Madrasa Madinatur Rasool

Madrasa Madinatur Rasool Madarsa Madinatur Rasool is a modern Islamic institution located in Jalwabad koderma jharkhand india

إن مؤسستنا العلمية"مدرسة مدینة الرسول
المسجلة بالحکومة الھندیة باسم الرسمي: (madinaeducationtrust)
الواقعة بمدیریة، کودرما ،التابعة لولاية جارکند،الھند.
التي قام بإنشائها الشيخ ،الرئیس القلم، العلامة أرشدالقادري الحنفي، جعل الله الجنة مثواه، فإنها بعد إنشائها عام ۱۹۹۵م تقدم خدماتها الجليلة ولا سيما في نشر العقيدة الصحيحة بالوسطية المستنبطة من القرآن والسنة، وفي إعداد نخبة قيمة من العلماء والدعا

ۃ الذين يتأهلون لقيادة الأمة في جميع المجالات من الدين والمجتمع والسياسة والإقتصاد، فإنها بمر العصور والأزمان تعد الآن "من أکبر المدارس الحنفیة " في الهند التي يرجع الناس إليها لحلول مشاكلهم الدينية التي تتعرض لهم في حياتهم. و يستفيد بمعينها العذب حوالي خمس مئة طالبا وطالبة من مختلف أقاليم الهند۔

عالم اسلام کو عید میلادالنبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ڈھیروں مبارکباد۔اللہ تعالیٰ یوم ولادت باسعادت صلی اللہ علیہ وسلم کے ص...
24/08/2026

عالم اسلام کو عید میلادالنبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ڈھیروں مبارکباد۔

اللہ تعالیٰ یوم ولادت باسعادت صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے ہم سب کے اندر اپنے نبی سے بے پناہ محبت کی توفیق عطا فرمائے آمین

15/08/2026

15/08/2026
15/08/2026
15/08/2026
Kalandariya Public School Koderma    अल्हाज मौलाना शहादत हुसैन फैजी (काज़ी शहर कोडरमा)अल्हाज साजिद हूसैन उर्फ लल्लू बाबू ...
15/08/2026

Kalandariya Public School Koderma


अल्हाज मौलाना शहादत हुसैन फैजी (काज़ी शहर कोडरमा)
अल्हाज साजिद हूसैन उर्फ लल्लू बाबू (चेयरमैन - कोडरमा) मौलाना कारी गुलाम खैरुलवरा रिज़वी
व अन्य

15/08/2026

ہمارے حجاب اور نکاح سے غیر کو نزلہ کیوں؟

اگر کوئی عورت حجاب کرتی ہے، عبایا پہنتی ہے یا مکمل پردہ کرتی ہے تو کسی دوسرے کو اس سے کیا نقصان ہے؟ وہ اپنے جسم کو ڈھانپ رہی ہے، اپنی عزت و حیا کے مطابق زندگی گزار رہی ہے، پھر اس کے خلاف اتنا پروپیگنڈا کیوں؟ تو سنیے: نقصان کسی کو ہے، اور وہ معاشی نقصان ہے۔ کیپیٹل کا کھیل ہے یہ سب۔ اسی لیے حجاب، پردہ، حیا اور خاندانی زندگی کے روایتی تصور کو کمزور کرنے کے لیے مسلسل ایک ذہنی ماحول تشکیل دیا جاتا ہے۔اس کے خلاف ہزاروں کروڑ کی انڈسٹری دن رات کام کرتی ہے تاکہ لوگوں کو سچائی سے دور الیوزن کی دنیا میں مقید رکھا جاسکے۔

دنیا میں خواتین کے ملبوسات کی مارکیٹ تقریباً ایک ٹریلین ڈالر اور خوب صورتی و ذاتی نگہداشت کی مارکیٹ کیپیٹل تقریباً 600 ارب ڈالر کی ہے۔ اس کے علاوہ ہوٹل، سفر، تفریح، ملاقات، مختصر قیام کی رہائش اور دوسری طرزِ زندگی کی صنعتیں بھی کھربوں ڈالر کی معیشت ہیں۔

فیشن انڈسٹری کا ایک اہم کاروباری اصول ہے:

کم لاگت میں زیادہ قیمت۔ مختصر لباس میں کپڑا کم لگتا ہے، مگر برانڈ، ڈیزائن، تشہیر اور جسمانی نمائش کی کشش کے ذریعے قیمت کئی گنا بڑھائی جاسکتی ہے۔ اس کے مقابلے میں مکمل عبایا، جلباب یا باپردہ لباس میں زیادہ کپڑا، اندرونی استر، سلائی اور تکمیل درکار ہوتی ہے؛ یعنی پیداواری لاگت بڑھتی ہے۔ اس لیے کم کپڑے اور تیزی سے بدلتے فیشن کے رجحانات پر مبنی کھپت کاروباری ماڈلز کے لیے زیادہ منافع بخش ہوتی ہے، اور یہ نیم برہنہ کلچر میں ہی ممکن ہے۔ جبکہ باحیا فیشن میں فی لباس خام مال کی لاگت زیادہ ہوتی ہے۔ اس لیے سارا فوکس بے پردگی کلچر کو نارمل کرنے اور اسے جدیدیت اور مابعد جدیدیت کی شاندار کارکردگی کے طور پر دکھانے میں ہوتا ہے۔

اب دوسری طرف دیکھیے:

اگر شادی سے پہلے تعلقات، ازدواجی رشتے اور نکاح کے بغیر ساتھ رہنے کے تعلقات اور عارضی تعلقات معاشرے میں عام ہوں تو ان سے متعلق رہائش، ہوٹل، مختصر قیام کی رہائش گاہیں، ملاقات کی ایپس، ریستوران، سفر، تفریح اور دیگر طرزِ زندگی کے کاروباروں کی طلب بڑھتی ہے اور یہ اپنے آپ میں ایک بہت بڑی انڈسٹری ہے اور اس کا مارکیٹ کیپیٹل کا سائز بھی غیر معمولی ہے۔ اگر اس کے بجائے نکاح، مستقل ازدواجی زندگی اور خاندانی نظام غالب ہو تو خرچ کی ترجیحات ضرورت پر منحصر ہو جاتی ہیں اور مختصر قیام اور تعلقات پر مبنی کھپت کی مارکیٹ کی مجموعی مالیت بالکل ختم ہوسکتی ہے۔

پھر مسلسل اشتہارات، فلموں، فیشن شوز اور سوشل میڈیا میں خواتین کو کم لباس میں دکھانے کا اثر دیکھیے۔ جب برسوں تک ایک مخصوص لباس، جسمانی نمائش اور طرزِ زندگی کو ’’نارمل‘‘ بنا کر پیش کیا جائے تو رفتہ رفتہ معاشرے کا تصورِ حیا بھی بدلنے لگتا ہے۔ پھر حجاب اور پردہ abnormal، جبکہ بے پردگی معمول اور معتدل محسوس ہونے لگتی ہے۔ اس ذہنی و بصری تربیت کے پیچھے براہِ راست یا بالواسطہ تجارتی مفادات ہی کام کرتے ہیں، کیونکہ اس کے بغیر یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ 22 انچ کے معمولی کپڑے پر بھی موٹا سے موٹا منافع کمایا جاسکے۔

لہٰذا حجاب صرف ایک کپڑا نہیں؛ یہ اس صارفاتی ماڈل کے سامنے ایک رکاوٹ اور چیلنج ہے جو عورت کی ظاہری کشش، جسمانی نمائش، تیزی سے بدلتے فیشن کے رجحانات اور غیر خاندانی طرزِ زندگی کو لگام دے سکتا ہے۔

اور یہی سوال نشے، جوئے اور سود کے بارے میں بھی ہے۔

نشے پر پابندی سے تمہیں کیا تکلیف ہے؟ بظاہر کسی کو نہیں ہونی چاہیے، مگر اس کے پیچھے ایک بہت بڑی عالمی صنعت ہے۔ اگر لوگ نشہ چھوڑ دیں تو اربوں ڈالر کی ایک مارکیٹ سکڑ جائے گی۔

جوئے پر پابندی سے تمہیں کیا تکلیف ہے؟ بظاہر کسی کو نہیں ہونی چاہیے، مگر جوا ایک بہت بڑی عالمی تجارتی صنعت ہے۔ اگر لوگ جوا چھوڑ دیں تو اس صنعت کے منافع کو براہِ راست ضرب لگے گی۔

سود کی حرمت سے تمہیں کیا تکلیف ہے؟ بظاہر کسی کو نہیں ہونی چاہیے، مگر عالمی مالیاتی نظام کا ایک بڑا حصہ سودی قرض، قرضہ جاتی سہولیات اور قرض پر قائم ہے۔ اگر لوگ سودی معاملات سے بڑے پیمانے پر نکل جائیں تو مالیاتی اداروں کے کاروباری ماڈلز اور دولت لوٹنے کے ذرائع ختم۔

اس لیے ہر وہ چیز جو انسان کو اخلاقی، دینی اور ذمہ دارانہ زندگی کی طرف لے جاتی ہے، وہ انسانیت دشمن لوٹ مافیا اور مادہ پرستوں کے لیے قیامت ہے۔ انسان کا کم خرچ کرنا، غلط چیز خریدنے سے انکار کرنا، حرام سے بچنا، خاندان کو ترجیح دینا اور حیا اختیار کرنا دولت کے پجاریوں کی مارکیٹ کے لیے واقعی موت کا سامان بن جاتا ہے۔

اصل سوال یہ ہے کہ ہم ایسی معیشت چاہتے ہیں جو انسان کی خواہشات کو بے لگام کرکے منافع کمائے، یا ایسی معیشت جو انسان کی ضروریات، عزت، خاندان اور اخلاق کی خدمت کرے؟

حجاب، حیا، نکاح، نشے سے اجتناب، جوئے سے دوری اور سود سے بچنا صرف مذہبی احکام نہیں؛ یہ ایسے فیصلے بھی ہیں جو انسان کے استعمال اور خرچ کے انداز کو بدل سکتے ہیں۔ اور جب کروڑوں انسان اپنے خرچ کے فیصلے اخلاق اور حلال و حرام کی بنیاد پر کرنے لگیں تو صرف افراد نہیں، پوری مارکیٹوں کی سمت بدل سکتی ہے۔ اور ہر طرف امن و شانتی اور خوش حالی آسکتی ہے۔ امیر و غریب کا فرق مٹ سکتا ہے۔

از عبیداللہ خان اعظمی

15/08/2026

Speech Chairman koderma Nagar Palika
Madarsa Madinatur Rasool
Kalandariya public school Jalwabad Koderma Jharkhand

Address

Jalwabad
Koderma
825410

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Madrasa Madinatur Rasool posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Madrasa Madinatur Rasool:

Shortcuts

Share

Category