Ab Rahim

Ab Rahim ہو میرا کام غریبوں کی حمایت کرنا

05/02/2026

نُمَتِّعُہُمۡ قَلِیۡلًا ثُمَّ نَضۡطَرُّہُمۡ اِلٰی عَذَابٍ غَلِیۡظٍ ﴿۲۴﴾. وَ لَئِنۡ سَاَلۡتَہُمۡ مَّنۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ لَیَقُوۡلُنَّ اللّٰہُ ؕ قُلِ الۡحَمۡدُ لِلّٰہِ ؕ بَلۡ اَکۡثَرُہُمۡ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۲۵﴾

ہم انہیں گو کچھ یونہی سا فائدہ دے دیں لیکن ( بالآخر ) ہم انہیں نہایت بیچارگی کی حالت میں سخت عذاب کی طرف ہنکالے جائیں گے ۔. اگر آپ ان سے دریافت کریں کہ آسمان و زمین کا خالق کون ہے؟ تو یہ ضرور جواب دیں گے کہ اللہ تو کہہ دیجئے کہ سب تعریفوں کے لائق اللہ ہی ہے لیکن ان میں کے اکثر بے علم ہیں ۔

18/01/2026

سُبۡحٰنَ الَّذِیۡۤ اَسۡرٰی بِعَبۡدِہٖ لَیۡلًا مِّنَ الۡمَسۡجِدِ الۡحَرَامِ اِلَی الۡمَسۡجِدِ الۡاَقۡصَا الَّذِیۡ بٰرَکۡنَا حَوۡلَہٗ لِنُرِیَہٗ مِنۡ اٰیٰتِنَا ؕ اِنَّہٗ ہُوَ السَّمِیۡعُ الۡبَصِیۡرُ ﴿۱﴾

پاک ہے وہ اللہ تعالٰی جو اپنے بندے کو رات ہی رات میں مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک لے گیا جس کے آس پاس ہم نے برکت دے رکھی ہے اس لئے کہ ہم اسے اپنی قدرت کے بعض نمونے دکھائیں یقیناً اللہ تعالٰی ہی خوب سننے دیکھنے والا ہے ۔. 1: اس سے معراج کے واقعے کی طرف اشارہ ہے جس کی تفصیل حدیث اور سیرت کی کتابوں میں آئی ہے، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت جبرئیل (علیہ السلام) آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور رات کے وقت انہیں ایک جانور پر سوار کیا جس کا نام براق تھا، وہ انتہائی تیز رفتاری کے ساتھ آپ کو مسجد حرام سے بیت المقدس تک لے گیا، یہ سفر معراج کا پہلا مرحلہ تھا، جسے اسراء کہا جاتا ہے، پھر وہاں سے حضرت جبریئل (علیہ السلام) آپ کو ساتوں آسمانوں پر لے گئے، ہر آسمان پر آپ کی ملاقات پچھلے پیغمبروں میں کسی پیغمبر سے ہوئی، اس کے بعد جنت کے ایک درخت سدرۃ المنتہی پر تشریف لے گئے، اور آپ کو اللہ تعالیٰ سے براہ راست ہم کلامی کا شرف عطا ہوا، اسی موقع پر اللہ تعالیٰ نے آپ کی امت پر پانچ نمازیں فرض فرمائیں، پھر رات ہی رات میں آپ واپس مکہ مکرمہ تشریف لے آئے، اس آیت میں اس سفر کے صرف پہلے حصے کا بیان اس لئے کیا گیا ہے کہ آنے والے تذکرے سے اسی کا تعلق زیادہ تھا، البتہ سفر کے دوسرے حصے کا تذکرہ سورۃ نجم : 27۔ 13 تا 18 میں آیا ہے، صحیح روایات کے مطابق یہ معجزانہ سفر بیداری کی حالت میں پیش آیا تھا اور اس طرح اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کی ایک عظیم نشانی آپ کو دکھائی گئی تھی، یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ یہ واقعہ بیداری کے بجائے خواب میں دکھایا گیا ؛ کیونکہ یہ بات صحیح احادیث کے تو خلاف ہے ہی قرآن کریم کا اسلوب واضح طور پر یہ بتارہا ہے کہ یہ غیر معمولی واقعہ تھا جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی ایک نشانی قرار دیا ہے، اگر یہ صرف ایک خواب کا واقعہ ہوتا تو یہ کوئی غیر معولی بات نہیں تھی، انسان خواب میں بہت کچھ دیکھتا رہتا ہے، پھر اسے اپنی ایک نشانی قرار دینے کے کوئی معنی نہیں تھے۔

20/12/2025

کلام رفیق طاہر کاؤچکی

یا رب

شروع کرتے ہیں سارے کام تمہارے نام سے یا رب
نجی ہو ، خاص ہو یا عام تمہارے نام سے یا رب

تیری رحمت برستی ہے تیرا سایہ وہاں ہوتا
جہاں کرتے ہیں صبح وشام تمہارےنام سے یا رب

فرشتے بھی دعا کرتے ہیں وہ محفل رہے قائم
جہاں دکھتے ہیں سب گلفام تمہارے نام سے یا رب

اسی کا پار ہو بیڑا رضا جس کو تیری حاصل
نہیں اس میں کوئی ابہام تمہارے نام سے یا رب

پسند ان کو تو کرتا ہےکرےبندوں کی جو خدمت
یتیموں کا کرے اکرام تمہارے نام سے یا رب

تیری نظروں میں جو بھی ہیں معززانکے سائے میں
عطا ہو ہم کو کچھ انعام تمہارے نام سے یا رب

ہر اک پتا ہر اک بوٹا تیری تسبیح ہی کرتے ہیں
ملے طاہر کو بھی الہام تمہارے نام سے یا رب

02/07/2025

اسلام علیکم ورحمتہ الله وبرکاتہ مومنو اٹھو اور سنو قرآن کہتا ھے کہ اپنے رب کی طرف تضرع اور زاری سے جھکتے رہیں اسی کے دامن رحمت کا پلہ ھر حال میں تھامتے رہیں اسلئےاس سے اللہ کہتے ہیں۔ ھر مخلوق کو ھر مصیبت سے نجات دینے والا اللہ سبحانہ وتعالی ھے اس لئے اس سے اللہ کہتے ہیں، الرحمن الرحیم یہ دونوں نام رحمت سے مستق ہیں،جو شخص الله تعالٰی سے نہ مانگے اللہ تعالی اس پر غضبناک اور نارض ھوتا ھے چاہیے اللہ سے پکارو یا رحمان سے پکارو، اس کے سب بہت اچھے اچھے نام ہیں، اس کی ناراضگی سے بچو، جب پکارنا ھو تو اللہ کو پکارو، وہی ھمارے مشکلات کا سننے والا اور ان کا حل کرنے والا ھے اور ھر مشکل سے نجات دینے والا ھے، اس طرح بسم الله الرحمٰن الرحیم، کا ترجمہ برابر ھوا دعا کریں اللہ تعالی ہمیں دین کو سمجھنے اور پھر اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائیں آمین یا رب العالمین، (باقی انشاء اللہ کل)

18/03/2025

Assalamualaikum Sir/Madam
As we prepare to celebrate Eid , inshallah, let's unite to support families facing hardship. We've identified a good number of widow-headed and destitute families who need our support .They will receive Eid kits worth 2000 inshallah. Your contribution will make this initiative successful. Join us in spreading joy and easing the burden for those in need. Together, we can make a meaningful difference in the lives of these families. You can transfer to the below account.
J&K Yateem Foundation.
Account no 923020024408374
Bank Axis Bank
Branch: Kupwara
IFSC Code: UTIB0001969


Note: Please send screenshot of the transaction to Whatsap no. 7006980654

Regards

28/02/2025

رمضان المبارک میں کرنے کے کام:
1: روزہ رکھنا۔
2۔پانچ وقت نماز کی پابندی
3۔زیادہ سے زیادہ قرآن پاک کی تلاوت کریں ،سمجھیں ،عمل کریں۔اٹھتے بیٹھتے اپنے موبائل میں کوئی بھی قرآن app download کر لیں اور جب بھی فارغ ہوں پڑھنا شروع کر دیں۔،یا head phones لگا کر سننا شروع کر دیں۔۔۔
4: فضول باتوں سے پرہیز کریں۔
5: فضول کام جیسے social میڈیا کو کُچھ دِنوں کے لئے چھوڑ دیں،بندکردیں۔کیوں کہ کبھی بھی وہاں پر نامناسب تصاویر آپ کے سامنے آ سکتی۔
6: وقت کی قدر کریں ہر وقت زبان پر اللہ تعالیٰ کا ذکر ہو۔
سبحانَ اللهِ والحمدُ للهِ ولا إلهَ إلا اللهُ واللهُ أكبرُ ولا حولَ ولا قوةَ إلا باللهِ العليِّ العظیم۔
سبحان اللہ وبحمده سبحان الله العظيم۔
استغفراللہ۔
آیت الکرسی ۔
درود شریف ۔
7: اللہ سے دل لگائیں، باتیں کریں ،سحری سے 1 گھنٹہ پہلے جاگ جائیں،لمبی دعائیں کریں ،اپنے سجدوں کو طول دیں،اللہ سے اپنی ہدایت کے لئے دعا کریں۔
8۔نیند کم کر دیں۔
9۔اللہ سے توبہ اور استغفار کرتے رہیں ۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
بہت افسوس ہے اُس شخص پر جو رمضان المبارک کو پائے اور خود کو بخشوا نہ سکے ۔۔۔
10: افطاری کے نام پر پیسوں اور وقت کو ضاٸع نہ کریں۔اتنا انتظام کریں جتنی ضرورت ہو۔
11: زیادہ سے زیادہ صدقہ کریں کیوں کہ رمضان المبارک میں نیکیوں کا اجر بڑھ جاتا ہے۔
12: اپنی عبادات اور صدقات کو مخفی رکھیں۔
13: اپنے ساتھ دوسروں کو افطاری میں شرکت کی دعوت دیں۔
14: افطاری میں دیر نہ کریں ۔
15: لڑائی جھگڑا،غصّہ ،لغویات ،چغلی ،غیبت ،بری باتیں چھوڑ دیں۔
16: شب قدر کو تلاش کریں.
17: افطاری سے پہلے سارے کام چھوڑ دیں اور خلوص نیت سے دعائیں کریں۔۔۔
اللہ تعالی ہمیں رمضان المبارک کی رحمتیں ،برکتیں سمیٹنے کی توفیق عطا فرمائے.

*صبح بخیر*

&&&&&&&&&&&&&&&&&&&&&&&&&&&&&&&&&&&&&&&&&&&&&

14/01/2025

Surat No 39 : سورة الزمر - Ayat No 49

فَاِذَا مَسَّ الۡاِنۡسَانَ ضُرٌّ دَعَانَا ۫ ثُمَّ اِذَا خَوَّلۡنٰہُ نِعۡمَۃً مِّنَّا ۙ قَالَ اِنَّمَاۤ اُوۡتِیۡتُہٗ عَلٰی عِلۡمٍ ؕ بَلۡ ہِیَ فِتۡنَۃٌ وَّ لٰکِنَّ اَکۡثَرَہُمۡ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۴۹﴾

انسان کو جب کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو ہمیں پکارنے لگتا ہے ، پھر جب ہم اسے اپنی طرف سے کوئی نعمت عطا فرما دیں تو کہنے لگتا ہے کہ اسے تو میں محض اپنے علم کی وجہ سے دیا گیا ہوں بلکہ یہ آزمائش ہے لیکن ان میں سے اکثر لوگ بے علم ہیں ۔ Surat No. 39 Ayat NO. 49
سورة الزُّمَر حاشیہ نمبر :65 یعنی جسے اللہ کے نام سے چڑ ہے اور اکیلے اللہ کا ذکر سن کر جس کا چہرہ بگڑنے لگتا ہے ۔ سورة الزُّمَر حاشیہ نمبر :66 اس فقرے کے دو مطلب ہو سکتے ہیں ۔ ایک یہ کہ اللہ جانتا ہے کہ میں اس نعمت کا اہل ہوں ، اسی لیے اس نے مجھے یہ کچھ دیا ہے ، ورنہ اگر اس کے نزدیک میں ایک برا اور بد عقیدہ اور غلط کار آدمی ہوتا تو مجھے یہ نعمتیں کیوں دیتا ۔ دوسرا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ تو مجھے میری قابلیت کی بنا پر ملا ہے ۔ سورة الزُّمَر حاشیہ نمبر :67 لوگ اپنی جہالت و نادانی سے یہ سمجھتے ہیں کہ جسے کوئی نعمت مل رہی ہے وہ لازماً اس کی اہلیت و قابلیت کی بنا پر مل رہی ہے ، اور اس نعمت کا ملنا اس کے مقبول بارگاہ الہٰی ہونے کی علامت یا دلیل ہے ۔ حالانکہ یہاں جس کو جو کچھ بھی دیا جا رہا ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش کے طور پر دیا جا رہا ہے ۔ یہ امتحان کا سامان ہے نہ کہ قابلیت کا انعام ، ورنہ آخر کیا وجہ ہے کہ بہت سے قابل آدمی خستہ حال ہیں اور بہت سے ناقابل آدمی نعمتوں میں کھیل رہے ہیں ۔ اسی طرح یہ دنیوی نعمتیں مقبول بارگاہ ہونے کی علامت بھی نہیں ہیں ۔ ہر شخص دیکھ سکتا ہے کہ دنیا میں بکثرت ایسے نیک آدمی مصائب میں مبتلا ہیں جن کے نیک ہونے سے انکار نہیں کیا جا سکتا اور بہت سے برے آدمی ، جن کی قبیح حرکات سے ایک دنیا واقف ہے ، عیش کر رہے ہیں ۔ اب کیا کوئی صاحب عقل آدمی ایک کی مصیبت اور دوسرے کے عیش کو اس بات کی دلیل بنا سکتا ہے کہ نیک انسان کو اللہ پسند نہیں کرتا اور بد انسان کو وہ پسند کرتا ہے ؟

07/01/2025

Surat No 2 : سورة البقرة - Ayat No 177

لَیۡسَ الۡبِرَّ اَنۡ تُوَلُّوۡا وُجُوۡہَکُمۡ قِبَلَ الۡمَشۡرِقِ وَ الۡمَغۡرِبِ وَ لٰکِنَّ الۡبِرَّ مَنۡ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَ الۡمَلٰٓئِکَۃِ وَ الۡکِتٰبِ وَ النَّبِیّٖنَ ۚ وَ اٰتَی الۡمَالَ عَلٰی حُبِّہٖ ذَوِی الۡقُرۡبٰی وَ الۡیَتٰمٰی وَ الۡمَسٰکِیۡنَ وَ ابۡنَ السَّبِیۡلِ ۙ وَ السَّآئِلِیۡنَ وَ فِی الرِّقَابِ ۚ وَ اَقَامَ الصَّلٰوۃَ وَ اٰتَی الزَّکٰوۃَ ۚ وَ الۡمُوۡفُوۡنَ بِعَہۡدِہِمۡ اِذَا عٰہَدُوۡا ۚ وَ الصّٰبِرِیۡنَ فِی الۡبَاۡسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ وَ حِیۡنَ الۡبَاۡسِ ؕ اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ صَدَقُوۡا ؕ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُتَّقُوۡنَ ﴿۱۷۷﴾

ساری اچھائی مشرق اور مغرب کی طرف منہ کرنے میں ہی نہیں بلکہ حقیقتًا اچھا وہ شخص ہے جو اللہ تعالٰی پر قیامت کے دن پر فرشتوں پر کتاب اللہ اور نبیوں پر ایمان رکھنے والا ہو جو مال سے محبت کرنے کے باوجود قرابت داروں یتیموں مسکینوں مسافروں اور سوال کرنے والوں کو دے غلاموں کو آزاد کرے نماز کی پابندی اور زکٰوۃ کی ادائیگی کرے جب وعدہ کرے تب اسے پورا کرے تنگدستی دکھ درد اور لڑائی کے وقت صبر کرے یہی سچّے لوگ ہیں اور یہی پرہیزگار ہیں ۔ حاشیہ نمبر :175 مشرق اور مغرب کی طرف منہ کرنے کو تو محض بطور تمثیل بیان کیا گیا ہے ، دراصل مقصود یہ ذہن نشین کرنا ہے کہ مذہب کی چند ظاہری رسموں کو ادا کر دینا اور صرف ضابطے کی خانہ پری کے طور پر چند مقرر مذہبی اعمال انجام دینا اور تقویٰ کی چند معروف شکلوں کا مظاہرہ کر دینا وہ حقیقی نیکی نہیں ہے ، جو اللہ کے ہاں وزن اور قدر رکھتی ہے ۔

05/01/2025

الللہ تعالی ہر انسان کے دل میں ایسی ہی محبت ا شفقت عطاء کرے

04/01/2025

Surat No 2 : سورة البقرة - Ayat No 174

اِنَّ الَّذِیۡنَ یَکۡتُمُوۡنَ مَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ مِنَ الۡکِتٰبِ وَ یَشۡتَرُوۡنَ بِہٖ ثَمَنًا قَلِیۡلًا ۙ اُولٰٓئِکَ مَا یَاۡکُلُوۡنَ فِیۡ بُطُوۡنِہِمۡ اِلَّا النَّارَ وَ لَا یُکَلِّمُہُمُ اللّٰہُ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ وَ لَا یُزَکِّیۡہِمۡ ۚ ۖ وَ لَہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۱۷۴﴾

بیشک جو لوگ اللہ تعالٰی کی اُتاری ہوئی کتاب چھپاتے ہیں اور اسے تھوڑی تھوڑی سی قیمت پر بیچتے ہیں ، یقین مانو کہ یہ اپنے پیٹ میں آگ بھر رہے ہیں قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان سے بات بھی نہ کرے گا ، نہ انہیں پاک کرے گا بلکہ ان کے لئے دردناک عذاب ہے ۔ حاشیہ نمبر :173 مطلب یہ ہے کہ عام لوگوں میں یہ جتنے غلط توہمات پھیلے ہیں اور باطل رسموں اور بے جا پابندیوں کی جو نئی نئی شریعتیں بن گئی ہیں ، ان سب کی ذمہ داری ان علما پر ہے جن کے پاس کتاب الہٰی کا علم تھا مگر انہوں نے عامہ خلائق تک اس علم کو نہ پہنچایا ۔ پھر جب لوگوں میں جہالت کی وجہ سے غلط طریقے رواج پانے لگے تو اس وقت بھی وہ ظالم منہ میں گھنگنیاں ڈالے بیٹھے رہے ۔ بلکہ ان میں سے بہتوں نے اپنا فائدہ اسی میں دیکھا کہ کتاب اللہ کے احکام پر پردہ ہی پڑا رہے ۔ سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :174 یہ دراصل ان پیشواؤں کے جھوٹے دعووں کی تردید اور ان غلط فہمیوں کا رد ہے جو انہوں نے عام لوگوں میں اپنے متعلق پھیلا رکھی ہیں ۔ وہ ہر ممکن طریقے سے لوگوں کے دلوں میں یہ خیال بٹھانے کی کوشش کرتے ہیں ، اور لوگ بھی ان کے متعلق ایسا ہی گمان رکھتے ہیں کہ ان کی ہستیاں بڑی ہی پاکیزہ اور مقدس ہیں اور جو ان کا دامن گرفتہ ہو جائے گا اس کی سفارش کر کے وہ اللہ کے ہاں اسے بخشوا لیں گے ۔ جواب میں اللہ فرماتا ہے کہ ہم انہیں ہرگز منہ نہ لگائیں گے اور نہ انہیں پاکیزہ قرار دیں گے ۔

02/01/2025

Surat Maida حاشیہ نمبر :14 اس آیت میں جس چیز کو حرام کیا گیا ہے ، اس کی تین بڑی قسمیں دنیا میں پائی جاتی ہیں اور آیت کا حکم ان تینوں پر حاوی ہے : ( 1 ) مشرکانہ فال گیری ، جس میں کسی دیوی یا دیوتا سے قسمت کا فیصلہ پوچھا جاتا ہے ، یا غیب کی خبر دریافت کی جاتی ہے ، یا باہمی نزاعات کا تصفیہ کرایا جاتا ہے ۔ مشرکین مکہ نے اس غرض کے لیے کعبہ کے اندر ہبل دیوتا کے بت کو مخصوص کر رکھا تھا ۔ اس کے استھان میں سات تیر رکھے ہوئے تھے جن پر مختلف الفاظ اور فقرے کندہ تھے ۔ کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے کا سوال ہو ، یا کھوئی ہوئی چیز کا پتہ پوچھنا ہو ، یا خون کے مقدمہ کا فیصلہ مطلوب ہو ، غرض کوئی کام بھی ہو ، اس کے لیے ہبل کے پانسہ دار ( صاحب القداح ) کے پاس پہنچ جاتے ، اس کا نذرانہ پیش کرتے اور ہبل سے دعا مانگتے کہ ہمارے اس معاملے کا فیصلہ کر دے ۔ پھر پانسہ دار ان تیروں کے ذریعہ سے فال نکالتا ، اور جو تیر بھی فال میں نکل آتا ، اس پر لکھے ہوئے لفظ کو ہبل کا فیصلہ سمجھا جاتا تھا ۔ ( 2 ) توہم پرستانہ فال گیری ، جس میں زندگی کے معاملات کا فیصلہ عقل و فکر سے کرنے کے بجائے کسی وہمی و خیالی چیز یا کسی اتفاقی شے کے ذریعہ سے کیا جاتا ہے ۔ یا قسمت کا حال ایسے ذرائع سے معلوم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جن کا وسیلہ علم غیب ہونا کسی علمی طریق سے ثابت نہیں ہے ۔ رمل ، نجوم ، جفر ، مختلف قسم کے شگون اور نچھتر ، اور فال گیری کے بے شمار طریقے اس صنف میں داخل ہیں ۔ ( 3 ) جوئے کی قسم کے وہ سارے کھیل اور کام جن میں اشیاء کی تقسیم کا مدار حقوق اور خدمات اور عقلی فیصلوں پر رکھنے کے بجائے محض کسی اتفاقی امر پر رکھ دیا جائے ۔ مثلاً یہ کہ لاٹری میں اتفاقاً فلاں شخص کا نام نکل آیا ہے ، لہذا ہزار ہا آدمیوں کی جیب سے نکلا ہوا روپیہ اس ایک شخص کی جیب میں چلا جائے ۔ یا یہ کہ علمی حیثیت سے تو ایک معمہ کے بہت سے حل صحیح ہیں ، مگر انعام وہ شخص پائے گا جس کا حل کسی معقول کوشش کی بنا پر نہیں بلکہ محض اتفاق سے اس حل کے مطابق نکل آیا ہو جو صاحب معمہ کے صندوق میں بند ہے ۔ ان تین اقسام کو حرام کر دینے کے بعد قرعہ اندازی کی صرف وہ سادہ صورت اسلام میں جائز رکھی گئی ہے جس میں دو برابر کے جائز کاموں یا دو برابر کے حقوق کے درمیان فیصلہ کرنا ہو ۔ مثلاً ایک چیز پر دو آدمیوں کا حق ہر حیثیت سے بالکل برابر ہے ، اور فیصلہ کرنے والے کے لیے ان میں سے کسی کو ترجیح دینے کی کوئی معقول وجہ موجود نہیں ہے ، اور خود ان دونوں میں سے بھی کوئی اپنا حق خود چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہے ۔ اس صورت میں ان کی رضا مندی سے قرعہ اندازی پر فیصلہ کا مدار رکھا جا سکتا ہے ۔ یا مثلاً دو کام یکساں درست ہیں اور عقلی حیثیت سے آدمی ان دونوں کے درمیان مذبذب ہو گیا ہے کہ ان میں سے کس کو اختیار کرے ۔ اس صورت میں ضرورت ہو تو قرعہ اندازی کی جا سکتی ہے ۔ نبی ﷺ بالعموم ایسے مواقع پر یہ طریقہ اختیار فرماتے تھے جبکہ دو برابر کے حق داروں کے درمیان ایک کو ترجیح دینے کی ضرورت پیش آ جاتی تھی اور آپ کو اندیشہ ہوتا تھا کہ اگر آپ خود ایک کو ترجیح دیں گے تو دوسرے کو ملال ہو گا ۔::

28/12/2024

اسلام علیکم ورحمتہ الله وبرکاته مومنو اٹھو اور سنو قرآن کہتا ھے اپنے رب خدا کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کرو یعنی اس کے ساتھ کوئی معبود نہ بنانا اگر ایسا کرو گے تو ذلیل ھو جاو گے، الله کی مدد ہٹ جائے گی جس کی عبادت کرو گے اسی کے سپرد کردئیے جاو گے اور یہ ظاہر ھے اللہ کے سوا کوئی نفح نقصان کا مالک نہیں،وہ واحد و لاشریک ھے اگر اس ذات پاک کے سوا کسی اور کا نام بھی اس کی عبادت یا اپنے دعا میں شامل کیا تو اللہ تعالی تمہیں بےکس اور بدحالوں ھوکر چھوڑے گا اور اسی میں بیٹھے رہ جاو گے اور طرح طرح کی پریشانیوں، تکالیف مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑے گا، کوئی برکت نہیں ھوگی جب تک تو مر جائے گا پھر قبر تمہارے لئے سزا کی آرام گاہ ھوگی دعا کریں اللہ تعالی ہمیں اپنے سوا کسی کی عبادت یا کسی کے سامنے اپنے حاجات مانگنے سے نجات دیں آمین یا رب العالمین (باقی انشاء اللّه کل)

Address

Kupwara
193222

Telephone

+919906651659

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Ab Rahim posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Ab Rahim:

Share

Category