

2. *ایمانداری کا کلچر:* ہر ادارے، ہر ملازم، اور ہر شہری کو یہ عہد کرنا ہوگا کہ وہ ایمانداری سے کام کرے گا، چاہے کوئی دیکھے یا نہ دیکھے۔ معاشرے کی بنیاد ایمانداری پر ہوگی تو باقی نظام خود بہتر ہوتا جائے گا۔

3. *قانون کی بالا دستی:* قانون صرف کمزوروں کے لیے نہیں، بلکہ طاقتوروں کے لیے بھی یکساں ہونا چاہیے۔ اگر کسی جنرل، جج، یا وزیر نے غلطی کی ہے تو وہ بھی احتساب سے نہ بچ سکے۔
4. *عمران خان کی رہائی:* موجودہ سیاسی صورتِ حال میں سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ایک عوامی رہنما، جو پاکستان کو خود داری، شفافیت، اور خوشحالی کی راہ پر لانا چاہتا تھا، اسے سیاسی بنیادوں پر قید کر دیا گیا ہے۔ عمران خان کی آواز دبانا صرف ایک فرد کی آواز کو دبانا نہیں، بلکہ ایک نظریے کو ختم کرنا ہے — جو کہ ناممکن ہے۔ اگر پاکستان کو واقعی ترقی کی راہ پر ڈالنا ہے تو عمران خان جیسے ایماندار اور عوامی لیڈر کو انصاف دینا ہوگا اور آزاد کرنا ہوگا۔

5. *سول سوسائٹی کا کردار:* ہر باشعور پاکستانی کو اپنے ارد گرد کرپشن، ناانصافی اور ظلم کے خلاف آواز بلند کرنی ہوگی۔ صرف سوشل میڈیا پر نہیں بلکہ میدانِ عمل میں بھی۔

---

*نتیجہ:*

پاکستان کو ایک نئے عمرانی معاہدے کی ضرورت ہے — جس میں عوام کو بااختیار، نظام کو شفاف، اداروں کو غیرجانبدار، اور قیادت کو جواب دہ بنایا جائے۔ یہ صرف اسی وقت ممکن ہوگا جب عوام اپنی حیثیت کو سمجھے، ایمانداری کو اپنائے، اور سچ کے ساتھ کھڑا ہونے کی جرات کرے۔ اور یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں پستی سے بلندی کی طرف لے جائے گا، ان شاء اللہ۔

*پاکستان زندہ باد*


















"دو دنیائیں، دو رویے: برطانیہ اور پاکستان کا موازنہ اور ہماری ذمہ داریاں"میں گزشتہ کئی دہائیوں سے برطانیہ میں مقیم ہوں۔ ...
25/11/2025

"دو دنیائیں، دو رویے: برطانیہ اور پاکستان کا موازنہ اور ہماری ذمہ داریاں"

میں گزشتہ کئی دہائیوں سے برطانیہ میں مقیم ہوں۔ یہاں کا نظام، معاشرہ، قانون، عوامی شعور اور طرزِ زندگی جب بھی میں دیکھتا ہوں تو دل میں یہ سوال ضرور آتا ہے کہ پاکستان ایسا کیوں نہیں بن سکتا؟ یہ فرق زمین و آسمان کا نہیں، صرف شعور، تعلیم، اور ذمہ داری کا ہے۔

*برطانیہ کا نظام اور عوامی شعور*

برطانیہ میں اگرچہ ہر شخص تعلیم یافتہ نہیں، مگر ہر شخص *اپنے حقوق اور فرائض* سے بخوبی واقف ہے۔ یہاں کا شہری جانتا ہے کہ اس کا ووٹ، اس کا ٹیکس، اس کی آواز ایک طاقت ہے۔ یہاں منتخب نمائندہ عوام کا خادم ہوتا ہے، اس کا ذاتی ملازم نہیں۔ وزیرِ اعظم ہو یا کونسلر، اگر وہ غلطی کرے، تو اس سے سوال کیا جاتا ہے، اسے جواب دینا ہوتا ہے۔

یہاں ملاوٹ، رشوت، دھوکہ دہی، کرپشن، جعلی دوائیں، جھوٹے وعدے، سب کے لیے قانون ایک جیسا ہے۔ اگر ایک عام شہری جرم کرے تو اسے بھی پکڑا جاتا ہے، اگر وزیر کرے تو وہ بھی سزا پاتا ہے۔ یہاں *قانون مقدس ہے، اور کوئی اس سے بالاتر نہیں۔*

*پاکستان کا المیہ*

دوسری طرف، ہمارا پیارا وطن پاکستان بدترین حالات سے دوچار ہے۔ جہاں نہ تعلیم عام ہے، نہ شعور۔ عوام نہ اپنے حقوق جانتی ہے نہ فرائض۔ یہاں ووٹ رشتہ، ذات، برادری یا وقتی فائدے کی بنیاد پر دیا جاتا ہے۔ اور جب وہی نمائندے کرپشن کرتے ہیں تو کوئی سوال کرنے والا نہیں ہوتا۔

پاکستان میں ہر سطح پر *رشوت، ملاوٹ، دھوکہ، جھوٹ، اقربا پروری، ظلم* جیسے ناسور پھیلے ہوئے ہیں۔ ہر کوئی صرف اپنے مفاد کا سوچتا ہے، اجتماعی بہتری کا کوئی تصور نہیں۔ *عوام کا حافظہ کمزور، وعدوں کا اثر وقتی، اور غصہ صرف سوشل میڈیا پر نظر آتا ہے۔*

*اصل مسئلہ: تعلیم نہیں، تربیت کا فقدان*

پاکستان میں اسکول موجود ہیں، مگر تربیت کا شدید فقدان ہے۔ اخلاقیات، شہری شعور، قانون کی اہمیت اور دوسروں کا حق—یہ سب غائب ہیں۔ والدین، استاد، مسجد، میڈیا اور حکومت—سب نے اپنی ذمہ داریاں چھوڑ دی ہیں۔

*حل کیا ہے؟*

1. *شعور کی مہمات*: گاؤں، شہروں، مدرسوں، اسکولوں، بازاروں میں شعور بیدار کرنے کی مہم چلائی جائے۔ سوشل میڈیا، ریڈیو، یوٹیوب کا استعمال کیا جائے۔
2. *نصاب میں اخلاقیات اور حقوق شامل ہوں۔*
3. *ایماندار قیادت کے لیے ووٹ دیں*: ووٹ صرف انہی کو دیں جو باکردار ہوں، نہ کہ مفاد پرستوں کو۔
4. *قانون کی بالادستی*: ہر شہری پر یکساں قانون لاگو ہو، چاہے وہ غریب ہو یا طاقتور۔
5. *احتساب کا کلچر عام کیا جائے۔*

*عوام کو کیا کرنا ہوگا؟*

- اپنے بچوں کو سچ بولنا سکھائیں۔
- ملاوٹ نہ کریں، جھوٹ نہ بولیں، حلال کمائیں۔
- ⁠- غلط کو غلط کہیں، خاموشی جرم کو طاقت دیتی ہے۔
- دوسروں کا حق نہ ماریں، صفائی رکھیں، نظم و ضبط اپنائیں۔

*خلاصہ*:

پاکستان کو بدلنے کے لیے ہمیں دوسروں کی طرف دیکھنا بند کر کے *اپنے گریبان میں جھانکنا ہوگا*۔ جب ہر فرد اپنی جگہ سچ، امانت، دیانت، اور انصاف کو اپنائے گا، تبھی پاکستان ایک مہذب، ترقی یافتہ ملک بن سکے گا۔

*پاکستان کو بدلنا ہے تو خود کو بدلنا ہوگا*




















میرا تعلق پاکستان سے ہے، لیکن پچھلے 39 سال سے بیرونِ ملک  مقیم ہوں۔ ہر بار جب پاکستان جانے کا ارادہ کرتا ہوں، دل میں ایک...
24/11/2025

میرا تعلق پاکستان سے ہے، لیکن پچھلے 39 سال سے بیرونِ ملک مقیم ہوں۔ ہر بار جب پاکستان جانے کا ارادہ کرتا ہوں، دل میں ایک امید ہوتی ہے کہ شاید اب کچھ بدلا ہو، نظام بدلا ہو، ادارے بہتر ہوئے ہوں، عام انسان کی عزت بڑھی ہو۔ لیکن افسوس! پاکستان آج بھی وہیں کا وہیں کھڑا ہے—جہاں بدعنوانی، اقربا پروری اور نااہلی نے اسے جکڑ رکھا ہے۔

شریف خاندان، زرداری خاندان اور طاقتور جرنیل—سب امیر سے امیر تر ہوتے گئے۔ ان کے بچوں کے محلات بیرون ملک، ان کی تعلیم لندن، کاروبار دوبئی اور زندگی ہر طرح کی آسائشوں سے بھرپور، اور دوسری طرف وہ عوام جو دن رات محنت کرکے ان اشرافیہ کے نظام کو زندہ رکھتے ہیں، آج بھی پانی، بجلی، تعلیم اور صحت جیسی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔

جب ہم جدہ، استنبول، دوحہ، دبئی یا مدینہ کے ائیرپورٹس پر قدم رکھتے ہیں، تو دل خون کے آنسو روتا ہے۔ یہی وہ ممالک تھے جو کبھی پاکستان سے پیچھے تھے، مگر آج ترقی، عزت، اور سہولتوں میں ہم سے بہت آگے نکل چکے ہیں۔
یہی ممالک کبھی پاکستان سے سیکھا کرتے تھے، اور آج ہم اُن سے صدیوں پیچھے ہیں۔

وہاں کی حکومتیں اپنے شہریوں اور مسافروں کو عزت دیتی ہیں۔ وہاں کے ائیرپورٹس جدید ٹیکنالوجی سے لیس، صاف ستھرے، منظم اور خوش اخلاق عملے سے بھرے ہوتے ہیں۔

اور جب ہم لاہور، کراچی یا اسلام آباد اُترتے ہیں، تو بو سیدہ ائیرپورٹس، پرانے کاونٹرز، سست اور بدتمیز عملہ، اور بدترین سسٹمز سے واسطہ پڑتا ہے۔
سب سے زیادہ افسوس تب ہوتا ہے جب وہ پاکستانی جنہوں نے بیرون ملک سے محنت کی کمائی پاکستان بھیجی، انہی کو پاکستان آ کر ذلیل ہونا پڑتا ہے—لمبی قطاریں، بے عزتی، بدتمیزی، اور کوئی پرسان حال نہیں۔

یہ وہ ملک ہے جس کے لیے ہم نے اپنی جوانی، وقت، اور دولت وقف کی۔

اب سوال یہ ہے: ہم کب جاگیں گے؟

کیا ہمیں ہمیشہ ان ہی چہروں، ان ہی خاندانوں، اور اس ہی سڑے نظام کو سہنا ہے؟
کیا ہمارے ووٹ، ہماری آواز، ہمارا حق صرف نعرے لگانے تک ہے؟

اب وقت آ گیا ہے کہ:

- ہم اپنی سیاسی سوچ کو بیدار کریں۔
- صرف چہرے نہیں، نظام بدلنے کی بات کریں۔
- کرپشن، اقربا پروری اور ناانصافی کے خلاف متحد ہوں۔
- اوورسیز پاکستانیوں کو محض پیسوں کی مشین نہیں بلکہ ملک کا حصہ سمجھا جائے۔
•⁠ ⁠اوورسیز پاکستانیوں کو سیاست، فیصلہ سازی اور پالیسی میں شامل کیا جائے۔
•⁠ ⁠ووٹ کا حق دیانت دار لوگوں کو دیا جائے، نہ کہ ان لوگوں کو جنہوں نے پاکستان کو نوچا ہے۔
•⁠ ⁠نوجوان نسل کو باشعور بنائیں، تاکہ وہ صرف نعروں سے نہیں، عمل اور بصیرت سے تبدیلی لائیں۔

ہمیں اپنے بچوں کے لیے ایک بہتر پاکستان بنانا ہے، ورنہ ہماری اگلی نسل بھی یہی سوال کرے گی:
آپ نے پاکستان کے لیے کیا کیا؟
پاکستان ہمارا ہے، اور ہم سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔








؟




16/10/2025

کِردار ایماندار رکھنا
جنازہ شاندار نکلے گا

05/10/2025

🌟 Stay Connected with Us! 🌟Share & Follow 🌟

Dear friends,
If you believe in *serving humanity*, spreading *kindness*, and walking in the *footsteps of our beloved Prophet ﷺ*, then this page is for *YOU*!

📍 Follow us for:
✅ Updates on welfare activities
✅ Inspiring Islamic content
✅ Community support and charity work
✅ Educational and healthcare initiatives

👉 *Click ‘Like’ & ‘Follow’* to be part of something meaningful.
Let’s grow together with love, faith, and service.

*JazakAllah Khair for your support!*






01/10/2025
29/09/2025

السلام علیکم ورحمة الله وبرکاته
With utmost humility and gratitude, I welcome you all to the *official page of Al-Anwar Welfare Trust & Jamia Hanfia Rizvia*, where *passion meets purpose* and *service becomes a mission*.

As *Chairman*, my vision is rooted in three unshakable pillars:

1. *خدمتِ خلق* – Serving humanity with compassion, without discrimination.
2. *اصلاحِ امت* – Uplifting society through education, awareness, and action.
3. *محبتِ مصطفی ﷺ* – Spreading the message of peace, love, and Sunnah of our beloved Prophet Muhammad ﷺ to every corner of society.

Here, you’ll find updates on our *charity projects*, *community services*, *educational activities*, and most importantly, our unwavering commitment to *build a better future* through love, sacrifice, and sincere effort.

Join hands with us in this noble journey —
*From hearts to homes, from prayers to action.*

*دعاؤں کا طلبگار*
*شوکت انور چوہدری*
*Chairman – Al Anwar Welfare Trust & Jamia Hanfia Rizvia*
* ﷺ *

Address

95 George Street
Oban
PA34 5NR

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Shaukat Anwar Chaudhry posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organisation

Send a message to Shaukat Anwar Chaudhry:

Share

Category