03/07/2026
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے سماجی بہبود، خصوصی تعلیم و خواتین کی ترقی ملک لیاقت علی خان کی زیرِ صدارت ضم شدہ اضلاع کے محکمہ سماجی بہبود کے ڈائریکٹوریٹ کے ساتھ ایک اہم تعارفی و جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں ضم شدہ اضلاع میں سماجی بہبود، خصوصی تعلیم، خواتین کی فلاح و ترقی اور خصوصی افراد کی معاونت سے متعلق مختلف امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔
اجلاس میں سیکرٹری محکمہ سماجی بہبود شریف حسین، ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر ضم شدہ اضلاع ارشد قیوم برکی، ڈپٹی ڈائریکٹر عبید الرحمٰن، اسسٹنٹ ڈائریکٹر ابرار احمد سمیت ضم شدہ اضلاع کے ضلعی افسران نے شرکت کی۔
اجلاس کے دوران ضم شدہ اضلاع میں محکمہ سماجی بہبود کی کارکردگی، عوام کو فراہم کی جانے والی خدمات میں بہتری، جاری و مجوزہ ترقیاتی منصوبوں، خصوصی افراد کی فلاح و بہبود اور خواتین کو بااختیار بنانے کے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
مشیر وزیراعلیٰ ملک لیاقت علی خان نے ہدایت کی کہ ضم شدہ اضلاع میں شیلٹر ہومز اور پناہ گاہوں کی سہولیات کو جدید خطوط پر استوار کرتے ہوئے مستحق افراد کو بہتر خدمات فراہم کی جائیں۔ انہوں نے غریب اور مستحق خواتین کو معاشی طور پر خودمختار بنانے کے لیے سلائی، ٹیلرنگ، بیوٹیشن قالین بافی اور دیگر فنی مہارتوں پر مبنی تربیتی پروگراموں کو مزید وسعت دینے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ خواتین کے لیے باعزت روزگار کے مواقع پیدا کیے جا سکیں۔
اجلاس میں خواتین کے مراکز میں جدید ہنر پر مبنی تربیتی کورسز متعارف کرانے، تمام ضم شدہ اضلاع میں خصوصی تعلیم کے نئے اسکول قائم کرنے اور خصوصی افراد (معذور افراد) کی شناخت، رجسٹریشن اور انہیں حکومتی سہولیات کی فراہمی کے لیے خصوصی مہم شروع کرنے کی تجاویز پر بھی اتفاق کیا گیا۔
اس موقع پر مشیر وزیراعلیٰ ملک لیاقت علی خان نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت ضم شدہ اضلاع کے عوام کو ترقی کے یکساں مواقع فراہم کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خصوصی افراد، خواتین، یتیم بچوں اور دیگر کمزور طبقات کی فلاح و بہبود حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے محکمہ سماجی بہبود کے تمام اداروں کو مؤثر، شفاف اور عوام دوست انداز میں اپنی ذمہ داریاں ادا کرنا ہوں گی۔
اجلاس کے اختتام پر محکمہ سماجی بہبود کی کارکردگی کو مزید مؤثر بنانے، عوامی خدمات کے معیار کو بہتر کرنے اور ضم شدہ اضلاع میں سماجی تحفظ کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے باہمی تعاون اور مربوط حکمتِ عملی کے تحت اقدامات تیز کرنے پر اتفاق کیا گیا۔