30/05/2026
آج یورپ کے ایک جمہوری ملک مالٹا ریپبلک میں الیکشن ہو رہے ہیں۔
یہاں نہ کسی جماعت سے انتخابی نشان چھینا گیا، نہ اپوزیشن کو دبایا گیا، نہ پولیس نے کسی کو کمپین سے روکا، نہ فوج سیاست میں مداخلت کرتی نظر آئی، اور نہ ہی الیکشن کمیشن نے جانبداری دکھائی۔
حکومتی جماعت اور اپوزیشن دونوں کو برابر کا حق، آزادی اور لیول پلیئنگ فیلڈ دی گئی ہے۔
دوسری طرف ہمارے پاکستان میں، گلگت بلتستان کے انتخابات میں، جمہوریت کا جنازہ نکالا جا رہا ہے۔
ایک جماعت سے انتخابی نشان چھینا گیا، پھر جس جماعت کے ساتھ اتحاد ہوا اُس کا نشان بھی چھین لیا گیا۔ امیدواروں کو کمپین نہیں کرنے دی جا رہی، لیڈرشپ کو گرفتار کیا جا رہا ہے، جھنڈے لگانے تک کی اجازت نہیں، جبکہ حکومتی جماعت کو مکمل فری ہینڈ دیا گیا ہے۔
یہ کیسی جمہوریت ہے؟
یہ کیسا قانون ہے؟
جہاں ایک سوچ کو دبانے کے لیے ریاستی طاقت استعمال کی جائے، وہاں آزادی نہیں بلکہ خوف کا نظام جنم لیتا ہے۔
قومیں انصاف، آزادیِ رائے اور شفاف انتخابات سے ترقی کرتی ہیں، جبکہ جبر، انتقام اور فسطائیت ملکوں کو تباہی کی طرف لے جاتے ہیں۔
پاکستان کو جمہوریت چاہیے، جنگل کا قانون نہیں۔