Madrasa Madinatur Rasool

Call Directions Website Contact the organization

Madrasa Madinatur Rasool Madarsa Madinatur Rasool is a modern Islamic institution located in Jalwabad koderma jharkhand india

إن مؤسستنا العلمية"مدرسة مدینة الرسول
المسجلة بالحکومة الھندیة باسم الرسمي: (madinaeducationtrust)
الواقعة بمدیریة، کودرما ،التابعة لولاية جارکند،الھند.
التي قام بإنشائها الشيخ ،الرئیس القلم، العلامة أرشدالقادري الحنفي، جعل الله الجنة مثواه، فإنها بعد إنشائها عام ۱۹۹۵م تقدم خدماتها الجليلة ولا سيما في نشر العقيدة الصحيحة بالوسطية المستنبطة من القرآن والسنة، وفي إعداد نخبة قيمة من العلماء والدعاۃ الذين يتأهلون لقيادة الأمة في جميع المجالات من الدين والمجتمع والسياسة والإقتصاد، فإنها بمر العصور والأزمان تعد الآن "من أکبر المدارس الحنفیة " في الهند التي يرجع الناس إليها لحلول مشاكلهم الدينية التي تتعرض لهم في حياتهم. و يستفيد بمعينها العذب حوالي خمس مئة طالبا وطالبة من مختلف أقاليم الهند۔

23/09/2026
غوث اعظم نے آدھی عمر علم کے حصول میں لگائی اور پھر 33 سال ٹیچنگ میں لگائی۔ آپ کے تجربات کا خلاصہ اس طرح نکلا کہاللہ کی ع...
23/09/2026

غوث اعظم نے آدھی عمر علم کے حصول میں لگائی اور پھر 33 سال ٹیچنگ میں لگائی۔
آپ کے تجربات کا خلاصہ اس طرح نکلا کہ
اللہ کی عبادت اور اس کے احکام کی پیروی میں مشقت اور پریشانی اٹھانی پڑتی ہے ،لیکن یہ سب مشقت اور تکان دور ہو جاتی ہے اور اس کا اجر باقی رہتا ہے وہ آپ کو جنت میں کام آئیں گی۔
لیکن اس کے ٹھیک الٹ ، گناہوں میں، شراب میں، زنا میں اور جوا وغیرہ برائی میں آپ کو خوب مزا آتا ہے، لذت ملتی ہے، یہ سب کچھ تھوڑی دیر میں ختم ہو جاتی ہے ، لیکن اس کا گناہ باقی رہ جاتا ہے، وہ آپ کو جہنم میں لے جائے گی۔

23/09/2026

18/09/2026
16/09/2026

مدینۃ الرسول نے حفظ + میٹرک شروع کی اور اب تک خاصی تعداد میں بچے حفظ مع میٹرک و انٹر کر چکے، بڑے بڑے مدارس اور جامعات میں گئے، جارہے ہیں۔ اور بہت سے عصری علوم میں اچھا کر رہے ہیں۔ سرکاری نوکریاں حاصل کر رہے ہیں۔۔
پہلے جو لوگ اس ماڈل کے خلاف افواہیں پھیلا رہے تھے۔ آج اسی فارمولے کو اپنانے پر مجبور ہیں۔

رجال الدعوہ کا عظیم معماررئیس القلم حضرت علامہ ارشد القادری رحمۃ اللہ علیہ کا عظیم ترین خوابامتوں کی تاریخ میں بعض شخصیا...
09/09/2026

رجال الدعوہ کا عظیم معمار
رئیس القلم حضرت علامہ ارشد القادری رحمۃ اللہ علیہ کا عظیم ترین خواب
امتوں کی تاریخ میں بعض شخصیات ایسی پیدا ہوتی ہیں جنہیں صرف ان کی تصنیفات، تقاریر، تنظیمی خدمات یا ادارہ سازی کے تناظر میں سمجھنا ان پر ظلم ہوتا ہے۔ ان کی شخصیت کسی ایک جہت کا نام نہیں ہوتی بلکہ ایک مکمل فکر، ایک مستقل مدرسہ، ایک زندہ تحریک اور ایک ایسا منصوبۂ حیات ہوتی ہے جس کی مختلف جہتیں مل کر ان کے اصل مقصد کی ترجمانی کرتی ہیں۔ رئیس القلم، قائد اہل سنت، بانیِ مساجد و مدارسِ کثیرہ، حضرت علامہ ارشد القادری رحمۃ اللہ علیہ بھی انہی نابغۂ روزگار شخصیات میں سے ایک ہیں۔

ان کے بارے میں اب تک بہت کچھ لکھا جا چکا ہے۔ ان کی خطابت پر قلم اٹھایا گیا، ان کی صحافت پر گفتگو ہوئی، ان کی مناظرانہ خدمات کو سراہا گیا، ان کی تنظیمی قیادت کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا، ان کی تصنیفات، اداریوں، عالمی اسفار، تحریکی خدمات، علمی جہاد اور اہل سنت کی قیادت پر متعدد مضامین اور کتابیں لکھی گئیں۔ لیکن میری ناقص رائے میں ابھی تک ان کی شخصیت کا وہ بنیادی پہلو پوری طرح سامنے نہیں آسکا جو ان تمام خدمات کو ایک لڑی میں پروتا ہے۔

میں نے جب ان کی زندگی کی ٹائم لائن، ان کی تحریروں، اداریوں، خطبات، عالمی دوروں، اداروں کے قیام، ورلڈ اسلامک مشن کے اغراض و مقاصد، اسلامک مشنری کالج بریڈفورڈ، جامعہ حضرت نظام الدین اولیاء دہلی، جامعہ مدینۃ الاسلام ہالینڈ، دارالعلوم علیمیہ سرینام، دعوت اسلامی کی بنا، دستور سازی اور لائحہ عمل جسے آپ نے اپنے ہاتھوں سے لکھا ہے اور ہندوستان و بیرونِ ہند قائم کردہ دیگر اداروں کو ایک ساتھ رکھ کر دیکھا تو میرے ذہن میں ایک سوال بار بار ابھرتا رہا کہ آخر یہ سب کچھ کیوں؟

کیا مقصد صرف مدارس کی تعداد بڑھانا تھا؟
کیا مقصد صرف مساجد تعمیر کرنا تھا؟
کیا مقصد صرف تنظیم قائم کرنا تھا؟
کیا مقصد صرف اہل سنت کی نمائندگی کرنا تھا؟
یقیناً یہ سب ان کی خدمات کا حصہ تھے، اور اہم حصہ تھے، مگر شاید ان کا آخری ہدف نہیں تھے۔
جتنا میں نے ان کی شخصیت کا مطالعہ کیا، اتنا ہی یہ احساس مضبوط ہوتا گیا کہ علامہ ارشد القادری رحمۃ اللہ علیہ کا اصل منصوبہ ایک اور تھا، اور وہ منصوبہ نہایت عظیم، غیر معمولی اور اپنے زمانے سے کہیں آگے کا منصوبہ تھا۔ اور وہ منصوبہ تھا "رجال الدعوہ" کی تیاری۔
لیکن یہاں بھی ایک بنیادی غلط فہمی پیدا ہوسکتی ہے۔ اگر رجال الدعوہ سے مراد صرف خطیب، واعظ، مدرس یا مبلغ لیا جائے تو پھر علامہ کے منصوبے کو سمجھنے میں ہم ناکام ہوجائیں گے۔
میری رائے میں علامہ معمول کے داعی نہیں چاہتے تھے۔
وہ ایسے افراد بھی نہیں چاہتے تھے جو صرف چند تقریریں کرلیں، چند کتابیں لکھ دیں یا چند مدارس میں درس دے دیں۔وہ دراصل ایسے رجال چاہتے تھے جنہیں دیکھ کر دنیا اسلام کی علمی عظمت کو پہچانے۔
وہ ایسے داعی چاہتے تھے جو خود ایک ادارہ ہوں۔
جن کا نام لیا جائے تو دعوت ذہن میں آجائے۔
جنہیں سننے کے لیے دنیا جمع ہوجائے۔
جو مغرب کے فلسفی سے بھی گفتگو کرسکیں، جدید سائنس دان سے بھی مکالمہ کرسکیں، اقوام متحدہ میں بھی اسلام کی نمائندگی کرسکیں، یونیورسٹی کے پروفیسر کو بھی مطمئن کرسکیں، میڈیا اینکروں کے سوالوں کا بھی جواب دے سکیں، نوجوانوں کی نفسیات کو بھی سمجھتے ہوں اور اولیائے کرام کی روحانی تربیت سے بھی بہرہ ور ہوں۔

یعنی ایک ایسا جامع داعی جس میں محدث کی گہرائی، فقیہ کی بصیرت، مفسر کی وسعت، مورخ کی تحقیق، فلسفی کی استدلالی قوت، منتظم کی صلاحیت، قائد کی جرأت، خطیب کی تاثیر، مصنف کی قلمی طاقت، صحافی کی بصیرت، سفارت کار کی حکمت، داعی کی شفقت اور ولیِ کامل کی روحانیت جمع ہوجائے۔

یہ تصور سننے میں شاید غیر معمولی محسوس ہو، لیکن علامہ کی پوری زندگی اسی غیر معمولی فکر کی گواہی دیتی ہے۔
اگر صرف ادارے قائم کرنا مقصد ہوتا تو ایک مدرسہ بنا کر وہ مطمئن ہوجاتے۔
اگر صرف تنظیم سازی مقصود ہوتی تو ایک تنظیم پر اکتفا کرلیتے۔
اگر صرف تصنیف مقصود ہوتی تو عمر بھر قلم ہی اٹھائے رکھتے۔
اگر صرف خطابت مقصد ہوتی تو دنیا کے دوروں میں مصروف رہتے۔

لیکن حیرت یہ ہے کہ انہوں نے بیک وقت قلم بھی اٹھایا، منبر بھی سنبھالا، ادارے بھی قائم کیے، عالمی اسفار بھی کیے، تحریک بھی چلائی، تنظیم بھی بنائی، دین کے سپاہی بھی تیار کیے، صحافت بھی کی، مناظرے بھی کیے، قید و بند بھی برداشت کیا، اور ہندوستان سے یورپ و امریکہ تک دعوتی مراکز کا نیٹورک اور فریم ورک بھی تیار کیا۔
یہ تمام کام الگ الگ نہیں تھے، بلکہ ایک ہی عظیم منصوبے کے مختلف ستون تھے۔
ان کی پوری زندگی ایک ایسا نقشہ معلوم ہوتی ہے جس میں ہر ادارہ ایک اینٹ ہے، ہر کتاب ایک پتھر ہے، ہر تقریر ایک ستون ہے، ہر سفر ایک پل ہے، اور ان سب کو ملا کر جو عمارت بنتی ہے اس کا نام ہے "عالمی رجال الدعوہ کی تشکیل"۔

یہی وجہ ہے کہ انہوں نے صرف ہندوستان میں اکتفا نہیں کیا۔
بریڈفورڈ کیوں؟
ہالینڈ کیوں؟
سرینام کیوں؟
ورلڈ اسلامک مشن کیوں؟
جامعہ حضرت نظام الدین اولیاء دہلی کیوں؟
یہ سوالات ہمیں مجبور کرتے ہیں کہ ہم ان کے منصوبے کو روایتی زاویے سے نہیں بلکہ عالمی تناظر میں دیکھیں۔
ان کی نظر شاید صرف ایک ملک پر نہیں تھی، بلکہ پوری امت پر تھی۔
اور شاید اسی لیے ان کے اداروں کا جغرافیہ بھی عالمی تھا، ان کی دعوت بھی عالمی تھی، ان کی فکر بھی عالمی تھی، اور ان کا خواب بھی عالمی تھا۔

جامعہ حضرت نظام الدین اولیاء رئیس القلم کے عالمی دعوتی منصوبے کی بنیاد

حضرت علامہ ارشد القادری رحمۃ اللہ علیہ کی شخصیت کا ایک امتیاز یہ تھا کہ وہ وقتی ردِّ عمل کے آدمی نہیں تھے، بلکہ صدیوں پر محیط منصوبہ بندی کرنے والے قائد تھے۔ وہ صرف حالات کے مطابق فیصلے نہیں کرتے تھے بلکہ آئندہ نسلوں کی ضرورتوں کو سامنے رکھ کر نمائندہ ادارے بھی قائم کرتے تھے۔ ان کی نگاہ اپنے زمانے سے کہیں آگے دیکھتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے قائم کردہ اکثر ادارے کسی وقتی ضرورت کے نتیجے میں وجود میں نہیں آئے بلکہ ایک طویل المدت فکری منصوبے کے اجزاء تھے۔جامعہ حضرت نظام الدین اولیاء دہلی بھی انہی اداروں میں سے ایک ہے۔ بظاہر یہ ایک دینی درس گاہ ہے، لیکن اگر اسے علامہ کی پوری زندگی کے تناظر میں دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کا مقصد صرف روایتی اور مروجہ دینی نصاب کی تکمیل یا چند فضلاء کی تیاری ہرگز نہیں تھا۔ کیوں کہ مدارسِ عربیہ یہ کام پہلے سے ہی انجام دے رہے تھے۔ ہندوستان میں ہزاروں مدارس موجود تھے اور آج بھی ہیں، جو ہر سال ہزاروں علماء، حفاظ اور قراء تیار کرتے ہیں۔ اگر علامہ کا مقصد بھی صرف اتنا ہی ہوتا تو ایک نئے ادارے کی ضرورت شاید نہ ہوتی۔ اور اس کا قیام بھی دہلی میں نہ ہوتی۔
دہلی صرف ہندوستان کا دارالحکومت نہیں بلکہ سیاست، سفارت، تعلیم، میڈیا، بین الاقوامی روابط، قومی اداروں اور عالمی نمائندگی کا مرکز ہے۔ یہ وہ شہر ہے جہاں مختلف مذاہب، مختلف زبانیں، مختلف قومیں، مختلف تہذیبیں اور مختلف افکار ایک دوسرے سے مسلسل برسرِ پیکار رہتے ہیں۔ علامہ نے اگر یہاں ایک ایسا ادارہ قائم کیا جس کا بنیادی مخاطب مدارس کے فارغین اور فاضلین تھے، تو غالب گمان یہی ہے کہ وہ انہیں مدرسے کی چہار دیواری سے نکال کر عالمی مکالمے کے لیے تیار کرنا چاہتے تھے۔
مدرسہ ایک عالم پیدا کرتا ہے، لیکن ہر عالم داعی نہیں ہوتا۔
اسی طرح ہر داعی عالمی داعی بھی نہیں ہوتا۔
اور ہر عالمی داعی لازماً ایسا عبقری بھی نہیں ہوتا جو اپنے زمانے کی فکری قیادت کرسکے۔
یہ تین الگ الگ درجے ہیں۔
پہلا درجہ علم حاصل کرنا ہے۔
دوسرا درجہ اس علم کو دوسروں تک پہنچانا ہے۔
اور تیسرا درجہ پوری دنیا کے فکری منظرنامے پر اسلام کا نمائندہ بن جانا ہے۔علامہ ارشد القادری رحمۃ اللہ علیہ کی نگاہ اسی تیسرے درجے پر تھی۔

ان کے نزدیک ایک داعی وہ نہیں جو صرف وعظ کرے، بلکہ وہ ہے جو زمانے کے ذہن کو بدل دے؛ جو مخالف فکر کو صرف رد نہ کرے بلکہ دین و شریعت کی روشنی میں ایک متبادل فکری نظام بھی پیش کرے؛ جو اسلام کو دفاعی انداز میں نہیں بلکہ قائدانہ اعتماد کے ساتھ پیش کرے؛ جو امت کے اندر بھی اصلاح کرے اور امت کے باہر بھی اسلام کا تعارف کرائے۔

اسی لیے جامعہ حضرت نظام الدین اولیاء کے تصور میں زبانوں کی تعلیم، عصری علوم سے واقفیت، عالمی حالات کا ادراک، تقابلی مذاہب، جدید ذرائع ابلاغ، بین الاقوامی ماحول اور دعوتی اسلوب کی تربیت کو اہمیت دی گئی۔ یہ سب اس بات کی علامت ہے کہ علامہ کے نزدیک محض روایت کا حافظ ہونا کافی نہیں، بلکہ روایت کو عصرِ حاضر کی زبان میں دنیا تک پہنچانے کی صلاحیت بھی ضروری ہے۔

یہاں ایک اور حقیقت قابلِ غور ہے۔ علامہ کی پوری زندگی میں "بین الاقوامیت" ایک نمایاں وصف کے طور پر سامنے آتی ہے۔ انہوں نے ہندوستان میں رہ کر صرف ہندوستان کے لیے منصوبے نہیں بنائے۔ ورلڈ اسلامک مشن کا قیام، یورپ کے مسلسل اسفار، برطانیہ میں اسلامک مشنری کالج، ہالینڈ میں جامعہ مدینۃ الاسلام، سرینام میں دارالعلوم علیمیہ، عالمی کانفرنسوں میں شرکت اور مختلف ممالک میں دعوتی مراکز کی بنیاد—یہ سب اس بات کا اعلان تھا کہ ان کی دعوت کی سرحدیں ہندوستان پر ختم نہیں ہوتیں۔
یہی پس منظر ہمیں جامعہ حضرت نظام الدین اولیاء کے حقیقی کردار کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔
میری ناقص رائے میں یہ ادارہ علامہ کے عالمی دعوتی منصوبے کی Foundation Academy تھا۔ یعنی یہاں سے ایسے نوجوان نکلیں جو آگے چل کر دنیا کے مختلف مراکز میں اسلام کے نمائندہ داعی بنیں۔ گویا یہ ادارہ منزل نہیں بلکہ ایک ابتدائی منزل تھا؛ اصل منزل تو وہ عالمی دعوتی فورم یا مرکز کا قیام ہے، جس کا خواب علامہ اپنی پوری زندگی میں دیکھتے رہے۔

بدقسمتی سے ہماری دینی دنیا میں اکثر ادارے اپنے بانی کے اصل خواب سے آہستہ آہستہ دور ہوتے چلے جاتے ہیں۔ روزمرہ کے انتظامی مسائل، مالی دشواریاں، محدود وسائل اور وقتی ضروریات انسان کو اس قدر گھیر لیتی ہیں کہ وہ اصل مقصد سے غافل ہوجاتا ہے۔ یہی خطرہ ہر بڑے ادارے کو لاحق ہوتا ہے۔

جامعہ حضرت نظام الدین اولیاء کے ساتھ بھی یہی سوال وابستہ ہے کہ کیا آج اس کا سفر اسی سمت میں جاری ہے جس سمت کا تعین اس کے بانی نے کیا تھا؟ کیا اس ادارے کے فارغین واقعی عالمی دعوتی قیادت کے لیے تیار ہورہے ہیں؟ کیا ان میں ایسی علمی وسعت، فکری گہرائی، لسانی مہارت، تحقیقی بصیرت اور بین الاقوامی اعتماد پیدا ہورہا ہے جو انہیں دنیا کے بڑے علمی اور فکری فورمز پر اسلام کا نمائندہ بنا سکے؟
یہ سوال تنقید کے لیے نہیں، بلکہ احتساب اور تجدیدِ عہد کے لیے ہے۔
ہر عظیم ادارہ وقتاً فوقتاً اپنے بانی کے خواب کی طرف واپس لوٹتا ہے۔ اگر وہ ایسا نہ کرے تو وہ ایک معمول کا ادارہ بن کر رہ جاتا ہے، حالانکہ اس کی بنیاد کسی غیر معمولی مقصد کے لیے رکھی گئی تھی۔
جامعہ حضرت نظام الدین اولیاء کو بھی اپنے آپ سے یہی سوال کرنا ہوگا کہ کیا ہم صرف سالانہ فارغین کی تعداد بڑھا رہے ہیں، یا ایسے رجالِ دعوت بھی تیار کر رہے ہیں جنہیں دیکھ کر آنے والی نسلیں علامہ ارشد القادری رحمۃ اللہ علیہ کے خواب کی تعبیر محسوس کریں؟
میری رائے میں اگر یہ ادارہ اپنی تمام توانائیوں، وسائل، نصاب، تربیتی نظام، اساتذہ، تحقیقی سرگرمیوں اور بین الاقوامی روابط کو اسی ایک مقصد پر مرکوز کردے کہ ہر چند برس میں ایک ایسا عبقری داعی تیار ہو جو دنیا کے علمی و فکری منظرنامے پر اسلام کی نمائندگی کرے، تو یہی علامہ کے لیے سب سے بڑی خراجِ عقیدت ہوگی۔

یہ ادارہ اگر ایک بھی ایسا داعی پیدا کردے جو علم، کردار، بصیرت، زبان، حکمت، استدلال اور عالمی اثر و رسوخ میں اپنے عہد کا نشانِ امتیاز بن جائے، تو یقین کیجیے کہ وہ تنہا درجنوں نئے اداروں کے قیام، سیکڑوں علمی منصوبوں کی سرپرستی اور لاکھوں انسانوں کی فکری رہنمائی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ یہی وہ نقطۂ نظر ہے جو علامہ کی شخصیت اور ان کے اداروں کے مجموعی مطالعے سے ابھرتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔

رجال الدعوہ کی تعمیر و تشکیل میں رئیس القلم کا دعوتی فلسفہ

حضرت علامہ ارشد القادری رحمۃ اللہ علیہ کی شخصیت کو اگر کسی ایک جملے میں بیان کرنا ہو تو شاید یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ افراد شمار نہیں کرتے تھے، افراد تیار کرتے تھے؛ اور افراد بھی ایسے جو خود ایک تحریک بن جائیں۔

ان کی پوری زندگی اس حقیقت کی گواہ ہے کہ انہوں نے کبھی صرف بھیڑ جمع کرنے کو کامیابی نہیں سمجھا۔ ان کی نگاہ ہمیشہ معیار پر رہی۔ ان کے نزدیک اصل سرمایہ عمارتیں نہیں تھیں، بلکہ وہ انسان تھے جو عمارتوں کو مقصد دیتے ہیں۔ وہ رجال تھے جو قوموں کی تقدیر بدل دیتے ہیں۔ وہ شخصیت تھی جو ہزاروں کی تعداد پر بھاری پڑ جائے۔یہی وہ نکتہ ہے جسے شاید آج سب سے زیادہ سمجھنے کی ضرورت ہے۔
آج ہماری مذہبی و مدرسیاتی دنیا میں کامیابی کا معیار اکثر اوقات اعداد و شمار پر موقوف ہوکر رہ گیا ہے۔ کتنے مدارس قائم ہوئے؟ کتنے حفاظ تیار ہوئے؟ کتنے علماء فارغ ہوئے؟ کتنے اجتماعات ہوئے؟ کتنے کارکن ہیں؟ کتنی شاخیں ہیں؟ کتنے جلسے ہوتے ہیں؟ کتنی مساجد تعمیر ہوئیں؟
بلاشبہ یہ سب اہم ہیں، ان کی اپنی افادیت ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا صرف اعداد و شمار ہی کسی تحریک کی کامیابی کا معیار ہیں؟
تاریخ اس سوال کا جواب نفی میں دیتی ہے۔
دنیا کی بڑی فکری تبدیلیاں ہمیشہ ہجوم نے نہیں بلکہ چند غیر معمولی انسانوں نے برپا کی ہیں۔ افکار کی دنیا میں ہمیشہ معیار نے تعداد پر غلبہ حاصل کیا ہے۔ ایک غیر معمولی ذہن، اگر صحیح تربیت، صحیح مقصد اور صحیح ماحول میسر آجائے، تو وہ، وہ کام انجام دیتا ہے جو ہزاروں عام افراد بھی نہیں کر سکتے۔ علامہ ارشد القادری رحمۃ اللہ علیہ اسی اصول کو جدید دعوتی تناظر میں زندہ کرنا چاہتے تھے۔وہ سمجھتے تھے کہ اگر امت کے پاس ہر شعبے میں ہزاروں معمولی افراد ہوں، لیکن ایک بھی ایسا عبقری اور غیر معمولی داعی نہ ہو جو عالمی سطح پر اسلام کا علمی مقدمہ لڑ سکے، تو امت ہمیشہ دفاعی پوزیشن میں رہے گی۔
وہ ایک ایسے داعی کا تصور رکھتے تھے جو صرف حافظِ متن نہ ہو بلکہ صاحبِ نظر ہو؛ صرف روایت و درایت کا ناقل نہ ہو بلکہ عصر کا فقیہ بھی ہو؛ صرف خطیب نہ ہو بلکہ مفکر بھی ہو؛ صرف مناظر نہ ہو بلکہ مکالمہ کرنے والا ایک بے لاگ مبصر بھی ہو؛ صرف عالم نہ ہو بلکہ قائد بھی ہو؛ صرف مدرس نہ ہو بلکہ ادارہ ساز بھی ہو۔
جب بیسویں صدی میں عیسائی مشنریوں نے اسلام پر شدید علمی حملے کیے تو ایک شخص جنوبی افریقہ سے اٹھا۔ اس کے پاس نہ کوئی ریاست تھی، نہ کوئی بڑی جماعت، نہ کوئی مالی سلطنت۔ لیکن اس کی زبان میں استدلال تھا، ذہن میں قرآن تھا اور دل میں دعوت کا درد تھا۔ وہ احمد دیدات تھے۔ انہوں نے تن تنہا لاکھوں مسلمانوں کے اندر اعتماد پیدا کیا اور پوری دنیا میں اسلام کے دفاع کا ایک نیا باب کھول دیا۔

اسی طرح مولانا عبدالعلیم صدیقی میرٹھی رحمۃ اللہ علیہ کو دیکھیے۔ انہوں نے برصغیر کی حدود سے نکل کر ایشیا، افریقہ، یورپ اور امریکہ تک اسلام کا پیغام پہنچایا۔ ان کے اسفار، ان کی تقریریں اور ان کے قائم کردہ مراکز آج بھی ان کی عالمی دعوتی بصیرت کی گواہی دیتے ہیں۔

عرب دنیا میں شیخ محمد متولی الشعراوی نے قرآن کی ایسی زبان میں تشریح کی کہ عام آدمی سے لے کر یونیورسٹی کے استاد تک سب ان کے مخاطب بن گئے۔ ان کی گفتگو میں روایت بھی تھی اور معاصر ذہن سے ربط بھی اور سلوک و معرفت کی برکتیں بھی۔

موجودہ دور میں ڈاکٹر طاہر القادری اور علامہ الیاس عطار قادری کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ اگرچہ علمی منہج، اسلوب یا دعوتی ترجیحات کے اعتبار سے ان سے اختلاف کیا جاسکتا ہے، لیکن ایک حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ ایک فرد نے اپنی دعوتی شناخت کے ذریعے پوری دنیا میں اسلام کے تعارف اور تبلیغ اور ترسیل کا ماڈل بن گیا۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ایک مضبوط شخصیت کا اثر کبھی کبھی ہزاروں اداروں سے زیادہ وسیع ہوجاتا ہے۔
یہ مثالیں کسی شخصیت کی تقلید کے لیے نہیں، بلکہ ایک اصول سمجھنے کے لیے ہیں۔ اصول یہ ہے کہ غیر معمولی افراد تاریخ کا رخ موڑ دیتے ہیں۔ علامہ ارشد القادری رحمۃ اللہ علیہ کی نظر بھی ایسے ہی افراد کی تعمیر و تشکیل اور کھوج پر تھی۔بلکہ وہ ان تمام مثالوں سے بھی آگے کا خواب دیکھ رہے تھے۔ وہ ایسا داعی چاہتے تھے جس میں احمد دیدات کی جرأتِ استدلال، عبدالعلیم صدیقی کا دعوتی فلسفہ، علامہ شعراوی کی قرآنی بصیرت، حبیب علی جفری کی علمی فکری اور روحانی حلاوت، ایک محقق کی علمی گہرائی، ایک منتظم کی تنظیمی صلاحیت، ایک مفکر کی فکری وسعت، ایک صحافی کی عصری آگہی، ایک سفیر کی حکمت اور ایک ولیِ کامل کی روحانی تاثیر یکجا ہو۔
یہی وہ مقام ہے جہاں سے ہمیں علامہ ارشد القادری رحمۃ اللہ علیہ کے عظیم منصوبے کو نئے سرے سے پڑھنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے۔

*"پروجیکٹ رجال الدعوہ* "

اب تک کی گفتگو ایک نظریے کی وضاحت تھی۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر حضرت علامہ ارشد القادری رحمۃ اللہ علیہ کے اس خواب کو آج کے دور میں عملی صورت دینی ہو تو اس کا نقشہ کیا ہوگا؟ وہ کون سا طریقۂ کار ہوگا جس کے ذریعے امت محض مبلغین نہیں بلکہ ایسے رجالِ دعوت پیدا کرسکے جو آئندہ پچاس یا سو برس تک اسلام کی نمائندگی کریں؟

اگر علامہ آج ہمارے درمیان ہوتے تو شاید وہ سب سے پہلے مدارس کی تعداد بڑھانے کے بجائے صلاحیتوں کی تلاش (Talent Hunting) کا ایک عالمی نظام قائم کرتے۔ جس کی شروعات انھوں نے جامعہ حضرت نظام الدین اولیا سے شروع کردی تھی۔ وہ جانتے تھے کہ ہیرے کانوں میں بکھرے پڑے ہوتے ہیں، لیکن ہر پتھر ہیرا نہیں ہوتا، اور ہر ہیرا خود بخود تراشا بھی نہیں جاتا۔ اس کے لیے پہلے نظر چاہیے، پھر شناخت، پھر تراشنے والا ماہر۔

اسی لیے ان کے منصوبے کا پہلا مرحلہ غالباً "عالمی تلاش" ہوتا۔
وہ ہندوستان، پاکستان، بنگلہ دیش یا عرب دنیا تک محدود نہ رہتے۔ وہ افریقہ، یورپ، امریکہ، جنوب مشرقی ایشیا، وسطی ایشیا، حتیٰ کہ ان ممالک میں بھی نگاہ ڈالتے جہاں مسلمان ہیں۔ وہ مدارس کے فضلاء کو بھی دیکھتے، یونیورسٹیوں کے محققین کو بھی، انجینئرنگ کے طلبہ کو بھی، میڈیکل کے ذہین نوجوانوں کو بھی، مصنوعی ذہانت (AI) کے ماہرین کو بھی، اور ان نوجوانوں کو بھی جن کے اندر دعوت کا درد، غیر معمولی ذہانت اور قیادت کی فطری صلاحیت موجود ہو۔

اسی لیے میں سمجھتا ہوں کہ علامہ کے تصور کے مطابق رجالِ دعوت کے انتخاب کے لیے ایک مستقل "عالمی مجلسِ انتخاب" (Global Council for Rijāl al-Da‘wah) قائم ہونی چاہیے، جس میں صرف علماء ہی نہ ہوں بلکہ امت کے ہر بڑے علمی شعبے کے نمائندہ ماہرین شامل ہوں۔
اس مجلس میں ایک محدث ہو جو حدیثی ذوق کو پہچانے، ایک فقیہ ہو جو فقہی بصیرت کا جائزہ لے، ایک مفسر ہو جو قرآنی فہم کو پرکھے، ایک مؤرخ ہو جو تاریخی شعور کو جانچے، ایک فلسفی ہو جو استدلالی قوت کو آزمائے، ایک ماہرِ نفسیات ہو جو شخصیت کا تجزیہ کرے، ایک ماہرِ تعلیم ہو جو سیکھنے کی صلاحیت کو دیکھے، ایک ماہرِ معیشت ہو جو عالمی نظامِ اقتصاد کی سمجھ کا اندازہ لگائے، ایک سائنس دان ہو جو سائنسی ذہنیت کو پرکھے، ایک میڈیا ایکسپرٹ ہو جو ابلاغی صلاحیت کو دیکھے، ایک لسانیات کا ماہر ہو جو زبانوں کی استعداد کا جائزہ لے، اور ایک صاحبِ نسبت شیخِ طریقت بھی ہو جو اخلاص، انکسار، روحانی استعداد اور اخلاقی پختگی کو محسوس کرسکے۔

اس کے بعد دوسرا مرحلہ شروع ہوگا، اور یہی وہ مرحلہ ہے جہاں ہماری موجودہ دینی و مذہبی دنیا سب سے زیادہ کمزور نظر آتی ہے۔
اگر کسی ملک کو ایک خلانورد تیار کرنا ہو تو وہ اس پر برسوں کی محنت اور کروڑوں روپے خرچ کرتا ہے۔ اگر کسی ملک کو ایک سفیر تیار کرنا ہو تو اس کی برسوں تربیت کی جاتی ہے۔ اگر ایک بین الاقوامی کمپنی کو چیف ایگزیکٹو تیار کرنا ہو تو اس کے لیے طویل Leadership Pipeline بنائی جاتی ہے۔

پھر امت اگر ایسا داعی تیار کرنا چاہے جو پوری دنیا میں اسلام کا نمائندہ بنے، جو باطل قوتوں کے ہر حربے اور چربے کا مقابلہ کرسکے، تو کیا اس پر غیر معمولی وقت، محنت اور سرمایہ صرف نہیں ہونا چاہیے؟
میری رائے میں ایسے ہر منتخب نوجوان کے لیے کم از کم دس سے پندرہ برس کا Personalized Development Program ہونا چاہیے، جس میں اس کے لیے ایک منفرد نصاب ترتیب دیا جائے، نہ کہ سب کے لیے ایک جیسا۔

کوئی نوجوان اگر فلسفے میں غیر معمولی استعداد رکھتا ہے تو اسے فلسفہ، منطق، علم الکلام اور تقابلی افکار میں عالمی سطح تک پہنچایا جائے۔ اگر کوئی زبانوں میں نابغہ ہے تو اسے کم از کم چھ یا سات عالمی زبانوں کا ماہر بنایا جائے۔ اگر کسی میں سائنسی ذہن غالب ہے تو اسے سائنس اور اسلام کے تعلق پر عالمی سطح کا محقق بنایا جائے۔ اگر کسی میں میڈیا کی صلاحیت ہے تو اسے عالمی ذرائع ابلاغ، ڈیجیٹل کمیونیکیشن، فلم، ڈاکومنٹری اور جدید ابلاغی تکنیکوں کا ماہر بنایا جائے۔

یعنی نصاب طالب علم کے مطابق ہو، طالب علم نصاب کے مطابق نہ ڈھالا جائے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں روایتی نظام سے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔
حضرت علامہ ارشد القادری رحمۃ اللہ علیہ کے دعوتی وژن کا اصل محور داعیوں کی کثرت نہیں بلکہ ایسے عبقری، عالمی اور ہمہ جہت رجالِ دعوت کی تیاری تھا جو علم، حکمت، کردار، بصیرت اور قیادت میں اپنے عہد کے نشانِ امتیاز ہوں۔
امت کے ان غیر معمولی دماغوں (High Potential Muslim Talent) کی تلاش ہے جو فطری ذہانت، علمی وسعت، اخلاقی پختگی، دینی مزاج، قائدانہ صلاحیت، مسلسل جدوجہد، دعوتی جذبے اور اعلیٰ کردار کا حسین امتزاج ہوں۔ ایسے نوجوان جو عصری علوم، سائنس، ٹیکنالوجی، فلسفہ، قانون، معیشت یا دیگر جدید شعبوں میں امتیازی صلاحیت رکھتے ہوں، ساتھ ہی قرآن، حدیث، عربی زبان اور اسلامی علوم سے بنیادی واقفیت، دین سے وابستگی، دعوتِ اسلام کا شوق، امت کا درد، اللہ کی رضا کے لیے قربانی کا جذبہ اور روحانی ارتقاء کی استعداد بھی رکھتے ہوں۔ اور پھر انہیں مسلسل علوم اسلامیہ کا ماہر اور عملی دعوتی ٹریننگ کرائی جائے اور سب کچھ طویل مدتی ہو، منصوبہ بند ہو اور مقصد عظیم کے ساتھ ہو۔ مشن اور لگن کے امتزاج کے ساتھ ہو۔

اس مقصد کے لیے سب سے پہلے مختلف شعبہ ہائے علم کے ممتاز ماہرین پر مشتمل ایک مستقل "عالمی ٹیلنٹ سرچ کونسل" (Global Da'wah Talent Council) قائم کی جائے، جس میں محدث، فقیہ، مفسر، فلسفی، ماہرِ تعلیم، ماہرِ نفسیات، سائنس دان، ماہرِ مصنوعی ذہانت، میڈیا ایکسپرٹ، ماہرِ نظم و نسق، دعوتی قائدین اور روحانی تربیت کے اہلِ نظر شامل ہوں۔ یہ کونسل دنیا بھر میں ایسے نوجوانوں کی منظم تلاش کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے، جو مدارس، یونیورسٹیوں، IIT، IIM، AIIMS، IISc، بین الاقوامی جامعات، تحقیقی اداروں، اولمپیاڈز، مقابلہ جاتی امتحانات، اسٹارٹ اپس، دعوتی مراکز اور مسلم کمیونٹیز میں مسلسل ٹائلنٹ ہنٹنگ (Talent Scouting) کا کام انجام دیں۔

انتخاب صرف امتحان کی بنیاد پر نہ ہو بلکہ کئی مراحل پر مشتمل ہو؛ علمی استعداد، تجزیاتی صلاحیت، قائدانہ وصف، دعوتی مزاج، نفسیاتی استحکام، اخلاق، اخلاص، اجتماعی کام کی صلاحیت، ملٹی لنگول قابلیت، ابلاغی مہارت، تنقیدی فکر اور علمی دیانت کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے۔ اس مقصد کے لیے عالمی معیار کے Assessment Centers، نفسیاتی پروفائلنگ، علمی مباحث، تحریری امتحانات، عملی دعوتی مشقیں، انٹرویوز اور طویل Observation Period اختیار کیا جائے۔

منتخب افراد کو مکمل طور پر فکرِ معاش سے آزاد کر دیا جائے۔ انہیں خطیر تعلیمی وظائف، رہائش، سفر، تحقیق، کتب، ڈیجیٹل وسائل اور عالمی تربیت کے تمام اخراجات ادارہ برداشت کرے، تاکہ وہ معاشی اضطراب کے بغیر اپنی پوری ذہنی صلاحیت دین کی خدمت کے لیے وقف کر سکیں۔ یہ سرمایہ خرچ نہیں بلکہ امت کے مستقبل پر طویل المدت سرمایہ کاری سمجھا جائے۔ شاید صرف ایک ایسے جینیس کی تلاش میں ہی لاکھوں خرچ ہوں اور پھر ان کی تعلیم و تربیت پر بھی لاکھوں یا کروڑوں کا بجٹ ہو۔ لیکن یقین مانیں کہ اگر مسلسل Hit & trial کے بعد دس سالوں میں بھی کوئی ایک رجال دعوت بھی عالمی دعوتی معیار پر کھرا اترنے والا تراش لیا گیا تو وہ لاکھوں دینی فارغین مدارس کے مقابلے میں تن تنہا کافی، وافی اور شافی ہوگا۔ وہ ایک ایونٹ میں دینی پروجیکٹ کے لیے کروڑوں کے فنڈز بھی جٹا سکے گا۔ اور اگر چند تیار ہوگئے تو شاید دنیا کا نقشہ ہی بدل کر رکھ دے۔ دنیا کی ٹاپ یونیورسٹیوں کے مقابلے میں اسلامی یونیورسٹی کھڑی کردے، پوری سائنسی کو مسلمان کردے۔ ٹھیک اسی طرح جس طرح امام غزالی نے گمراہ کن فلسفے کو ہی مسلمان بنا دیا۔ جو فلسفہ گمرہی کا باعث تھا ایصال الی المطلوب کا حامل بن گیا۔

تربیت کا پہلا مرحلہ اسلامی علوم میں گہرائی پیدا کرنے کا ہو، جہاں اکابر علماء سے قرآن، حدیث، فقہ، اصول، عقائد، مقاصدِ شریعت، سیرت، تاریخِ اسلام، فلسفۂ اسلام، تقابلی ادیان، عربی ادب اور اسلامی تہذیب کی اعلیٰ تعلیم دلوائی جائے۔ دوسرا مرحلہ جدید علوم و فنون کا ہو، جس میں فلسفۂ جدید، سائنس، ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، معاشیات، بین الاقوامی قانون، سفارت کاری، میڈیا، نفسیات، سماجیات، جغرافیائی سیاست (Geopolitics)، تہذیبی مطالعات، ڈیجیٹل کمیونیکیشن اور عالمی فکری رجحانات پر خصوصی مہارت پیدا کی جائے۔

اس کے بعد روحانی و اخلاقی تربیت کا مستقل مرحلہ ہو، جہاں منتخب افراد کو اہلِ اللہ، مشائخِ تربیت اور اصحابِ احسان کی نگرانی میں تزکیۂ نفس، اخلاص، تقویٰ، حسنِ اخلاق، خدمتِ خلق، مجاہدۂ نفس، ذکر، فکر، توکل، انکسار اور دعوتی آداب کی عملی تربیت دی جائے، تاکہ ان کی علمی عظمت، روحانی بصیرت سے متوازن ہو اور شخصیت علم و عمل کا حسین نمونہ بن جائے۔

تربیت کا اگلا مرحلہ عملی دعوت کا ہو، جس میں انہیں چند برس دنیا کے معروف اور کامیاب داعیوں، مفکرین اور عالمی مبلغین کی معیت میں رکھا جائے، تاکہ وہ دعوت، مناظرہ، مکالمہ، قیادت، ادارہ سازی، فنڈ ریزنگ، میڈیا ہینڈلنگ، بحرانوں کے انتظام، عالمی تعلقات اور عوامی ابلاغ کے عملی اسرار و رموز سیکھ سکیں۔ اس کے بعد انہیں مختلف ممالک، تہذیبوں، عالمی جامعات، اقوامِ متحدہ، پارلیمانوں، تحقیقی اداروں، میڈیا ہاؤسز، بین المذاہب مراکز، سفارتی حلقوں اور بین الاقوامی کانفرنسوں میں بھیجا جائے، تاکہ وہ دنیا کو قریب سے دیکھیں، سمجھیں اور اسلام کو اس کی حقیقی زبان میں پیش کرنے کی صلاحیت حاصل کریں۔

آخری مرحلے میں انہیں اکیسویں صدی کے ابھرتے ہوئے چیلنجز—الحاد، سیکولرازم، لبرل ازم، فیمینزم، LGBTQ نظریات، اسلاموفوبیا، مصنوعی ذہانت، جینیاتی انجینئرنگ، ٹرانس ہیومنزم، ماحولیاتی اخلاقیات، ڈیجیٹل جنگ، اطلاعاتی پروپیگنڈا، سائبر میڈیا، عالمی معیشت، بین الاقوامی قانون اور تہذیبی تصادم—سے نمٹنے کے لیے خصوصی تربیت دی جائے، تاکہ وہ صرف مدافع نہ رہیں بلکہ اسلامی فکر کے مؤثر ترجمان، قائد اور عالمی علمی مکالمے کے رہنما بن سکیں۔

اس پورے منصوبے کا نصب العین صرف ایک عالم یا خطیب تیار کرنا نہیں، بلکہ ایسا *رجل الدعوہ* تیار کرنا ہو کہ جب دنیا میں اسلام، دعوت، مناظرہ، فکری قیادت اور تہذیبی مکالمے کا ذکر ہو تو اس کا نام خود اسلام کی علمی، اخلاقی اور تہذیبی نمائندگی کی علامت بن جائے۔ یہی وہ تصور ہے جو رئیس القلم حضرت علامہ ارشد القادری رحمۃ اللہ علیہ کے دعوتی خواب کو ایک عالمی اور دائمی تحریک میں تبدیل کر سکتا ہے۔
جامعہ حضرت نظام الدین اولیاء دہلی، ورلڈ اسلامک مشن اور حضرت علامہ ارشد القادری رحمۃ اللہ علیہ سے نسبت رکھنے والے تمام ادارے اس منصوبے کو اپنی مشترکہ دعوتی ترجیح بنائیں اور ایک عالمی مرکزِ رجال الدعوہ کے قیام کے ذریعے اس خواب کو ادارہ جاتی شکل دیں۔

اگر آئندہ چند دہائیوں میں امت ایسے چند رجالِ دعوت بھی تیار کرنے میں کامیاب ہوگئی جو علم، کردار، قیادت، تحقیق، حکمت اور عالمی اثر و رسوخ میں اپنے عہد کے ممتاز نمائندے ہوں، تو وہ تنہا اپنی علمی وقعت، دعوتی اعتماد اور بین الاقوامی قبولیت کے ذریعے درجنوں جامعات، تحقیقی مراکز اور دعوتی اداروں کے قیام، استحکام اور امت کی فکری قیادت کا ذریعہ بن سکتے ہیں، اور یہی حضرت علامہ ارشد القادری رحمۃ اللہ علیہ کے دعوتی خواب کی حقیقی تعبیر ہوگی۔

بقلم
محمد نورالدین ازہری
دہلی ۔ انڈیا

بمصطفیٰ برساں خویش را کہ دیں ہمہ اوستچوں باو نہ رسیدی ہمہ بولہب ہست *ہر وہ کام جو اللہ اور رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسل...
31/08/2026

بمصطفیٰ برساں خویش را کہ دیں ہمہ اوست
چوں باو نہ رسیدی ہمہ بولہب ہست

*ہر وہ کام جو اللہ اور رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو پسند ہے۔ وہی دین ہے۔*

تو وہ کون کون سے کام ہیں جو اللہ اور رسول کو پسند ہیں؟ اور وہ کون سے کام ہیں جو اللہ اور رسول کو پسند نہیں ہیں؟

*تو اس کا سب سے خوبصورت جواب یہ ہے کہ*

جو قرآن و سنت سے منصوص ہیں وہ اعمال اللہ اور رسول کو پسند ہیں اور جو قرآن و سنت کے خلاف ہیں اگرچہ اس کا نام کچھ بھی رکھ لیا جائے وہ بولہبی ہے۔ جہنم لے جانے والا راستہ ہے۔

*آئیے ہم محاسبہ کرتے ہیں اس ماہِ نور میں ہم نے وہ کون کون سے کام کئے جو اللہ تعالیٰ اور رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پسند ہیں۔؟*

*محمد شہادت حسین فیضی*

Address

Jalwabad
Koderma
825410

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Madrasa Madinatur Rasool posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Madrasa Madinatur Rasool:

Shortcuts

Share

Category