RNJ Historian

RNJ Historian Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from RNJ Historian, Cholistan, Bahawalpur.

جس رات میں نے اپنے سب سے قریبی دوست کو آخری بار دیکھا — اسے خود نہیں معلوم تھا کہ وہ آخری بار ہے... 👇ہم بچپن سے ایک ہی گ...
22/08/2026

جس رات میں نے اپنے سب سے قریبی دوست کو آخری بار دیکھا — اسے خود نہیں معلوم تھا کہ وہ آخری بار ہے... 👇

ہم بچپن سے ایک ہی گلی میں پلے بڑھے تھے۔

ایک ہی اسکول، ایک ہی محلہ، ایک ہی چھت پر راتیں — ہماری دوستی اتنی پرانی تھی کہ یاد نہیں کب شروع ہوئی تھی۔

اسلم — میرا وہ دوست جو ہر مصیبت میں آگے ہوتا، جو کبھی نہیں کہتا تھا "مجھ سے نہیں ہوگا"۔

مگر زندگی نے ایک موڑ لیا۔

اسلم کے گھر کے حالات خراب ہوئے — باپ بیمار، گھر کا بوجھ اس پر آ گیا۔ اس نے شہر جا کر مزدوری شروع کی — صبح اندھیرے سے شام اندھیرے تک۔

ہم ملتے کم ہو گئے — مگر فون پر رابطہ رہا۔

ایک رات اس نے فون کیا — رات کے گیارہ بجے۔

میں نے اٹھایا — آواز میں وہ پرانی گرمجوشی نہیں تھی۔ بولا: "یار، بہت دنوں سے ملے نہیں — کل ملتے ہیں؟ بس ایک چائے پیتے ہیں۔"

میں نے کہا: "یار، کل کام ہے — پرسوں چلتے ہیں۔"

اس نے ہلکا سا کہا: "ٹھیک ہے یار، کوئی بات نہیں۔"

اور فون رکھ دیا۔

پرسوں آیا — میں بھول گیا۔

اگلے ہفتے اس کے بھائی کا فون آیا۔

اسلم نے تین دن پہلے خود کو کمرے میں بند کر کے زندگی ختم کر لی تھی۔

میرے ہاتھ سے فون گر گیا۔

ذہن میں بس ایک ہی بات گھوم رہی تھی — "یار، کل ملتے ہیں؟ بس ایک چائے۔"

وہ آخری بار ملنا چاہتا تھا۔

شاید بتانا چاہتا تھا کچھ — شاید صرف ایک دوست کا چہرہ دیکھنا چاہتا تھا۔

اور میں نے کہا تھا "پرسوں چلتے ہیں۔"

وہ پرسوں کبھی نہیں آیا۔

آج کئی سال گزر گئے ہیں۔

زندگی چلتی رہی، مگر وہ رات نہیں بھولی۔

آج بھی جب کوئی فون کرتا ہے — میں فوری اٹھاتا ہوں۔

آج بھی جب کوئی ملنا چاہے — میں "پرسوں" نہیں کہتا۔

کیونکہ میں نے سیکھا — کبھی کبھی "ابھی نہیں" کہنا — ہمیشہ کے لیے کہنا بن جاتا ہے۔

اگر آپ کے آس پاس کوئی ایسا شخص ہے جو خاموش ہو گیا ہے، جس نے ملنا کم کر دیا ہے، جو "ٹھیک ہوں" کہہ کر بات ختم کر دیتا ہے — آج اسے فون کریں۔

ابھی۔

کل کا انتظار مت کریں۔

کمنٹ میں صرف اتنا لکھیں — کیا آپ کے پاس بھی کوئی ایسا شخص ہے جسے آج call کرنی چاہیے؟

آج ایک چھوٹی سی بات نے گھنٹوں سوچنے پر مجبور کر دیا... 👇کچھ دن پہلے میں شہر سے گزر رہا تھا۔سڑک کنارے ایک چھوٹا سا ہوٹل ت...
22/08/2026

آج ایک چھوٹی سی بات نے گھنٹوں سوچنے پر مجبور کر دیا... 👇

کچھ دن پہلے میں شہر سے گزر رہا تھا۔

سڑک کنارے ایک چھوٹا سا ہوٹل تھا — پرانا، سادہ۔

باہر ایک آدمی بیٹھا تھا، عمر کوئی پچاس سال، چہرے پر زندگی کی تھکاوٹ صاف نظر آ رہی تھی۔ ہاتھ میں چائے کا کپ تھا — مگر چائے پی نہیں رہا تھا، بس تھامے بیٹھا تھا۔

اس کی آنکھیں سامنے کی سڑک پر تھیں — مگر وہ کچھ دیکھ نہیں رہا تھا۔

وہ بس... کہیں اور تھا۔

میں نے گاڑی روکی، چائے لی، اور اس کے قریب بیٹھ گیا۔

بات شروع ہوئی تو پتا چلا — تیس سال سے یہی ہوٹل چلا رہا ہے۔ صبح چار بجے اٹھتا ہے، رات گیارہ بجے سوتا ہے۔ تین بچے ہیں — دو پڑھ رہے ہیں، ایک کی شادی کرنی ہے۔

میں نے پوچھا: "چائے ٹھنڈی ہو گئی، پیتے کیوں نہیں؟"

وہ ہلکا مسکرایا: "بس تھوڑا سا وقت چاہیے تھا — خود کے ساتھ بیٹھنے کا۔ دن میں یہی ایک لمحہ ملتا ہے جب کوئی کچھ نہیں مانگتا۔"

وہ جملہ میرے ذہن میں رہ گیا۔

"خود کے ساتھ بیٹھنے کا وقت۔"

ہم میں سے کتنے لوگ ہیں جو اتنے مصروف ہیں کہ خود سے بھی ملنا بھول گئے ہیں؟

ہر صبح اٹھتے ہیں — فون دیکھتے ہیں۔ ہر رات سوتے ہیں — سوشل میڈیا scroll کرتے کرتے۔ دن بھر ہزار کام — مگر ایک لمحہ بھی اپنے ساتھ نہیں۔

اس آدمی کے پاس پیسہ نہیں تھا، آرام نہیں تھا — مگر اس نے وہ چیز ڈھونڈ لی تھی جو آج کل امیر سے امیر آدمی کو نہیں ملتی۔

سکون کا ایک لمحہ — اپنے ساتھ۔

میں وہاں سے اٹھا تو کچھ بدل گیا تھا مجھ میں۔

کبھی کبھی زندگی کے سب سے بڑے سبق — سب سے سادہ لوگوں سے ملتے ہیں۔

آپ نے آج خود کے ساتھ کتنا وقت گزارا؟ کمنٹ میں بتائیں۔

کچھ لوگ مسکراتے ہوئے بھی سب سے زیادہ اکیلے ہوتے ہیں — اور ہم دیکھتے ہوئے بھی نہیں دیکھتے... 👇پچھلے ہفتے ایک شادی میں گیا...
21/08/2026

کچھ لوگ مسکراتے ہوئے بھی سب سے زیادہ اکیلے ہوتے ہیں — اور ہم دیکھتے ہوئے بھی نہیں دیکھتے... 👇

پچھلے ہفتے ایک شادی میں گیا۔

ہال بھرا ہوا تھا — روشنیاں، موسیقی، ہنسی، رونق۔ ہر طرف چہل پہل تھی، لوگ گروہوں میں کھڑے تھے، باتیں ہو رہی تھیں، قہقہے گونج رہے تھے۔

میں نے ایک کونے میں ایک شخص کو دیکھا۔

پچاس سال کے قریب، صاف ستھرے کپڑے، چہرے پر مسکراہٹ — مگر وہ مسکراہٹ عجیب تھی۔

وہ مسکراہٹ جو ہونٹوں پر تو تھی — آنکھوں تک نہیں پہنچی تھی۔

وہ اکیلا بیٹھا تھا، ہاتھ میں جوس کا گلاس، نظریں بھیڑ پر — مگر بھیڑ کا حصہ نہیں تھا۔

میں اس کے پاس گیا۔

ہم نے بات کی — پہلے سطحی، پھر گہری۔

اس نے بتایا کہ وہ اس گھر کا پرانا دوست ہے، تیس سال سے آتا رہا ہے۔ مگر اب جو لوگ ہال میں ہیں، ان میں سے اسے آدھے نہیں پہچانتے۔ وقت نے سب بدل دیا — دوست بکھر گئے، رشتے بدل گئے، وہ اکیلا رہ گیا۔

"یہاں آیا تھا تاکہ شاید کوئی پرانا چہرہ مل جائے۔"

پھر اس نے ہلکا سا ہنستے ہوئے کہا: "مگر لگتا ہے غلط جگہ ڈھونڈ رہا ہوں — جو لوگ چھوڑ گئے، وہ کسی شادی میں واپس نہیں آتے۔"

وہ جملہ میرے دل میں کہیں اتر گیا۔

ہم میں سے بہت لوگ ہیں جو ہجوم میں بیٹھ کر بھی اکیلے ہیں — مگر ہم نے اکیلا دکھنا چھوڑ دیا ہے۔ ہم نے سیکھ لیا ہے مسکرانا — چاہے اندر سے خالی ہوں۔

اس شخص میں مجھے کوئی کمزوری نظر نہیں آئی۔

بلکہ ایک عجیب طرح کی عزت محسوس ہوئی — کیونکہ اس نے اپنا اکیلا پن چھپانے کے لیے نقلی محفل نہیں بنائی، نہ سوشل میڈیا پر فرضی خوشیاں دکھائیں۔

وہ بس خاموشی سے بیٹھا رہا — اپنے آپ کے ساتھ۔

شاید یہی سب سے بڑی ہمت ہے۔

اس دنیا میں جہاں ہر کوئی "خوش" دکھنے کی دوڑ میں ہے — اکیلے بیٹھ کر خود کے ساتھ ایماندار رہنا سب سے مشکل کام ہے۔

کیا آپ نے کبھی کسی بھری محفل میں ایسے کسی شخص کو نوٹس کیا — جو سب میں ہو کر بھی کہیں نہ ہو؟

کمنٹ میں بتائیں۔

میں نے اپنی زندگی میں سب سے امیر آدمی کو اس دن دیکھا — جس کے پاس کچھ نہیں تھا... 👇کچھ ہفتے پہلے کی بات ہے۔میں ایک کام سے...
21/08/2026

میں نے اپنی زندگی میں سب سے امیر آدمی کو اس دن دیکھا — جس کے پاس کچھ نہیں تھا... 👇

کچھ ہفتے پہلے کی بات ہے۔

میں ایک کام سے شہر کے پرانے حصے سے گزر رہا تھا۔

تنگ گلیاں، پرانی عمارتیں، وہ حصہ جہاں وقت آہستہ چلتا ہے۔

ایک موڑ پر میں نے دیکھا — ایک بوڑھا آدمی فٹ پاتھ پر بیٹھا تھا، سامنے پرانے جوتوں کی مرمت کا سامان رکھا تھا۔

مگر وہ کام نہیں کر رہا تھا۔

اس کے سامنے ایک چھوٹی بچی بیٹھی تھی — کوئی پانچ سال کی، شاید پوتی تھی — اور وہ بچی اسے کوئی کہانی سنا رہی تھی، ہاتھ ہلا ہلا کر۔

اور وہ بوڑھا آدمی — اتنی توجہ سے سن رہا تھا جیسے دنیا کی سب سے ضروری بات ہو رہی ہو۔

کام رکا ہوا تھا، گاہک نہیں تھا، جیب خالی ہوگی — مگر اس لمحے اس کے چہرے پر جو اطمینان تھا، جو مکمل موجودگی تھی — وہ میں نے بڑے بڑے امیر لوگوں کے چہروں پر نہیں دیکھی۔

میں وہاں رک گیا۔

کافی دیر کھڑا رہا — بغیر کسی کو بتائے، بغیر تصویر کھینچے — بس دیکھتا رہا۔

اس لمحے میں نے سوچا کہ ہم امیری کو کیا سمجھتے ہیں؟

بڑی گاڑی؟ بڑا گھر؟ بینک بیلنس؟

مگر یہ آدمی — جس کے پاس ایک ٹوٹا ہوا موچی کا بکسہ تھا — اس لمحے میں اس سے زیادہ امیر کوئی نہیں تھا۔

کیونکہ اس کے پاس وہ چیز تھی جو آج کل سب سے مہنگی ہے — کسی ایک کے ساتھ مکمل طور پر موجود ہونا۔

ہم میں سے کتنے لوگ ہیں جو اپنے بچوں کے ساتھ بیٹھ کر موبائل بند کر دیتے ہیں؟ جو کسی کی بات اتنی توجہ سے سنتے ہیں کہ باقی دنیا غائب ہو جائے؟

اصل غریبی پیسے کی کمی نہیں — اصل غریبی وقت اور توجہ کی کمی ہے۔

وہ بوڑھا موچی شاید آج بھی اسی فٹ پاتھ پر بیٹھا ہے — مگر میرے لیے وہ زندگی کا سب سے بڑا استاد ہے۔

آج اپنے کسی قریبی کے ساتھ بیٹھیں — موبائل رکھ کر، آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر۔

بس پانچ منٹ — دیکھیں کیا فرق پڑتا ہے۔

کمنٹ میں بتائیں — آپ کے خیال میں اصل امیری کیا ہے؟

آج ایک بات نے اندر تک ہلا دیا — سوچتا رہا گھنٹوں... 👇کل رات میں دیر سے گھر واپس آ رہا تھا۔شہر کا وہ حصہ جہاں رات کو بھی ...
21/08/2026

آج ایک بات نے اندر تک ہلا دیا — سوچتا رہا گھنٹوں... 👇

کل رات میں دیر سے گھر واپس آ رہا تھا۔

شہر کا وہ حصہ جہاں رات کو بھی زندگی نہیں رکتی — دکانیں کھلی، لوگ چلتے، گاڑیاں گزرتی۔

ایک چوک پر سرخ بتی پر رکا۔

پہلو میں ایک پرانی موٹرسائیکل آ کر رکی — اس پر ایک آدمی تھا، عمر کوئی پینتالیس سال، چہرے پر دن بھر کی تھکاوٹ۔ پیچھے سیٹ پر ایک چھوٹا لڑکا بیٹھا تھا — کوئی آٹھ سال کا، اسکول کا بستہ پیٹھ پر، آنکھیں نیم بند، باپ کی کمر سے لپٹا ہوا، موٹرسائیکل کی آواز میں سو چکا تھا۔

وہ آدمی — شاید پوری رات کام کر کے آ رہا تھا، یا صبح سے شام تک محنت کر کے — اتنا تھکا ہوا تھا کہ موٹرسائیکل پر بیٹھے بیٹھے کندھے جھکے ہوئے تھے۔

مگر جیسے ہی بتی سبز ہوئی — اس نے ایک ہاتھ پیچھے کیا، بیٹے کی پیٹھ تھپتھپائی — آہستہ سے، پیار سے — تاکہ موڑ پر بچہ گرے نہیں۔

بس یہی ایک لمحہ تھا۔

دو سیکنڈ کا۔

مگر اس دو سیکنڈ میں ایک باپ کی پوری محبت تھی۔

وہ موٹرسائیکل آگے نکل گئی — اندھیرے میں غائب ہو گئی۔

میں وہیں بیٹھا رہا — پیچھے گاڑیوں کے ہارن بج رہے تھے — مگر مجھے کچھ سنائی نہیں دے رہا تھا۔

میں سوچ رہا تھا اس آدمی کے بارے میں۔

وہ آدمی جس کا نام نہیں جانتا، جس کا چہرہ شاید کل بھول جاؤں — مگر اس کا وہ ایک ہاتھ، وہ ایک لمحہ — وہ میں کبھی نہیں بھولوں گا۔

کیونکہ اس ہاتھ میں وہ سب کچھ تھا جو کوئی باپ اپنے بچے کو دے سکتا ہے۔

نہ پیسہ، نہ گاڑی، نہ بڑا گھر — بس یہ احساس کہ "میں ہوں، تم محفوظ ہو۔"

ہم اکثر سوچتے ہیں کہ محبت بڑی بڑی چیزوں میں ہوتی ہے — مہنگے تحفے، بڑی قربانیاں، یادگار لمحے۔

مگر سچ یہ ہے کہ محبت سب سے زیادہ انہی چھوٹے لمحوں میں ہوتی ہے۔

رات کے اندھیرے میں ایک تھکے ہوئے باپ کا وہ ایک ہاتھ — جو سوئے ہوئے بیٹے کی پیٹھ پر آہستہ سے رکھا — وہ دنیا کی سب سے بڑی محبت تھی۔

آج اپنے باپ کو یاد کریں — یا اپنے بچے کو۔

اور وہ چھوٹا سا لمحہ ڈھونڈیں جس میں آپ کو پتا چلا کہ محبت کیا ہوتی ہے۔

کمنٹ میں بتائیں — آپ کی زندگی کا وہ ایک چھوٹا سا لمحہ کون سا ہے جو آج بھی دل میں زندہ ہے؟

آج ایک بندے کو دیکھا جو ہنس رہا تھا — مگر میں جانتا تھا وہ ٹوٹا ہوا ہے... 👇کچھ دن پہلے ایک پرانے دوست سے ملاقات ہوئی۔ہم ...
21/08/2026

آج ایک بندے کو دیکھا جو ہنس رہا تھا — مگر میں جانتا تھا وہ ٹوٹا ہوا ہے... 👇

کچھ دن پہلے ایک پرانے دوست سے ملاقات ہوئی۔

ہم نے سالوں بعد ملے تھے — کافی shop میں بیٹھے، باتیں ہوئیں، ہنسی مذاق ہوا۔

ظاہری طور پر سب ٹھیک تھا۔

مگر میں نے ایک چیز نوٹس کی — وہ ہر بات پر ہنستا تھا۔

ہر بات پر۔

کوئی سنجیدہ بات ہو — ہنسی۔ کوئی ذاتی بات چھڑے — فوری مذاق بنا دیتا۔ جب بھی بات اپنی زندگی کی طرف جاتی — فوری موضوع بدل دیتا۔

میں سمجھ گیا۔

یہ خوشی نہیں تھی — یہ وہ ہنسی تھی جو لوگ اس وقت استعمال کرتے ہیں جب رونا نہیں چاہتے۔

جب ہم اٹھنے لگے تو میں نے اس کا کندھا پکڑا اور آہستہ سے پوچھا: "سچ بتا — کیسا ہے؟"

وہ ایک لمحے کے لیے رکا۔

پھر وہ مسکراہٹ جو پوری شام چہرے پر چپکی تھی — پہلی بار ہلکی پڑ گئی۔

اس نے کہا: "یار، بہت تھک گیا ہوں — مگر کسی کو بتا نہیں سکتا۔ سب سمجھتے ہیں میں ٹھیک ہوں۔ میں خود بھی سب کو یہی یقین دلاتا ہوں۔"

بس اتنا کہا — اور پھر مسکرا دیا۔

اس مسکراہٹ میں وہ سب کچھ تھا جو وہ کہہ نہیں سکا۔

میں گھر آیا تو سوچتا رہا — ہمارے معاشرے میں کتنے لوگ ایسے ہیں؟

جو ہر روز اٹھتے ہیں، کپڑے پہنتے ہیں، باہر جاتے ہیں — اور ایک مسکراہٹ چہرے پر چپکا لیتے ہیں۔

جو دوسروں کو ہنساتے ہیں — خود اندر سے خاموش ہوتے ہیں۔

جو "میں ٹھیک ہوں" کہتے کہتے اتنے عادی ہو گئے ہیں کہ خود بھی بھول گئے ہیں کہ وہ ٹھیک نہیں ہیں۔

ہمارے معاشرے نے مردوں کو یہ سکھایا ہے کہ کمزوری دکھانا شرم کی بات ہے۔

مسئلہ بتانا کمزوری ہے۔

رونا کمزوری ہے۔

مدد مانگنا کمزوری ہے۔

تو وہ سب کچھ اندر رکھتے ہیں — اور باہر سے مسکراتے رہتے ہیں۔

مگر سچ یہ ہے کہ جو شخص اپنا درد چھپانے کے باوجود ہر روز اٹھ کر اپنی ذمہ داریاں نبھاتا ہے — وہ کمزور نہیں، وہ سب سے زیادہ مضبوط ہے۔

اگر آپ کی زندگی میں کوئی ایسا شخص ہے جو ہمیشہ "ٹھیک ہوں" کہتا ہے — آج اسے کال کریں۔

بس اتنا پوچھیں: "سچ میں کیسا ہے؟"

یہ دو لفظ کسی کی پوری دنیا بدل سکتے ہیں۔

کمنٹ میں لکھیں — کیا آپ بھی کبھی وہ شخص رہے ہیں جو باہر سے ٹھیک تھا، اندر سے نہیں؟

رات کے بارہ بجے جب سب سو جاتے ہیں — تب اصل زندگی شروع ہوتی ہے... 👇میں اکثر رات کو دیر سے باہر نکلتا ہوں۔شہر کا وہ وقت جب...
19/08/2026

رات کے بارہ بجے جب سب سو جاتے ہیں — تب اصل زندگی شروع ہوتی ہے... 👇

میں اکثر رات کو دیر سے باہر نکلتا ہوں۔

شہر کا وہ وقت جب سڑکیں خالی ہوتی ہیں، آوازیں کم ہوتی ہیں، اور زندگی اپنا اصلی چہرہ دکھاتی ہے۔

پچھلے ہفتے رات کے قریب ایک بجے ایک چوراہے پر رکا۔

سامنے ایک پرانی ریڑھی تھی — روشنی کا ایک چھوٹا سا بلب لٹکا ہوا، اس کے نیچے ایک آدمی انڈے بیچ رہا تھا۔

اس وقت رات کے ایک بجے — جب پوری دنیا سو رہی تھی۔

میں نے گاڑی روکی، اترا، اس کے پاس گیا۔

میں نے پوچھا: "اس وقت کون خریدتا ہے؟"

اس نے مسکرا کر کہا: "صاحب، رات کو وہ لوگ آتے ہیں جن کے گھر میں چولہا صبح تک نہیں جل سکتا — وہ ادھار پر لے جاتے ہیں، کل واپس کرتے ہیں۔ اور کچھ وہ آتے ہیں جو رات بھر کام کرتے ہیں — مزدور، ڈرائیور، چوکیدار — انہیں بھی کھانا چاہیے۔"

میں نے پوچھا: "تم خود کب سوتے ہو؟"

بولا: "صبح چار بجے گھر جاتا ہوں، چھ بجے اٹھتا ہوں — بچوں کو اسکول چھوڑنا ہوتا ہے۔"

دو گھنٹے کی نیند۔

ہر رات۔

میں نے اس کی طرف دیکھا — چہرے پر تھکاوٹ تھی مگر آنکھوں میں ایک عجیب سا سکون تھا۔

وہ سکون جو اس آدمی کو ہوتا ہے جو جانتا ہے کہ وہ اپنا فرض ادا کر رہا ہے۔

میں نے پوچھا: "کبھی دل نہیں کرتا چھوڑ دو یہ سب؟"

وہ ایک لمحے کے لیے خاموش رہا۔

پھر بولا: "صاحب، جب صبح بچے اسکول کا بستہ اٹھا کر جاتے ہیں — اس وقت جو خوشی ہوتی ہے نا — وہ کسی آرام سے نہیں ملتی۔"

میں واپس گاڑی میں بیٹھا — اور کافی دیر تک چلا نہیں۔

بس بیٹھا رہا۔

سوچتا رہا۔

ہم اکثر اپنی زندگی کی چھوٹی چھوٹی پریشانیوں کو بہت بڑا سمجھتے ہیں — WiFi سست ہے، AC کمزور ہے، گاڑی نئی نہیں — اور یہ سمجھتے ہیں کہ زندگی بہت مشکل ہے۔

مگر اس رات میں نے ایک ایسے آدمی کو دیکھا جو دو گھنٹے سو کر بھی — اپنے بچوں کی مسکراہٹ کو اپنی سب سے بڑی کامیابی سمجھتا تھا۔

شکر کریں — جو ہے اس پر۔

کیونکہ بہت سے لوگ وہ چاہتے ہیں جو آپ کے پاس ہے — مگر آپ اسے دیکھتے نہیں۔

آج رات سونے سے پہلے اپنی زندگی کی ایک چیز کا شکر ادا کریں۔

کمنٹ میں بتائیں — آج آپ کس چیز کے لیے شکر گزار ہیں؟

میں نے اپنے استاد کو آخری بار تب دیکھا جب وہ ریٹائر ہو رہے تھے — ان کی آنکھوں میں جو تھا، وہ آج تک نہیں بھولا... 👇سر اقب...
19/08/2026

میں نے اپنے استاد کو آخری بار تب دیکھا جب وہ ریٹائر ہو رہے تھے — ان کی آنکھوں میں جو تھا، وہ آج تک نہیں بھولا... 👇

سر اقبال ہمارے اسکول میں ریاضی پڑھاتے تھے۔

مگر انہوں نے صرف ریاضی نہیں پڑھائی۔

میں آٹھویں جماعت میں تھا جب ابو کا کاروبار ڈوبا۔ گھر کے حالات ایسے ہو گئے کہ اسکول کی فیس دینا مشکل ہو گئی۔ ایک دن پرنسپل کے کمرے سے TC لینے کا وقت آ گیا۔

سر اقبال نے کہیں سے سن لیا۔

انہوں نے مجھے راستے میں روکا — کوئی ڈرامہ نہیں، کوئی تقریر نہیں، بس ہاتھ میرے کندھے پر رکھا اور آہستہ سے بولے: "کل سے آتے رہنا۔ فیس کا مسئلہ میں دیکھ لوں گا۔"

اتنا ہی کہا۔

میں نے بعد میں جانا کہ وہ تین سال تک اپنی جیب سے میری فیس بھرتے رہے۔

انہوں نے کبھی نہیں بتایا — نہ مجھے، نہ میرے ابو کو، نہ کسی اور کو۔

میں نے دسویں جماعت میں پورے ضلع میں پہلی پوزیشن لی۔

جب نتیجہ آیا، میں سیدھا سر کے پاس گیا۔

وہ اپنی کرسی پر بیٹھے تھے، پرانا چشمہ لگائے، کچھ کاغذ دیکھ رہے تھے۔

میں نے نتیجہ ان کے سامنے رکھا — کچھ بولا نہیں۔

انہوں نے نظر اٹھائی، نتیجہ دیکھا — اور پھر مجھے دیکھا۔

ان کی آنکھیں بھر آئیں۔

انہوں نے صرف اتنا کہا: "میں جانتا تھا۔"

تین لفظ — مگر ان تین لفظوں میں اتنا یقین تھا کہ میری آنکھیں بھی بھر آئیں۔

سالوں بعد، جب میں انجینئر بن گیا، نوکری لگی، زندگی پٹری پر آئی — میں سر کو ڈھونڈنے گیا۔

پتہ چلا وہ ریٹائر ہو چکے ہیں، ایک چھوٹے سے گھر میں رہتے ہیں۔

میں ان کے گھر گیا۔

دروازہ کھٹکھٹایا تو انہوں نے خود کھولا — وہی چہرہ، وہی چشمہ، مگر بال اب پوری طرح سفید تھے۔

مجھے دیکھ کر ایک لمحے کے لیے رکے — پھر پہچانا۔

مسکرائے: "آؤ بیٹا۔"

میں اندر گیا — چھوٹا سا گھر، سادہ فرنیچر، دیوار پر ایک طرف نماز کا شیڈول، دوسری طرف ان کے پرانے شاگردوں کی تصویریں۔

میری تصویر بھی تھی — وہی جو نتیجے والے دن اخبار میں چھپی تھی۔

میرا دل بھر آیا۔

میں نے انہیں بتایا سب کچھ — کہ مجھے پتا چل گیا تھا فیس والی بات، کہ میں کبھی بھول نہیں سکا، کہ جو بھی ہوں آج، اس میں ان کا حصہ ہے۔

سر نے میری بات سنی — خاموشی سے۔

پھر بولے: "بیٹا، استاد کا کام یہی ہوتا ہے۔ تم نے محنت کی، کامیاب ہوئے — یہ تمہاری محنت ہے۔ میں نے تو بس ایک دروازہ کھلا رکھا تھا۔"

میں نے ان کے ہاتھ تھامے — وہ ہاتھ جنہوں نے ہزاروں بچوں کی زندگیاں بدلی تھیں — اور پہلی بار زندگی میں سمجھا کہ سچا استاد کیا ہوتا ہے۔

سچا استاد وہ نہیں جو صرف کتاب پڑھائے۔

سچا استاد وہ ہے جو یہ جانتے ہوئے بھی کہ شاگرد کبھی شاید شکریہ نہ کہے — پھر بھی اپنا سب کچھ دے دے۔

آج سر اقبال اس دنیا میں نہیں ہیں۔

مگر جب بھی کوئی مشکل آتی ہے — ان کے وہ تین لفظ کانوں میں گونجتے ہیں۔

"میں جانتا تھا۔"

اگر آپ کی زندگی میں کوئی ایسا استاد گزرا ہو جس نے آپ کو بدل دیا ہو — آج ان کے لیے دعا کریں۔ اور ہو سکے تو ان سے ملیں — آج ہی۔

کل بہت دیر ہو جاتی ہے۔

کمنٹ میں اپنے اس استاد کا نام لکھیں جسے آپ کبھی نہیں بھول سکتے۔

وہ شخص جو ہر محفل میں سب سے زیادہ ہنساتا تھا — گھر جا کر گھنٹوں چھت کو تکتا رہتا تھا... 👇میرے بارے میں سب یہی کہتے تھے:"...
19/08/2026

وہ شخص جو ہر محفل میں سب سے زیادہ ہنساتا تھا — گھر جا کر گھنٹوں چھت کو تکتا رہتا تھا... 👇

میرے بارے میں سب یہی کہتے تھے:

"یار عاصم تو بہت خوش مزاج ہے۔"
"عاصم جہاں ہو، محفل جم جاتی ہے۔"
"عاصم کو کبھی اداس نہیں دیکھا۔"

سب سچ کہتے تھے۔

میں واقعی ہنساتا تھا — فقرے مارتا، لطیفے سناتا، دوستوں کو خوش رکھتا۔

مگر جب رات کو گھر آتا، کمرے کا دروازہ بند کرتا — تو وہ عاصم کہاں چلا جاتا؟

بستر پر لیٹتا، چھت کو تکتا، اور سوچتا: "آج اتنے لوگوں کے ساتھ رہا — تو یہ خالی پن کیوں ہے؟"

کبھی کبھی رات کے دو بجے اچانک اٹھ جاتا۔ دل میں ایک عجیب سی بے چینی ہوتی — نہ رونے جیسا، نہ ہنسنے جیسا — بس ایک خلا، ایک سنّاٹا جو اندر سے کھاتا رہتا۔

فون اٹھاتا، contacts scroll کرتا۔

سو سے زیادہ نام۔

مگر ایک بھی ایسا نہیں تھا جسے رات کے دو بجے call کر کے کہہ سکتا: "یار، بہت اکیلا لگ رہا ہے — بس بات کرنی تھی۔"

کیونکہ میں "خوش مزاج عاصم" تھا — مجھے اداس ہونے کا حق نہیں تھا۔

لوگ میرے مسائل سننا نہیں چاہتے تھے — وہ میرے فقرے سننا چاہتے تھے۔

ایک دن دفتر میں ایک ساتھی نے پوچھا: "عاصم، تم ہمیشہ اتنے خوش کیسے رہتے ہو؟ کوئی مسئلہ نہیں تمہیں؟"

میں نے مسکرا کر کہا: "یار مسئلے کسے نہیں ہوتے — مگر رویا تو مسئلہ حل نہیں ہوتا۔"

سب نے قہقہہ لگایا۔

اندر سے میں نے سوچا: "کاش کوئی پوچھتا — نہیں عاصم، سچ بتاؤ، واقعی کیسے ہو؟"

مگر کسی نے نہیں پوچھا۔

کیونکہ ہمارے معاشرے میں مرد کو کمزور نہیں ہونا چاہیے۔ مرد کو مسئلہ نہیں ہونا چاہیے۔ مرد کو رونا نہیں چاہیے۔

مرد کو بس مضبوط رہنا چاہیے — چاہے اندر سے ٹوٹ رہا ہو۔

رمضان کی ایک رات — سب گھر والوں کے ساتھ افطار پر تھے، ہنسی مذاق ہو رہا تھا — میں اچانک اٹھ کر چھت پر چلا گیا۔

آسمان پر ستارے تھے۔ نیچے سے ہنسی کی آوازیں آ رہی تھیں۔

میں وہاں اکیلا کھڑا تھا اور پہلی بار کئی سالوں میں — رویا۔

بغیر کسی وجہ کے، بغیر کسی سامعین کے — بس رویا۔

اور عجیب بات یہ ہوئی کہ جب آنسو رکے — تو ہلکا لگا۔

اس رات میں نے جانا کہ میں اتنے عرصے سے ہر کسی کو خوش رکھنے میں اتنا مصروف تھا کہ خود سے پوچھنا بھول گیا تھا: "عاصم، تم کیسے ہو؟"

آج بھی میں وہی عاصم ہوں — محفلوں میں ہنساتا ہوں۔

مگر فرق یہ آیا کہ اب مجھے خود سے جھوٹ نہیں بولنا پڑتا۔

اب میں جانتا ہوں کہ اکیلا پن کمرے میں بند ہو کر نہیں آتا — اکیلا پن اس وقت آتا ہے جب آپ سو لوگوں میں ہوں اور ایک بھی آپ کا نہ ہو۔

اگر آپ بھی وہ شخص ہیں جو باہر ہنستا ہے اور اندر سے خاموش ہے — تو جان لیں، آپ اکیلے نہیں ہیں۔

ہم میں سے بہت سے لوگ یہی زندگی جی رہے ہیں۔

کمنٹ میں بس اتنا لکھیں: "میں بھی" — اگر آپ نے کبھی یہ محسوس کیا ہو۔

وہ دوست جو کہتا تھا "تیرے بغیر میری زندگی نہیں" — جب میں نے اس سے پانچ ہزار مانگے تو اس نے نمبر block کر دیا... 👇ہم دس س...
19/08/2026

وہ دوست جو کہتا تھا "تیرے بغیر میری زندگی نہیں" — جب میں نے اس سے پانچ ہزار مانگے تو اس نے نمبر block کر دیا... 👇

ہم دس سال کے دوست تھے۔

دس سال۔

اسکول سے کالج تک، کالج سے نوکری تک — ہر موڑ پر ساتھ۔

جب اس کی نوکری گئی، میں نے تین مہینے اسے اپنے گھر رکھا۔ اپنی جیب سے کھلایا، پلایا، اس کا کرایہ بھرا۔ کبھی احساس نہیں دلایا۔

جب اس کی ماں بیمار ہوئیں، میں رات کو ہسپتال میں اس کے ساتھ بیٹھا رہا — صبح دفتر جانا تھا، مگر نہیں گیا۔

جب اس کی شادی ٹوٹی، میں نے مہینوں اسے سنبھالا — رات کو calls اٹھائیں، باہر لے کر گیا، ہنسایا۔

وہ کہتا تھا: "یار تو میری روح ہے، تیرے بغیر میں کچھ نہیں۔"

میں مسکراتا تھا — سوچتا تھا، یہی دوستی ہوتی ہے۔

پھر میرے ابو کا آپریشن آ گیا۔

اچانک، بغیر کسی تیاری کے — ڈاکٹر نے کہا اگلے ہفتے کرنا ہے، نہیں تو خطرہ بڑھے گا۔

میرے پاس پیسے نہیں تھے۔ تنخواہ ہفتے بعد آنی تھی، اکاؤنٹ میں صرف چند سو روپے تھے۔

میں نے سوچا — دوست ہے، دس سال کا یار ہے، پانچ ہزار مانگوں گا، کچھ دن میں واپس کر دوں گا۔

اس نے پہلی call نہیں اٹھائی۔

میں نے سوچا مصروف ہوگا، دوبارہ call کی۔

اس بار اٹھائی — آواز میں عجیب سی ٹھنڈک تھی۔

میں نے بتایا — ابو کا آپریشن ہے، پانچ ہزار چاہئیں، تنخواہ آتے ہی واپس کروں گا۔

خاموشی۔

پھر بولا: "یار، ابھی میرے پاس بھی تنگی ہے، نہیں ہو سکتا۔"

میں نے کہا: "یار، پانچ ہزار ہیں، ابو کا آپریشن ہے —"

اس نے call کاٹ دی۔

میں نے message کیا — "seen" ہو گیا، جواب نہیں آیا۔

میں نے دوبارہ call کی — نہیں اٹھائی۔

تیسری بار — number busy تھا۔

چوتھی بار — "یہ نمبر آپ کی calls receive نہیں کر سکتا۔"

اس نے block کر دیا تھا۔

میں فون ہاتھ میں لیے بیٹھا رہا — سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا ہوا ابھی۔

دس سال۔ تین مہینے گھر رکھا، ہسپتال میں رات گزاری، شادی ٹوٹنے پر سنبھالا — اور پانچ ہزار روپے پر block۔

پانچ ہزار روپے۔

اس رات میں نے ابو کے بستر کے پاس بیٹھ کر اپنے ہاتھ پر سر رکھ کر رویا — ابو کے لیے بھی، اور اس دوستی کے لیے بھی جو پانچ ہزار میں بک گئی۔

آخرکار ایک پرانے ہمسائے نے پیسے دیے — بغیر مانگے، بغیر کسی توقع کے۔ ابو کا آپریشن ہوا، الحمدللہ ٹھیک ہوئے۔

مگر وہ دوست — آج تک block list میں ہے۔

میری نہیں — میں نے تو block نہیں کیا۔

وہ خود اپنی ضمیر کی block list میں ہے۔

آج بھی جب پانچ ہزار کا نوٹ ہاتھ میں آتا ہے — ایک لمحے کے لیے وہ رات یاد آتی ہے۔

زندگی نے سکھایا — انسان کی اصلیت تب پتا چلتی ہے جب آپ کو ضرورت ہو۔ خوشی میں سب ساتھ ہوتے ہیں — مصیبت میں صرف اصلی والے رہتے ہیں۔

اور اصلی والے — اکثر وہ ہوتے ہیں جن سے توقع نہیں ہوتی۔

کیا آپ کے ساتھ بھی کبھی ایسا ہوا — جس سے سب سے زیادہ توقع تھی، اس نے سب سے زیادہ مایوس کیا؟ کمنٹ میں بتائیں۔

Address

Cholistan
Bahawalpur

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when RNJ Historian posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to RNJ Historian:

Shortcuts

Share