22/08/2026
جس رات میں نے اپنے سب سے قریبی دوست کو آخری بار دیکھا — اسے خود نہیں معلوم تھا کہ وہ آخری بار ہے... 👇
ہم بچپن سے ایک ہی گلی میں پلے بڑھے تھے۔
ایک ہی اسکول، ایک ہی محلہ، ایک ہی چھت پر راتیں — ہماری دوستی اتنی پرانی تھی کہ یاد نہیں کب شروع ہوئی تھی۔
اسلم — میرا وہ دوست جو ہر مصیبت میں آگے ہوتا، جو کبھی نہیں کہتا تھا "مجھ سے نہیں ہوگا"۔
مگر زندگی نے ایک موڑ لیا۔
اسلم کے گھر کے حالات خراب ہوئے — باپ بیمار، گھر کا بوجھ اس پر آ گیا۔ اس نے شہر جا کر مزدوری شروع کی — صبح اندھیرے سے شام اندھیرے تک۔
ہم ملتے کم ہو گئے — مگر فون پر رابطہ رہا۔
ایک رات اس نے فون کیا — رات کے گیارہ بجے۔
میں نے اٹھایا — آواز میں وہ پرانی گرمجوشی نہیں تھی۔ بولا: "یار، بہت دنوں سے ملے نہیں — کل ملتے ہیں؟ بس ایک چائے پیتے ہیں۔"
میں نے کہا: "یار، کل کام ہے — پرسوں چلتے ہیں۔"
اس نے ہلکا سا کہا: "ٹھیک ہے یار، کوئی بات نہیں۔"
اور فون رکھ دیا۔
پرسوں آیا — میں بھول گیا۔
اگلے ہفتے اس کے بھائی کا فون آیا۔
اسلم نے تین دن پہلے خود کو کمرے میں بند کر کے زندگی ختم کر لی تھی۔
میرے ہاتھ سے فون گر گیا۔
ذہن میں بس ایک ہی بات گھوم رہی تھی — "یار، کل ملتے ہیں؟ بس ایک چائے۔"
وہ آخری بار ملنا چاہتا تھا۔
شاید بتانا چاہتا تھا کچھ — شاید صرف ایک دوست کا چہرہ دیکھنا چاہتا تھا۔
اور میں نے کہا تھا "پرسوں چلتے ہیں۔"
وہ پرسوں کبھی نہیں آیا۔
آج کئی سال گزر گئے ہیں۔
زندگی چلتی رہی، مگر وہ رات نہیں بھولی۔
آج بھی جب کوئی فون کرتا ہے — میں فوری اٹھاتا ہوں۔
آج بھی جب کوئی ملنا چاہے — میں "پرسوں" نہیں کہتا۔
کیونکہ میں نے سیکھا — کبھی کبھی "ابھی نہیں" کہنا — ہمیشہ کے لیے کہنا بن جاتا ہے۔
اگر آپ کے آس پاس کوئی ایسا شخص ہے جو خاموش ہو گیا ہے، جس نے ملنا کم کر دیا ہے، جو "ٹھیک ہوں" کہہ کر بات ختم کر دیتا ہے — آج اسے فون کریں۔
ابھی۔
کل کا انتظار مت کریں۔
کمنٹ میں صرف اتنا لکھیں — کیا آپ کے پاس بھی کوئی ایسا شخص ہے جسے آج call کرنی چاہیے؟