ADEEL ZAFAR

ADEEL ZAFAR حیا نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی ۔۔
خدا کرے کہ تیری جوانی بے داغ رہے ۔۔
علامہ محمد اقبال

جب سے اس نے شہر کو چھوڑا ہر رستہ سنسان ہوا اپنا کیا ہے یارو سارے شہر کا اک جیسا نقصان ہوا یہ دل یہ آسیب کی نگری مسکن سوچ...
11/06/2023

جب سے اس نے شہر کو چھوڑا ہر رستہ سنسان ہوا
اپنا کیا ہے یارو سارے شہر کا اک جیسا نقصان ہوا

یہ دل یہ آسیب کی نگری مسکن سوچوں وہموں کا
سوچ رہا ہوں اس نگری میں تو کب سے مہمان ہوا

صحرا کی منہ زور ہوائیں اوروں سے منسوب ہوئیں
مفت میں ہم آوارہ ٹھہرے مفت میں گھر ویران ہوا

میرے حال پہ حیرت کیسی درد کے تنہا موسم میں
پتھر بھی رو پڑتے ہیں انسان تو پھر انسان ہوا

اتنی دیر میں اجڑے دل پر کتنے محشر بیت گئے
جتنی دیر میں تجھ کو پا کر کھونے کا امکان ہوا

کل تک جس کے گرد تھا رقصاں اک انبوہ ستاروں کا
آج اسی کو تنہا پا کر میں تو بہت حیران ہوا

اس کے زخم چھپا کر رکھیے خود اس شخص کی نظروں سے
اس سے کیسا شکوہ کیجے وہ تو ابھی نادان ہوا

جن اشکوں کی پھیکی لو کو ہم بے کار سمجھتے تھے
ان اشکوں سے کتنا روشن اک تاریک مکان ہوا

یوں بھی کم آمیز تھا محسنؔ وہ اس شہر کے لوگوں میں
لیکن میرے سامنے آ کر اور بھی کچھ انجان ہوا...!

✍...محسنؔ نقوی(شاعر درد)

Address

Ahmadpur East

Telephone

+923024531772

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when ADEEL ZAFAR posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to ADEEL ZAFAR:

Share

Category