PTM Janikhel Official

PTM Janikhel Official Pashtun Protection Movement struggling for Permanent peace 🕊️
(2)

جانی خیل میں جاری فوجی آپریشن: تباہ ہوتے گھر، اجڑتے حجرے اور سوالات کے درمیان ایک بے بس قوم!صوبائی حکومت کی ایما پر ضلع ...
16/08/2026

جانی خیل میں جاری فوجی آپریشن: تباہ ہوتے گھر، اجڑتے حجرے اور سوالات کے درمیان ایک بے بس قوم!

صوبائی حکومت کی ایما پر ضلع بنوں کے جانی خیل میں فوجی آپریشن جاری ہے۔ المیہ یہ ہے کہ عین اس وقت جب صوبے کے وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی بنوں میں سٹریٹ موومنٹ میں مصروف ہیں، جانی خیل میں عام لوگوں کے گھر، حجرے اور مساجد فوج بارودی مواد سے منھدم کیے جا رہے ہیں۔

آج شاہد خان کلی اور ممیتن خیل میں کئی غریب خاندانوں کی املاک کو تباہ کر دیا گیا۔ شاہد خان کلی میں مرحوم ملک سلیمان کا کروڑوں روپے مالیت کا حجرہ اور مسجد، مبارک خان کا حجرہ، حمیداللہ کا حجرہ، ایک کمرہ بمعہ چار دیواری اور منڈی خیل میں ایک حجرہ بارودی مواد سے اڑا دیا گیا۔ حمیداللہ کے اسی کمرے میں بندھی پانچ بکریاں بھی اس تباہی سے نہ بچ سکیں۔ یہ صرف اینٹیں، دیواریں اور چھتیں نہیں تھیں؛ یہ غریب لوگوں کی زندگی بھر کی محنت، ان کی یادیں، ان کے سہارے اور ان کے بچوں کا مستقبل تھا۔

گزشتہ روز ممیتن خیل میں جالوتی کا حجرہ، ثناء اللہ (سنی) کا کار واش سنٹر اور اول زمان کا حجرہ بھی بارودی مواد سے تباہ کیے گئے۔ ان تمام گھروں، حجروں اور کاروباری مراکز کو تباہ کرنے کا مبینہ جواز صرف یہ بتایا جا رہا ہے کہ یہاں طالبان آکر کھانا پینا کرتے تھے۔

اگر کسی جگہ کسی مسلح گروہ کی آمد و رفت کا شبہ ہو تو کیا اس کا جواب پورے خاندان کی ملکیت، گھر، مسجد یا کاروبار کو مٹی کا ڈھیر بنانا ہے؟ کیا ایک غریب شہری کی پوری زندگی کی کمائی صرف ایک الزام کی بنیاد پر ختم کی جا سکتی ہے؟ اور اگر کوئی جرم ہوا ہے تو اس کی سزا گھر کے مکینوں، بچوں، بوڑھوں اور بے زبان جانوروں کو کیوں دی جائے؟

جانی خیل کی بے بس قوم ایک ایسی جنگ کے بیچ پس رہی ہے جس میں ایک طرف طالبان اور دوسری طرف ریاستی طاقت موجود ہے، جبکہ قیمت عام لوگ ادا کر رہے ہیں۔ گزشتہ کئی دنوں سے فوجی اہلکاروں کا عام لوگوں کے گھروں پر قابض ہونا پہلے سے مشکلات میں گھری آبادی کی تکالیف میں مزید اضافہ کر رہا ہے۔

تقریباً ایک ماہ سے جانی خیل میں موبائل نیٹ ورک اور انٹرنیٹ بند ہے۔ سینکڑوں دکانوں پر مشتمل منڈی اور مارکیٹ کئی دنوں سے بند پڑی ہے۔ پورا علاقہ محاصرے میں ہے، کرفیو نافذ ہے، آمدورفت محدود ہے اور لوگ اپنے ہی علاقے میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔ روزگار، تعلیم، علاج، کاروبار اور روزمرہ زندگی سب مفلوج ہو چکے ہیں۔

یہ کوئی نیا تجربہ نہیں۔ جانی خیل میں گزشتہ سولہ سال سے مختلف ناموں اور مختلف دعوؤں کے ساتھ آپریشنز جاری ہیں۔ اگر مقصد امن کا قیام تھا تو آج بھی دو یونین کونسلوں پر مشتمل یہ علاقہ خوف، بے یقینی، بدامنی، تباہی اور بربادی کا شکار کیوں ہے؟ سولہ سال بعد بھی اگر امن ایک خواب ہے اور تباہی حقیقت، تو پھر ان کارروائیوں کے نتائج پر سوال اٹھانا ہر شہری کا حق ہے۔

گھروں کو بارود سے اڑانے، بازار بند کرنے، نیٹ ورک کاٹنے، کرفیو نافذ کرنے اور لوگوں کو گھروں میں محصور رکھنے سے وقتی طور پر خاموشی تو پیدا کی جا سکتی ہے، مگر دیرپا امن نہیں۔ ظلم، محرومی اور اجتماعی تکلیف مزید غصہ، نفرت، بے اعتمادی اور بدامنی کو جنم دیتی ہے۔

کیا پی ٹی آئی کی ضلعی قیادت وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی سے جانی خیل میں جاری اس آپریشن کے بارے میں سوال کرے گی؟
کیا جن لوگوں کے گھر، حجرے، مساجد اور کاروبار تباہ کیے گئے ہیں، انہیں ان کے نقصانات کا ازالہ دیا جائے گا؟
کیا جانی خیل کے باشندے بھی اس ملک، اس صوبے اور اس ضلع کے شہری ہیں، یا ان کے لیے آئین، قانون اور بنیادی انسانی حقوق کی کوئی حیثیت نہیں؟
کیا سیکیورٹی فورسز یہ ضمانت دے سکتی ہیں کہ اس آپریشن کے بعد جانی خیل میں واقعی دیرپا اور پائیدار امن قائم ہوگا؟؟

یا پھر آپریشن ختم ہونے کے بعد بھی ہماری بے بس، مظلوم اور محکوم قوم کو کبھی کسی کے ساتھ مبینہ سہولت کاری اور کبھی کسی اور الزام کا طعنہ دے کر روزانہ کی بنیاد پر خوف، ماٹر، ڈرون ،گرفتاری، تشدد اور قتل و غارت کا سامنا کرنا پڑے گا؟؟؟؟؟؟

جانی خیل میں کرفیو، سڑکوں کی بندش اور عوام کی مسلسل آزمائش!آج 14 واں دن ہے کہ جانی خیل مکمل محاصرے کا شکار ہے۔ پیچھلے تی...
15/08/2026

جانی خیل میں کرفیو، سڑکوں کی بندش اور عوام کی مسلسل آزمائش!

آج 14 واں دن ہے کہ جانی خیل مکمل محاصرے کا شکار ہے۔ پیچھلے تین دنوں سے جانی خیل منڈی سے ولی نور تک مرکزی سڑک فوج نے کرفیو نافذ کرکے بند کر رکھی ہے۔ کئی مکانات کو مورچہ بناکر رہائش پزیر ہے، ایک کلومیٹر کے اندر دو دو چیک پوسٹ بنارہے ہیں۔
گزشتہ تین دنوں سے سینکڑوں دکانوں پر مشتمل جانی خیل #منڈی کو بھی مکمل طور پر بند کیا ہے۔ سڑکوں کی بندش نے ممیتن خیل، شاہد خان کلے اور آس پاس کے دیگر دیہات کے لوگوں کی مشکلات کئی گنا بڑھا دی ہیں۔ روزگار، تجارت، آمدورفت اور روزمرہ زندگی عملاً مفلوج ہوچکی ہے۔

ایک طرف سڑکیں بند ہیں، دوسری طرف موبائل سگنل اور انٹرنیٹ بھی گزشتہ ایک ماہ سے بند ہیں۔ ہزاروں لوگ اپنے گھروں، عزیزوں اور مسافروں سے رابطے سے محروم ہیں۔ یہ صرف سڑک اور انٹرنیٹ کی بندش نہیں؛ یہ ایک پورے خطے کی زندگی، معیشت اور انسانی آزادیوں کو مفلوج کرنے کے مترادف ہے۔
جانی خیل دو یونین کونسلوں پر مشتمل وہ بدقسمت خطہ ہے جہاں گزشتہ 16 سال سے فوجی آپریشنز کا سلسلہ جاری ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر سولہ سالہ آپریشنز کے باوجود امن قائم نہیں ہوسکا تو پھر کب تک ہماری نسلوں کو اسی جنگ، خوف اور بے یقینی میں رکھا جائے گا؟
سولہ سالوں میں عوام کو امن نہیں ملا، تعلیم تباہ ہوئی، بنیادی ڈھانچہ برباد ہوا، کاروبار اجڑے اور ہزاروں خاندان مسلسل خوف و بے یقینی کا شکار رہے۔ اگر اس پالیسی کا نتیجہ یہی ہے تو پھر سوال اٹھانا ہمارا حق ہے کہ آخر یہ پالیسی کب بدلے گی؟
جانی خیل کے عوام کو آپریشن نہیں، امن چاہیے؛ کرفیو نہیں، آزادیِ نقل و حرکت چاہیے؛ بند سڑکیں نہیں، کھلے راستے چاہیے؛ خاموش موبائل ٹاور نہیں، اپنے پیاروں سے رابطے کا حق چاہیے۔
ہم مزید ایسی نسلیں نہیں چاہتے جو دھماکوں، کرفیو، بند سڑکوں اور خوف کے سائے میں پروان چڑھیں۔ جانی خیل کے عوام نے بہت کچھ برداشت کیا ہے۔ اب وقت ہے کہ ان کی آواز سنی جائے اور اس خطے کو مستقل امن، بنیادی سہولیات اور باعزت زندگی کا حق دیا جائے۔
دوسری جانب عوامی نمائیندے، صوبائی حکومت، ضلعی انتظامیہ اور میڈیا نے جانی خیل قوم کو تن تنہا چھوڑ دیا ہے۔

پښتون ژغورنې غورځنګ د اوسنۍ وضعیت په هکله مرکزي بیانیه.
11/08/2026

پښتون ژغورنې غورځنګ د اوسنۍ وضعیت په هکله مرکزي بیانیه.

پریس ریلیزجانی خیل میں فوجی آپریشن؛ امن کے بجائے خوف، نقل مکانی اور تباہیجانی خیل میں کئی دنوں سے جاری پاکستانی فوجی ٹار...
10/08/2026

پریس ریلیز

جانی خیل میں فوجی آپریشن؛ امن کے بجائے خوف، نقل مکانی اور تباہی

جانی خیل میں کئی دنوں سے جاری پاکستانی فوجی ٹارگٹڈ آپریشن کے دوران ہندی خیل، ولی نور اور پویا میں 4 بےگناہ افراد شہید جبکہ 20 سے زائد زخمی ہوچکے ہیں۔ مسلسل خوف و بے یقینی کے باعث درجنوں خاندان اپنے گھر چھوڑ کر بنوں شہر کی طرف نقل مکانی پر مجبور ہیں۔

دو روز قبل بچکی جانی خیل میں متعدد مکانات، حجرے اور دکانیں مسمار کی گئیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا گھروں اور کاروباروں کو مسمار کرنے سے دہشتگردی ختم اور علاقے میں امن قائم ہوگا؟ اگر ماضی میں ایسی کارروائیوں اور نقل مکانی کے باوجود امن قائم نہیں ہوا تو پھر وہی طریقہ دوبارہ کیوں دہرایا جارہا ہے؟

جانی خیل قوم نے دونوں فریقین سے متعدد جرگوں کے ذریعے اپیل کی کہ خدارا عام عوام کو مزید نشانہ نہ بنایا جائے، مگر افسوس کہ عوام کو ہر طرف سے مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔ ریاستی اداروں کی جانب سے متعدد بار امن کی ضمانتیں بھی دی گئیں، لیکن زمینی حقیقت آج بھی خون، خوف اور بے یقینی کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔

سگنل، انٹرنیٹ اور راستوں کی بندش نے عوام کی مشکلات مزید بڑھا دی ہیں۔ جانی خیل قوم نے ہمیشہ بدامنی کے خلاف پُرامن اور بھرپور مزاحمت کی ہے جس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔اور آئندہ بھی اپنے بنیادی حقوق، جان و مال کے تحفظ اور امن کے لیے پُرامن جمہوری جدوجہد جاری رکھے گی۔

ہم واضح کرتے ہیں کہ امن عام لوگوں کے گھروں کو مسمار کرنے، نقل مکانی پر مجبور کرنے اور شہریوں کی زندگی اجیرن بنانے سے قائم نہیں ہوگا۔ امن کا راستہ عوام کے تحفظ، انصاف اور مذاکرات سے نکلتا ہے۔

بنوں کے پراپرٹی ڈیلرز سے اپیل ہے کہ اس مشکل گھڑی میں بے گھر خاندانوں کی مجبوری سے فائدہ نہ اٹھائیں، غیر معمولی کرائے اور اضافی کمیشن وصول کرنے سے گریز کریں۔ ورنہ وہ دن دور نہیں کہ اس طرح کے کھٹن حالات اپ پر بھی اجائے۔

جانی خیل کو مزید خون نہیں، امن چاہیے؛
مزید تباہی نہیں، تحفظ چاہیے۔
پشتون تحفظ مومنٹ جانی خیل شعبہ اطلاعات

08/08/2026

غلبېل غلبېل عابد علي سبا د پېښور HMC هسپتال کې اپرېشن کیږې، ټول ملګری دعاګانې ورته وکړې چې ځواني یې بچ شي.
پېښور کې میشتو پښتنو رسول حبیب او اسماعیل پښتین وینه ډونېټ کړه. خدای دې تل اباد لري.
خدای دې زمونږ په وطن رحم وکړي.

د پي ټي ايم شيواه کوارډينټر اسماعيل پشتين بشمول د نورو ملګرو د پارونۍ بنو جاني خېلو کې د رياستي ډرون کواډکاپټر بريد کې ټ...
08/08/2026

د پي ټي ايم شيواه کوارډينټر اسماعيل پشتين بشمول د نورو ملګرو د پارونۍ بنو جاني خېلو کې د رياستي ډرون کواډکاپټر بريد کې ټپي شوي "عابد علي " پوښتنې لا پېښور حيات آباد ميډيکل کمپلېکس ته وراغلو.
عابد علي په يو لاس معزور شوې او يوه پخه يې هم بشپړ ماته شوي ، سبا به يې د پښې آپرېشن کيږي ټولو ملګرو سخه هيله کوه چې "عابد علي" په خپلو دعاګانو کې ياد وساتتۍ ترسو يې آپرېشن کامياب شي .
د سختو زخمونو لا امله ډېرې وينې هم ترې تلالي د وينو کمۍ لا وجې اسماعيل پشتين وينې هم ورکړې.
خدای د اباد لري.

سین تانگہ جانی خیل سے انتہائی دل دہلا دینے والی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔صبح سے اب تک گاؤں کے بیچوں بیچ سیکیورٹی فورسز ا...
08/08/2026

سین تانگہ جانی خیل سے انتہائی دل دہلا دینے والی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔

صبح سے اب تک گاؤں کے بیچوں بیچ سیکیورٹی فورسز اور طالبان کے درمیان شدید جھڑپ جاری ہے۔ ہمیشہ کی طرح ان جنگوں کی سب سے بھاری قیمت عام اور بے گناہ عوام کو چکانا پڑ رہی ہے۔ گولیوں اور دھماکوں کے سائے میں بچے، خواتین، بزرگ اور غریب خاندان اپنی جانیں بچانے کے لیے گھروں سے نکلنے پر مجبور ہیں۔

علاقے کے باشندوں کے مطابق سین تانگہ سے بڑی تعداد میں لوگ نقل مکانی کرچکے ہیں، جبکہ کئی خاندان اب بھی خوف، بے یقینی اور شدید مشکلات میں گھرے ہوئے ہیں۔ یہ صرف ایک واقعہ نہیں؛ ہماری قوم برسوں سے ایسی ہی جنگوں، آپریشنوں، بمباری، نقل مکانی اور بے گناہ انسانوں کے خون کا درد سہہ رہی ہے۔

خدا کے لیے! ہماری سرزمین کو ان ڈالر کی جنگوں سے مزید نہ جلایا جائے۔
ہماری ماؤں کے بیٹے، بہنوں کے بھائی اور بچوں کے سہارے مزید نہ چھینے جائیں۔ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں، اور بے گناہ عوام کو جنگ کا ایندھن بنانا کسی صورت قابل قبول نہیں۔

ہم جانی خیل اور بکاخیل نوجوانوں اور تمام باشعور لوگوں سے اپیل کرتے ہیں کہ اس مشکل گھڑی میں سین تانگہ کے متاثرہ خاندانوں کو تنہا نہ چھوڑیں۔ ان کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کریں اور اپنی استطاعت کے مطابق کھانے پینے کی اشیاء، عارضی رہائش اور دیگر ضروری سہولیات کا بندوبست کریں۔

آج سین تانگہ کے لوگ مصیبت میں ہیں، کل یہ مصیبت کسی اور کے دروازے پر ہوسکتی ہے۔
درد بانٹیں، بے گھر خاندانوں کا سہارا بنیں۔ انسانیت کا ساتھ دیں

08/08/2026

جانی خیل پویا میں کل کے کواڈ کاپٹر حملے میں زخمی نوجوان عابدعلی کو خون کی اشد ضرورت ہیں پشاور حیات آباد میڈیکل کمپلیکس برن سنٹر میں۔
پشاور میں مقیم جانی خیل بکاخیل اور دوسرے اقوام کے لوگوں سے مدد کی اپیل ہے۔
اے پازیٹیو گروپ
رابطہ نمبر 03339724901

جانی خیل میں سات دن، 5 دردناک واقعات!آج ایک بار پھر دن دہاڑے پاکستانی کواڈکاپٹر حملے نے سین تانگہ (پویا)، جانی خیل میں ک...
07/08/2026

جانی خیل میں سات دن، 5 دردناک واقعات!

آج ایک بار پھر دن دہاڑے پاکستانی کواڈکاپٹر حملے نے سین تانگہ (پویا)، جانی خیل میں کمسن نوجوان کی جان لے لی، جبکہ شدید زخمی ہوگیا۔ اس کی ایک ٹانگ کی ہڈی ٹوٹ گئی اور ایک ہاتھ کے علاج کے بارے میں بھی خدشات ہیں۔ اسے مزید علاج کے لیے پشاور HMC ریفر کیا گیا۔

زخمیوں کو ہسپتال پہنچانے کا سفر بھی قیامت سے کم نہ تھا۔ راستے میں پلوں کو بموں سے اڑائے جانے کے باعث انہیں چھ گھنٹے کی اذیت ناک مسافت طے کرنا پڑی۔

صرف ایک ہفتے میں 22 بے گناہ زخمی اور 4 افراد شہید ہوچکے ہیں، جبکہ آج بچکی جانی خیل میں 5 سے زائد املاک بھی تباہ کی گئیں۔

یہ ظلم خاموشی سے ختم نہیں ہوگا؛ زخم جتنے گہرے ہوں گے، غصہ اور مزاحمت اتنی ہی بڑھے گی۔
یہ آپریشن اگر امن کے نام پر ہے تو پھر اس کے نتیجے میں امن کے بجائے خوف، نفرت اور مزید تباہی کیوں جنم لے رہی ہے؟

بنوں: جانی خیل گزشتہ 20 دنوں سے عملاً محاصرے میں ہے۔ ہر قسم کا مواصلاتی نیٹ ورک بند ہے، لوگ دنیا سے کٹ چکے ہیں، جبکہ روز...
06/08/2026

بنوں: جانی خیل گزشتہ 20 دنوں سے عملاً محاصرے میں ہے۔ ہر قسم کا مواصلاتی نیٹ ورک بند ہے، لوگ دنیا سے کٹ چکے ہیں، جبکہ روزانہ ڈرون حملے خوف اور ماتم کی نئی داستان رقم کر رہے ہیں۔ اب تک 3 بے گناہ افراد جان سے جا چکے ہیں اور 20 سے زائد معصوم شہری زخمی ہو چکے ہیں۔ ہر شہادت کے ساتھ ایک گھر اجڑتا ہے، ہر زخمی کے ساتھ ایک خاندان عمر بھر کا درد اپنے سینے میں سمیٹ لیتا ہے۔

اب اطلاعات ہیں کہ مالی خیل، سردی خیل اور قلعہ کے مقام پر فوج نے ہر قسم کی ٹریفک کے لیے سڑک بند کر دی ہے، جس سے پورا علاقہ شدید خوف، بے یقینی اور اضطراب کا شکار ہے۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ بنوں انتظامیہ، صوبائی حکومت اور منتخب سیاسی نمائندوں کی خاموشی مسلسل سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے۔ جب معصوم شہری خون میں نہا رہے ہوں، بچے خوف میں زندگی گزار رہے ہوں اور مائیں اپنے پیاروں کی سلامتی کے لیے ہر لمحہ دعاگو ہوں، تو خاموش رہنا بھی ایک سنگین ذمہ داری کا سوال بن جاتا ہے۔

جانی خیل کے عوام نے بہت دکھ سہے ہیں۔ وہ امن، عزت اور تحفظ کے ساتھ جینے کا حق رکھتے ہیں۔ مزید خون، مزید آنسو اور مزید تباہی کسی مسئلے کا حل نہیں۔

جانی خیل پر رحم کیا جائے۔ بے گناہ شہریوں کی جانوں کو تحفظ دیا جائے، راستے کھولے جائیں، مواصلاتی رابطے بحال کیے جائیں، اور عام عوام کو مزید مصیبت میں نہ دھکیلا جائے۔

پوری پشتون قوم سے درخواست ہے کہ جانی خیل کیلئے اواز اٹھائے۔

پی ٹی ایم جانی خیل کوآرڈینیٹر لطیف وزیر ۔

Address

Bannu Cantonment

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when PTM Janikhel Official posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share