Masjid Al-Umar Hanjipora Seeloo

Masjid Al-Umar Hanjipora Seeloo وَ اسۡتَعِیۡنُوۡا بِالصَّبۡرِ وَ الصَّلٰوۃِ ؕ وَ اِنّ?

اسلام علیکم ورحمتہ اللہ! موسم ناساز ہونے کی حالت میں نماز عید الفطر مرکزی جامع مسجد العمر ہا نجی پورہ سیلو میں 8:30 بجے ...
18/03/2026

اسلام علیکم ورحمتہ اللہ!
موسم ناساز ہونے کی حالت میں نماز عید الفطر مرکزی جامع مسجد العمر ہا نجی پورہ سیلو میں 8:30 بجے ادا کی جائے گی انشاء اللہ ۔

17/08/2024
سوال گندم جواب چنا ( حضرت مولانا رحمت اللہ میر صاحب کی تحریر کا جواب )بسم اللہ الرحمن الرحیمراقم نے مولانا رحمت اللہ میر...
24/07/2024

سوال گندم جواب چنا ( حضرت مولانا رحمت اللہ میر صاحب کی تحریر کا جواب )

بسم اللہ الرحمن الرحیم
راقم نے مولانا رحمت اللہ میر صاحب سے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی گستاخی اور گستاخی کرنے والوں کے ساتھ بیٹھنے کے سلسلے میں چند سوالات پوچھے تھے جن کے جواب میں گزشتہ کل مولانا نے لکھا تھا کہ کوئی جواب نہ دے اور آج جوابی طور پر کچھ سطور لکھ دی ہیں جن کا اصل موضوع سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔ مولوی صاحب نے اپنے مریدوں اور متعلقین کا دھیان اصل باتوں سے ہٹاکر دوسری طرف لیجانے کی کوشش کی ہے تاکہ شخصی اعتقاد میں کوئی فرق نہ آپائے ، باقی رہے سیدنا امیر معاویہ اور اہل السنة والجماعة کا منشور اس کی فکر نہ حضرت جی نے کی ہے اور ناہی ان کے متعلقین کو اس سے کوئی خاص دلچسپی ہے۔ اندازہ کریں کہ سیدنا امیر معاویہ کی گستاخی پر نہ مولوی صاحب بولے اور ناہی ان کے تربیت یافتہ مرید لیکن اپنی ذات کے دفاع میں مولوی صاحب کل سے دو تحریریں لکھ چکے ہیں۔ ان کے بعض شخصی مرید کل سے تڑپ رہے ہیں کیونکہ ان کے پیر سے دو چار سوالات پوچھ لئے گئے ہیں لیکن یہ تڑپ صحابی رسول کی بےادبی کے وقت دیکھنے میں نہیں ملی۔ اے اہل السنة ، اے اہل السنة ، اے دیوبندیوو مبارک ہو ، مبارک ہو اور مبارک ہو کیونکہ تم اپنے پیر کیلئے نہیں بلکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی کیلئے تڑپ گئے اور تمہارے دل جل اٹھے ، اور تم نے اپنے احساسات کا اظہار کیا جبکہ تمہارے مسئولین اپنے اور اپنی گدی کے دفاع میں لگے ہوے ہیں۔ رضینا قسمة الجبار فینا ۔۔۔۔۔۔۔ الحمدللہ

( ١ ) اب آئے حضرت مولوی صاحب کی تحریر کی طرف۔ پہلی بات ! مولوی صاحب نے کل لکھا تھا کہ کوئی جواب نہ دے کیونکہ نعمان ہمیں بےایمان سمجھتا ہے جس پر میں نے اسی وقت رد کیا تھا کہ یہ غلط ہے ، میں نے ان کی خدمت میں لکھا تھا کہ میں آپ اور آپ کے متعلقین کو بےایمان نہ سمجھتا تھا اور ناہی سمجھتا ہوں ، آپ جواب دینے کے بجائے سیاسی داو پیچ کھیل رہے ہیں ، مشرق کی بات مغرب میں داخل کررہے ہیں ، قارئین سمجھ لیں ! میری بات یہ تھی اور ہے کہ اگر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو مکار کہنے کے بعد آپ فورا انہی بےادبوں کے ساتھ بیٹھ سکتے ہیں تو بالفرض اگر آپ کو مکار کہا جائے تو آپ کے متعلقین ہمارے ساتھ ہنس کر کیوں نہیں بیٹھ سکتے ؟ اگر نہیں بیٹھ سکتے تو یہ بےایمانی ہوگی جو کہ بلکل ہوگی۔ اب چونکہ آپ کے پاس اس بات کا کوئی جواب نہیں ہے لہذا لوگوں کو بھڑکانے کیلئے لکھ دیا کہ نعمان ہمیں بےایمان کہہ رہا ہے۔ لیکن گزشتہ کل کے اس عدم جواب کے اعلامیہ کے باوجود آج مولوی صاحب نے کچھ سطور لکھ دی ہیں جس سے پتہ چلتا ہے کہ مولوی صاحب نے اپنی گزشتہ کل کی غلط بات واپس لے لی ہے یا اپنے متعلقین کو ویسا تسلیم کرلیا ہے۔ ہاں ایک تیسرا احتمال بھی ہے اور وہ یہ کہ یہ تحریر رحیمیہ مسجد میں اعتکاف کرنے والوں کو مطمئن کرنے کیلئے لکھی گئی ہو جنہوں نے کل سے معقول سوالات پوچھ پوچھ کر حضرت جی کو گزشتہ کل کے بیان سے ہٹ جانے پر مجبور کردیا۔ احتمال کی تعیین فریق مخالف ہی کرسکتا ہے۔
( ٢ ) اب ذرا اصل مسئلے کو سمجھتے ہیں ، مسئلہ یہ نہیں ہے کہ کیا ملی مشترکہ مسائل کے حل کیلئے روافض کے ساتھ بیٹھ سکتے ہیں یا نہیں جس پر تحریر میں لے دے کی گئی ہے ، یہ تو میں بھی مانتا ہوں کہ اگر محلے کا ٹرانسفارمر خراب ہوجائے تو اسے سدھارنے کیلئے محلے کے مسلمان ، سکھ ، پنڈت سب کو نکلنا ہوگا اور اسے اتفاق و اتحاد سے ٹھیک کروانا ہوگا ، اسی طرح اگر علاقائی سیاسی مشترکہ مسائل کے سلسلے میں سب مل بیٹھیں تو یہ بھی ٹھیک ہے ، یہ تو جھگڑا ہی نہیں اور مولوی صاحب بھی اتنی کم سمجھ نہیں رکھتے کہ وہ ہماری بات نا سمجھتے ہوں ، ہاں ان کے مریدوں کا ہمیں نہیں پتہ کیونکہ انہیں ان کے پیر صاحب لفاظی کے جال میں گھمارہے ہیں اور وہ فخریہ گھوم بھی رہے ہیں۔ بات یہ ہے اور مدعا یہ ہے کہ ایک رافضی کھلے عام سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی بےادبی کررہا ہے اور اس بےادبی پر پکڑ کے بجائے آپ اس کے ساتھ بیٹھ جاتے ہیں اتحاد اتحاد کا درس دینے کیلئے۔ ملی مشترکہ مسائل کے سلسلے میں شیعوں اور دیگر لوگوں کے ساتھ بیٹھنا الگ مسئلہ ہے اور ایک صحابی کی گستاخی کے بعد گستاخی کرنے والے رافضی ہی کے بغل میں بیٹھ کر اسے تحفظ دینا بلکل ایک الگ بات ہے۔ ہم آپ سے اس دوسری صورت کے بارے میں سوالات پوچھ رہے ہیں اور آپ پہلی صورت کو ثابت کررہے ہیں ، اسی کو کہتے ہیں سوال گندم اور جواب چنا۔
( ٣ ) مولوی صاحب نے امام اہل السنة علامہ عبدالشکور لکھنوی رحمہ اللہ کے حوالے سے سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ اور سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا واقعہ نقل کیا ہے ، اندازہ کریں کہ حضرت مولوی صاحب سیدنا امیر معاویہ کے دفاع میں تو استعمال نہیں ہورہے البتہ امیر معاویہ کا واقعہ حضرت جی کے دفاع میں استعمال ہورہا ہے۔
وائے ناکامی متاع کارواں جاتا رہا
کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا
امیر معاویہ کا نام بھی لیا تو اپنے دفاع کے لئے۔ خیر ، اسی واقعے کو دیکھ لیجئے ، اس میں لکھا ہے کہ سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ جو ایک صحابی ہیں ان کے لئے برا ارادہ رکھنے والے پر دوسرے صحابی سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ غضب ناک ہورہے ہیں اور مولوی صاحب کے نقل کردہ الفاظ کے مطابق اُسے کتا تک لکھتے ہیں ، یہی بات تو یہ چھوٹا سا طالب علم آپ کو سمجھا رہا ہے کہ صحابی کے بارے میں برا ارادہ رکھنے والے اور اس کی بےادبی کرنے والے پر غضب ناک ہوا جاتا ہے ، مسکراتے چہروں کے ساتھ اس کے بغل میں بیٹھ کر اہل السنة کے سینوں پر چھریاں نہیں چلائی جاتیں۔ الحمدللہ میں سیدنا امیر معاویہ کے طریقے پر ہوں لیکن آپ کن کے طریقے پر ہیں اور کسے خوش کررہے ہیں ؟ ذرا سوچئے
اور کوئی مولوی صاحب سے جاکر پوچھے کہ کیا اہل السنة اور روافض کا اختلاف اسی نوعیت کا ہے جیسا سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ اور سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا تھا ؟ موجودہ تنازع پر صحابہ کے اختلاف کی مثال دینا بدترین خیانت ہے جیسا کہ بچہ بچہ سمجھ سکتا ہے۔ اس واقعے کو نقل کرکے مولوی صاحب لوگوں کے اذہان کس ہلکے پن کی طرف لے جارہے ہیں اہل فہم نوٹ کرلیں۔
( ٤ ) دوسرا حوالہ مولوی صاحب نے حضرت شیخ الہند نور اللہ مرقدہ کا دیا ہے کہ انہوں نے مولانا عبیداللہ سندھی کے ہوتے ہوے راجا مہندر پرتاب کو کمانڈر بنایا تھا۔ مجھے حضرت جی کے متعلقین پر ترس آرہا ہے جو اس حوالے پر خوش ہورہے ہیں۔ کیا علم صحیح ، فہم سلیم اور صحبت صالح ہے سبحان اللہ۔ کیا آپ کو دو باتوں میں فرق سمجھ نہیں آرہا ؟ کہاں انگریزوں کے مقابلے میں مہاراجہ کے طاقتور ہونے کی وجہ سے اسے کمانڈر بنانا اور کہاں سرینگر کی متحدہ مجلس کی میٹنگ۔ انگریزوں کا مقابلہ ہے ، مولانا عبیداللہ سندھی کے پاس اپنی کوئی فوج نہیں ہے ، مہاراجہ طاقتور ہے ، ظاہر سی بات ہے کہ انگریز سے لڑنے کیلئے کمانڈر کون بنے گا ؟ اب اس سے کیسے ثابت ہوگا کہ سرینگر میں سیدنا امیر معاویہ کی گستاخی کرنے والے سے بغل گیر ہوا جائے ؟ اور کیا مہاراجہ نے کسی اسلامی شعار کی گستاخی کررکھی تھی ؟ اور کیا آپ پرسوں کسی سے لڑنے نکلے تھے اور آپ کے پاس قوت نہیں تھی اور وہ بےادبی کرنے والا کسی طاقت کا سربراہ تھا جس کے بغیر آپ کا کام ہوہی نہیں پاتا لہذا آپ سمجھوتا شریف کرکے آگئے ؟ سب جانتے ہیں کہ ایسی کوئی صورت حال نہیں ہے لہذا یہ بلکل دو الگ الگ باتیں ہیں۔ کیا مولوی صاحب اپنے مریدوں کو اتنا گیا گزرا سمجھتے ہیں کہ اس قسم کی لولی لنگڑی باتوں سے وہ انہیں مطمئن کرنے نکلے ہیں ؟
نیز آئیے شیخ الہند کا ایک اور عمل دیکھتے ہیں ، حضرت شیخ الہند نے مولانا بٹالوی صاحب کے اشتہار کے جواب میں ادلہ کاملہ لکھی ، ادلہ کاملہ کا جواب لکھا گیا تو حضرت شیخ الہند رحمہ اللہ نہ خاموش رہے اور ناہی کتاب سے ہاتھ اٹھاگئے بلکہ اس کے جواب میں ایضاح الادلہ لکھی جو آج تک اس فرقے پر حضرت شیخ الہند کا عملی قرضہ ہے۔ کیا اس وقت حالات ناساز نہیں تھے ؟ کیا انگریز اور اس کا ظلم مسلط نہیں تھا ؟ تھا اور یقینًا تھا لیکن حضرت شیخ الہند حنفیت کے دفاع میں جواب بھی دیتے ہیں اور اس پر قائم بھی رہتے ہیں۔ انگریز سے بھی لڑتے ہیں اور مسلک سے چھیڑچھاڑ بھی گوارا نہیں کرتے ، یہ ہے دیوبندیت۔ اب آئے حضرت مولوی صاحب کی طرف ، حضرت جی اپنے رسالہ النور میں اشتہار شائع کرتے ہیں کہ فلاں فلاں اور فلاں فتنے کے رد کیلئے ہم نے الگ الگ علماء منتخب کرلئے ہیں جو الگ الگ علمی محاذ پر کام کریں گے اور اگلے مہینے اسی النور کے اگلے شمارے میں نامعلوم دباو کا شکار ہوکر معذرت نامہ شائع کرتے ہیں کہ غلطی سے چھپ گیا تھا۔ راقم کے پاس دونوں شمارے موجود ہیں۔ اب قارئین فیصلہ کریں کہ ہم شیخ الہند کا طرز اپنائیں یا النور والا بےنور طرز اپنائیں ؟
( ٥ ) تیسری بات مولوی صاحب نے مسلم پرسنل لا بورڈ کی لکھی ہے ، وہ بھی میرے خلاف نہیں ہے جیسا کہ ماقبل میں ہوی بحث سے واضح ہے۔ ملی مشترکہ مسائل پر بیٹھنا الگ معاملہ ہے اور صحابی کی گستاخی پر سمجھوتا کرنا ایک الگ قضیہ ہے۔ ہم آپ سے دوسری صورت کے بارے میں اختلاف رکھتے ہیں اور آپ اپنے مریدوں کو بےوقوف بناکر پہلی صورت پر حوالے لارہے ہیں فیاللعجب۔
( ٦ ) مولوی صاحب نے راقم پر تہمت باندھتے ہوے لکھا تھا کہ میں انہیں اور ان کے مریدوں کو بےایمان سمجھ رہا ہوں جس پر انہوں نے ابھی تک بالتصریح کوئی وضاحت نہیں دی۔ نیز اس تحریر میں انہوں نے " دماغی اختراعات اور کم علمی " جیسے الفاظ استعمال کئے ہیں جبکہ اپنے لئے علمِ صحیح ، فہم سلیم ، صحبت صالح اور توفیق الہی کا دعوی کیا ہے ، اللہ اکبر۔ گرامی قدر ! علمِ صحیح اور اس کا صحیح استعمال یہ ہے کہ وادی میں اس وقت گراونڈ لیول پر دیوبندی نوجوان اس مزدور ابن مزدور کے بیٹے کی سعی سے مطمئن ہیں جس کا انکار سوائے حاسد اور مبغض کے کوئی نہیں کرسکتا اور غلط علم یہ ہے کہ وہی نوجوان مسلکی لحاظ سے آپ کی حرکات سے پریشان ہیں۔ فہم سلیم یہ ہے کہ ہم مذکورہ دو الگ الگ صورتوں کو الگ سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور دوسروں کو بھی سمجھارہے ہیں اور فہم قبیح یہ ہے کہ آپ دوسری صورت میں ملوث ہوکر پہلی کو ثابت کررہے ہیں۔ صحبت صالح کے اثرات یہ ہیں کہ بلا کسی بیک گراونڈ ، خاندانی وجاہت اور سیاسی اثر و رسوخ کے ایک مزدور کا بیٹا جان ہتھیلی میں لئے صحابہ کا مقدمہ لڑ رہا ہے اور صحبت صالح کے اثرات کے فقدان اور غلط تربیت کی نشانی یہ ہے کہ وسائل اور اثر رسوخ ہونے کے باوجود آپ اہل السنة کے منشور کیلئے نہ خود کچھ کررہے ہیں اور جو کررہے ہیں وقتا فوقتا انہیں بھی پریشان کرنے کی قسم اٹھالی ہے ، تربیت کی کمی کی علامت یہ ہے کہ آپ نے طے کرلیا ہے کہ جس دینی کام کی قیادت آپ کے حوالے نہ کردی جائے آپ وہ نہیں ہونے دیں گے جس کی درجنوں مثالیں موجود ہیں ، ضرورت محسوس ہوی تو تفصیل سے وہ بھی لکھ دوں گا ان شاء اللہ۔ لیکن حضرت جی اب حالات تبدیل ہوچکے ہیں ، میرا مشورہ ہے کہ آئندہ کیلئے ذرا احتیاط سے کام لیجئے گا۔ باقی رہی توفیق الہی تو وہ ہم سب کو اللہ پاک سے مانگنی چاہئے اور اہل السنة یہ بھی اپنے پیارے اللہ سے مانگتے رہیں کہ آپ جیسی توفیق سے ہماری حفاظت فرمائے کیونکہ یہ توفیق صالح نہیں بلکہ بزدلی اور ذاتی مفادات کی فکر ہے۔
( ٧ ) مولوی صاحب خود بھی سمجھ رہے تھے کہ ان کی تحریر بلکل غیرمتعلقہ ہے لہذا مریدوں میں اس کا وزن بڑھانے کیلئے جناب عبداللطیف کندی صاحب اور شوکت کینگ صاحب سے تصدیق کروادی ہے اور پتہ نہیں ابھی کن کن کی تصدیق آنے والی ہوگی۔ مجھے سمجھ نہیں آرہا کہ اس پر ہنسا جائے یا رویا جائے۔ ایک دیوبندی عالم ، ایک دیوبندی پیر ایک دیوبندی طالب علم کے سوالات کے جوابات سے عاجز ہوکر اپنی غلط تحریر کی تصدیق غیرمقلدین اور بدعتیوں سے کروارہا ہے۔ مولوی صاحب کو چاہئے دو چار امام باڈوں کے چند ذاکرین سے بھی تصدیق کروالیں ، پھر وادی کی تمام ختم پارٹیوں کو جمع کرکے ان سے بھی تصدیق لے لیں ، ان کے علاوہ میرے درجنوں دوست جن پر میں نے وقتا فوقتا پکڑ کی ہے وہ بھی آپ کی تصدیق کرنے کیلئے تیار بیٹھے ہوں گے ، اس طرح آپ کی تحریر کا وزن اور بڑھ جائے گا ان شاء اللہ۔ حضرت جی کیوں مزاق کرتے ہیں ؟ یہ عبدللطیف کندی صاحب غیرمقلد ہیں جنہیں علماء دیوبند نیم رافضی کہتے اور سمجھتے ہیں ۔ اب یہ آپ کی تصدیق نہیں کرے گا تو کیا میری کرے گا۔ اس کندی کا بھی مستقل کوئی ٹھکانہ نہیں ہے ، جب ڈیڑھ دو سال پہلے میرے سامنے متحدہ مجلس کی میٹنگ میں بیٹھے تھے تب کیا کہہ رہے تھے اور دیکھئے اب آج کیا لکھ رہے ہیں۔ شوکت کینگ صاحب تو کسی بھی جگہ کے متلاشی ہوتے ہیں کہ کوئی انہیں بس بلالے اور وہ جابیٹھیں ، کیا آپ حضرات نے آپسی سمجھوتے میں یہ طے کرلیا ہے کہ وقت آنے پر اپنے اپنے عقیدے اور مسلک پر ایک دوسرے کو ترجیح دینی ہے تاکہ کرسی بچی رہے ؟ من ترا حاجی بگویم تو مرا ملا بگو۔ اندازہ کریں کہ آپ اپنی بات میں وزن پیدا کرنے کیلئے ان تصدیقات کی محتاجی محسوس کررہے ہیں۔ آپ کہاں سے اترکر کہاں پہنچ گئے۔ بفضل اللہ میں اپنی بات کی پختگی میں کسی کا تصدیق کا محتاج نہیں ہوں کیونکہ میں خود مطمئن ہوں کہ میں سچ کہہ رہا ہوں ، میری بات صاف اور بےغبار ہے ، میرا کردار صاف ہے ، میرے سوالات پہاڑ کی طرح قائم ہیں ، میرے دلائل مضبوط ہیں ، مجھ سے میرے ماں باپ بھی راضی ہیں ، میرے دوست بھی مطمئن ہیں ، میرے شاگرد بھی مطمئن ہیں اور پوری وادی میں عام دیوبندی نوجوان مطمئن ہیں الحمدللہ۔
( ٨ ) اے اہل السنة آج سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر کھلے عام زبان کھولی گئی ہے ، کل سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ ہوں گے ، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ہوں گے ، پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ہوں گے اور پھر مزید ابحاث کو اچھالا جائے گا لہذا آج ہی ہوش کے ناخن لے لو ، وقت رہتے سنبھل جاو ، سمجھو کہ دوست کون ہے دشمن کون ہے ، کس انتظار میں ہو ؟ دیوبندیوو ، او دیوبندیوو وقت آچکا ہے ، آو اور ظاہری بزرگی کے اس مصنوعی تسلط کو ختم کرو ، علمی اور فکری انقلاب کی راہیں ہموار کرو ، قانوں کے دائرے میں رہ کر واضح الفاظ میں اپنے مطالبات سامنے رکھنا سیکھو اور رکھو ، جو اس مسلک حق کی قیادت پر زبردستی قبضہ کرکے اسی کو نقصان پہنچارہے ہیں ان کا تختہ الٹ دو۔

راقم الحروف : محمد نعمان نوشہری ( سرینگر )
امیر جمعیة اہل السنة والجماعة جموں و کشمیر
تاریخ نوشت : ٢٤ جولائی ٢٠٢٤ء بروز بدھ

15/07/2024

الحمدلللہ۔۔۔
علمائے دیوبند نے علمی میدان میں اپنی ہنرمندی اور ذہانت سے پوری دنیا میں قرآن و حدیث سے امت کو سرفراز کیا ہے ۔

Address

Sopore
193201

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Masjid Al-Umar Hanjipora Seeloo posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Masjid Al-Umar Hanjipora Seeloo:

Share

Category