Bannu Public Library Bannu

Bannu Public Library Bannu Bannu Public Library Bannu is a public sector organisation, attached with Directorate of Archives and Libraries Department Khyber Pakhtunkhwa.

this institution had been established in 2005.

شجرہ نسب وزیر قوم ۔
04/05/2024

شجرہ نسب وزیر قوم ۔

17/12/2023

Public reading newspaper today on 17th December 2023.

28/11/2023
Interest Free Loan Scheme for all the Government Employees of Khyber Pakhtunkhwa.
22/11/2023

Interest Free Loan Scheme for all the Government Employees of Khyber Pakhtunkhwa.

“Books may look like nothing more than words on a page, but they are actually an infinitely complex imaginotransference ...
25/05/2023

“Books may look like nothing more than words on a page, but they are actually an infinitely complex imaginotransference technology that translates odd, inky squiggles into pictures inside your head.”
― Jasper Fforde, The Well of Lost Plots

📷:

*امریکا کی صرف ایک لائبریری میں کتابوں کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ اگر تمام مسلمان ممالک کی لائبریریز کو اکھٹا کیا جائے تو...
19/02/2023

*امریکا کی صرف ایک لائبریری میں کتابوں کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ اگر تمام مسلمان ممالک کی لائبریریز کو اکھٹا کیا جائے تو تب بھی ان کتب کی تعداد اس ایک لائبریری کے برابر نہیں بنتی*

تصویر میں نظر آنے والی امریکی یونیورسٹی Yale کی یہ لائبریری کئی سو سال پرانی کتابیں رکھتی ہے۔ یہاں کتابوں کی تعداد ڈیڑھ کروڑ سے اوپر ہے۔ ان کتابوں کی حفاظت کے لئے اور انہیں گلنے سڑنے کے عمل سے بچانے کے لئے بہت حفاظت کی جاتی ہے۔

اگر یہاں آگ لگ جائے تو اس لائبریری میں ایسا آٹومیٹک سسٹم ہے جو کتابوں کی حفاظت کے لئے آکسیجن لیول اتنا کم کر سکتا ہے کہ آگ مزید نہیں پھیل سکتی۔ کتابیں کچھ عرصے بعد انفیکشن یا کسی پیتھوجن کے حملے سے گلنا شروع ہو جاتی ہیں یونیورسٹی نے اس مسئلے کے حل کے لئے تحقیق کی اور ایسا میکنزم لایا جس سے پرانی کتابوں کو منفی درجہ حرارت سے ٹریٹ کرکے انکی عمر کو بڑھا دیا جاتا ہے تاکہ اصل نسخے بچ سکیں۔

اس وقت امریکہ کی صرف ایک لائبریری میں کتابوں کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ اگر تمام مسلمان ممالک کی لائبریریز کو اکھٹا کیا جائے تو تب بھی ان کتب کی تعداد اس ایک لائبریری کے برابر نہیں بنتی۔ کانگریس لائبریری 170 ملین یا پھر 17 کروڑ کتابیں رکھتی ہے ان کتابوں کا احاطہ 800 میل بک شیلف ہے۔

اس وقت دنیا کی چالیس بڑی لائبریریز میں، مسلمان دنیا جس کی آبادی دو ارب ہے، کی ایک لائبریری ہے جس میں فقط پانچ لاکھ کتابیں ہیں اسکندریہ کی یہ لائبریری مصر میں اس لئے محفوظ ہے کیونکہ یہ دنیا کی سب سے پرانی لائبریری ہے ورنہ مسلمانوں کو کتب خانے بنانے کی توفیق نہیں رہی۔

اس وقت پاکستان کی سب سے بڑی لائبریری فقط تین لاکھ کتب رکھتی ہے۔ ان کتب میں بھی زیادہ تعداد ریاستی مؤقف کی تائید کرتی ہے اور ان میں ایسی کتب بہت کم ہیں جو قوم کی جذباتیت ابھارنے کے علاوہ ان کا علم بڑھا سکیں۔

ہم نے یہ جنریشن اتنی آسانی سے نہیں بنائی کہ جسے یہ پتا ہونے کی بجائے کہ ہمارا ہمسائیہ ملک بھارت ہے بلکہ انہیں یہ پتا ہے کہ ہمارا دشمن ملک بھارت ہے۔ اور یہ ایک المیہ ہے ہم اپنے بچوں کو سوائے نفرت کے کچھ سکھا ہی نہیں پائے۔ آج ہماری بڑی جنریشن میں سے کوئی بھی تیس سال کی عمر تک بیس کتب بھی نہیں پڑھ پاتا اور جو پڑھ پاتے ہیں وہ اشفاق احمد، عمیرہ اور نمرہ کے شوگر کوٹڈ برین واشنگ ناول ہی پڑھ پاتے ہیں جن میں قرآنی آیات کی اپنے مطالب میں تشریح کی گئی تا کہ ناول کے کردار چل سکیں اور ان کا چورن بک سکے۔

سپر پاور بننا کوئی آسان کام نہیں ہے اس وقت امریکہ کی کچھ لائبریریز مل کر ایک ارب تک کتابیں رکھتی ہیں وہاں ہر سال ایک ایک کتاب لاکھوں کاپیز بیچتی ہے اور یہاں کوئی کتاب پڑھنے والا ہی نہیں ہے.
~~Copied ~~

Try reading books 📚 habit, even if it's too little.
18/02/2023

Try reading books 📚 habit, even if it's too little.

17/02/2023

"In books we never find anything but ourselves. Strangely enough, that always gives us great pleasure, and we say the author is a genius."

By Thomas Mann

Address

Bannu
2800

Opening Hours

Monday 09:00 - 19:00
Tuesday 09:00 - 19:00
Wednesday 09:00 - 19:00
Thursday 09:00 - 19:00
Friday 09:00 - 19:00
Saturday 09:00 - 15:00

Telephone

+92928620981

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Bannu Public Library Bannu posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Bannu Public Library Bannu:

Share

Category