Awami National Party Bajaur

Awami National Party Bajaur عوامی نیشنل پارٹی باجوڑ
تیر شہ لہ ٹوپکہ دہ قلم سرہ یاری وکڑہ
وران وطن ودان کہ دہ نڑے سرہ سیالی وکہ

آج صدر عوامی نیشنل پارٹی ماندل اعجاز الحق اور ویلج سیکرٹری ویلج کونسل ٹانگ خطاء عبدالمجید نے ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر ارشد ک...
01/05/2026

آج صدر عوامی نیشنل پارٹی ماندل اعجاز الحق اور ویلج سیکرٹری ویلج کونسل ٹانگ خطاء عبدالمجید نے ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر ارشد کمال، ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر محمد نثار خان، اور نو تعینات ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر حبیب الرحمن (جو کل تک تحصیلدار خار کے فرائض انجام دے رہے تھے) سے خوشگوار ماحول میں ملاقات کی۔
ملاقات کے دوران علاقائی صورتحال، عوامی مسائل، ترقیاتی کاموں، اور مقامی سطح پر درپیش اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر عوامی فلاح و بہبود، بنیادی سہولیات کی بہتری، اور علاقے کی ترقی کے لیے باہمی تعاون پر زور دیا گیا۔
انتظامی افسران نے عوامی مسائل کے حل، بہتر حکومتی رابطے، اور ترقیاتی اقدامات کے فروغ کے لیے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

01/05/2026

🔴 پختونخوا میں جاری دہشت گردی اور ڈرون حملوں کی تاریخ کو بعض لوگ مختصر اور توڑ مروڑ مسخ کرکے پیش کرتے ہیں۔
🔴 حقیقت یہ ہے کہ جب 2006 میں ڈمہ ڈولہ، باجوڑ میں پہلا ڈرون حملہ ہوا تو اس وقت عوامی نیشنل پارٹی واحد سیاسی جماعت تھی جس نے اس کی بھرپور مخالفت اور واضح مذمت کی۔ اور اسکے خلاف مزاحمت کی احتجاج کی۔۔۔
عوامی نیشنل پارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی نثار باز خان کا اسمبلی اجلاس میں خطاب۔
🔴 اسی موقع پر رہبرِ تحریک اسفندیار ولی خان نے اس ظلم کے خلاف تاریخی ریلی نکالی۔

🔴 میں اس وقت پی ایس ایف کالج کا صدر تھا اور اسی دوران ہم پر بمباری اور سٹریٹ فائرنگ کے واقعات بھی پیش آئے۔

🔴 اس دور میں میڈیا اتنا فعال نہیں تھا کہ واقعات اور مؤقف فوری طور پر عوام تک پہنچ سکیں، اسی لیے آج بعض لوگ تاریخ کو اپنے انداز سے پیش کرتے ہیں۔

🔴 عوامی نیشنل پارٹی کے دورِ حکومت میں دہشت گردی موجود تھی، لیکن تاریخ کو مسخ نہیں کیا جا سکتا۔

🔴 جب اے این پی اقتدار میں آئی تو سوات سے وزیرستان تک بدامنی پھیل چکی تھی، ریاستی رٹ کمزور ہو چکی تھی، ملاکنڈ ڈویژن میں شدت پسندی عروج پر تھی اور قبائلی اضلاع میں طالبان کا مکمل اثر و رسوخ تھا۔

🔴 اس انتہائی مشکل صورتحال میں ہم نے باچا خان اور ولی خان کے نظریات کے مطابق اصولی سیاست کو اپنایا۔

🔴 ہم عدم تشدد کے علمبردار ہیں اور ہر قسم کی دہشت گردی کے خلاف ڈٹ کر کھڑے رہے۔

🔴 اے این پی نے نہ صرف سیاسی مؤقف اپنایا بلکہ عملی طور پر قربانیاں بھی دیں اور اپنے عوام کے ساتھ ہر محاذ پر کھڑی رہی۔

🔴ہم نے اس مسئلے کی سیاسی ذمہ داری قبول کی اور مذاکرات و آپریشن دونوں کی اونرشپ لی۔

🔴 بدامنی ایک قومی مسئلہ ہے جسے سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر سنجیدگی سے حل کرنے کی ضرورت ہے، لہٰذا صوبائی حکومت کو بھی اس مسئلے کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔

🔴گزشتہ 45 سالوں میں افغانستان کی صورتحال اور اس کے اثرات نے پورے خطے کو متاثر کیا، جس میں عالمی طاقتوں کے کردار کے باعث پاکستان بھی اس عمل کا حصہ بنا۔

🔴 اس وقت باچا خان اور ولی خان مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتے رہے کہ یہ "پرائی جنگ" ہے، یہ جہاد نہیں بلکہ فساد ہے۔

🔴اس وقت ان کی بات کو نظرانداز کیا گیا، لیکن آج تاریخ ان کے مؤقف کی درستگی کو تسلیم کرتی ہے۔

🔴 بدامنی، این ایف سی ایوارڈ اور ضم شدہ اضلاع سے متعلق وعدے، خصوصاً 25ویں آئینی ترمیم کے تناظر میں، یہ صوبے کا ایک بنیادی اور جائز مقدمہ ہے جسے ہر سطح پر اٹھایا جائے گا۔

🔴 اگر صوبائی حکومت اس مسئلے کو سنجیدگی سے لے کر عملی اقدامات کرے تو ہم ان کے ساتھ مکمل تعاون کریں گے۔

| |

01/05/2026

نن ټول خلق د هغه محبوبه سندری وایی🚩
|| ||

29/04/2026
29/04/2026

‎کنڑ اور باجوڑ جل رہا ہیں ۔
آج افسوس ہوتا ہے کہ کاش مولانا خانزیب شہید اور مفتی منیر شاکر شہید زندہ ہوتے تو اس قوم کو اس نام نہاد جنگ جو ھم پر مسلّط کی گئے ہیں، اس کے بارے میں قرآن و سنت کی روشنی میں وعظ و نصیحت کرتے۔

عوامی نیشنل پارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی نثار باز خان کا اسمبلی اجلاس میں خطاب

🟥 پچھلے بیس پچیس سال سے دہشت گردی اپنے عروج پر ہے، لیکن اس کا کوئی مؤثر حل آج تک نہیں نکالا جا سکا۔

🟥 رمضان المبارک کے مہینے سے ملک میں دہشت گردی کی نئی لہر شروع ہو گئی ہے، اور آئے روز نئے واقعات ہو رہے ہیں، مگر نہ صوبائی حکومت اور نہ ہی مرکزی حکومت کی جانب سے اس پر کوئی سنجیدہ توجہ دی جا رہی ہے۔

🟥 کل ایک ہی دن میں باجوڑ سے لے کر وزیرستان تک مختلف مقامات پر دہشت گردی کے واقعات پیش آئے۔

🟥 ملٹنسی تو موجود ہے، لیکن پاکستان اور افغانستان کے درمیان جو ایک غیر اعلانیہ جنگ جاری ہے، اس کے اہداف اور مقاصد آج تک واضح نہیں کیے گئے، اور نہ ہی ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں کو اس معاملے میں اعتماد میں لیا گیا ہے۔

🟥 ڈیورنڈ لائن کے دونوں اطراف عام عوام شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ اس لکیر کے دونوں جانب ایک ہی قوم آباد ہے، مسلمان، پشتون اور افغان جن کی زبان، ثقافت اور تاریخ ایک ہے۔

🟥 اس کے باوجود ان واقعات پر ہر طرف خاموشی چھائی ہوئی ہے۔ جو لوگ شہید ہو رہے ہیں، ان میں اکثریت بچوں، خواتین اور بزرگوں کی ہے۔

🟥 بارڈر کے اس پار حفیظ صاحب اور اُس پار مولانا صاحب بیٹھے ہیں۔ ہم ان دونوں سے یہ سوال کرتے ہیں کہ شریعت اس بارے میں کیا حکم دیتی ہے؟ اگر جنگ ہو بھی جائے تو بچوں، خواتین اور بزرگوں کو نقصان نہیں پہنچایا جانا چاہیے۔ یہ قرآن کا واضح حکم ہے، لیکن یہاں صورتحال یہ ہے کہ طاقتور طبقے محفوظ ہیں، جبکہ عام عوام بیچ میں مارے جا رہے ہیں۔

🟥 یہ تو پاکستان کے اپنے لوگ ہیں۔ فیض حمید نے چائے کے کپ کے ساتھ کہا تھا کہ “یہ ہمارے لوگ ہیں”، تو پھر اپنے ہی لوگوں کے ساتھ یہ صورتحال کیوں پیدا ہو گئی؟

🟥 پینتالیس سال سے قائم دوستانہ تعلقات اس طرح کیسے خراب ہو گئے، اور اس کی قیمت بچے، خواتین اور بزرگ کیوں ادا کر رہے ہیں؟

🟥 آج افسوس ہوتا ہے کہ کاش مولانا خانزیب شہید اور مفتی منیر شاکر شہید زندہ ہوتے تو اس قوم کو اس جنگ کے بارے میں قرآن و سنت کی روشنی میں وعظ و نصیحت کرتے۔

🟥 بدقسمتی سے ہم ایسی سرزمین پر زندگی گزار رہے ہیں جہاں نہ امن ہے اور نہ سکون۔ دہشت گردی، آئے روز ٹارگٹ کلنگ، دھماکے اور اغوا برائے تاوان معمول بن چکے ہیں۔ یہاں خوشی اور تفریح ناپید ہیں۔

🟥 پی ایس ایل کے میچز ہر جگہ ہو رہے ہیں، لیکن پشاور میں نہیں۔ یہاں نہ انٹرٹینمنٹ ہے، نہ ثقافتی سرگرمیاں اور نہ ہی کھیلوں کے مواقع۔

🟥وزیر اعلیٰ صاحب سے مطالبہ ہے کہ وہ وفاقی حکومت کے ساتھ اس مسئلے کو سنجیدگی سے اٹھائیں اور فوری اور مؤثر اقدامات یقینی بنائیں۔

| | ‎ Part 19

21/04/2026

آج عوامی نیشنل پارٹی کے ضلعی صدر گل افضل خان کی سربراہی میں ڈپٹی کمشنر باجوڑ کے ساتھ پی کے 22 کے متاثرین کے حوالے سے اہم اور حتمی ملاقات ہوئی۔
اس موقع پر اُن متاثرین کے مسائل پر تفصیلی گفتگو کی گئی جو امدادی پیکج سے محروم رہ گئے تھے۔ ڈپٹی کمشنر نے یقین دہانی کرائی کہ آج ہی کابینہ کو منظوری کے لیے باقاعدہ خط ارسال کیا جائے گا۔
منظوری کے بعد باقی ماندہ متاثرین کی رجسٹریشن نادرا کے ذریعے کی جائے گی۔
عوام سے گزارش ہے کہ مزید درخواستیں جمع نہ کروائیں اور نہ ہی کسی سفارش کے پیچھے جائیں۔ آپ کا حق آپ کو آپ کے گھر کی دہلیز پر فراہم کیا جائے گا، انشاءاللہ۔

20/04/2026

🟥 باجوڑ میں پیش آنے والا واقعہ نہایت حساس نوعیت کا حامل ہے اور ایک بڑا سانحہ رونما ہوا ہے۔
عوامی نیشنل پارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی نثار باز خان کا اسمبلی اجلاس میں خطاب

🟥 اگر اس ریاست میں واقعی میڈیا آزاد ہے اور اسے ریاست کا چوتھا ستون قرار دیا جاتا ہے تو لازم ہے کہ باجوڑ کے اس واقعے کو اس کے اصل تناظر میں سامنے لایا جائے۔

🟥 وہاں شہید ہونے والا معصوم بچہ نہ فلسطین اور نہ ہی غزہ میں شہید ہوا، بلکہ وہ باجوڑ میں سیکیورٹی فورسز اور عسکریت پسندوں کے درمیان جھڑپ کے دوران جان کی بازی ہار گیا۔

🟥 اسی ظلم کے خلاف باجوڑ میں عوام نے احتجاج کیا کہ آخر ہمارے بچے یہاں کیوں شہید ہو رہے ہیں؟

🟥 26 جولائی کو آپریشن کا اعلان کیا گیا تھا کہ چھ ماہ کے اندر باجوڑ کو دہشت گردوں سے پاک کر دیا جائے گا، مگر اب تقریباً ایک سال گزرنے کو ہے اور باجوڑ میں دہشت گردی بدستور عروج پر ہے۔

🟥 عوام نے دہشت گردی کے خلاف اور امن و امان کے قیام کے لیے اپنے گھر بار چھوڑے، شدید مشکلات برداشت کیں، مگر نہ انہیں تحفظ فراہم کیا گیا اور نہ ہی امن قائم کیا جا سکا۔

🟥 جس دن یہ افسوسناک واقعہ پیش آیا، اسی دن لوگوں کے گھروں کے تقدس کا بھی خیال نہیں رکھا گیا اور ان کے سامنے لوٹ مار کے واقعات پیش آئے۔

🟥 ہمارا مطالبہ ہے کہ اس معصوم بچے کی شہادت پر ایک جوڈیشل کمیشن قائم کیا جائے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ وہ کیوں اور کیسے شہید ہوا، اور اس واقعے میں ملوث عناصر کو قانون کے مطابق سزا دی جائے۔

🟥 جب ہم بار بار یہ کہتے ہیں کہ ہم پر دہشت گردی مسلط کی گئی ہے تو دوسرے صوبوں کے سیاستدان اور عوام اس کی تردید کرتے ہیں، حالانکہ ہم گزشتہ چالیس برسوں سے جنگ کی آگ میں جل رہے ہیں۔

🟥 اگر پاکستان، امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے یا جنگ بندی میں ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے تو یہ ایک مثبت قدم ہے، مگر اپنے گھر کے حالات پر بھی توجہ دینا ضروری ہے۔

🟥 گزشتہ بیس برسوں سے قبائلی علاقے دہشت گردی کی لپیٹ میں ہیں، مگر اس کا کوئی مؤثر حل سامنے نہیں آیا۔ نہ کوئی واضح پالیسی ہے اور نہ ہی امن و امان کے قیام کے لیے سنجیدہ اقدامات نظر آتے ہیں۔

🟥 دہشت گردی کے واقعات تسلسل کے ساتھ جاری ہیں۔ 28 جولائی 2025 سے اب تک 38 سویلین شہید ہو چکے ہیں جبکہ 33 بچے، خواتین اور مرد زخمی ہوئے ہیں۔

🟥 یہ صرف سویلینز کی تعداد ہے؛ جن کے خلاف آپریشن کیا جا رہا ہے، ان میں سے کتنے مارے گئے اور دہشت گردی کا خاتمہ کیوں نہیں ہو رہا، اس بارے میں کوئی وضاحت نہیں دی جاتی۔

🟥 ان تمام واقعات کو ’’کولیٹرل ڈیمیج‘‘ کا نام دیا جاتا ہے، مگر یہ کیسا کولیٹرل ڈیمیج ہے جس میں بار بار عام شہری ہی نشانہ بنتے ہیں؟

🟥 ایک طرف ظلم جاری ہے اور دوسری جانب آئی ڈی پیز کو ریلیف پیکیج بھی فراہم نہیں کیا جا رہا۔ آٹھ سو خاندانوں کو اس سے محروم رکھا گیا ہے، جبکہ 65 شہداء کے لواحقین کو بھی کوئی پیکیج نہیں دیا گیا۔

🟥 ایک طرف ہمارا خون بہایا جا رہا ہے اور دوسری طرف جب ہم دہشت گردی کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں تو ریاستی ادارے حرکت میں آ جاتے ہیں؛ کسی کا نام اے سی ایل میں ڈال دیا جاتا ہے اور کسی پر ایف آئی آر درج کر دی جاتی ہے۔

| |

آج 19 اپریل ہے،19 اپریل 2010 کو اس وقت کے صدر پاکستان آصف علی زرداری نے اٹھارویں آئینی ترمیم پر دستخط کیے تھے۔ اسی اٹھار...
19/04/2026

آج 19 اپریل ہے،19 اپریل 2010 کو اس وقت کے صدر پاکستان آصف علی زرداری نے اٹھارویں آئینی ترمیم پر دستخط کیے تھے۔ اسی اٹھارویں آئینی ترمیم نے پختون قوم کے ایک بڑے حصے کیلئے شناخت جیتا تھا اور صوبہ سرحد خیبرپختونخوا بن گیا تھا۔ اسی اٹھارویں آئینی ترمیم کی برکت سے 17 شعبوں کا انتظام وفاق سے صوبوں کو منتقل کیا گیا۔ آج کا دن یقینا پاکستان کے تاریخ میں انقلابی دن ہے۔پاکستان کے سابق صدر آصف علی زرداری اور اے این پی کے سابقہ مرکزی صدر اسفندیار ولی خان یقینا اس تاریخی آئینی ترمیم پر مبارکباد کے مستحق ہیں۔

Address

Qasba Mandal
Bajauri Koruna
18650

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Awami National Party Bajaur posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Awami National Party Bajaur:

Share