16/08/2026
جانی خیل میں جاری فوجی آپریشن: تباہ ہوتے گھر، اجڑتے حجرے اور سوالات کے درمیان ایک بے بس قوم!
صوبائی حکومت کی ایما پر ضلع بنوں کے جانی خیل میں فوجی آپریشن جاری ہے۔ المیہ یہ ہے کہ عین اس وقت جب صوبے کے وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی بنوں میں سٹریٹ موومنٹ میں مصروف ہیں، جانی خیل میں عام لوگوں کے گھر، حجرے اور مساجد فوج بارودی مواد سے منھدم کیے جا رہے ہیں۔
آج شاہد خان کلی اور ممیتن خیل میں کئی غریب خاندانوں کی املاک کو تباہ کر دیا گیا۔ شاہد خان کلی میں مرحوم ملک سلیمان کا کروڑوں روپے مالیت کا حجرہ اور مسجد، مبارک خان کا حجرہ، حمیداللہ کا حجرہ، ایک کمرہ بمعہ چار دیواری اور منڈی خیل میں ایک حجرہ بارودی مواد سے اڑا دیا گیا۔ حمیداللہ کے اسی کمرے میں بندھی پانچ بکریاں بھی اس تباہی سے نہ بچ سکیں۔ یہ صرف اینٹیں، دیواریں اور چھتیں نہیں تھیں؛ یہ غریب لوگوں کی زندگی بھر کی محنت، ان کی یادیں، ان کے سہارے اور ان کے بچوں کا مستقبل تھا۔
گزشتہ روز ممیتن خیل میں جالوتی کا حجرہ، ثناء اللہ (سنی) کا کار واش سنٹر اور اول زمان کا حجرہ بھی بارودی مواد سے تباہ کیے گئے۔ ان تمام گھروں، حجروں اور کاروباری مراکز کو تباہ کرنے کا مبینہ جواز صرف یہ بتایا جا رہا ہے کہ یہاں طالبان آکر کھانا پینا کرتے تھے۔
اگر کسی جگہ کسی مسلح گروہ کی آمد و رفت کا شبہ ہو تو کیا اس کا جواب پورے خاندان کی ملکیت، گھر، مسجد یا کاروبار کو مٹی کا ڈھیر بنانا ہے؟ کیا ایک غریب شہری کی پوری زندگی کی کمائی صرف ایک الزام کی بنیاد پر ختم کی جا سکتی ہے؟ اور اگر کوئی جرم ہوا ہے تو اس کی سزا گھر کے مکینوں، بچوں، بوڑھوں اور بے زبان جانوروں کو کیوں دی جائے؟
جانی خیل کی بے بس قوم ایک ایسی جنگ کے بیچ پس رہی ہے جس میں ایک طرف طالبان اور دوسری طرف ریاستی طاقت موجود ہے، جبکہ قیمت عام لوگ ادا کر رہے ہیں۔ گزشتہ کئی دنوں سے فوجی اہلکاروں کا عام لوگوں کے گھروں پر قابض ہونا پہلے سے مشکلات میں گھری آبادی کی تکالیف میں مزید اضافہ کر رہا ہے۔
تقریباً ایک ماہ سے جانی خیل میں موبائل نیٹ ورک اور انٹرنیٹ بند ہے۔ سینکڑوں دکانوں پر مشتمل منڈی اور مارکیٹ کئی دنوں سے بند پڑی ہے۔ پورا علاقہ محاصرے میں ہے، کرفیو نافذ ہے، آمدورفت محدود ہے اور لوگ اپنے ہی علاقے میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔ روزگار، تعلیم، علاج، کاروبار اور روزمرہ زندگی سب مفلوج ہو چکے ہیں۔
یہ کوئی نیا تجربہ نہیں۔ جانی خیل میں گزشتہ سولہ سال سے مختلف ناموں اور مختلف دعوؤں کے ساتھ آپریشنز جاری ہیں۔ اگر مقصد امن کا قیام تھا تو آج بھی دو یونین کونسلوں پر مشتمل یہ علاقہ خوف، بے یقینی، بدامنی، تباہی اور بربادی کا شکار کیوں ہے؟ سولہ سال بعد بھی اگر امن ایک خواب ہے اور تباہی حقیقت، تو پھر ان کارروائیوں کے نتائج پر سوال اٹھانا ہر شہری کا حق ہے۔
گھروں کو بارود سے اڑانے، بازار بند کرنے، نیٹ ورک کاٹنے، کرفیو نافذ کرنے اور لوگوں کو گھروں میں محصور رکھنے سے وقتی طور پر خاموشی تو پیدا کی جا سکتی ہے، مگر دیرپا امن نہیں۔ ظلم، محرومی اور اجتماعی تکلیف مزید غصہ، نفرت، بے اعتمادی اور بدامنی کو جنم دیتی ہے۔
کیا پی ٹی آئی کی ضلعی قیادت وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی سے جانی خیل میں جاری اس آپریشن کے بارے میں سوال کرے گی؟
کیا جن لوگوں کے گھر، حجرے، مساجد اور کاروبار تباہ کیے گئے ہیں، انہیں ان کے نقصانات کا ازالہ دیا جائے گا؟
کیا جانی خیل کے باشندے بھی اس ملک، اس صوبے اور اس ضلع کے شہری ہیں، یا ان کے لیے آئین، قانون اور بنیادی انسانی حقوق کی کوئی حیثیت نہیں؟
کیا سیکیورٹی فورسز یہ ضمانت دے سکتی ہیں کہ اس آپریشن کے بعد جانی خیل میں واقعی دیرپا اور پائیدار امن قائم ہوگا؟؟
یا پھر آپریشن ختم ہونے کے بعد بھی ہماری بے بس، مظلوم اور محکوم قوم کو کبھی کسی کے ساتھ مبینہ سہولت کاری اور کبھی کسی اور الزام کا طعنہ دے کر روزانہ کی بنیاد پر خوف، ماٹر، ڈرون ،گرفتاری، تشدد اور قتل و غارت کا سامنا کرنا پڑے گا؟؟؟؟؟؟