Write and Bright

Write and Bright Nothing is impossible, Believe. Achieve. Conquer. || কিছুই অসম্ভব নয়। বিশ্বাস রাখো, সাফল্য আসবেই।
(1)

31/05/2026
22/05/2026

नफ़रत की राजनीति, मॉब लिंचिंग (भीड़ द्वारा हत्या), गाय के नाम पर बेगुनाह लोगों की जान लेना और मुसलमानों को बदनाम करने का अभियान अब बंद होना चाहिए। वास्तव में, हम इस फैसले का स्वागत करेंगे यदि गाय को "राष्ट्रीय पशु" घोषित कर दिया जाए और इस मुद्दे का एक स्थायी समाधान खोजा जाए, ताकि किसी भी इंसान की जान न जाए और राजनीतिक उद्देश्यों के लिए धर्म का शोषण न हो।
मौलाना अरशद मदनी
अध्यक्ष, जमीयत उलमा-ए-हिंद.
👇
https://x.com/i/status/2057012465028956240

| | |

22/05/2026

পরিস্থিতি আপনাকে যত বেশি
ভাঙতে চেষ্টা করে, তার চেয়েও অনেক বেশি
আপনাকে শক্তিশালী করে তোলে…!!

حالات جتنا زیادہ
آپ کو توڑتے ہیں، اُس سے کہیں زیادہ
آپ کو مضبوط بنا دیتے ہیں…!!

The more circumstances try to
break you, the more they
make you stronger…!!

22/05/2026
22/05/2026

जमीअत उलेमा-ए-हिन्द के सदर मौलाना अरशद मदनी ने कहा, हैरानी की बात यह है कि कुछ राज्यों में खुलेआम गोमांस बेचा जाता है, लेकिन वहां इसके खिलाफ न कोई विरोध होता है और न ही किसी प्रकार की मॉब लिंचिंग देखने को मिलती है। जबकि जहां मुसलमानों की आबादी है, वहां गाय के नाम पर खून बहाया जाता है। यह श्रद्धा नहीं, बल्कि दोहरा मापदंड और राजनीतिक खेल है।

19/05/2026

নিরীহ ট্রেন যাত্রীকে হেনাস্তাকারীদের দৃষ্টান্তমূলক শাস্তির দাবি প্রশাসনের কাছে।
এই মহিলার আইনি সহায়তায় যে ভাইয়েরা এগিয়ে এসেছেন উনাদেরকে অশেষ ধন্যবাদ।

15/05/2026

بابری مسجد کے بعد اب مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے ایک اور تاریخی مسجد کو مندر قرار دے دیا ہے۔
مدھیہ پردیش کے ضلع دھار میں واقع کمال مولیٰ مسجد کی تاریخ یہ ہے کہ تیرہویں صدی میں مالوا سلطنت کے عہد میں ایک بزرگ صوفی، کمال شاہ نے وہاں ایک مذہبی مرکز قائم کیا تھا اور اسی مقام پر مسجد تعمیر کی گئی تھی۔ اس وقت سے لے کر آج تک یہ جگہ مسجد کے طور پر استعمال ہوتی رہی ہے۔ وہاں گنبد موجود ہے، محراب ہے، اور صدیوں تک کبھی کوئی بڑا تنازع سامنے نہیں آیا۔
پہلی مرتبہ برطانوی دورِ حکومت میں، سنہ 1904 میں، بعض ہندو تنظیموں نے یہ دعویٰ کرنا شروع کیا کہ اس مقام پر کبھی سرسوتی مندر تھا، جسے راجا بھوج نے دسویں صدی میں تعمیر کروایا تھا، جب وہاں پرمار سلطنت کی حکمرانی تھی۔ تاہم برطانوی انتظامیہ نے اس دعوے کو مسترد کر دیا اور یہ مقام بدستور مسجد کے طور پر ہی استعمال ہوتا رہا۔
اس کے باوجود ہندو فریق کا دعویٰ مسلسل زور پکڑتا رہا۔ پھر سنہ 2003 میں حکومت اور آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) کی جانب سے ایک انتظام کیا گیا کہ منگل کے روز ہندو یہاں پوجا کریں گے اور جمعہ کے دن مسلمان نماز ادا کریں گے۔ اس کے بعد سے دونوں برادریاں اس احاطے کو مشترکہ طور پر استعمال کرتی رہی ہیں۔
بعد ازاں ہندو فریق نے یہ مطالبہ تیز کر دیا کہ پورے احاطے کو مندر قرار دیا جائے اور مسلمانوں کو یہاں عبادت کا حق نہ دیا جائے۔ سنہ 2024 میں اے ایس آئی کو سروے کا حکم دیا گیا۔ سروے کے دوران اے ایس آئی نے یہ دعویٰ کیا کہ وہاں بعض سنسکرت کے کتبے اور ایسے ستون ملے ہیں، جن سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ یہ ڈھانچہ تیرہویں صدی کا نہیں بلکہ دسویں صدی کا ہو سکتا ہے اور ممکنہ طور پر راجا بھوج کے عہد میں تعمیر ہوا تھا۔ اے ایس آئی نے اپنی تقریباً دو ہزار صفحات پر مشتمل رپورٹ میں یہ بھی کہا کہ احاطے میں ایسے آثار ملے ہیں جن سے سرسوتی مندر ہونے کا امکان ظاہر کیا جا سکتا ہے۔
اسی رپورٹ کو بنیاد بناتے ہوئے مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے فیصلہ سنایا کہ یہ مقام راجا بھوج کے تعمیر کردہ سرسوتی مندر کی جگہ ہے۔ عدالت نے مسلم فریق سے کہا کہ وہ مسجد کے لیے کسی دوسری جگہ کا مطالبہ کر سکتے ہیں۔
یہ فیصلہ 1991 کے عبادت گاہوں سے متعلق قانون (ورشپ ایکٹ) کی روح کے منافی ہے، کیونکہ اس قانون کے تحت 15 اگست 1947 کو کسی بھی مذہبی مقام کی جو حیثیت تھی، اسے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔
Shams Tabrez Qasmi

Address

Kanknimara
Karimganj
788709

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Write and Bright posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Write and Bright:

Share