03/08/2026
مائیک یا مذاق ?
کبھی قلم کی حرمت کی بات زبان زد عام تھی , صحافت کو تحریری شکل حاصل تھی , لکھنے کا انداز , موضوع , مثبت / منفی تنقید , ظلم زیادتی کے خلاف جرات اور تحریر کے ہر پہلو و دیکھا ,پرکھا اور تعریف یا تنقید کا نشانہ بنایا جاتا تھا .
صبح سویرے اٹھ کر چائے اور اخبار کا انتظار , اور چائے کی چسکیوں کیساتھ لوکل اور دنیا بھر کی خبروں پر نظر ڈال کر لوگ , تسلی یا بے چینی سمیٹ کر دنیا کے کاموں میں مگن ہو جاتے تھے .
پرنٹ میڈیا شاید ایک لحاظ سے بہت اچھا تھا اور ہے , کیونکہ لکھنے والا , ہمیشہ الفاظ کا چناؤ سوچ سمجھ کر کرتا ہے , شاید لکھنے والے کے ذہن میں اپنی تحریر کے لئے ایک گارنٹی کی سی صورت ہوتی ہے , اسکا ریکارڈ رہنے کے امکان زیادہ مضبوط تصور ہوتے ہیں . یہنی تحریر کے لئے جواب دہی کا تصور دماغ میں زیادہ رہتا ہے .
وقت کیساتھ تیزی سے تبدیلیاں آتی ہیں اور ہماری روز مرہ زندگی سمیت , زندگی کا ہر شعبہ ان تبدیلیوں سے متاثر ہوتا ہے .
صحافت بھی تیزی سے پرنٹ میڈیا سے , الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا کے ناموں سے پہچانی جانے لگی , لوگ پڑھنے سے زیادہ سننا پسند کرنے لگے , ریڈیو سے ٹی وی کا سفر , موبائل تک پہنچ گیا .
اور موبائل پر چینل کی وہ بھرمار ہو گئی کہ ایک خبر یا واقعہ سینکڑوں طریقوں اور انداز میں سننے کو ملتا ہے .
دنیا جہاں کے موضوعات , ہر آدمی بیان کر رہا ہے , ہر دوسرا شخص بیک وقت سیاست ,مذھب ,معاشرتی مسائل , انٹرٹینمنٹ , غرض ہر موضوع پر اظہار خیال کرتا نظر آتا ہے .
آج کل ہر دوسرا شخص ہاتھ میں مائیک اور کیمرے کیساتھ , کہیں بھی , موجود ہے , کوئی تنقید کی گردان کیساتھ ,کوئی انکشافات کی تگ و دو میں ہے ,
بظاھر یہ سرگرمیاں , "مظلوم کی آواز " یا مسائل کی نشاندھی کا ایک اچھا طریقه ہے لیکن اگر تھوڑا غور کریں تو عام آدمی اس سے فرسٹریشن کا شکار بھی ہو رہا ہے , " آوے کا آوا بگڑا ہے " , " حالات بہت خراب ہیں " جیسی باتیں تکیہ کلام بن گئی ہیں .
مزید بدقسمتی ,کے یوروپ اور غیر ممالک کے رواج اور طریقوں کو اپناتے ہوئے , ہمارے ہاں بھی آزاد خیال اور بیباک لوگوں نے " ٹک ٹاک " کا بیہودہ مذاق بھی شروع کر دیا ہے .
اس ٹک ٹاک کی نقالی میں اپنے مذھب ,روایات اور ثقافت کی بھی دھجیاں بکھیری جا رہی ہیں . انڈیا کی ہندو کمیونٹی اور ہمارے مسلمان نوجوانوں کے بنائے ٹک ٹاک , کبھی کبھی ایک جیسے لگتے ہیں تو افسوس ہوتا ہے کہ ہم آنے والی نسلوں کیلئے کوئی اچھی روایت نہیں بنا رہے .
غرض ہر دوسرا شخص مائیک اور کیمرے سے کھیل رہا ہے . اور اس کھیل کھیل میں جہاں " لائک " اور " فالو " کا لالچ ,پیسے کمانے کی طرف راغب کر رہا ہے ,وہیں ہماری غیر سنجیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے .
سوچنے کی بات یہ ہے کہ ہم کوئی ایسی رواجوں کی داغ بیل تو نہیں ڈال رہے جو کل ہمارے ہی گلے پڑے گی ?
ہر انسان کا اس معاشرے میں ایک کردار ہے , جسکے لئے وہ کل جواب دہ بھی ہوگا , ذرا رک کر سوچنا چائیے ,ارد گرد دیکھنا چائیے , کل ہم نہیں ہونگے تو ہمارا ذکر کس طرح ہوگا ?
امجد اقبال ملک
Voice of Attock