04/08/2026
پی ایم ڈی سی کا افغانستان سے میڈیکل ڈگری حاصل کرنے والے پاکستانی ڈاکٹروں کی پریکٹس پر پابندی کا فیصلہ قابلِ تشویش ہے
🟥 بین الاقوامی تعلقات میں اتار چڑھاؤ اور سیاسی تبدیلیوں کو طلبہ کے تعلیمی مستقبل اور ان کی ڈگریوں سے جوڑنا سراسر ناانصافی ہے۔
🟥 تعلیمی اداروں کی قانونی حیثیت مستقل ہوتی ہے، جبکہ ریاستوں کے درمیان سفارتی تعلقات عارضی اور متغیر ہوتے ہیں۔
🟥 ریاستوں کے سیاسی اختلافات کی قیمت طلبہ کے پیشہ ورانہ مستقبل سے وصول نہیں کی جانی چاہیے۔
🟥 افغانستان سے میڈیکل تعلیم حاصل کرنے والے پاکستانی طلبہ و طالبات کے مستقبل سے کھیلنا ناقابلِ قبول ہے۔
🟥 سینکڑوں طلبہ و طالبات کی برسوں کی محنت، وقت، سرمایہ اور پیشہ ورانہ مستقبل کو ایک انتظامی فیصلے کی بھینٹ چڑھانا انصاف اور میرٹ کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے۔
🟥 سوال یہ ہے کہ جب یہ طلبہ افغانستان کے میڈیکل کالجوں میں داخلے لے رہے تھے، اُس وقت حکومت، پی ایم ڈی سی اور دیگر متعلقہ ادارے کہاں تھے؟
🟥 اگر ان اداروں کو ان ڈگریوں یا تعلیمی اداروں پر تحفظات تھے تو طلبہ کو بروقت واضح پالیسی، مؤثر رہنمائی اور آگاہی کیوں فراہم نہیں کی گئی؟
🟥 عوامی نیشنل پارٹی میرٹ، اعلیٰ تعلیمی معیار اور مریضوں کی حفاظت پر مکمل یقین رکھتی ہے، تاہم ان اصولوں کی آڑ میں ایسے طلبہ کے مستقبل کو تباہ کرنا بھی کسی صورت قابلِ قبول نہیں جنہوں نے قانونی طریقۂ کار کے تحت داخلے لیے، اپنی تعلیم مکمل کی اور اپنی زندگی کے قیمتی سال اس شعبے کے لیے وقف کیے۔
🟥 حکومت، پی ایم ڈی سی اور دیگر متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ اس فیصلے پر فوری طور پر ازسرِ نو غور کیا جائے اور متاثرہ طلبہ کے لیے شفاف، منصفانہ اور میرٹ پر مبنی عبوری طریقۂ کار اور اہلیت کے امتحانات متعارف کرائے جائیں تاکہ اہل اور قابل طلبہ کو اپنے پیشے میں خدمات انجام دینے کا منصفانہ موقع مل سکے۔
🟥
اعجاز الحق
صدر، عوامی نیشنل پارٹی ماندل، ضلع باجوڑ