21/07/2023
हज़रत डॉ. बुरहान अहमद फ़ारूक़ी साहब अमरोहवी रह० इस्लामिक फलसफे के जय्यद आलिम ए दीन मारूफ इस्लामिक स्कॉलर व उस्ताद ए गिरामी ऑफ डॉक्टर ताहिर उल .कादरी साहब ।
अमरोहा एक तारीखी शहर है जो अपनी अहम .कदीम तारीख और इल्म से दुनिया भर में पहचाना जाता है। इल्म के इस शहर से कई दानिश्वर और इल्मी शख्सियात हर दौर में गुज़री हैं जिनकी तारीख बेहद अहम है, ऐसी ही एक मारूफ बुलंद पाया इल्मि शख्सियत डॉ. बुरहान अहमद फारूकी अमरोहवी साहब की भी है ।
आप 1906ء में हिंदुस्तान उत्तर प्रदेश के अमरोहा शहर में पैदा हुए । आप का सिलसिला ए नसब हज़रत बाबा फरीद उद्दीन मसूद गंज शकर रह० से होता हुआ अमीर उल मोमिनीन हज़रत उमर इब्न अल .खत्ताब रज़ी अल्लाहु तआला अन्हु से जा मिलता है । डॉ. बुरहान अहमद फारूकी साहब मुफ्ती नसीम अहमद फरीदी अमरोहवी रह० के चचाज़ाद भाई थे और प्रोफेसर डॉ. निसार अहमद फारूकी साहब मरहूम रिश्ते में डाक्टर बुरहान के भतीजे होते थे ।
आप ने इब्तेदाई तालीम शहर मुल्तान से हासिल की और फिर मुस्लिम यूनिवर्सिटी अलीगढ़ से अपनी पी एच डी की तालीम मुकम्मल की , जहां आप फलसफे और ما بعدالطیبات के मारूफ स्कॉलर डॉ. सैयद जफरुल हसन के .जेरे तालीम रहे ।
आपके शायर माशरिक डॉ. अल्लामा मुहम्मद इकबाल से भी बहुत करीबि ताल्लुक थे, और डॉ. मुहम्मद इकबाल की ही दरखास्त पर आपने पी एच डी (PhD ), का म.काला हज़रत मुजद्दिद -अल्फ़ सानी के नज़रिया ए तौहीद पर लिखा । जो बाद में "हज़रत मुजद्दिद अल-अफ सानी की नज़रया ए तौहीद" के उनवान से 1940ء के तहत एक किताब की शक्ल में शाए किया गया।
आपने जिन नामवर इल्मि इदारों में पढ़ाया और तद्रीसी जिम्मेदारी पूरी की , उनमें मुस्लिम यूनिवर्सिटी अलीगढ़, .जमींदारा कॉलेज गुजरात, इस्लामिया कॉलेज जालंधर, एमएओ कॉलेज लाहौर, इस्लामिया कॉलेज सिविल लाइंस लाहौर और पंजाब यूनिवर्सिटी शामिल हैं। इसके बाद में आप पाकिस्तान तशरीफ ले गए, और वहां भी तद्रीसि काम को जारी रखा ।
आपके चन्द मशहूर शागिर्दों व तलबा में मशहूर नात गौ शायर ब्यूरोक्रेट्स शाह, माहिर दानिश्वर अब्दुल अजीज खालिद, डॉ. बशीर अहमद सिद्दीकी और शेख-उल-इस्लाम प्रोफेसर डॉ. मुहम्मद ताहिर-उल-कादरी वागैरा शामिल हैं। आप ने बहुत तेहकीकि नौईयत की किताबें भी तसनीफ किं जिनमे मशहूर किताबों में मिन्हाज-उल-कुरान , कुरान और मुसलमानों के जिंदा मसाइल, हज़रत मुजद्दिद अल्फ सानी का नज़रया ए तौहीद, वागैरा शामिल हैं ।
आप का विसाल 14 जुलाई 1995 को लाहौर में 91 बरस की उम्र में हुवा। डॉक्टर ताहिर उल कादरी साहब फरमाते हैं की ,
"उस्ताद-ए-कराम डॉ. बुरहान मरहूम अहमद फ़ारूक़ी इस दौर की वो अनोखी शख़्सियत थे जो सदियों के बाद पैदा होते हैं। "
✍️ अनवार अल हादी सिद्दीकी.
Urdu post 👇
حضرت ڈاکٹر برہان احمد فاروقی صاحب امروہوی رح اسلامک فلسفے کے جید عالم دین و استاد گرامی حضرت ڈاکٹر طاہر القادری صاحب ۔
امروہہ ایک تاریخی شہر ہے جو اپنی اہم قدیم تاریخ اور علم سے دنیا بھر میں مشہور ہے ، اس علم کے شہر سے بہت سے دانشور ، علمی شخصیات گزری ہیں جنکی تاریخ بہت اہم ہے ، ایسی ہی ایک بلند پایہ علمی شخصیت ڈاکٹر برہان احمد فاروقی امروہوی رح کی ہے آپ 1906 ء کو ہندوستان کے شہر امروہہ میں پیدا ہوئے- ڈاکٹر برہان احمد فاروقی صاحب رح مفتی نسیم احمد فریدی امروہوی رح کے چچازاد بھائی تھے اور پروفیسر ڈاکٹر نثار احمد فاروقی صاحب رح آپ کے رشتے میں بھتیجے ہوتے ہیں ۔ آپ نے ابتدائی تعلیم ملتان سے حاصل کی اور اسکے بعد مسلم یونیورسٹی علی گڑھ سے پی ایچ ڈی تک تعلیم حاصل کی جہاں آپ فلسفے اور ما بعدالطیبات کے معروف فلاسفر ڈاکٹر سید ظفر الحسن کے زیرِ تعلیم رہے۔
آپ کے شاعرِ مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبال سے بھی بہت قریبی مراسم تھے اور ڈاکٹر محمد اقبال ہی کی درخوست پر آپ نے پی ایچ ڈی کا مقالہ حضرت مجددِ الف ثانی کے نظریہ توحید پر لکھا جو بعد میں “حضرت مجدد الف ثانی کا نظر یہ توحید” کے عنوان سے ۱۹۴۰ء کو ایک کتابی صورت میں شائع ہوا-
آپ نے جن نامور علمی اداروں میں تدریسی ذمہ داری ادا کی ان میں مسلم یونیورسٹی علی گڑھ، زمیندار کالج گجرات، اسلامیہ کالج جالندھر، ایم اے او کالج لاہور، اسلامیہ کالج سول لائنز لاہور اور پنجاب یونیورسٹی جیسے ادارے شامل ہیں- اس کے کچھ عرصہ بعد آپ پاکستان منتقل ہو گئے ، اور وہاں بھی درس و تدریس جاری رکھا ۔
آپ کے چند مشہور طلباء میں معروف نعت گو شاعر‘ بیوروکریٹ‘ ماہر لسانیات اور دانشور عبدالعزیز خالد، ڈاکٹر بشیر احمد صدیقی اور شیخ الاسلام پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہرالقادری جیسی شخصیات شامل ہیں- آپ نے بہت سی تحقیقی نوعیت کی کتب بھی تصنیف کیں جن میں چند مشہور کتابیں منہاج القرآن، قرآن اور مسلمانوں کے زندہ مسائل، حضرت مجدد الف ثانی کا نظر یہ توحید ، مسلمانوں کا سیاسی نصب العین وغیرہ شامل ہیں۔
آپ ان 91 سال کی عمر میں ۱۴ جولائی 1995 ء کو لاہور میں وصال فرمایا- آپ کے وصال کے وقت شیخ الاسلام یورپ کے دعوتی و تنظیمی دورے پر تھے- شیخ الاسلام ڈاکٹر طاہر القادری صاحب نے آپ کے سانحہ ارتحال پر یورپ سے اپنے تعزیتی پیغام میں فرمایا کہ “ " استادِ مکرم ڈاکٹر برہان احمد فاروقی مرحوم اس عہد کی وہ منفرد شخصیت تھیں جو صدیوں کے بعد پیدا ہو ا کرتی ہیں۔”
شیخ الاسلام اپنے ایک انٹرویو میں ڈاکٹر برہان احمد فاروقی علمی استفادہ پر گفتگو کر تے ہوئے فرماتے ہیں کہ ،
“ جب میں ایم اے کی غرض سے پنجاب یونیورسٹی میں داخل ہوا تو ڈاکٹر برہان احمد فاروقی صاحب اسلامی فلسفہ میں میرے استاد تھے، وہ ایم اے کے مضمون میں بھی میرے گائیڈ تھے، جب میں ان کی صحبت میں بیٹھا تو مجھے فلسفہ انقلاب کے تصور سے آشنائی ہوئی۔ اسلامی فلسفہ انقلاب اور قرآنی فلسفہ انقلاب کے حوالے سے انہوں نے مجھے کچھ لیکچر دیئے کہ میں نے محسوس کیا کہ سوچ کے کچھ گوشے اور کچھ فلسفہ و فکر کے گوشے نئے ہیں جو ڈاکٹر برہان احمد فاروقی کے ذریعے مجھے ملے جس سے مجھے فکر کی ایک نئی جہت ملی۔
✍️ انوار الھادی صدیقی