مولانا محمد اکرم خان قاسمی جونپوری

  • Home
  • India
  • Delhi
  • مولانا محمد اکرم خان قاسمی جونپوری

مولانا محمد اکرم خان قاسمی جونپوری Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from مولانا محمد اکرم خان قاسمی جونپوری, Public Service, بھارتیہ علمائے اسلام بورڈ دہلی, Delhi.

جنتِ ارضی کی سیرسفر نامہ کشمیرپہلی قسط✍️محمد اکرم خان قاسمی جونپوری خطیب مسجد عمر بن‌خطاب‌ احمد نگر شاہ گنج جونپور جون ک...
03/07/2026

جنتِ ارضی کی سیر
سفر نامہ کشمیر
پہلی قسط
✍️
محمد اکرم خان قاسمی جونپوری
خطیب مسجد عمر بن‌خطاب‌ احمد نگر شاہ گنج جونپور

جون کے آخری ایام تھے اور گرمی اپنے شباب پر تھی۔ کسی پل قرار نہ تھا کہ اسی دوران ایک دن 'ترجمانِ پاسبانِ علم و ادب' مولانا خالد صاحب کا فون آیا۔ کہنے لگے: "کشمیر چلیں گے؟" کشمیر جانے کی تمنا تو دیرینہ تھی، لہذا میں نے فوراً ہامی بھر لی۔ اس کے بعد کے کئی دن سفر کی منصوبہ بندی اور ٹکٹ وغیرہ کے انتظام میں گزر گئے۔بالآخر 26 جون کو ہمارے دلوں کی بے قراری کو قرار آ ہی گیا، جب مولانا خالد صاحب، مولانا وسیم صاحب اور اس ناچیز کا قافلہ جونپور سٹی اسٹیشن سے جموں کشمیر کے لیے 'بیگم پورہ ایکسپریس' پر سوار ہو گیا۔ بیگم پورہ ایکسپریس ایک بہترین اور تیز رفتار گاڑی ہے، جس کی وجہ سے جموں تک کا سفر پرلطف اور خوشگوار رہا ٹرین میں ہمیں پردے والی ایک الگ کیبن الاٹ ہوئی تھی، جو ہمارے لیے بہت آرام دہ ثابت ہوئی۔ لہذا نمازوں کی ادائیگی میں بھی کوئی دشواری پیش نہیں آئی۔ ہمارے ساتھیوں نے زادِ راہ وافر مقدار میں ساتھ لے لیا تھا، لہذا چائے اور پانی کے علاوہ ٹرین کے ہاکروں سے کچھ خریدنے کی نوبت ہی نہیں آئی۔اگلے دن تقریباً 11 بجے ہماری گاڑی جموں اسٹیشن کے پلیٹ فارم پر جا رکی۔ ماضی میں وادیِ کشمیر کا سفر کرنے والوں کے لیے ٹرین کا آخری پڑاؤ صرف جموں ہی ہوا کرتا تھا۔ یہ اسٹیشن انگریزوں کے دور کا تعمیر کردہ ہے، جو اپنی وسعت، خوبصورتی اور شاندار طرزِ تعمیر کے لیے جانا جاتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کی عمارت اور مسافروں کی سہولیات میں کئی مثبت تبدیلیاں بھی آئی ہیں۔مگر اب وقت بدل چکا ہے اور ہندوستانی ریلوے نے 'اودھم پور-سرینگر-بارہمولہ ریل لنک' (USBRL) کا عظیم شاہکار مکمل کر لیا ہے۔ کٹرا سے بانی ہال کے درمیان کے کٹھن راستوں کو جوڑ کر جموں اور سرینگر کے درمیان براہِ راست ریل لائن بچھائی جا چکی ہے۔ اسی ریل لنک کا سب سے حیرت انگیز اور دنیا بھر کو ورطہِ حیرت میں ڈالنے والا حصہ دریائے چناب پر بنا وہ تاریخی اور عظیم الشان ریلوے پل ہے، جو پیرس کے مشہورِ زمانہ ایفیل ٹاور سے بھی اونچا ہے اور انجینئرنگ کا ایک بے مثال کرشمہ بن کر پہاڑوں کے بیچ لہرا رہا ہے۔لہذا اب ریل گاڑی صرف جموں تک محدود نہیں رہی، بلکہ اب یہ گاڑیاں بلند و بالا پہاڑوں کا سینہ چیرتی ہوئی، چناب پل کے سحر انگیز نظاروں سے گزر کر سرینگر اور بڈگام تک جاتی ہیں۔ وادیِ کشمیر کے برفانی اور سرسبز نظاروں کے بیچ ٹرین کا یہ سفر سیاحوں اور مقامی لوگوں کے لیے کسی حسین خواب سے کم نہیں ہوتا۔ فی الحال اس روٹ پر ٹرینوں کا آغاز محدود پیمانے پر ہوا ہے اور باقاعدگی سے صرف تین ٹرینیں چلائی جا رہی ہیں، جو سرینگر اور بڈگام کے مسافروں کو اپنی خدمات فراہم کر رہی ہیں۔ امید ہے کہ آنے والے وقت میں ان کی تعداد میں مزید اضافہ ہوگا مگر افسوس کہ بڈگام جانے والی ٹرین کا ہمارا ٹکٹ ویٹنگ پر تھا جو کلیئر نہ ہو سکا۔ لہٰذا ہمیں سری نگر تک کیب سے جانا پڑا ، اچھا یہ ہوا کہ ہمارے بیٹے عزیزم قندیل الرحمٰن سلمہ نے شاہ گنج سے ہی ہمارے لیے کیب بک کر دی تھی، جس کی وجہ سے ہمیں کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔جیسے ہی ہم اسٹیشن سے باہر نکلے، ہمارا ڈرائیور گاڑی لیے مستعد کھڑا تھا۔ ان کے ساتھ بہترین، کشادہ اور انتہائی آرام دہ فور سیٹر (4-Seater) گاڑی تھی۔ ڈرائیور صاحب کا نام نذیر اللہ تھا؛ وہ ایک انتہائی خوش اخلاق، مخلص اور خدا ترس انسان تھے۔ پورے سفر میں انہوں نے ہماری راحت کا پورا خیال رکھا۔گاڑی جیسے ہی جموں سے کشمیر کی گھاٹیوں کی طرف بڑھی، مناظر یکسر بدل گئے۔ نذیر اللہ صاحب راستے بھر ہمیں کشمیر کی سحر انگیز خوبصورتی، اس کی تاریخ اور دلکش نظاروں کے بارے میں تفصیل سے بتاتے رہے اور جابجا خوبصورت مقامات کی طرف ہماری توجہ مبذول کراتے گئے۔ راستے کی خوشگواری کا یہ عالم تھا کہ ہر موڑ پر قدرت کا ایک نیا شاہکار ہمارا استقبال کر رہا تھا۔ سڑک کے دونوں طرف صنوبر، چنار اور دیودار کے اونچے اونچے ہرے بھرے درخت ایسے لگ رہے تھے جیسے پہرے دار کھڑے ہوں۔ جیسے جیسے ہم بلندی کی طرف بڑھ رہے تھے، ہوا میں خنکی اور تازگی بڑھتی جا رہی تھی۔ پہاڑوں کی ڈھلانوں پر بنے ہوئے روایتی لکڑی اور ٹین کی چھتوں والے خوبصورت گھر، جو دور سے کسی پینٹنگ کی تصویر کی طرح نظر آتے تھے، ہماری توجہ اپنی طرف کھینچ رہے تھے۔ ان اونچائیوں سے نیچے بہتے ہوئے جھرنوں اور دریاؤں کا نظارہ دل کو ایک عجیب سرور بخش رہا تھا۔ اس پرفضا سفر کے دوران ہم نے ایک اچھے ہوٹل پر رک کر چائے پی اور کھانا کھایا۔جموں سے نکلتے ہی ہم نے پہلا کام یہ کیا کہ اپنی سم کارڈ تبدیل کی، کیونکہ کشمیر سے باہر کی پری پیڈ سم وہاں کام نہیں کرتی۔ ہم نے اپنا آدھار کارڈ فراہم کر کے وہاں سے پوسٹ پیڈ سم حاصل کی، جس کی بدولت پورے راستے گھروالوں اور دیگر احباب سے رابطہ برقرار رکھنے میں بڑی آسانی رہی۔ہمارے ایک معزز ساتھی، ہدا پبلک اسکول کے مینیجر مفتی احمد صاحب کو ٹرین کے طویل سفر میں دشواری ہو رہی تھی، اس لیے انہوں نے فضائی سفر کو ترجیح دی اور کہا کہ وہ ہوائی جہاز سے سری نگر پہنچیں گے۔ چنانچہ، وہ ہم سے چند گھنٹے پہلے ہی خیریت کے ساتھ ہوائی جہاز کے ذریعے سری نگر پہنچ چکے تھے اور وہاں ایک ہوٹل میں قیام پذیر ہو کر انہوں نے ہمیں ہوٹل اور کمرے کی تصاویر بھی بھیج دی تھیں۔ہم لوگ تقریباً مغرب کے وقت @سری نگر پہنچے۔ وہاں پہنچ کر سب سے پہلے ہم اپنے ٹریول ایجنٹ آصف بھائی کی ایجنسی پر گئے اور ان سے ملاقات کی۔ آصف بھائی پہلے کچھ دن اعظم گڑھ میں رہ چکے تھے، اسی وجہ سے ہمارے ساتھیوں سے ان کے پرانے اور گہرے تعلقات تھے۔ بعد میں وہ اعظم گڑھ چھوڑ کر اپنے وطن کشمیر واپس آ گئے اور یہاں اپنی ٹریول ایجنسی چلانے لگے۔ پرانے مراسم اور بھروسے کی وجہ سے ہی ہم نے اس سفر کے لیے ان کی خدمات حاصل کی تھیں۔ آصف بھائی نے بڑے خلوص کے ساتھ چائے سے ہماری تواضع کی، اور پھر اپنی ٹریول ایجنسی کی دوسری گاڑی کے ذریعے ہمیں ہوٹل پہنچایا۔یہ ایک بہترین تھری اسٹار (3-Star) ہوٹل تھا، جو ایک انتہائی پرفضا اور خوبصورت مقام پر واقع تھا۔ یہ وہی ہوٹل تھا جہاں مفتی احمد صاحب پہلے ہی پہنچ چکے تھے؛ چنانچہ ہم سب اسی ہوٹل کے اسی کمرے میں ایک ساتھ مقیم ہوئے اور یکجا رہنے کا لطف اٹھایا۔ ہوٹل میں ہر طرح کی جدید سہولیات، بشمول اے سی اور گرم پانی وغیرہ، بدرجہ اتم موجود تھیں، جس نے ہمارے اس طویل سفر کی تمام تھکن منٹوں میں دور کر دی
باقی آئندہ

Address

بھارتیہ علمائے اسلام بورڈ دہلی
Delhi

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when مولانا محمد اکرم خان قاسمی جونپوری posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category