Namaz kamyabi ka zariya h

Namaz kamyabi ka zariya h Informations de contact, plan et itinéraire, formulaire de contact, heures d'ouverture, services, évaluations, photos, vidéos et annonces de Namaz kamyabi ka zariya h, Maradi.
(1)

Ahmadiyya Muslim, Ahmadiyya Nazam, MTA, khutba e jumma, Documentary, Islamic post , Quran Tilawat,nazms, Islamic qoutes, Islamic videos, motivation videos, Islamic status 2021_2022
YouTube subscribe Chanñel for more videos

‏دنیا میں اپنے آپ کو کچھ سمجھنا بھی تکبّر ہےمیرے نزدیک پاک ہونے کا یہ عمدہ طریق ہے اور ممکن نہیں کہ اس سے بہتر کوئی اور ...
07/04/2026

‏دنیا میں اپنے آپ کو کچھ سمجھنا بھی تکبّر ہے

میرے نزدیک پاک ہونے کا یہ عمدہ طریق ہے اور ممکن نہیں کہ اس سے بہتر کوئی اور طریق مل سکے کہ انسان کسی قسم کا تکبر اور فخر نہ کرے نہ علمی، نہ خاندانی، نہ مالی۔ جب خدا تعالیٰ کسی کو آنکھ عطا کرتا ہے تو وہ دیکھ لیتا ہے کہ ہر ایک روشنی جو ان ظلمتوں سے نجات دے سکتی ہے وہ آسمان سے ہی آتی ہے اور انسان ہر وقت آسمانی روشنی کا محتاج ہے۔ آنکھ بھی دیکھ نہیں سکتی جب تک سُورج کی روشنی جو آسمان سے آتی ہے نہ آئے۔ اسی طرح باطنی روشنی جو ہر ایک قسم کی ظُلمت کو دُور کرتی ہے اور اس کی بجائے تقویٰ اور طہارت کا نور پیدا کرتی ہے آسمان ہی سے آتی ہے۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ انسان کا تقویٰ، ایمان، عبادت، طہارت سب کچھ آسمان سے آتا ہے۔ اور یہ خدا تعالیٰ کے فضل پر موقوف ہے وہ چاہے تو اس کو قائم رکھے اور چاہے تو دور کردے۔

پس سچی معرفت اسی کا نام ہے کہ انسان اپنے نفس کو مسلوب اور لاشے محض سمجھے اور آستانہ الوہیت پر گر کر انکسار اور عجز کے ساتھ خدا تعالیٰ کے فضل کو طلب کرے۔ اور اس نور معرفت کو مانگے جو جذباتِ نفس کو جلا دیتا ہے اور اندر ایک روشنی اور نیکیوں کے لئے قوت اور حرارت پیدا کرتا ہے۔ پھر اگر اس کے فضل سے اس کو حصہ مل جاوے اور کسی وقت کسی قسم کا بسط اور شرح صدر حاصل ہو جاوے تو اس پر تکبّر اور ناز نہ کرے بلکہ اس کی فروتنی اور انکسار میں اَور بھی ترقی ہو۔ کیونکہ جس قدر وہ اپنے آپ کو لاشے سمجھے گا اسی قدر کیفیات اور انوار خدا تعالیٰ سے اُتریں گے جو اس کو روشنی اور قوت پہنچائیں گے۔ اگر انسان یہ عقیدہ رکھے گا تو امید ہے اﷲ تعالیٰ کے فضل سے اُس کی اخلاقی حالت عمدہ ہو جائے گی۔ دنیا میں اپنے آپ کو کچھ سمجھنا بھی تکبّر ہے اور یہی حالت بنا دیتا ہے پھر انسان کی یہ حالت ہو جاتی ہے کہ دوسرے پر لعنت کرتا ہے اور اُسے حقیر سمجھتا ہے۔

میں یہ سب باتیں بار بار اس لئے کہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے جو اس جماعت کو بنانا چاہا ہے تو اس سے یہی غرض رکھی ہے کہ وہ حقیقی معرفت جو دنیا میں گُم ہو چکی ہے اور وہ حقیقی تقویٰ و طہارت جو اس زمانہ میں پائی نہیں جاتی اسے دوبارہ قائم کرے۔

(ملفوظات جلد۷، صفحہ ۵۹۔۶۰، ایڈیشن۲۰۲۲ء)

alislam.org

کسی کے سوال پر آپ سب ناظرین کی رائے پہلے پوسٹ اچھے سے پڑھ لیں ؟ایک لڑکی( وہ آپ کی بیوی ہرگز نہیں) جس کی شادی تیئس چوبیس ...
01/04/2026

کسی کے سوال پر آپ سب ناظرین کی رائے پہلے پوسٹ اچھے سے پڑھ لیں ؟

ایک لڑکی( وہ آپ کی بیوی ہرگز نہیں) جس کی شادی تیئس چوبیس برس کی عمر میں ہوئی۔

شادی کے بعد اس نے اپنے شوہر کو گھر کا سکون فراہم کیا ۔
تین ،چار بچے ہو گئے۔ اس نے ان کی پرورش میں کوئی کمی نہ چھوڑی۔۔اپنا آرام ،سکون ،وقت ،زندگی سب لگا دی جیسے ہر ماں لگاتی ہے۔
اپنے شوہر کا پورا گھر بار رشتہ دار سب دیکھے،سنبھالے،ہر ذمہ داری ادا کی ،شوہر کی ہر ذمہ داری میں اس کا ساتھ دیا۔جسمانی سکون ،راحت کیساتھ مورل سپورٹ بھی فراہم کرتی رہی۔
شوہر پُرسکون ہو کر معاشی ذمہ داریاں نبھانے میں جُت گیا۔دونوں کے ایکدوسرے سے تعاون کی وجہ سے ماشاءاللہ مالی طور پر خوشحالی اور آسودگی بھی نصیب ہوئی۔گھر ،گاڑی،کچھ بینک بیلنس ،زیور سب کچھ وقت کیساتھ ساتھ دونوں نے حاصل کر لیا۔
مرد کیساتھ ساتھ عورت نے بھی
اپنی پوری زندگی اسی گھر کو دے دی۔
پھر شادی کے بیس ،تیس سال بعد کچھ ایسا ہوا کہ شوہر نے کسی بھی (جینوئن نان جینوئن) وجہ سے اسے طلاق دے دی۔
حق مہر (جو شادی کے وقت چونکہ مالی حالات بس مناسب تھے اسی مناسبت سے والدین نے طئے کیا تھا وہ) شوہر پہلے ہی بیوی کو ادا کر چکا ہے۔
اب اس عورت کو جس نے اپنی زندگی کے تیس یا اس سے کچھ کم ،زیادہ سنہرے ترین سال ،جوانی اور ہمت و حوصلے والے سال ایک مرد کے گھر کو دے دیئے اسے طلاق دیکر بالکل خالی
ہاتھ گھر سے نکال دیا جاتا ہے۔اور جو کچھ بھی دونوں نے ایکدوسرے کے ساتھ جڑ کر تعاون سے کمایا تھا وہ صرف شوہد کی ملکیت ٹھہرتا ہے۔یعنی مرد کی جھولی بھری رہی مگر عورت بالکل تہی دامن ہو کر گویا ننگے آسمان تلے بے یارو مددگار خالی ہاتھ بالکل زیرو پہ آن کھڑی ہوئی۔

1: اسلام میں اس عورت کے تحفظ کیلئے کیا ہے؟
2: کیا ساری زندگی دے کر خالی ہاتھ والدین کے در پر واپس بھیج دیا جانا اسلام کے اصول عدل کے
تقاضوں کے مطابق ہے؟
3: کیا یہ بات معاشرتی عدل کے تقاضوں کے مطابق ہے؟

اپنی اپنی رائے دیجئے۔۔
ہمیں شدت سے انتظار ہے۔
Namaz kamyabi ka zariya h

اس پوسٹ کو پڑھنے کے بعد آپ کا خون کھولے گا اور کھولنا بھی چاہیے کیوں کہ ہم پر مسلط حکمران کام ہی ایسے کر رہے ہیں — پاکست...
30/03/2026

اس پوسٹ کو پڑھنے کے بعد آپ کا خون کھولے گا اور کھولنا بھی چاہیے کیوں کہ ہم پر مسلط حکمران کام ہی ایسے کر رہے ہیں — پاکستان کے حکمرانوں کی سچائی جو آپ کو جاننی چاہیے

وہ منظر یاد کریں — وزیراعظم شہباز شریف قوم سے مخاطب ہیں، آنکھوں میں آنسو، لہجے میں درد، اور الفاظ ہیں: “پاکستان مشکل وقت میں ہے، ہر شہری کو قربانی دینی ہوگی، ملک کو آپ کی ضرورت ہے۔” یہ جملے سنتے ہی دل میں ایک لہر اٹھتی ہے، آنکھوں میں غیرت جاگتی ہے، اور پاکستانی سوچتا ہے — ہاں، ہم قربانی دیں گے، ہم اپنے ملک کے لیے سب کچھ کریں گے— ذرا رکو، اور ان کے اپنے اعمال کو دیکھو۔ جو منہ سے کہتے ہیں وہ اور، جو کرتے ہیں وہ بالکل اور ہے۔

فروری 2026 میں لاہور کے آسمان پر ایک چمکدار پرندہ اترا — Gulfstream G-VII G500، سال 2019 کا ماڈل، جس کی قیمت 4 کروڑ 20 لاکھ ڈالر یعنی تقریباً 11 ارب 70 کروڑ روپے ہے۔ یہ جہاز کسی ارب پتی تاجر کے لیے نہیں آیا — یہ آیا ہے پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز کے لیے، عوام کی جیب سے۔ اس جہاز کی آپریٹنگ لاگت تقریباً 15 ہزار ڈالر فی گھنٹہ ہے — یعنی ہر گھنٹہ 42 لاکھ 75 ہزار روپے۔ اس کی پرواز کی رینج 14 ہزار 353 کلومیٹر ہے — لاہور سے نیویارک تک بغیر رکے۔ سوال یہ ہے: کیا مریم نواز صاحبہ کو پنجاب کے اندرونی سفر کے لیے نیویارک تک اڑنے والے جہاز کی ضرورت تھی؟

سوچنے والی بات یہ ہے کہ جس وقت یہ جہاز خریدا گیا، اسی وقت وفاقی حکومت نے PIA — پاکستان کی قومی ایئر لائن — کو محض 10 ارب روپے میں فروخت کر دیا۔ یعنی ایک جہاز کی قیمت پوری قومی ایئر لائن سے بھی زیادہ۔ وزیراعظم شہباز شریف نے PIA کی فروخت کا جشن منایا، اور ادھر ان کی صاحبزادی نے اسی سے مہنگا جہاز خرید لیا۔ یہ محض اتفاق نہیں — یہ ایک سوچا سمجھا نظام ہے جس میں عوام کو کفایت شعاری کا درس دیا جاتا ہے اور حکمران عیاشی کرتے ہیں۔

ابھی بات ختم نہیں ہوئی۔ پنجاب کے ان غیر ملکی پائلٹوں کا خرچہ بھی سنیں — جنہیں سرکاری خزانے سے کروڑوں روپے سالانہ تنخواہ دی جا رہی ہے۔ یہ وہی پنجاب ہے جہاں نوجوان پاکستانی بے روزگاری کے مارے ملک چھوڑنے پر مجبور ہیں، جہاں ڈاکٹروں اور انجینیئروں کو سرکاری نوکری نہیں ملتی۔ مگر مریم نواز کے شاہی جہاز کے لیے باہر سے پائلٹ منگوائے گئے اور انہیں کروڑوں کی تنخواہیں دی جا رہی ہیں — عوام کی گاڑھی کمائی سے۔

مریم نواز کا جہاز تو صرف ایک پرت ہے — اصل کہانی تہہ در تہہ ہے۔ پنجاب حکومت نے وزراء اور بیوروکریٹس کے لیے 108 نئی لگژری گاڑیاں خریدنے کا منصوبہ بنایا جن کی مجموعی لاگت 1 ارب 14 کروڑ روپے ہے۔ ان گاڑیوں میں وزیراعلیٰ کی انسپکشن ٹیم کے لیے 53 کروڑ روپے کی گاڑیاں شامل ہیں۔ یعنی ایک طرف بجٹ کی تنگی کا رونا ہے، دوسری طرف گاڑیوں پر ارب روپے لٹائے جا رہے ہیں۔ عوام کو بجلی کے بل نے توڑ دیا اور حکمران نئی گاڑیوں میں سوار ہو گئے۔

سینیٹ کے چیئرمین یوسف رضا گیلانی نے خود تصدیق کی کہ سینیٹ کے بجٹ سے ان کے لیے 9 کروڑ روپے کی لگژری Toyota Land Cruiser خریدی گئی ہے۔ سینیٹ سیکریٹریٹ نے اعتراف کیا کہ گاڑی مئی 2025 میں خریدی گئی اور مارچ 2026 میں پہنچی — یعنی ملک کے معاشی بحران کے عین وسط میں۔ گیلانی صاحب نے کہا: “میں نے گاڑی واپس کرنے کی کوشش کی مگر آ چکی تھی۔” کیا خوب جواز! ملک کی معیشت چاہے ڈوب جائے، VIP گاڑیاں ضرور آئیں گی۔

اور صدر مملکت آصف علی زرداری؟ ان کا قصہ تو اور بھی دلچسپ ہے۔ جہاں بھی جاتے ہیں، سو کے قریب سرکاری گاڑیوں کا ایک شاہانہ قافلہ ساتھ ہوتا ہے — ملک کا تیل پھونکتے ہوئے، عوام کا پیسہ جلاتے ہوئے۔ اس وقت پاکستان میں 45 فیصد آبادی خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔ مگر ان کے اردگرد سرکاری گاڑیوں کا جلوس ختم ہونے کا نام نہیں لیتا — عوام کی آہیں اور حکمرانوں کی شاہانہ سواریاں۔ یہ ہے اصل پاکستان جو پردے کے پیچھے چھپا ہوا ہے۔

اور پنجاب میں صرف گاڑیاں اور جہاز ہی نہیں۔ گورنر ہاؤس کا بجٹ 870 فیصد بڑھا کر 1 ارب 53 کروڑ روپے کر دیا گیا۔ صوبائی وزراء کا بجٹ 204 فیصد بڑھا کر 1 ارب 7 کروڑ روپے ہو گیا۔ وزیراعلیٰ آفس کا بجٹ 19 فیصد بڑھ کر 1 ارب 46 کروڑ روپے تک پہنچا۔ یہ وہی حکومت ہے جو عوام کو “سادہ زندگی” کا درس دیتی ہے اور خود شاہانہ محلوں میں بیٹھ کر ارب روپے لٹاتی ہے۔ سوال یہ ہے: ان کی “سادگی” کہاں گئی؟

یہ سب ایک بہت بڑے المیے کی علامت ہے۔ 23 کروڑ عوام بجلی کے بلوں، مہنگائی، بے روزگاری اور قرضوں کے بوجھ تلے دب رہے ہیں — اور ان کا خون پسینے کا پیسہ لگژری جہازوں، 9 کروڑ کی گاڑیوں، اور سیکڑوں گاڑیوں کے قافلوں پر لٹایا جا رہا ہے۔ جب حکومت کسی ملٹی نیشنل کمپنی کی طرح اپنے اخراجات پر خرچ کرے تو شہری یہ پوچھنے میں حق بجانب ہے: یہ ریاست اصل میں کس کی خدمت کر رہی ہے؟ عوام کی، یا اپنے آپ کی؟

یہ اعداد و شمار سرکاری بجٹ دستاویزات، سینیٹ سیکریٹریٹ کے ریکارڈ، اور تصدیق شدہ حقائق سے لیے گئے ہیں۔ ایک طرف 11 ارب کا جہاز، 9 کروڑ کی گاڑی، 53 کروڑ ججوں کے لیے گاڑیاں، 870 فیصد بڑھا ہوا گورنر ہاؤس بجٹ — دوسری طرف وہ ماں جو بچے کو دودھ نہیں پلا سکتی، وہ باپ جو بیٹے کو اسکول نہیں بھیج سکتا، وہ نوجوان جو روزگار کے لیے بیرون ملک بھاگنے پر مجبور ہے۔ یہی ہے اصل پاکستان کا چہرہ — اور اسے بدلنے کی ذمہ داری آپ کی آواز پر ہے۔ شیئر کریں، جگائیں، بولیں۔ 🇵🇰​​​​​​​​​​​​​​​​

مزید معلومات جاننے کے لیے چینل کو سبسکرائیب ضرور کریں

30/03/2026

سعودیہ عرب کی ایران سے کھلی دشمنی/ مکہ سے ایک گھنٹہ دور طائف شہر میں موجود ائیر بیس سے ایران پر حملہ تیار/ اور پاکستان کو بھی کسی بھی طرح سے گھسیٹنے کی پوری کوشش / کمنٹ میں آگے بتائیں اس سے آگے کیا ہو سکتا ہے ۔

30/03/2026

اللہ تعالیٰ پاکستان میں احمدیوں کے لیے آسانیاں پیدا کرے ۔ آمین ۔ جلد ملاں اپنے انجام کو پہنچے گے انشاء اللہ

30/03/2026

تعریف وہ جو دشمن بھی پکار اٹھے ۔ احمدیت زندہ باد

30/03/2026

گلوکارنےبات توٹھیک کی ہے/ملاں اپنے ڈر کی وجہ سے کہتے ہیں اسلام خطرےمیں ہےتاکہ ان کا کاروباربندنہ ہو جائے/ اس لیے یہ مذہب کارڈ کھیلتے ہیں ۔

30/03/2026

گلوکار نے بات تو ٹھیک کی ہے/ملاں اپنے ڈر کی وجہ سے کہتے ہیں اسلام خطرے میں ہےتاکہ ان کا کاروبار بند نہ ہو جائے اس لیے یہ مذہب کارڈ کھیلتے ہیں

29/03/2026

تازہ صورتحال/ محمد بن سلمان اور ٹرمپ: ایران کے خلاف خطر ناک کھیل

پاکستانی ملاں اپنے مطلب کے لیے چپ
29/03/2026

پاکستانی ملاں اپنے مطلب کے لیے چپ

28/03/2026

Alhumdolillah Hamain Faqr hai hum Ahmadi Musalman hain

Adresse

Maradi
4000

Notifications

Soyez le premier à savoir et laissez-nous vous envoyer un courriel lorsque Namaz kamyabi ka zariya h publie des nouvelles et des promotions. Votre adresse e-mail ne sera pas utilisée à d'autres fins, et vous pouvez vous désabonner à tout moment.

Partager