GHS Malook Shah Bahawalpur

GHS Malook Shah Bahawalpur A Government School in Bahawalpur. Government Boys High School Malook Shah
EMIS Code : 31220047

Student Success Roadmap: Learn & Earn While Studyingطلبہ کے لیے کامیابی کا روڈ میپ: تعلیم کے ساتھ کمائیThis roadmap help...
06/06/2026

Student Success Roadmap: Learn & Earn While Studying

طلبہ کے لیے کامیابی کا روڈ میپ: تعلیم کے ساتھ کمائی

This roadmap helps students develop Prompt Engineering, Critical Thinking, and Problem-Solving skills from Class 1 to Class 10 and gradually prepare them to earn while studying.

یہ روڈ میپ طلبہ کو جماعت اول سے دہم تک پرامپٹ انجینئرنگ، تنقیدی سوچ (Critical Thinking)، اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت (Problem Solving) سکھانے کے لیے تیار کیا گیا ہے تاکہ وہ تعلیم کے ساتھ ساتھ کمائی بھی شروع کر سکیں۔

---

Class 1–2 (Ages 6–8)

جماعت 1–2 (عمر 6–8 سال)

Focus: Curiosity and Asking Questions

توجہ: تجسس اور سوال پوچھنے کی عادت

Prompt Engineering

Learn to ask clear questions.

Practice Who, What, When, Where, Why, and How questions.

پرامپٹ انجینئرنگ

واضح سوال پوچھنا سیکھیں۔

کون، کیا، کب، کہاں، کیوں اور کیسے والے سوالات کی مشق کریں۔

Critical Thinking

Learn the difference between facts and opinions.

Discuss stories and pictures.

تنقیدی سوچ

حقیقت (Fact) اور رائے (Opinion) میں فرق سیکھیں۔

کہانیوں اور تصاویر پر گفتگو کریں۔

Problem Solving

Solve puzzles and simple math problems.

Organize school materials independently.

مسئلہ حل کرنا

پہیلیاں اور آسان ریاضی کے سوالات حل کریں۔

اپنی کتابیں اور سامان خود ترتیب دیں۔

Future Earning Preparation

Create greeting cards and drawings.

Learn basic creativity tools.

کمائی کی ابتدائی تیاری

مبارکبادی کارڈ اور ڈرائنگ بنائیں۔

تخلیقی ڈیجیٹل ٹولز کا استعمال سیکھیں۔

---

Class 3–4 (Ages 8–10)

جماعت 3–4 (عمر 8–10 سال)

Focus: Observation and Communication

توجہ: مشاہدہ اور اظہارِ خیال

Prompt Engineering

Learn to give detailed instructions.

Example:

Simple: "Write a story."

Better: "Write a short story about a brave cat."

پرامپٹ انجینئرنگ

تفصیلی ہدایات دینا سیکھیں۔

مثال:

عام: "ایک کہانی لکھو۔"

بہتر: "ایک بہادر بلی کے بارے میں مختصر کہانی لکھو۔"

Critical Thinking

Ask:

What happened?

Why did it happen?

What could happen next?

تنقیدی سوچ

سوال کریں:

کیا ہوا؟

کیوں ہوا؟

آگے کیا ہو سکتا ہے؟

Problem Solving

Use educational games and projects.

Participate in teamwork activities.

مسئلہ حل کرنا

تعلیمی کھیل اور منصوبے مکمل کریں۔

ٹیم ورک میں حصہ لیں۔

Future Earning Preparation

Design simple posters.

Create invitations and school projects.

کمائی کی ابتدائی تیاری

سادہ پوسٹر بنائیں۔

دعوتی کارڈ اور اسکول پراجیکٹس تیار کریں۔

---

Class 5–6 (Ages 10–12)

جماعت 5–6 (عمر 10–12 سال)

Focus: Digital Skills Foundation

توجہ: ڈیجیٹل مہارتوں کی بنیاد

Prompt Engineering

Learn:

Role

Task

Audience

Format

پرامپٹ انجینئرنگ

یہ چار چیزیں سیکھیں:

کردار (Role)

کام (Task)

سامعین (Audience)

فارمیٹ (Format)

Critical Thinking

Research topics from different sources.

Verify information before believing it.

تنقیدی سوچ

مختلف ذرائع سے تحقیق کریں۔

معلومات کی تصدیق کریں۔

Problem Solving

Learn Scratch programming.

Perform simple science experiments.

مسئلہ حل کرنا

اسکرچ پروگرامنگ سیکھیں۔

سادہ سائنسی تجربات کریں۔

Earning Opportunities

Create worksheets.

Design Canva graphics.

کمائی کے مواقع

ورک شیٹس بنائیں۔

کینوا پر گرافکس ڈیزائن کریں۔

---

Class 7–8 (Ages 12–14)

جماعت 7–8 (عمر 12–14 سال)

Focus: Creating Solutions

توجہ: حل تیار کرنا

Prompt Engineering

Use AI to create:

Notes

Images

Presentations

Content

پرامپٹ انجینئرنگ

AI سے بنائیں:

نوٹس

تصاویر

پریزنٹیشنز

تعلیمی مواد

Critical Thinking

Analyze news and online information.

Identify misinformation.

تنقیدی سوچ

خبروں اور معلومات کا تجزیہ کریں۔

غلط معلومات کی نشاندہی کریں۔

Problem Solving

Learn basic Python.

Create small websites.

مسئلہ حل کرنا

بنیادی پائتھن سیکھیں۔

چھوٹی ویب سائٹس بنائیں۔

Earning Opportunities

Social media post design.

Canva services.

Selling study notes.

کمائی کے مواقع

سوشل میڈیا پوسٹس ڈیزائن کرنا۔

کینوا ڈیزائن سروسز دینا۔

تعلیمی نوٹس فروخت کرنا۔

Potential Income: PKR 5,000–20,000/month ممکنہ آمدنی: 5,000 تا 20,000 روپے ماہانہ

---

Class 9 (Age 14–15)

جماعت 9 (عمر 14–15 سال)

Focus: Freelancing Skills

توجہ: فری لانسنگ کی مہارتیں

Prompt Engineering

Master:

Role

Context

Task

Constraints

Output

پرامپٹ انجینئرنگ

مہارت حاصل کریں:

کردار

پس منظر

کام

حدود

مطلوبہ نتیجہ

Critical Thinking

Market research.

Competitor analysis.

تنقیدی سوچ

مارکیٹ ریسرچ۔

مقابلہ کرنے والوں کا تجزیہ۔

Problem Solving

AI tools.

Website projects.

Business challenges.

مسئلہ حل کرنا

AI ٹولز استعمال کریں۔

ویب سائٹ پراجیکٹس بنائیں۔

کاروباری مسائل حل کریں۔

Earning Opportunities

Content writing.

Graphic design.

Social media management.

کمائی کے مواقع

مواد نویسی (Content Writing)

گرافک ڈیزائننگ

سوشل میڈیا مینجمنٹ

Potential Income: PKR 10,000–40,000/month ممکنہ آمدنی: 10,000 تا 40,000 روپے ماہانہ

---

Class 10 (Age 15–16)

جماعت 10 (عمر 15–16 سال)

Focus: Professional Portfolio Building

توجہ: پروفیشنل پورٹ فولیو بنانا

Prompt Engineering

Master:

Marketing prompts

Research prompts

Coding prompts

Business prompts

پرامپٹ انجینئرنگ

ماہر بنیں:

مارکیٹنگ پرامپٹس

ریسرچ پرامپٹس

کوڈنگ پرامپٹس

کاروباری پرامپٹس

Critical Thinking

Business case studies.

Financial literacy.

Decision making.

تنقیدی سوچ

کاروباری مثالوں کا مطالعہ۔

مالیاتی آگاہی۔

بہتر فیصلے کرنا۔

Problem Solving

Build real-world projects.

Create AI-powered solutions.

مسئلہ حل کرنا

حقیقی پراجیکٹس تیار کریں۔

AI کی مدد سے حل بنائیں۔

Earning Opportunities

Freelancing

Digital Marketing

Website Development

Online Teaching

Digital Products

کمائی کے مواقع

فری لانسنگ

ڈیجیٹل مارکیٹنگ

ویب سائٹ ڈیویلپمنٹ

آن لائن تدریس

ڈیجیٹل مصنوعات فروخت کرنا

Potential Income: PKR 20,000–100,000+/month ممکنہ آمدنی: 20,000 تا 100,000+ روپے ماہانہ

Final Goal by Class 10

جماعت 10 تک حتمی مقصد

✅ Strong communication skills
✅ بہترین ابلاغی صلاحیت

✅ AI and Prompt Engineering knowledge
✅ AI اور پرامپٹ انجینئرنگ کی سمجھ

✅ Critical Thinking ability
✅ تنقیدی سوچ کی صلاحیت

✅ Problem-Solving mindset
✅ مسئلہ حل کرنے کی ذہنیت

✅ Professional portfolio
✅ پروفیشنل پورٹ فولیو

✅ Freelancing and earning experience
✅ فری لانسنگ اور کمائی کا تجربہ

"Learn, Build, Share, Earn"
"سیکھو، بناؤ، شیئر کرو، کماؤ" 🚀📚💡💰

02/06/2026

علم منتقل کرنے کے لیے سب سے پہلی شرط یہ ہے کہ استاد شاگرد کی ذہنی سطح تک رسائی حاصل کرے۔

دوسری شرط صحبت ہے — استاد اور شاگرد کے درمیان قربت اور تعلق کے بغیر علم کی منتقلی ممکن ہی نہیں۔

تیسری شرط تطبیق ہے، یعنی شاگرد میں یہ صلاحیت پیدا کرنا کہ وہ مختلف معلومات اور علوم کو آپس میں جوڑ سکے، اور اس ربط کی بنیاد پر آج کے مسائل اور چیلنجوں کا حل تلاش کر سکے۔

چوتھی شرط یہ ہے کہ شاگرد میں مکالمے کی صلاحیت بیدار کی جائے — نہ کہ اپنی ہر بات بلا دلیل زبردستی منوائی جائے۔ یاد رہے کہ مکالمہ ہمیشہ دوستی اور اعتماد کے ماحول میں پروان چڑھتا ہے۔

پانچویں شرط یہ ہے کہ بچپن ہی سے تجزیاتی علوم (analytical sciences)، خصوصاً ریاضی، پر زور دیا جائے — تاکہ ذہن مشکل اور پیچیدہ سوالات حل کرنے کا عادی بن جائے۔ یہ بات ذہن نشین رہے کہ اردو، انگریزی اور دیگر زبانیں علم کے ذرائع ہیں، علم نہیں — انھیں علم کے طور پر پڑھانا ایک بنیادی غلطی ہے۔

ان شرائط کے بغیر آپ اپنے شاگرد کو محض رٹو طوطا بنا رہے ہیں — جس کی مثال ایک ایسے بک ڈپو کی ہے جہاں سینکڑوں کتابیں موجود ہوں، مگر علم کا نام و نشان نہ ہو۔
یہی وجہ ہے کہ جب شمس تبریزؒ نے رومیؒ کو اپنی صحبت میں لیا، تبھی جا کر مولانا روم کا وجود ظہور میں آیا۔
#تعلیم #سیکھنا #کامیابی #علم #طلبہ

31/05/2026

📚✨ The Power of Education | تعلیم کی طاقت ✨📚

Education is one of the greatest powers in the world. It gives us knowledge, confidence, and the ability to build a better future. Through education, we learn important skills, understand the world, and turn our dreams into reality. It helps us overcome ignorance, poverty, and fear. Education is not only about passing exams; it also teaches discipline, respect, responsibility, and wisdom.

تعلیم دنیا کی سب سے بڑی طاقتوں میں سے ایک ہے۔ یہ ہمیں علم، اعتماد اور بہتر مستقبل بنانے کی صلاحیت عطا کرتی ہے۔ تعلیم کے ذریعے ہم اہم مہارتیں سیکھتے ہیں، دنیا کو سمجھتے ہیں اور اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدلتے ہیں۔ یہ ہمیں جہالت، غربت اور خوف پر قابو پانے میں مدد دیتی ہے۔ تعلیم صرف امتحانات پاس کرنے کا نام نہیں بلکہ یہ نظم و ضبط، احترام، ذمہ داری اور دانائی بھی سکھاتی ہے۔

A well-educated person can inspire others and bring positive change to society. No matter where you come from, education can open the doors to endless opportunities and success.

ایک تعلیم یافتہ فرد دوسروں کے لیے مشعلِ راہ بن سکتا ہے اور معاشرے میں مثبت تبدیلی لا سکتا ہے۔ آپ کا تعلق کسی بھی پس منظر سے ہو، تعلیم کامیابی اور بے شمار مواقع کے دروازے کھول سکتی ہے۔

🌟 Keep learning, keep growing, and never stop believing in the power of education because it can completely transform your life and future.

🌟 سیکھتے رہیے، ترقی کرتے رہیے، اور تعلیم کی طاقت پر یقین رکھئے، کیونکہ یہ آپ کی زندگی اور مستقبل کو مکمل طور پر بدل سکتی ہے۔

#تعلیم #علم #کامیابی #طلبہ #سیکھنا #ترقی

28/05/2026

لاکھوں کی قربانی کرنے کے بعد تھوڑا چونا بھی خرید لیا کرو بھائی قربانی کرنے کے بعد خون والی جگہ پر چھڑک دو تو نہ بدبو ہوگی نہ گندگی-ہر کام حکومت کا نہیں ہوتا - خود بھی صفائی رکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے.

28/05/2026

حضرت_ابراہیم_علیہ_السّلام کی پہلی شادی اپنی چچازاد، حضرت سارہؑ سے ہوئی، لیکن وہ ایک عرصے تک اولاد کی نعمت سے محروم رہے۔ ایک دن حضرت سارہؑ نے اُن سے فرمایا’’ آپؑ، ہاجرہؑ سے نکاح کر لیں، شاید اللہ تعالیٰ اُن کے بطن سے اولاد عطا فرما دے۔‘‘ دراصل، یہ سب کچھ مِن جانب اللہ ہی تھا۔ چناں چہ، آپؑ نے حضرت ہاجرہؑ کو اپنی زوجیت میں لے لیا اور پھر شادی کے ایک سال بعد ہی اُنھوں نے حضرت اسماعیل علیہ السّلام کو جنم دیا۔ اُس وقت حضرت ابراہیم علیہ السّلام کی عُمرِ مبارکہ 86سال تھی۔ جب حضرت ہاجرہؑ اُمید سے تھیں، تو فرشتے نے آپؑ کو لڑکا ہونے کی نوید سُنائی اور’’ اسماعیل‘‘ نام رکھنے کو کہا۔ حضرت اسماعیلؑ اٹھارہ سو قبلِ مسیح میں پیدا ہوئے۔ حضرت ابراہیمؑ دعائوں، آرزوئوں اور تمنّائوں کے بعد پیرانہ سالی میں پہلے فرزند کی پیدائش پر خوشیوں کا بھرپور اظہار بھی نہ کر پائے تھے کہ اُنھیں ایک اور آزمائش سے گزرنا پڑا۔ وہ بہ حکمِ الہٰی نومولود لختِ جگر اور فرماں بردار بیوی کو مُلکِ شام سے ہزاروں میل دُور ایک ایسی وادی میں چھوڑ آئے کہ جہاں میلوں تک پانی تھا، نہ چرند پرند۔اور آدم تھا، نہ آدم زاد- وادیٔ فاران کے سنگلاخ کالے پہاڑوں کے درمیان، تپتے صحرا کے ایک بوڑھے درخت کے نیچے، اللہ کی ایک نیک اور برگزیدہ بندی اپنے نومولود معصوم بیٹے کے ساتھ چند روز سے قیام پزیر ہیں۔ جو زادِ راہ ساتھ تھا، ختم ہو چُکا۔ ماں، بیٹا بھوک، پیاس سے بے حال ہیں۔ ماں کو اپنی تو فکر نہیں، لیکن بھوکے، پیاسے بچّے کی بے چینی پر ممتا کی تڑپ فطری اَمر ہے، لیکن اس لق و دق صحرا میں پانی کہاں…؟جوں جوں لختِ جگر کی شدّتِ پیاس میں اضافہ ہو رہا تھا، ممتا کی ماری ماں کی بے قراری بھی بڑھتی جا رہی تھی۔ اسی حالتِ اضطراب میں قریب واقع پہاڑی،’’صفا‘‘پر چڑھیں کہ شاید کسی انسان یا پانی کا کوئی نشان مل جائے، لیکن بے سود۔ تڑپتے دِل کے ساتھ بھاگتے ہوئے ذرا دُور، دوسری پہاڑی’’مروہ‘‘پر چڑھیں، لیکن بے فائدہ۔اس طرح، دونوں پہاڑیوں کے درمیان پانی کی تلاش میں سات چکر مکمل کر لیے۔ ادھر اللہ جل شانہ نے حضرت جبرائیل امینؑ کے ذریعے شیر خوار اسماعیلؑ کے قدموں تلے دنیا کے سب سے متبرّک اور پاکیزہ پانی کا چشمہ جاری کر کے رہتی دنیا تک کے لیے یہ پیغام دے دیا کہ اللہ پر توکّل کرنے والے صابر و شاکر بندوں کو ایسے ہی بیش قیمت انعامات سے نوازا جاتا ہے ۔حضرت عبداللہ بن عبّاسؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺنے فرمایا کہ’’ اللہ پاک، حضرت اسماعیل علیہ السّلام کی والدہ پر رحمت فرمائے، اگر وہ پانی سے چُلّو نہ بھرتیں اور اُسے رُکنے کا نہ کہتیں، تو وہ ایک بہتا ہوا چشمہ ہوتا۔‘‘ آبِ زَم زَم غذا بھی ہے اور شفا بھی۔ دوا ہے اور دُعا بھی۔ اللہ تعالیٰ نے نہ صرف ماں، بیٹے کے لیے بہترین غذا کا بندوبست کیا، بلکہ تاقیامت مسلمانوں کے فیض یاب ہونے کا وسیلہ بنا دیا۔ حضرت ہاجرہؑ اپنے صاحب زادے کے ساتھ وہیں رہ رہی تھیں کہ ایک روز
عرب کے قبیلے، بنو جرہم کے کچھ لوگ پانی کی تلاش میں وہاں پہنچے اور حضرت ہاجرہؑ کی اجازت سے وہاں رہائش اختیار کر لی۔ پھر دوسرے قبائل بھی وہاں آ آ کر آباد ہوئے اور یوں دیکھتے ہی دیکھتے وہ سُنسان صحرا دنیا کے سب سے مقدّس و متبرّک اور عظیم شہر، مکّہ مکرّمہ میں تبدیل ہو گیا۔ حضرت ہاجرہؑ نے بیٹے کی پرورش اور تعلیم و تربیت پر خصوصی توجّہ دی- تیرہ سال کا طویل عرصہ جیسے پَلک جھپکتے گزر گیا۔ حضرت اسماعیل علیہ السّلام مکّے کی مقدّس فضائوں میں آبِ زَم زَم پی کر اور صبر و شُکر کی پیکر، عظیم ماں کی آغوشِ تربیت میں پروان چڑھتے ہوئے بہترین صلاحیتوں کے مالک، خُوب صورت نوجوان کا رُوپ دھار چُکے تھے کہ ایک دن حضرت ابراہیم علیہ السّلام تشریف لائے اور فرمایا
’’اے بیٹا!مَیں خواب میں دیکھتا ہوں کہ (گویا) تمھیں ذبح کر رہا ہوں، تو تم سوچو کہ تمہارا کیا خیال ہے؟(فرماں بردار بیٹے نے سرِ تسلیمِ خم کرتے ہوئے فرمایا)،ابّا جان! آپؑ کو جو حکم ہوا ہے، وہی کیجیے۔اللہ نے چاہا، تو آپؑ مجھے صابرین میں پائیں گے۔‘‘(سورۃ الصٰفٰت102:37)
حضرت اسماعیل علیہ السّلام کا یہ سعادت مندانہ جواب دنیا بھر کے بیٹوں کے لیے آدابِ فرزندی کی ایک شان دار مثال ہے۔ اطاعت و فرماں برداری اور تسلیم و رضا کی اس کیفیت کو علّامہ اقبالؒ نے یوں بیان کیا
؎ یہ فیضانِ نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی
سِکھائے کس نے اسماعیلؑ کو آدابِ فرزندی۔
حضرت ابراہیم علیہ السّلام نے بیٹے کا جواب سُنا، تو اُنہیں سینے سے لگایا اور حضرت ہاجرہؑ کے پاس لے آئے۔ فرمایا’’ اے ہاجرہؑ! آج ہمارے نورِ نظر کو آپ اپنے ہاتھوں سے تیار کر دیجیے۔‘‘ممتا کے مقدّس، شیریں اور اَن مول جذبوں میں ڈوبی ماں نے اپنے اکلوتے بیٹے کو نئی پوشاک پہنائی۔ آنکھوں میں سُرمہ، سَر میں تیل لگایا اور خُوش بُو میں رچا بسا کر باپ کے ساتھ باہر جانے کے لیے تیار کر دیا۔اسی اثنا میں حضرت ابراہیم علیہ السّلام بھی ایک تیز دھار چُھری کا بندوبست کر چُکے تھے۔ پھر بیٹے کو ساتھ لے کر مکّے سے باہر مِنیٰ کی جانب چل دیئے۔
شیطان نے باپ، بیٹے کے درمیان ہونے والی گفتگو سُن لی تھی۔ جب اُس نے صبر و استقامت اور اطاعتِ خداوندی کا یہ رُوح پرور منظر دیکھا، تو مضطرب ہو گیا اور اُس نے باپ، بیٹے کو اس قربانی سے باز رکھنے کا فیصلہ کر لیا۔ چناں چہ’’ جمرہ عقبیٰ‘‘ کے مقام پر راستہ روک کر کھڑا ہو گیا۔حضرت ابراہیم علیہ السّلام کے ساتھ موجود فرشتے نے کہا’’ یہ شیطان ہے، اسے کنکریاں ماریں۔‘‘حضرت ابراہیم علیہ السّلام نے’’اللہ اکبر‘‘کہہ کر اُسے سات کنکریاں ماریں، جس سے وہ زمین میں دھنس گیا۔ ابھی آپؑ کچھ ہی آگے بڑھے تھے کہ زمین نے اُسے چھوڑ دیا اور وہ’’ جمرہ وسطیٰ‘‘ کے مقام پر پھر وَرغلانے کے لیے آ موجود ہوا۔حضرت ابراہیم علیہ السّلام نے دوبارہ کنکریاں ماریں، وہ پھر زمین میں دھنسا، لیکن آپؑ کچھ ہی آگے بڑھے تھے کہ وہ’’ جمرہ اولیٰ‘‘ کے مقام پر پھر موجود تھا۔حضرت ابراہیم علیہ السّلام نے تیسری بار’’اللہ اکبر‘‘کہہ کر کنکریاں ماریں، تو وہ زمین میں دھنس گیا۔
اللہ تبارک وتعالیٰ کو ابراہیم خلیل اللہؑ کا شیطان کو کنکریاں مارنے کا عمل اس قدر پسند آیا کہ اسے رہتی دنیا تک کے لیے حج کے واجبات میں شامل فرما دیا۔ شیطان اپنی ناکامی پر بڑا پریشان تھا۔ تینوں مرتبہ کی کنکریوں نے اس کے جسم کو زخموں سے چُور کر دیا تھا، اچانک اسے ایک نئی چال سوجھی اور وہ عورت کا بھیس بدل کر بھاگم بھاگ حضرت ہاجرہؑ کی خدمت میں حاضر ہوا اور بولا’’ اے اسماعیلؑ کی ماں! تمہیں علم ہے کہ ابراہیمؑ تمہارے لختِ جگر کو کہاں لے گئے ہیں؟‘‘ حضرت ہاجرہؑ نے فرمایا’’ ہاں،وہ باہر گئے ہیں، شاید کسی دوست سے ملنے گئے ہوں۔‘‘ شیطان نے اپنے سَر پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا ’’وہ تیرے بیٹے کو ذبح کرنے وادیٔ منیٰ میں لے گئے ہیں۔‘‘حضرت ہاجرہؑ نے حیرت اور تعجّب کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا’’یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک شفیق اور مہربان باپ اپنے چہیتے اور اکلوتے بیٹے کو ذبح کردے؟‘‘اس موقعے پر بے ساختہ شیطان کے منہ سے نکلا’’وہ یہ سب اللہ تعالیٰ کے حکم پر کر رہے ہیں۔‘‘
یہ سُن کر صبر و شُکر اور اطاعت و فرماں برداری کی پیکر، اللہ کی برگزیدہ بندی نے فرمایا’’ اگر یہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے، تو ایک اسماعیلؑ کیا، اس کے حکم پر 100اسماعیلؑ قربان ہیں۔‘‘ شیطان یہاں سے نامُراد ہو کر واپس مِنیٰ کی جانب پلٹا، لیکن وہاں کا ایمان افروز منظر دیکھ کر اپنے سَر پر خاک ڈالنے اور چہرہ پیٹنے پر مجبور ہو گیا۔
وادیٔ مِنیٰ کے سیاہ پہاڑ، نیلے شفّاف آسمان پر روشن آگ برساتا سورج، فلک پر موجود تسبیح و تہلیل میں مصروف ملائکہ، اللہ کی راہ میں اپنی متاعِ عزیز کی قربانی کا محیّر العقول منظر دیکھنے میں محو تھے۔مکّے سے آنے والی گرم ہوائیں بھی مِنیٰ کی فضائوں میں موجود عبادت و اطاعت، تسلیم و رضا اور صبر و شُکر کی ایک عظیم داستان رقم ہوتے دیکھ رہی تھیں۔ روایت میں آتا ہے کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السّلام نے حضرت اسماعیل علیہ السّلام کو لیٹنے کی ہدایت دی، تو حضرت اسماعیل علیہ السّلام نے فرمایا’’ ابّا جان! مَیں پیشانی کے بَل لیٹتا ہوں تاکہ آپؑ کا چہرہ مجھے نظر نہ آئے اور آپؑ بھی اپنی آنکھوں پر پٹّی باندھ لیں تاکہ جب آپؑ مجھے ذبح کر رہے ہوں، تو شفقتِ پدری کے امرِ الٰہی پر غالب آنے کا امکان نہ رہے۔‘‘صبر و استقامت کے کوہِ گراں والد نے گوشۂ جگر کے مشورے پر عمل کیا اور جب اسماعیل علیہ السّلام لیٹ گئے، تو تکمیلِ احکامِ خداوندی میں تیز دھار چُھری کو پوری قوّت کے ساتھ لختِ جگر کی گردن پر پھیر دیا۔ باپ، بیٹے کی اس عظیم قربانی پر قدرتِ خداوندی جوش میں آئی اور اللہ جل شانہ کے حکم سے حضرت جبرائیل علیہ السّلام جنّت کے باغات میں پلے سفید رنگ کے خُوب صورت مینڈھے کو لے کر حاضر ہوئے۔ابراہیم خلیل اللہ ؑ نے ذبح سے فار غ ہو کر آنکھوں سے پٹّی ہٹائی، تو حیرت زدہ رہ گئے۔ بیٹے کی جگہ ایک حَسین مینڈھا ذبح ہوا پڑا تھا، جب کہ اسماعیل علیہ السّلام قریب کھڑے مُسکرا رہے تھے۔
اسی اثنا میں غیب سے آواز آئی’ ’اے ابراہیمؑ! تم نے اپنا خواب سچّا کر دِکھایا۔ بے شک ہم نیکی کرنے والوں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں۔"
(سورۃ الصٰفٰت 105:37)

26/05/2026

مجھے عرفات کا میدان دیکھ کر بس
اک ہی منظر ذہن میں آتا حشر کا دن ۔۔ قیامت ۔۔
بالکل ایسا ہی سماں ہوگا سفید کفن میں لپٹے پھر برہنہ
حالت میں ہم قبروں سے اٹھیں گے یونہی گرم تیز تپش والی زمین ہو گی رب کا جلال ہوگا ہر چہرہ
پرملال ہوگا ہر طرف نفسا نفسی اور آہ و بکا ہو گی۔
۔ غور سے دیکھیں یہاں تو امید ہے دعائیں ہیں التجائیں ہیں مناجات ہیں مگر اس دن تو حساب ہوگا اور پھر مجھے یاد آتی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بات عائشہ۔۔
۔۔ جس کا حساب ہوا وہ مارا گیا۔۔
پھر دل دہل جاتا ہے پھر دل کرتا انہیں پتھروں پہ
سجدہ ریز ہو کر مانگتا رہوں اس رحمان سے اس کا رحم۔۔۔
یا اللہ۔۔ یا میرے سوہنے رب۔۔۔۔
بخش دے بخش دے اسی دنیا سے پاک کر کے لے جا ۔۔
مجھے عرفات کے میدان تک پہنچا تاکہ میں بھی گڑگڑاوں
مجھے بھی آس لگے تیری رحمت کی پیاس مجھے وہاں تک لے جائے۔۔
یا پھر مجھے اک اور منظر یاد آتا ہے دس ہجری اور نو ذوالحجہ لاکھوں کا مجمع اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خطاب ۔۔۔
اور پھر یاد آتا
یا رب امتی امتی ۔۔۔ قیامت کے ہولناک دن جب ہر طرف "نفسی نفسی" میری جان، میری جان کا عالم ہوگا نبی کریم ﷺ کی اپنی امت کے لیے لازوال محبت شفقت اور فکر مندی ہوگی ۔۔۔
پھر دل اور درد سے دہرا ہو جاتا ہے کہ ہم تو ویسی محبت کر ہی نہیں رہے نہ اللہ سے نہ اسکے پیارے محبوب سے

ابھی بھی وقت ہے بھاگیں دوڑیں اس صف میں شامل ہونے کے لیے جو انعام والوں کی ہے۔ ہم تک تو پورا دین پہنچا ہے ہمیں بھی پورا پورا دین میں داخل ہونا چاہیئے۔

یہ دَور اپنے براہیم کی تلاش میں ہےصنم کدہ ہے جہاں، لَا اِلٰہَ اِلّا اللہاقبالؒ کہتے ہیں کہ موجودہ دنیا ایک "صنم کدہ" بن ...
25/05/2026

یہ دَور اپنے براہیم کی تلاش میں ہے
صنم کدہ ہے جہاں، لَا اِلٰہَ اِلّا اللہ

اقبالؒ کہتے ہیں کہ موجودہ دنیا ایک "صنم کدہ" بن چکی ہے، یعنی یہاں ہر طرف جھوٹے نظریات، مادہ پرستی اور باطل قوتوں کے بت قائم ہیں۔ اس دور کو ایسے مردِ حق کی ضرورت ہے جو حضرت ابراہیمؑ کی طرح ان باطل بتوں کو توڑنے کا حوصلہ اور ایمان رکھتا ہو۔

پیغام:
مسلمان کی اصل طاقت توحید، خودی اور حق پر ڈٹ جانے میں ہے۔ جب قوم میں ابراہیمی کردار پیدا ہو جائے تو باطل نظام زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتا۔

گرمیوں کی تعطیلات کے دوران بھی گورنمنٹ ہائی سکول ملوک شاہ بہاولپور کی صفائی اور خوبصورتی کا کام مسلسل جاری ہے۔سکول کے سی...
24/05/2026

گرمیوں کی تعطیلات کے دوران بھی گورنمنٹ ہائی سکول ملوک شاہ بہاولپور کی صفائی اور خوبصورتی کا کام مسلسل جاری ہے۔
سکول کے سیکیورٹی گارڈ اور مالی اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے انجام دیتے ہوئے سکول کی دیکھ بھال، صفائی ستھرائی اور پودوں کی حفاظت میں مصروف ہیں تاکہ طلبہ کے لیے صاف، محفوظ اور خوشگوار تعلیمی ماحول برقرار رکھا جا سکے۔ 🌿🏫

ہم اپنے محنتی سٹاف کو ان کی ذمہ داری، لگن اور سکول سے محبت پر خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔
"صاف ستھرا سکول، روشن مستقبل"

District Education Officer-Secondary, Bahawalpur School Education Department, Government of the Punjab Deputy Commissioner Bahawalpur Mrs Zaitoon kousar Rana Sikandar Hayat Maryam Nawaz Sharif Government Girls Higher Secondary School Satellite Town Bahawalpur GGHS GOTH Mehrab BWP GGHS khanqah sharif Bwp

24/05/2026

مثالِ ماہ چمکتا تھا جس کا داغِ سجود
خرید لی ہے فرنگی نے وہ مسلمانی

معانی : داغِ سجود: سجدے کا داغ ۔ فرنگی: انگریز ۔
مطلب: جن مسلمانوں کے ماتھوں پر کبھی سجدوں کے نشان چاند کی طرح چمکتے تھے آج یورپی قوموں نے ان سے وہ مسلمانی ان سے خرید لی ہے ۔ مراد یہ ہے کہ آج کے مسلمانوں نے اپنے مفاد اور غرض کی خاطر اسلام کی روح چھوڑ دی ہے اور محض رسمی مسلمان باقی رہ گیا ہے اور وہ انگریزی تہذیب و ثقافت کا علم بردار بن کر اپنی مسلمانی روایات کھو بیٹھا ہے ۔


ہوا حریفِ مہ و آفتاب تو جس سے
رہی نہ تیرے ستاروں میں وہ درخشانی

معانی: حریف: مخالف ۔ درخشانی: چمک ۔
مطلب: آسمان اسلام پر چمکنے والے جو ستارے کبھی سورج اور چاند کے مدمقابل آتے تھے اور ان کی روشنی کو مدھم کر دیتے تھے آج وہ ستارے خود اپنی روشنی سے محروم ہو گئے ہیں ۔ سبب اس کا صرف اور صرف یہ ہے کہ مسلمان سے فقر کی نگہبانی نہ ہو سکی اور وہ اپنی خودی کے مقام سے گر گیا ۔

21/05/2026

Address

Basti Malook Shah
Bahawalpur
63100

Opening Hours

Monday 08:45 - 14:30
Tuesday 08:45 - 14:45
Wednesday 08:45 - 14:45
Thursday 08:45 - 14:45
Friday 08:30 - 12:30
Saturday 08:45 - 14:45

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when GHS Malook Shah Bahawalpur posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category