24/11/2025
قسط دوم ۔۔۔ کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج لاہور کی خطیر مالی امداد
سابق ریاستِ بہاولپور کی لاہور پر احسانات کا مستند تاریخی باب
برصغیر کے سیاسی و سماجی منظرنامے میں سابق ریاستِ بہاولپور وہ واحد مسلم ریاست تھی جس نے لاہور اور پنجاب کی تعلیمی و طبی ترقی میں حقیقی معنوں میں فیصلہ کن، ٹھوس اور اَن مٹ نقش چھوڑے۔ ان ہی ناقابلِ تردید تاریخی ثبوتوں میں سے ایک اہم واقعہ 1915ء میں نواب آف بہاولپور کی جانب سے کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج لاہور کی توسیع کے لیے خطیر مالی تعاون ہے۔
یہ واقعہ نہ صرف لاہور کی علمی و طبی تاریخ کا سنگِ میل ہے، بلکہ ریاستِ بہاولپور کی فیاضی، وسیع النظری اور پنجاب دوستی کا ایک روشن حوالہ بھی ہے۔
سن 1915ء میں کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج (KEMC) کو اپنے بڑھتے ہوئے تعلیمی بوجھ، کلینیکل تربیت اور ہسپتال کی گنجائش میں اضافے کے لیے توسیع کی سخت ضرورت تھی۔ برطانوی حکومت نے پنجاب بھر کے زمینداروں، سرداروں، نوابوں اور شہری سماج سے چندہ مہم کا آغاز کیا۔ اس وقت ’’ضلع لاہور‘‘ کا دائرہ آج کے اضلاع لاہور، قصور، شیخوپورہ اور امرتسر تک پھیلا ہوا تھا۔
پنجاب بھر سے جمع شدہ چندہ: 167,000 روپے
برطانوی ریکارڈ کے مطابق پنجاب کے تمام سرمایہ دار، جاگیردار، ساہوکار، تاجر، سردار اور معززین مل کر صرف ایک لاکھ ستّر ہزار (167,000) روپے جمع کرسکے۔
اس کے برعکس نواب آف بہاولپور نے اکیلے اپنی ریاستی خزانے سے کنگ ایڈورڈ کے توسیعی منصوبے کے لیے 150,000 روپے (ڈیڑھ لاکھ روپے) عطیہ کیے — جو اس وقت پورے پنجاب کے مجموعی چندے کے تقریباً برابر رقم تھی۔
اس رقم میں اس وقت کتنا سونا آتا تھا اور آج اس کی قیمت کیا بنتی ہے کوئی دوست اس کا حساب لگا دیں ۔ میں لکھوں گا تو کچھ دوست مبالغہ آرائی سمجھیں گے کیونکہ کمپیوٹر کی calculation تو حیران کن مبالغہ آرائی کے اعداد و شمار (48 کلو سونا مالیت ایک ارب) دے رہاہے۔ میرا math کمزور ہے ۔
1915ء میں ڈیڑھ لاکھ روپے ایک متوسط ضلع کا سالانہ ترقیاتی بجٹ بن سکتاتھا، جبکہ پنجاب بھر کے اکثر حکمران خاندان اتنا چندہ دینے کی سکت نہیں رکھتے تھے۔ ریاست بہاولپور کا “لاہور” کے طبی ادارے کے لیے اتنی بڑی رقم دینا سیاسی بصیرت، علمی شعور اور سخاوت کا بے مثال نمونہ تھا۔
برطانوی حکومت نے 1916ء میں نواب صاحب کی اس خطیر امداد کے اعتراف میں کالج کے توسیعی بلاک پر ’’King Edward Medical College Bahawalpur‘‘ لکھوایا۔ یہاں ’’لاہور‘‘ نہیں لکھا گیا۔یہ تحریر آج بھی عمارت کے اگلے حصے پر موجود ہے۔
نیز پٹیالہ بلاک میں سنگِ مرمر کی تختی نصب کی جس پر نواب صاحب کا نام و عطیہ شدہ رقم، اور دیگر چندہ دہندگان کی فہرست موجود ہے۔ یہ تختی کنگ ایڈورڈ کے محفوظ تاریخی ریکارڈ کا حصہ ہے — ایک ایسا حوالہ جسے تبدیل، منسوخ یا جھٹلایا نہیں جا سکتا۔ بہاولپور کے احسانات کا سب سے مضبوط ثبوت ہے۔
چند دوستوں سے استدعا ہے کہ وہ اس خطیر مالی امداد کا صحیح حساب لگا کر بتائیں ۔ جتنے دوست حساب لگائیں گے تو اعداد و شمار اتنے زیادہ مستند و شفاف ہوں گے ۔
ملک اسلم صاحب اپنے لاہوری دوستوں سے یہ معلومات شیئر کرتے جائیں ۔ آپ کے کمنٹ میں اس وقت کے لاہور کی اشرافیہ، امراء اور مخیر حضرات کے مختصر نام لکھے ہیں، آج تو ان صاحبان کے پوتے اور پڑپوتے پاکستانی پنجاب اور مشرقی پنجاب میں اپنے بزرگوں کے نام پڑھیں گے ۔
یہ واقعہ اس وقت کے ’’لاہور‘‘ اور “پنجاب” پر سابق ریاست بہاولپور کی مہربانیوں کے اس تاریخی سلسلے کا نمایاں ترین حوالہ ہے — اور ناقابلِ تردید ثبوت بھی۔
جاری ہے تیسری قسط کا انتظار کیجئے
تحریر و تحقیق: ڈاکٹر ذوالفقار علی رحمانی ساکن صحرائے بہاولپور روہی چولستان حال مقیم لندن