Ghani Abad (Jhir)

Ghani Abad (Jhir) Ghani Abad (Jhir) - Bagh Azad Kashmir - Pakistan http://www.facebook.com/ghani.abad

28/04/2023

بلدیاتی انتخابات اور امیدوار کا انتخابمیرے رشتہ دار، میرے استاد، میرے ٹبرکا امیدوار، میرے ذاتی تعلقات اور ذات پات سے بال...
13/11/2022

بلدیاتی انتخابات اور امیدوار کا انتخاب
میرے رشتہ دار، میرے استاد، میرے ٹبرکا امیدوار، میرے ذاتی تعلقات اور ذات پات سے بالاترہوکرالیکشن میں امیدوار کا انتخاب کرنا ہی آنے والی نسلوں کے لیے ایک مضبوط اور مستحکم ریاست کی طرف ایک اہم قدم ہوسکتاہے۔ چونکہ تمام تر ترقیاتی سکیموں کو گراؤنڈ پر لگوانا لوکل باڈیز کا کام ہوتا ہے ، اور ایسا ممکن ہی نہیں کہ کسی بھی ملک کی ترقی بنا ڈیویلپمنٹ کے ہوسکے ۔ مزید کسی بھی تفصیل میں جانے سے پہلے ہمیں یہ جان لینا چاہیے کہ بلدیاتی امیدوار دراصل کیا فرائض سرانجام دے رہے ہوں گے جو کہ پچھلے تیس سالوں سے مختلف پارٹیوں کے سلیکٹڈ لوگ کررہے تھے جن سے کسی بھی قسم کا حساب کتاب لینے کا مطلب ہوتا تھا کہ اگلی بارووٹ نا ملنا۔
انفراسٹیکچر کی بہتری اور تعمیراتی کام
پانی اور سولر کے پراجیکٹس کی تکمیل
انفارمیشن ٹیکنالوجی
جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ سکولوں کا قیام
ویلج سیونگ سکیمز پر عملدرآمد کروانا
پلوں کی تعمیر اور دیگر بے شمار کام

اگر تعلیم کے معیار کو انٹرنیشنل لیول پر دیکھا جائے تو کشمیر کےپچانوے فیصد سکول دنیا سے تقریبا پچاس سال یا اس سے زائد پیچھے ہیں۔ (اگر کسی شخص کوتفصیلات چاہیے ہوں تو کمنٹ کرکے تفصیلات لے سکتا ہے)۔ اور افسوس کی بات یہ ہے کہ ہماری حکومت کے پاس کوئی ایسا پلان بھی نہیں ہے جس کے ذریعے وہ آنے والے دس سے بیس سالوں میں کوئی بڑی تبدیلی لاسکیں۔ مگر پھر بھی ہمارا فرض بنتا ہے کہ کم از کم ان افراد کو ووٹ دیکر میدان میں لیکر آئیں جو کچھ وژن رکھتے ہیں اور سمجھ بوجھ رکھتے ہوں۔

میں ووٹ کسے دوں اور کیوں دوں؟
میرے ووٹ کا حقدار صرف وہی شخص ہے جو ذاتیات سے زیادہ عوامی پراجیکٹ پر یقین رکھتا ہے اور انفرادی طور پر لوگوں کو فائدہ پہنچانے کی بجائے عوامی پراجیکٹس کو ترجیح دیتا ہو۔ (افسوس کے ساتھ کہنا پڑھ رہا ہے کہ ایسے لیڈرز بہترین قوموں کے نصیب میں ہوتے ہیں) ۔عقل و فہم کے مطابق جو لوگ بھی آپ کے ووٹ کے اصل حقدار ہیں انہی کا انتخاب کرنا ہمارا مقصد ہونا چاہیے اور انشاء اللہ ملکر ایسے راہنما لیکر آئیں گے جو ہماری آنے والی نسلوں کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے۔

ووٹ ضرور دیں مگرہر ممکن کوشش کرکے ووٹ ضرور کاسٹ کریں  اور ہر ممکن یہ کوشش کریں کے برادری، رشتہ داری اور ٹبر بازی سے باز ...
05/11/2022

ووٹ ضرور دیں مگر

ہر ممکن کوشش کرکے ووٹ ضرور کاسٹ کریں اور ہر ممکن یہ کوشش کریں کے برادری، رشتہ داری اور ٹبر بازی سے باز رہیں اور صرف ان لوگوں کو ووٹ کریں جو عوام کے لیے کام کرسکتے ہیں۔ کیونکہ ضلعی کونسلر منتخب کرنے کا مطلب ہر گز کسی کا شوق پورا کرنے کے لیے ووٹ دینا نہیں ہوتا۔ بلکہ اسکے لیے آپ کو ایسے معتبر افراد کی ضرورت ہوتی ہے جو آپکی نمائندگی کرسکیں اور آپ کے لیے کسی بڑی محفل میں بول سکیں اور اپنا حق لے سکیں۔
اگلے چند دنوں تک موسمی اور شوقین مذاج اراکین بھی آپ کے پاس تشریف لائیں گے۔ ایسے لوگوں کو بھی مایوس نہیں کرنا بلکہ ان کو چائے پانی کا پوچھیں اور اچھے الفاظ کے ساتھ رخصت کریں ۔ مگر چند اہم ارکان جو ان انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں انکی تقاریر اور ان سے بات چیت کے دوران یہ ضرور جانیں کے کیا وہ علاقے کے لیے کام کر سکتے ہیں اور کیا ان کے پاس کل کو دیکھنے والا ذہن ہے۔ یقین جانیے آج کے فیصلے کل آنے والی نسلوں کے لیے کارگر ہوں گے۔ اگر آپ کا نمائندہ یہ صلاحیت نہیں رکھتا تو اسے ووٹ مت دیں۔
عوام کے لیے کونسا نیا پراجیکٹ شروع کریں گے؟
تعلیم اور تربیت کے لیے کونسے نئے پراجیکٹس لگائے گا
صحت اور دیگر بنیادی سہولیات کے لیے کیا خدمات سرانجام دے گا
انفراسٹریکچر کے لیے کونسے خصوصی انتظامات کرے گا؟
اگر ان میں سے سب سوالات کا جواب نا ہوتو ایسے الیکشن کا حصہ ہر گز نا بنیں ۔ سب سے اہم اور ضروری بات ووٹ کسی کو بھی دیں مگر اپنی رشتہ داری، تعلق داری کو خراب مت کریں۔ ووٹ آپ کا اپنا حق ہے کسی کے کہنے پر اسے ہر گز استعمال مت کریں اور یہ مت بھولیں کے آج کا کیا گیا آپ کا فیصلہ آنے والی نسلوں کے لیے فیصلہ ہے۔
جسے بھی ووٹ دیں سوچ سمجھ کر دیں۔

8اکتوبر 2005 - سانحہ آزاد کشمیرلاشوں کے انبار، بے گھربچوں، بڑوں اور نوجوانوں کی سسکیاں قیامت صغرہ کا منظر ایسے لگ رہا تھ...
07/10/2022

8اکتوبر 2005 - سانحہ آزاد کشمیر

لاشوں کے انبار، بے گھربچوں، بڑوں اور نوجوانوں کی سسکیاں قیامت صغرہ کا منظر ایسے لگ رہا تھا کہ جیسے ابھی زمین پلٹ جائے گی اور باقی ماندہ زندگیاں لقمہ اجل بن جانا ہے۔

میرے پاس لکھنے کو الفاظ کم پڑھ رہے ہیں جو اس منظر کو بیان کر سکیں مگر اس چند سیکنڈ کے زلزلے نے پورے کشمیر کو ہلا کہ رکھ دیا تھا۔ جہاں جہاں تک نظر جا رہی تھی ہر طرف چیخ و پکار کی آوازیں گونچ رہی تھیں۔ ان دنوں ہم دوسرے گاؤں میں پڑھنے جایا کرتے تھے چونکہ ہمارے گاؤں میں تعلیم صرف مڈل سکول تک ہی تھی جو کہ آج بھی مڈل سکول تک ہی ہے۔ آدھے گھنٹے کی مسافت کے بعد غنی آباد سے تھب ہائی سکول میں پہنچے اور معمول کے مطابق کلاس جاری تھی کہ اچانک ایک دردناک آواز سنائی دی جو پہلے کبھی نا سنی تھی آواز ایسے محسوس ہو رہی تھی کہ جیسے پانی بہہ رہا ہو اور پانی کا بہاؤ اور تیز ہو رہا ہوں ابھی اس آواز کی گونج کو سمجھ بھی نا پائے تھے کہ اچانک سے زمین ہلنے لگی اور دیکھتے ہی دیکھتے سکول کی چھت گرنے لگی۔ بنا دیکھے سوچے سمجھے باہر کی طرف دوڑ لگائی تو سامنے کا پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر بہہ رہا تھا ہر طرف شور تھا کچھ سمجھ نہیں لگ رہی تھی کہ کیا ہو رہا ہے اور کرنا کیا ہے۔ چند ہی سیکنڈوں میں سکول کی بلڈنگ ایک زور دار جھٹکے سے زمین پر گر چکی تھی جہاں جہاں تک نظر پڑ رہی تھی تمام گھر زمین بوس ہو رہے تھے۔

چند لمحوں میں زندگی یکسر بدل چکی تھی، ہنستا بستا شہر مٹی کا ڈھیر بن چکا تھا۔ استاد محترم جناب عبدالرشید صاحب ایک طالب علم کا سر پڑے بیٹھے تھے اور کہہ رہے تھے کہ خوب بہہ رہا ہے قمیض پھاڑ کے کپڑا دو باندھنا ہے آؤ دیکھا نا تاؤ قیمض کے کپڑے کو پتھر پر رکھا اور ایک بڑا سارا ٹکڑا نکال کے استاد محترم کو دیا اور واپس سکول کی طرف جانے لگا کہ ناجانے اور کتنے دوست سکول کے نیچے دب گئے ہوں گے۔ ابھی واپس پلٹا ہی تھا کہ میرا کزن (انیس الرحمان) جو کہ عمر میں بھی میرے سے کچھ بڑا تھا اور کہیں گناہ زیادہ ہوشیار اور سمجھدار تھا وہ سامنے نظر آیا اور کہننے لگا چلو فورا گھر چلتے ہیں پتہ نہیں گھر کے کیا حالات ہونگے۔ میں نے اسرار کیا کہ بھائی ادھر سب بلڈنگ کے نیچے ہیں کیا ہوگیا ہے گھر جا کہ کیا کرنا ہے، خیر بڑے بھائی کیطرح تھا اور جب نہیں مانا تو سمجھ بھی لگ گئی کہ جانا ہے واپس گھر، پھر چل دیئے اپنے گھر کی طرف راستے شاید ہی کوئی گھر ایسا تھا جو محفوظ تھا ہر طرف ملبہ گھروں میں دبے لوگ، لوگوں کے کراہنے کی آوازیں ایک نا بیان کرنے والا منظر پیش کر رہی تھیں۔

بھاگ کر ہم اپنے گاؤں میں پہنچے (غنی آباد بازار) راستے میں ایک اور رشتہ دار ملا جس سے معلوم کیا کہ ہمارے گھر کے کیا حالات ہیں تو کہنے لگا کہ سب خیریت ہے اور سب بچ گئے ہیں مگر سنا ہے کہ لڑکیوں کے سکول میں چھوٹی بچیاں سکول کے نیچے دب گئی ہیں تو چلو ان کو نکالتے ہیں مگر اسکی بات سے دل کو تسلی نا ہوئی اور ایک بار گھر والوں کو خود سے دیکھنے کی تمنا تھی لہذا اس سے معذرت کی اور گھر کی طرف چل دیئے ابھی تھوڑا ہی آگے چلتے تھے (سریا پہنچے تھے) تو چچی ملیں جن کی امی کو تھوڑی سی چوٹ آئی تھی ان سے معلوم کیا گھر کے بارے میں تو کہنے لگیں کے آپ کے گھر میں تو سب ٹھیک ہیں پر میری امی کو چوٹ لگی ہے انکو تو مین روڈ تک پہنچا دیں۔ نا جانے کیوں بے ساختہ منہ سے نکلا کہ نہیں گھر والوں کو ایک بار دیکھنا ہے۔ خیر وہاں سے چل دئیے اور اپنے گھر آپہنچا۔ تو دیکھا کہ گھر زمین بوس ہے اور ہر طرف سناٹا ہے کوئی بھی فرد نظر نہیں آرہا تھا جو زندہ ہو اتنی دیر میں میری نظر چھوٹے بھائی پر پڑی جو بمشکل نو سال کا تھا اور روتے ہوئے کہہ رہا تھا کہ کوئی بھی نہیں بچا۔ یہ الفاظ میرے جسم میں سے روح کو نہیں نکال سکے باقی میرے جسم میں جان نہیں رہی تھی اور جس جگہ کھڑا تھا وہیں بیٹھ گیا چند سیکنڈ کے بعد گھر کے نیچے سے مجھے امی جان کی آواز سنائی دی ۔ یہ آواز میرے لیے زندگی تھی میرے جسم میں ایک کرنٹ سا آگیا جیسے مجھے زندگی مل گئی ہو جسیے میں سب کچھ بھول گیا ہوں لپک کر وہاں پہنچا جہاں سے آواز آرہی تھی امی جان جو کہ گھر کے نچے ہی دبی ہوئی تھیں مگر گھر چونکہ آگے کہ طرف گرا تھا تو گھر کا ملبہ تو آگے گرا ہوتا تھا مگر الماری کی نیچے امی جان تھے جن کو تھوڑی ہی کوشش کے بعد نکالنے میں کامیاب ہو گیا۔ اور پھر بھائی جان، پھپھو اور انکے دو بیٹوں کو نکالا ۔ اس پورے وقت میں مجھے نہیں یاد پڑتا کہ کوئی اور بھی وہاں تھا کیونکہ ایسا کوئی تھا ہی نہیں جس کا گھر بچا ہو یا اسکے گھر میں کوئی پھنسا نا ہو۔
انہی دنوں لاہور سے میرا بڑا بھائی بھی کشمیر آیا تھا ۔ جسے ابھی کچھ ہی دیر پہلے جگا کر میں سکول گیا کیونکہ اسنے لکڑی لینے جانا تھا اور وہ چولہے (جلانے) کے لیے لکڑی لا کر واپس سو گیا تھا ۔ کچھ ہی لمحوں میں گھرکے سارے افراد کو نکال لیا تھا مگر اسکے بعد صبح سے شام ہوگئی گھر کا ملبہ ہٹا نے کی پوری کوشش کی مگر بھائی کا کوئی پتہ نا چلا اب ہلی ہلکی تاریکی چاہ رہی تھی اندھیرہ ہونے کو آیاتھا کہ دروازے کے پاس سے جب ملبہ ہٹانا شروع کیا تو بھائی کو مردہ حالت میں پایا۔ یہ وہ بھائی تھا جس سے گھنٹوں اپنے خواب شیئر کیے جاتے اور اسے سنا جاتا ( کاش بھائی ایسا نا ہوتا) مگر اب اسکی سانسیں رک گئی تھیں وہ ہمیں الوداع کہہ چکا تھا۔نا جانے کہاں سے وہ طاقت، ہمت آئی کہ بھائی کو باہر نکالا اور اس وقت محلے کے چند اور لوگ بھی آگئے تھے اور پھر جنازہ اٹھایا اور (بگلے میں) ایک میدان میں لے گئے جہاں پر اور محلے کے زخمی اور جنازے رکھے ہوئے تھے اب شام ہو چکی تھی ہلکی ہلکی بارش اور ٹھنڈی ہوائیں اپنا اثر دیکھانا شروع ہو گئی تھیں ۔ مگر یہی نہیں بار بار زلزلے کے جھٹکے ایک خوفناک منظر تھا ۔

محلے کے چند جھوٹے بچے بار بار کھانے کے لیے رو رہے تھے جس کے لیے بارہا کوشش کے باوجود آگ نہیں جلا پارہے تھے چونکہ چھت نہیں تھی تو ہوا اور بارش میں گیلی لکڑی کو آگ لگانا ممکن نا تھا مگر جیسے تیسے بھی کرکے انکو چاول ابال کے دیے ۔معلوم نہیں باقی کیا سوچ رہے تھے مگر مجھے زندگی کا کوئی یقین نہیں رہا تھا بار بار زلزلے کے جھٹکوں سے ایسے ہی لگ رہا تھا کہ زمین الٹ پلٹ ہو جانی ہے اور سب ختم ہوجانا ہے مگر اللہ پاک نے جسے زندگی دینی ہو اور جسے بچانا ہو وہ کب بھلا جا سکتا ہے۔

یہ سب ہونے کے بعد امتحان تو ابھی شروع ہوا تھا۔ نا سر پر چھت اور نا کچھ کھانے کو اور حد تو یہ کہ ہمارا کچا گھر تھا اس لیے ہمارے پاس لوہے کی چادریں بھی نہیں تھیں جس سے گھر کی چھت بنائی جا سکے اور بارش سے بچا جا سکے اور حد تو یہ تھی جس سے بھی مانگیں شرمندگی کا سامنا ہی کرنا پڑا۔ حد تو یہ تھی کہ چند ادارے جو اس وقت لوگوں کو سپورٹ کررہے تھے جن کے کام کے بارے میں مجھے زیادہ جانکاری نا تھی کہ پاس جب پہنچے تو کہنے لگے یہ سامان صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو ہمارے ساتھ کام کرتے ہیں اور ہمارے ساتھ جڑے رہتے ہیں ( نام لینا مناسب نہیں سمجھوں گا)۔ اس وقت تو یہ بات حیران کن نہیں تھی مگر آج جب سوچتا ہوں تو حیران کن نہیں بلکہ ان لوگوں کی گھٹیا حرکت لگتی ہے۔ ایسا کوئی بھی فرد یا کوئی بھی ادارہ آپ کو ملے تو پہلے فرصت میں رابطہ کریں باقی کام میرا۔۔۔!

کبھی سامان کے پہچھے بھاگتے، کبھی ہیلی کاپٹر کا تماشہ دیکھتے جو روزانہ دس ہزار کے قریب کی آبادی میں دو یا تین بیگ راشن کا پھینکنے آتا تھا اور بے شمار تصاور لیکر واپس رفو چکر ہو جاتا تھا۔ مگر جو بھی تھا پاکستانی عوام اور پوری دنیا کی سپورٹ قابل تعریف تھی۔ کوئی شک نہیں کہ پاکستانی عوام نے دل کھول کر زلزلہ زدگان کی مدد کی کشمیر کے اندر رہتے ہوئے بھی اور جب وہ لوگ اسلام آباد، لاہور یا کسی بھی دوسرے شہر میں پہنچے تو وہاں بھی۔

ان تمام بھائیوں ، بہنوں کے لیے نیک تمنائیں اور خواہشات جنہوں نے ہمیں سپورٹ کیا اور ان کے لیے بھی جنہوں نے سپورٹ کرنے کا سوچا مگر کسی بھی وجہ سے نا سپورٹ کرسکے۔ اور آپ سب سے درخواست ہے کہ اس سانحے میں فوت ہونے والوں کے لیے اور انکے لواحقین کے لیے دعا ضرور کیجئے گا کیونکہ جانے والے تو چلے گئے مگر انکے پیچھے رہنے والے آج بھی انکی کمی اتنی ہی محسوس کررہے ہیں جتنی کہ اس وقت

اے اللہ!میں آپکی عظمت کے طفیل پناہ چاہتا ہوں اس بات سے کہ زمین میرے نیچے سے کھینچ لی جائے۔


        Creators
17/09/2022

Creators

17/09/2022

29/05/2022

برادر ذاکر وحید کی 4 ماہ کی بیٹی راولپنڈی میں انتقال فرما گئ۔
اللہ پاک اہلخانہ کو صبر جمیل عطا فرمائے۔

رمضان کے بابرکت مہینے میں اگر آپ کسی کی مددکرنا چاہتے ہیں تو یہ پوسٹ ضرور شیئر کیجئے گا ہو سکتا ہے آپکے شیئر کی وجہ سے ک...
25/04/2022

رمضان کے بابرکت مہینے میں اگر آپ کسی کی مددکرنا چاہتے ہیں تو یہ پوسٹ ضرور شیئر کیجئے گا ہو سکتا ہے آپکے شیئر کی وجہ سے کسی کی مدد ہو جائے۔

شاید آپ جاننا چاہ رہے ہوں۔

آن لائن قرآن ٹیچر کے لیے کون اپلائی کر سکتا ہے؟
ہر وہ فرد جو قرآن پاک کی تلاوت اچھے سے کر سکتا ہے اور پڑھا سکتا ہے۔

کیا خواتین بھی جاب کے لیے اپلائی کر سکتی ہیں؟
جی ہاں، اس جاب کے لیے مرد اور خواتین دونوں اپلائی کر سکتے ہیں۔

کس عمر کے طلبہ کو پڑھانا ہے؟
اس جاب کے دوران آپ کو تمام طلبہ آٹھویں کلاس سے کم کے ملیں گے۔ اس حساب سے 12 سال کی عمر تک کے بچے ہو سکتے ہیں۔

ان طلباء کا تعلق کہاں سے ہے؟
یہ سارے کے سارے طلبہ امریکہ، کینیڈا، برطانیہ اور دوسرے انٹرنیشل ممالک سے ہیں جو کہ پاکستانی یا انڈین ہیں۔ مگر اردو اور ہندی اچھی سے نہیں جانتے۔

کیا یہ جاب صرف قرآن پاک پڑھنے کی جاب ہے ؟
لازمی نہیں، کچھ طلباء ایسے بھی ہوں گے جو الگ سے آپ کو فیس دیں گے مگر انہیں اردو یا ہندی (بول چال) بھی سیکھانی ہو گی۔

کیا یہ جاب ہمیشہ کے لیے ہے؟
جو طلباء آپ کو دیے جائیں گے کم از کم ان کو پڑھانا لازمی ہو گا چاہے وہ دو سال کا عرصہ ہو یا چار سال کا۔ اس کے بعد آپکی مرضی ہے اگر آپ جاری رکھنا چاہیں تو مناسب اور بہتر نہیں تو آپکی مرضی۔

کیا فی طلباء ٹیوشن فیس دی جائے گی یا نوکری کی بنیاد پر؟
اس میں دو طرح کے آپشن ہیں۔ ایک تو یہ کے امریکہ کے اسلامی سکولوں کے لیے ٹیچرز درکار ہیں جہاں پر آپ کو ماہانہ تنخواہ دی جائے گی۔ (پہلی تنخواہ ایڈوانس ہوگی مگر کسی بھی ریفرینس کی بنیاد پر) اور دوسری آپشن ہے طلباء آپ کو دے دیئے جائیں گے جو تقریبا ہر بچے کے 100امریکی ڈالرز ادا کیے جائیں گے۔ اور کبھی بھی آپ بچے سے اسکی فیس کے بارے میں معلوم نہیں کریں گے۔

اس نوکری کے لیے اپلائی کیسے کیا جا سکتا ہے؟
نوکری کے لیے اپلائی کرنے کے لیے نیچے دی گئی ویب سائیٹ وزٹ کریں اور اسلام کے سیکشن میں جاکر "بیکم قرآن ٹیچر" پر جائیں اور وہاں موجود اپلائی فار جاب کے بٹن پر کلک کریں اور اپلائی کریں۔

اپلائی کرنے کے کتنے عرصے بعد نوکری مل جائےگی۔
ادارے کو تقریبا 250 ٹیچرز درکار ہیں اور چاہیں گے کہ تمام کے تمام لوگوں کا انٹرویو ایک ہی وقت میں کیا جائے لہذا اس کے لیے شاید دس سے پندرہ دن لگ سکتے ہیں۔

انٹرویو کا طریقہ کار کیا ہوگا۔
اس نوکری کے لیے آپ کے تین انٹرویوز ہوں گے۔ تمام انٹرویوز پاس کرنے ضروری ہیں۔ پہلا انٹرویو ہو گا جس میں یہ چیک کیا جائے گا کہ کیا آپ آن لائن کلاسز لے سکتے ہیں یا نہیں اور ساتھ میں ہی یہ بھی دیکھا جائے گا کہ کیا آپ انگلش بول چال جانتے ہیں یا نہیں۔ اور پھر دوسرا انٹرویو حافظ قرآن کرے گا/کرے گی جو یہ چیک کرے گا/کرے گی کہ کیا آپ قرآن کے تلفظ صحیح ادا کررہے /رہی ہیں یا نہیں۔ اس کے بعد آپ کا فائنل انٹرویو ہو گا جس میں آپ کے ساتھ تمام کاغذی کاروائی کی جائے گی جیسے کہ تنخواہ کتنی رکھنی ہے/فی بچہ کتنی فیس دی جائے گی اور کسی فرد کی ضمانت کہ آپ کبھی بھی بھاگیں گے /گی نہیں اور طلبہ سے تمیز سے پیش آئیں گی/گے۔ وغیرہ وغیرہ

اگر مزید تفصیلات جاننا چاہتے ہیں تو کمنٹ ضرور کیجئے گا۔ اور اگر سچ میں کسی کی مدد کرنا چاہتے ہیں تو اس پوسٹ کو شیئر ضرور کیجئے گا۔

لنک کیوں شیئر نہیں کیا گیا؟
چونکہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم لنک والی پوسٹس کو زیادہ ریچ نہیں دیتے اس لیے لنک شیئر نہیں کیا گیا ۔

آپکے تعاون اور شیئرنگ کا ایڈوانس میں شکریہ ؛ اللہ پاک آپ کو ہمیشہ خوش رکھیں۔

Great Platform to       for free. Don't forget to visit mentioned below website (click on photo for visit) to find
22/04/2022

Great Platform to for free. Don't forget to visit mentioned below website (click on photo for visit) to find

19/03/2021

Don't forget, only 5% people of the world earn by utilizing their mind and rest of the people earn by struggling. Budget of these 5% people is almost 85% of the world and rest of the people earn remaining percentage.
Now it's your decision, you'll be the part of the 5% people or other people. Decision will be yours.
Join our team for more details. Earn Online With Google Without Investment
Earn Online | Online Free Jobs | Jobs Available
https://msofice.org/earn-online-with-google-without.../

Earn Online Without Investment with
06/03/2021

Earn Online Without Investment with

MS Office | Earn Online | Jobs |

Address

Ghani Abad (Jhir) Bagh Azad Kashmir
Bagh

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Ghani Abad (Jhir) posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share