The Bhakkar

The Bhakkar Discovering Bhakkar : A Journey Through Heritage

نیاز احمد خان  کی پیدائش 1920 ہوشیار پور میں ہوئی۔ آپ کا تعلق نیازی  (پٹھان قبیلہ) سے تھا۔ آپ کے والد ہوشیارپور میں کاشت...
17/08/2026

نیاز احمد خان کی پیدائش 1920 ہوشیار پور میں ہوئی۔ آپ کا تعلق نیازی (پٹھان قبیلہ) سے تھا۔ آپ کے والد ہوشیارپور میں کاشتکاری کا کام کرتے تھے اور ساتھ ہی اپنے مویشی بھی پال رکھے ان کا کاروبار بھی کرتے۔ ابتدائی تعلیم کے لیے ہوشیارپور کے مقامی اسکول میں داخلہ لیا لیکن تعلیم میں زیادہ دلچسپی نہ ہونے کی وجہ سے اپنے والد کے ساتھ کاشتکاری شروع کر دی۔ نیاز احمد کے چار بھائی اور دو بہنیں تھی، بھائی نیاز احمد کی طرح اپنے والد کے ساتھ ہی کاشتکاری کرتے تھے۔ نیاز احمد خان نیازی اور منیر نیازی پاکستان کے مشہور شاعر کا ایک ہی خاندان تھا۔
وقت کچھ ایسا بدلا کہ ایک آواز اُٹھی مسلمان کی الگ ریاست جس میں نوجوان بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لینے لگے اور انہی نوجوانوں میں نیاز احمد خان نیازی بھی تھے۔ فسادات کھڑے ہوئے دن بدن مشکلات کھڑی ہوتی گئی۔ مسلمان ہوشیارپور کو چھوڑ کر الگ مسلمان ریاست کی طرف جانے لگے۔ نیاز احمد خان کے خاندان نے بھی فیصلہ کیا کہ اپنی مسلمان ریاست کی طرف جایا جائے اور اس طرح انہوں نے برسوں پورانے شہر کو چھوڑ کر پاکستان کے لیے چل دیے۔ کٹھن اور ذندگی کا سب سے مشکل سفر میں نیاز احمد خان کی ایک بیٹی اسی لڑائی میں شہید ہو گئیں لیکن اپنے سفر کو جاری رکھتے ہوئے پاکستان داخل ہو گئے۔ نیاز احمد خان کے خاندان پہلے گجرات کے قصبہ رتوال میں قیام پزیر ہوئے جس کے بعد ان کو بھکر میں رقبہ الاٹ کیا گیا اور پھر بھکر میں رہائش پذیر ہوے۔
بھکر میں نئی ذندگی کا آغاز کیا لیکن حالات بہت مشکل تھے۔ نیاز آحمد خان نے بھکر میں دوبارہ کاشتکاری شروع کی لیکن ہوشیارپور اور بھکر کی زمین میں بہت فرق تھا لیکن اپنی محنت کو جاری رکھا اور اپنے بچوں کا پیٹ پالتے رہے۔ اپنی محنت اور ہمت سے بچوں کی زندگی آسان بنائی۔ نیاز احمد خان نیازی 1994 میں اس دنیا سے رخصت ہوئے اور اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔

Mukaram Khan

1975دریاخان میں ایک شادی کا فوٹو یہ اس وقت کی بات ہے جب کیمرہ کسی ایک بندے کے پاس ہوتا تھا Photo: Ghulam Hur
17/08/2026

1975
دریاخان میں ایک شادی کا فوٹو یہ اس وقت کی بات ہے جب کیمرہ کسی ایک بندے کے پاس ہوتا تھا
Photo: Ghulam Hur

"میرا نام دلیر سنگھ ہے، میری پیدائش بھکر کے گاوں سادھوالا میں ہوئی۔ میرے بہت ہی پیارے دن بچپن کے سادھوالا میں گزرے۔ میرے...
15/08/2026

"میرا نام دلیر سنگھ ہے، میری پیدائش بھکر کے گاوں سادھوالا میں ہوئی۔ میرے بہت ہی پیارے دن بچپن کے سادھوالا میں گزرے۔ میرے والد سندر سنگھ سادھوالا اور اس کے آس پاس کے دیہاتوں میں کاروبار کرتے تھے وہ انٹوں کا کاروبار کرتے تھے۔ میرے والد تھل کے ریگستانوں اور اس کے علاوہ چولستان اور راجھستان سے بہت ہی اچھی نسل کے انٹ لاتے تھے اور یہاں آکر بیچتے تھے۔ مجھے ابھی تک یاد ہے ہماری ایک "جنج" بارات انٹوں پر دوسرے گاوں گئی تھی جس میں ہم بچے اور عورتیں انٹوں پر سوار تھے اور مرد ساتھ ساتھ پیدل چل رہے تھے۔
سادھوالا ریگستان تھا ریتلی زمین تھی بہت بڑے بڑے ریت کے ٹیلے تھے جو دن کو گرم اور رات کو کچھ ٹھنڈی ہو جاتی تھی۔ اس ریت میں ہم نے بہت کھیلا ہے اور بہت سے لڑکے اکٹھے ہو کر بہت سے کھیل کھیلا کرتے تھے۔ اس ریتلی زمین کی خاص بات یہ تھی کہ اس زمین میں "پِتے" تربوز بہت ہی میٹھے ہوتے تھے۔ میں اکثر گاوں کے کنوے سے پانی نکال کر وہی نہاتا تھا اور لوگ مجھے دیکھتے تھے اور کچھ کہتے تھے بہت ہی پیارا لڑکا ہے۔ ایک دن میں بہت بیمار ہو گیا اور مجھے میری بزگ عورتیں کہتی کہ اسے نظر لگ گئی ہے۔
وساکھی کا مہینہ تھا1947 تو ہم نے سنا کہ کوئی میٹگ ہو رہی ہے جس میں دیس کے ٹکڑے کیے جا رہے ہیں۔ کچھ لوگ کہہ رہے تھے کہ ہمیں گھر چھوڑنے پڑیں گہ لیکن کچھ لوگ کہہ رہے تھے کہ یہ سیاسی جھگڑے ہیں ٹھیک ہو جائیں گے لکن کچھ ہی دنوں میں تقسیم کی بات سننے کو ملی اور ہم پر ہتھیاروں سے لیس ہجوم نے حملہ کر دیا۔ ہمارے بزرگوں نے میٹنگ بٹھائی اور فیصلہ کیا کہ ہم اس ہجوم کا مقابلہ کریں گے ہمارے کچھ لوگ اسلحہ لینے پٹھانوں کے علاقے میں گئے اور بہت زیادہ اسلحہ لے کر آئے۔
ہم نے مقابلہ کرنے کی تیاری کر لی۔ چھت پر نغارے/ڈھول والے بیٹھا دیے جو کسی بھی ہجوم کو دیکھتے نغارہ بجائیں گے اور ساتھ ہی بندوک سے لیس لڑکے بیٹھ گئے جو فائر کریں گے۔ ہمارے پر حملے ہونے شروع ہو گئے اور ہمارے لوگ فائر کرتے رہے دوسری طرف بہت سے لوگ زخمی ہو گئے اس حد تک لڑائی ہوئی کہ حملہ کرنے والے ہجوم کا کوئی بھی واپس نظر نہیں آیا اور سب بھاگ گئے۔ ہم نے خود کو بند کر کے رکھا ہوا تھا کہ کوئی نقصان نہ ہو۔ کچھ جوان پانی بھرنے اور کچھ کھانے کے لیے سکھوں کے خالی گھروں اٹھانے جاتے تھے۔
ہمیں خبر مل گئی کہ تقسیم ہو چکی ہے اور ہمیں اب یہ جگہ چھوڑنی پڑے گی۔ اس وقت کے منسٹر بلدیو سنگھ نے یہاں سے سکھوں کو نکالنے کے لیے آرمی بھیجی۔ ہمارے بزرگوں نے فیصلہ کیا کہ اب یہاں رہنا محفوض نہیں ہے اور ہم نے آرمی کے ٹرک پر سامان رکھنا شروع کر دیا۔ ہمارے بزرگوں کو آرمی نے بتایا کہ بہت سی جگہ پر مارا جا رہا ہے اور بہتر ہے کہ قیمتی چیزیں سونا چاندی یہی چھوڑ جائیں کیونکہ یہ آپ کو کوئی نہیں لے کر جانے دے گا۔ ہمارے بزرگوں نے چاندی سونا جمع کر کے کچھ جگہ پر دفنا دیا ان کا خیال تھا کہ ہم واپس آئیں گے اور ان کو نکال لیں گے، کہا گیا کہ اپنی جوان لڑکیوں کی حفاظت کریں- اور وقت آگیا تھا کہ ہم نے سادھ والا کو خیرآباد کہنا تھا۔
جب ملٹری کے ٹرک سٹارٹ ہوئے اور ٹائر ابھی تھوڑے چلے ہی تھے کہ مرد و عورتوں نے اونچا اونچا رونا شروع کر دیا۔ میں ان کو روتا دیکھ رہا تھا ایسا لگ رہا تھا ک کوئی بہت بڑا نقصان ہوا ہے اور ان کو دیکھتے میری آنکھوں میں بھی آنسو آگئے۔ خیر ٹرک ہمیں لیے حیدرآباد تھل کی طرف چل پڑے۔ یہ ایک بہت ہی دردناک سفر تھا ہمارے جوان بندوک تان کر بیٹھے رہے عورتیں سر نیچے کیے بیٹھی اپنی بچیوں کو بغل لیے بیٹھی تھی۔ ٹرک ریگستان کے بنے ریت کی "لہی" راستے پر لیے جاتا رہا۔
ملٹری نے ہمیں حیدرآباد چھوڑ دیا اور وہ خود کسی اور جگہ سے لوگوں کو لینے چلے گئے، لیکن حیدرآباد میں پہلے ہی ہندو سکھ بہت آگئے تھے ساتھ ساتھ کے دیہاتوں سے انہوں نے بتایا کہ حیدرآباد میں بھی حالات خراب تھے لیکن ملٹری آنے کے بعد کچھ سکون ہو گیا ہے۔ کچھ دن ہمیں حیدرآباد رکھا گیا لیکن وہاں بھوک دیکھنی پڑی کیونکہ لوگ زیادہ تھے اور کھانے کی چیزیں بہت کم تھی بڑی مشکل سے نوالا نوالا ملتا تھا۔ گوردوارہ کے پاس ہی ہمیں رکھا گیا تھا۔ بہت ہی مشکل سے ہم نے وہاں ایک ہفتہ گزارا۔
حیدرآباد کا زیلدار تھا محمد حیات وہ بہت ہی گندا انسان تھا اور بہت ہی ظالم اس میں انسانیت والی کوئی بات نہیں تھی۔ اس نے پہلے ہمارے لوگوں سے اسلحہ لے لیا اور کہا سب اسلہ اس کے حوالے کر دیں۔ اسلحہ ہم سے لے لیا پھر کہا جو زیور ہیں وہ بھی دے دیں، ڈرتے مرتے کیا نہ کرتے سب عورتوں نے جو کچھ پہنا تھا تھوڑا بہت اسے دے دیا۔ وہ شخص زیلدار محمد حیات اتنا ظالم تھا کہ اس نے ہمارے لوگوں سے برتن تک لے لیے آخر ہماری عورتوں نے کہا کہ کچھ رہنے دو جس میں ہم کھا پی سکیں تو اس نے کچھ برتن واپس کیے اور اسی طرح حیدرآباد کے کچھ لوگوں سے اس نے زیور اور قیمتی چیزیں بھی لے لی تھی۔
حکم جاری ہوا کہ ہمیں اٹھارہ ہزاری کمپ میں لے جایا جائے ملٹری کے ٹرک آئے اور ہمیں وہاں سے لے گئے۔اٹھارہ ہزاری میں کمپ میں کھانا پینا اچھا تھا وہاں کا زیلدار خود ہمارے کمپ میں سبزی آٹا بھیجتا تھا۔ ہم وہاں ایک مہینہ رہے اور وہاں سے ہمیں جھنگ مگیانہ بھیج دیا گیا جہاں سے ٹرین پر سوار ہوتے ہمیں انڈیا کی راہ لگا دی گئی۔"
(یہ معلومات دی بھکر پیج کی ٹیم نے دلیر سنگھ کی ڈائیری سے لی گئی ہے جو انہوں نے سفر سادھوالا سے انڈیا کے بارے لکھا ہے اور تصویر میں تصوراتی فوٹو سکچ لگایا گیا ہے)

14/08/2026
پاکستان کی مایہ ناز گلوکارہ نصیبولال کا خاندان 1947 سے پہلے انڈیا علاقہ راجھستان میں رہتے تھے۔ ان کا خاندان چھوٹی موٹی گ...
14/08/2026

پاکستان کی مایہ ناز گلوکارہ نصیبولال کا خاندان 1947 سے پہلے انڈیا علاقہ راجھستان میں رہتے تھے۔ ان کا خاندان چھوٹی موٹی گلوکاری کر کے اپنے گھر کا چولہا چلایا کرتے تھے۔ یہ راجھستان کے ثقافتی گلوکار تھے جو راجھستانی لباس کے ساتھ راجھستانی گانے بھی گایا کرتے تھے۔ اس وقت راجپوتوں کے محلوں میں انگریزوں کو عشایہ رکھا جاتا تو ان مقامی گلوکارں کو بھی بلایا جاتا جن کے لباس اور گانوں سے انگریز بہت خوش ہوتے اور ان کو کچھ انعامات سے بھی نواز دیتے۔ 1947 کی تقسیم کے وقت نصیبولال کا خاندان نے بھی انڈیا سے پاکستان ہجرت کی اور جس ٹرین میں نصیبولال کا خاندان سوار تھا اسی ٹریں میں پاکستان کی ایک اور مشہور گلوکارہ ریشمہ کا خاندان بھی سوار تھا۔ وہ ٹرین ان کو اس وقت کے ضلع میانوالی اور آج کا ضلع بھکر کے شہر کلورکوٹ میں لے آئی۔کلورکوٹ میں آجانے کے بعد نصیبولال کے خاندان نے گلوکاری کو جاری رکھا اور شروع میں ان کے خاندان نے اپنے راجھستان لباس پہنے رکھا جس میں مرد کرتی لنگی اور رنگ برنگی پگڑی اور عورتیں کسی بڑی محفل میں ساڑی پہنتی تھی اور محفل میں ان کے لباس سے مزید نکھار پیدا ہو جاتا اور یہ لباس ان کی ایک پہچان بھی تھی۔ نصیبولال کی والدہ کلورکوٹ کی مشہور "ببلی گڈوی والی" تھیں۔1970 میں اسی ببلی گڈوی والی کی بیٹی پیدا ہوئی جس کا نام نصیبولال رکھا گیا اور واقعی وہ نصیبولال ثابت ہوئی۔ نصیبولال نے بھی کلورکوٹ میں اپنے خاندان کے ساتھ گانے بجانے کا کام کیا اور کلورکوٹ میں ان کو گڈوی والی کے نام سے جانا جاتا تھا۔ نصیبولال کے خاندان کے لوگ کلورکوٹ سے باہر بھی گانا گانے جاتے تھے اور کچھ ان کے لوگ مستقل طور پر بڑے شہروں میں چلے گئے۔ ایک محفل میں نصیبولال کو گانے کا موقع دیا گیا جس کی آواز کو اتنا پسند کیا گیا کہ ان کو بہت سے شادی کے گانے کے پروگرام میں بلایا گیا۔ اسی طرح نصیبولال ریڈیو پاکستان تک پہنچ گئی جہاں انہوں نے اپنی آواز کے ایسے سُر بکھیرے کہ لوگ نصیبولال کو ڈھونڈنے لگے۔ فلم انڈسٹری نے نصیبولال سے بہت گانے رکارڈ کیے لیکن فلم انڈسٹری کے حلات خراب ہونے کے بعد نصیبولال نے لاہور تھیٹر کے لیے گانے رکارڈ کرئے مگر وہ گاے ان کے لیے اچھے ثابت نہ ہوئے۔ ان گانوں میں عیر اخلاقی الفاظ کا استعمال کیا گیا جس کے بعد نصیبولال پر کسی بھی گانا گانے پر پابندی لگ گئی۔ نصیبولال نے عدالت میں گائے گئے گانوں سے معزرت کی اور دوبارہ ایسے گانا نہ گانے کی یقین دلایا جس کے بعد ان کو گانا گانے کی اجازت مل گئی۔ نصیبولال ساڑی پہنتی ہیں اور ایک انٹرویو میں ان سے سوال ہوا کہ آپ زیادہ ساڑی کیوں پہنتی ہیں انہوں نے جواب دیا کہ ہمارا خاندان 1947 سے پہلے راجھستان سے تھا اور وہاں کا ہمارا لباس ساڑی تھا اور پاکستان آنے کے بعد ہم نے یہی اپنا لباس رکھا۔ کلورکوٹ میں پیدا ہونے والی نصیبولال نہ صرف پاکستان بلکہ پاکستان سے باہر بھی اپنے سُر کے جادو جگا چکی ہیں اور بہت سے ملکی اور غیر ملکی عزاز اپنے نام کیے۔

رانا محمد اکبر انڈیا کے شہر ہوشیارپور میں پیدا ہوئے آپ کے والد کا نام رانا برکت تھا جو بہت بڑے زمیندار تھے۔ رانا اکبر نے...
12/08/2026

رانا محمد اکبر انڈیا کے شہر ہوشیارپور میں پیدا ہوئے آپ کے والد کا نام رانا برکت تھا جو بہت بڑے زمیندار تھے۔ رانا اکبر نے ابتدائی تعلیم ہوشیارپور سے ہی حاصل کی۔ مذید تعلیم کے لیے اس وقت کے انڈیا کے شہر لائلپور آگئے جہاں سے آپ نے ویٹنری کی ڈگری حاصل کی اور گولڈ میڈل آپنے نام کیا۔ 1947 میں جب ہند کو حصوں میں تقسیم کیا جا رہا تھا تو آپ کے خاندان نے نئی ریاست پاکستان کی طرف ہجرت کی۔ آپ پہلے سے ہی لائلپور میں رہائش پزیر تھے اور اپنے گھر والوں کو بھی اسی شہر لے آئے۔ کیونکہ آپ کے والد ہوشیارپور کے بڑے زمیندار تھے ان کی ان زمینوں کے بدلے آپ کو پاکستان میں سرگودھا اور منکیرہ میں جگہ ملی۔ لیکن یہ ہوشیارپور کے بدلے بہت ہی کم زرخیز جگہ تھی۔ رانا اکبر کے پاس ویٹنری کی ڈگری تھی تو آپ نے لائوسٹاک میں نوکری حاصل کی اور منکیرہ میں سکونت آختیار کی۔ آپ کی دلچسپی کاشتکاری کی طرف تھی آپ نے اپنی زمین جو منکیرہ میں تھی طرح طرح کے تجربہ شروع کر دیے اس کے ساتھ آپ نے منکیرہ میں پہلا زاتی ڈیری فارم بنایا جس میں پاکستان بھر سے جانور جن میں گائے بھینس بھیڑ اور بکریاں لائی گئی۔ آپ نے اپنی زاتی کوشش سے منکیرہ میں ویٹنری ہسپتال بنوایا۔ آپ دیکھتے ہی دیکھتے منکیرہ کے سرکردہ شخصیت بن گئے۔ آپ نے منکیرہ بھکر اور کلورکوٹ کے غریب لوگوں کی بے حد مدد کی اکثر لوگوں کو لائوسٹاک میں نوکریاں دلوائی۔ آپ نے نوکری کے دوران بہت اچھے تعلقات بنا لیے جن کی بنا پر آپ نے منکیرہ کے بہت سے مسائل حل کروائے۔ آپ نے پہلی دفعہ منکیرہ میں کینو اور مسمی کا تجربہ کیا جس کے بہتر نتائج اور آگر کہا جائے تو آپ پہلے شخص تھے جنہوں نے منکیرہ میں مالٹے کا باغ متعارف کروایا۔
رانا اکبر 1989 میں رٹائر ہوے۔ رٹائرمنٹ کے بعد آپ نے کاشتکاری میں بہت زیادہ توجہ دی۔ آپ 23 جنوری 2011 میں آپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔
رانا اکبر کے دو بیٹے تھے رانا افضل اور رانا اجمل۔
رانا افضل 1959 کو راوپنڈی میں پیدا ہوئے ابتدائی تعلیم میانوالی سے حاصل کی۔ گریجوایشن کے بعد آپ منکیرہ میں رہائش پزیر ہو گئے۔ آپ کو کاشتکاری کا بے حد شوق تھا آپ اپنے والد کے ساتھ ان کی زمیندارے میں مختلف فسلوں کے تجربے کرتے تھے۔ آپ نے اپنے والد کے ساتھ مل کر منکیرہ میں پہلی دفعہ مالٹے کا باغ لگایا اور ایک تجربہ تھا جو کامیاب ہو گیا۔ آپ کے نام سے ایک جگہ کا بام رکھا گیا "کوٹ افضل" جو منکیرہ سے 5 کلومیٹر کی دوری پر ہے۔ آپ کے والد لائیوسٹاک میں تھے ان کو جانوروں کا بے حد شوق تھا اس شوق کو مول آپ نے چڑہایا اور منکیرہ میں پہلی دفعہ امپورٹڈ جانوروں کی نسل لائے یہ تجربہ بھی کامیاب رہا۔ رانا افضل نے ایگریکلچر ڈپارٹمنٹ کے ساتھ مل کر بہت سی فسلوں کا تجربہ کیا جن میں پیاز اور مالٹے کی مذید اقسام بھی تھی, سفیدے اور دوسرے درختوں کے تجربے بھی کیے اور جنگل بھی لگائے۔ آپ نے تحصیل آفس کا ڈزائن بھی دیا اور ویٹنری ہسپتال کی بلڈنگ منکیرہ میں بنوائی جس میں اب پنجاب بنک ہے۔ آپ نے گورنمنٹ کو نہری نظام کو بہتر کرنے کی تجویز بھی دی جس میں نہر کا جال منکیرہ و تھل میں بچھایا جائے تاکہ ریت کی زمین کو زرخیز زمین بنایا جائے۔ رانا افضل کے تمام بڑے تھل کے خاندانوں سے تعلق تھے اور آپ کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا آپ منکیرہ کی غریب عوام کی جتنی مدد کر سکتے تھے کرتے تھے۔ آپ مارچ 2009 میں اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔
رانا اکبر کے دوسرے بیٹے رانا اجمل پولیس ڈپارٹمنٹ میں اپنے فرائز سرانجام دیتے رہے۔ آپ جیل پولیس میں تھے اور سپری ڈنٹ جیل سرگودھا رہے۔ آپ نے ملازمت کی وجہ سے کاشتکاری اور منکیرہ میں وقت نہ گزار سکے۔
تصاویر میں بائیں رانا محمد اکبر، درمیان میں رانا افضل اور دائیں رانا اجمل۔

1947 سے پہلے بھکر شہر کے ایک مشہور سنار کا نام سادھورام تھا۔ سنار کا کام کرنے کے ساتھ ساتھ سادھورام اچھے زمیندار بھی تھے...
11/08/2026

1947 سے پہلے بھکر شہر کے ایک مشہور سنار کا نام سادھورام تھا۔ سنار کا کام کرنے کے ساتھ ساتھ سادھورام اچھے زمیندار بھی تھے- سادھورام کا تعلق زرگر خاندان سے تھا۔ سادھورام کے چھ بیٹے تھے جو سادھورام کے ساتھ ہی سنار کا کام کرتے۔تقسیم کی ہوا چلی تو پنجاب میں فسادات شروع ہو گئے جن کی وجہ سے انسانی جان مال کو خطرہ بن گیا۔ سادھورام کے بچوں نے فیصلہ کیا کہ بھکر کو چھوڑ کر انڈیا جایا جائے ورنہ یہاں ان کو مار دیا جائے گا۔ سادھورام کے بچے اور خاندان کے انڈیا روانہ ہو گئے مگر ان کا ایک بیٹا مول چند کسی وجہ سے اپنے والدین اور خاندان کے ساتھ انڈیا نہ جا سکے۔ کچھ دن مول چند کو خطرہ رہا کہ کوئی ان کو نقصان نہ پہنچائے مگر حالات ٹھیک ہونے پر مول چند نے اپنے آپ کو بھکر میں محفوظ سمجھا۔ مول چند کو ان کے والد کے دوستوں نے کہا کہ اب آپ یہاں محفوظ ہو اور کوئی مسئلہ ہو تو ہمیں بتانا جس کے بعد مول چند کو ہمت ملی۔ مول چند نے اپنے والد کی دکان کو دوبارہ سے کھولا اور اپنے والد کے گاہک کو مائل کیا۔ 1948 میں مول چند نے اسلام قبول کر لیا اور اپنا نام شیخ محمد فتح رکھ لیا جو فتح شیخ سے جانے جاتے تھے۔ فتح شیخ کو اپنے بھائی پرمنند کا کچھ عرصہ بعد خط آیا جس میں انہوں نے بتایا کہ ہم خیر خریت سے انڈیا پہنچ گئے تھے اور اس وقت ہم کیتھل گاوں ضلع کرنال میں ہیں لیکن ہمارے معاشی حالات ٹھیک نہیں ہیں۔ کچھ عرصہ اسی طرح دونوں طرف سے خط چلتے رہے کہ ایک دن فتح شیخ کے بھائی پرمانند ان سے ملنے بھکر پہنچ گئے اور اس کے بعد ان سے ملنے باقی بھائی سورج رام اور گوپی چند بھی بھکر آئے اپنے ابائی گھر دیکھے شہر زمین دیکھی جو اب فتح شیخ کے پاس تھی۔ بعد میں بھائیوں کے ساتھ ان کے بچے بھی آتے اور سب ماتھا ٹیکنے محلہ سردار بخش کے ساتھ ہی مندر میں جاتے۔ فتح شیخ کے بڑے بھائی پرمانند جب بزرگ ہوئے تو بھکر آئے تو انہوں نے واپس جانے سے انکار کر دیا جس کے بعد مقامی پولیس ان کی جان پڑتال کرتی رہی اور بہت انوسٹیگیشن بھی کی۔ پرمانند کی وصیت تھی کہ ان کو بھکر کی ہی زمیں میں دفن کر دیا جائے لیکن فوت ہونے کے بعد ان کی میت کو واپس انڈیا ان کے بچوں کے پاس بھیج دیا گیا اور فتح شیخ کے بچوں نے بتایا کہ جب ان کو بہت تنگ کیا جا رہا تھا انتظامیہ کی طرف سے تو وہ کلمہ پڑھنے کے لیے بھی تیار ہو گئے۔ فتح شیخ نے سنار کا کام اپنے بچوں کو سکھایا جو اچھے کاروباری بن گئے۔ فتح شیخ نے سنار کا کام بچوں کو دے کر خود زمیندارا کرنے لگ گئے اور وہ بھی ان کے لیے اچھا ثابت ہوا۔ فتح شیخ نے بہت عزت کمائی شائد ہی کوئی بھکر کا رہنے والا ہو جو فتح شیخ کو نہ جانتا ہو یہ نام نہ سنا ہو۔ 19ستمبر 2016 کو فتح شیخ 81 سال کی عمر میں فوت ہو گئے۔ ان کی اولاد اج بھی سنار کا کام کرتی ہے۔

Credits: Muhammad Bilal Sheikh

1947روڈی گاوں میں پیدا ہونے والے گوردھن لعل جو بعد میں شیخ محمد دین ہوئے۔ گوردھن لعل 1928 میں چوتھا رام چھابڑا کے ہاں پی...
09/08/2026

1947
روڈی گاوں میں پیدا ہونے والے گوردھن لعل جو بعد میں شیخ محمد دین ہوئے۔ گوردھن لعل 1928 میں چوتھا رام چھابڑا کے ہاں پیدا ہوئے، چوتھا رام کے والد کا نام شانموں رام چھابڑا تھا۔ چھابڑا قوم بہت بڑی قوم تھی اور روڈی گاوں کو چھابڑا قوم نے ہی آباد کیا تھا۔ گوردھن لعل کا خاندان زمیندارا بھی کرتا تھا اور ساتھ ہی ان کے والد کی آٹا چکی تھی روڈی گاوں میں۔ چھابڑا خاندان گاوں کے امیر لوگوں میں سے تھے جن کے گھر اس وقت پکے بنے ہوئے تھے۔ گوردھن لعل کے والد چار بھائی تھے جن میں تیج بان، پرمانند، تھان رام اور چوتھا رام۔ گوردھن لعل کا ایک بھائی تھا جس کا نام روشن لعل تھا۔ گوردھن لعل نے ابتدائی تعلیم روڈی سے ہی حاصل کی لیکن اس کے بعد وہ اپنے والد کے ساتھ آٹے کی چکی چلانے لگے۔ 1946 میں گوردھن لعل کی میبل گاوں سے شادی ہوئی۔
وقت اچھے چل رہے تھے کہ 1947 کا سال آیا اور اس سال کا اگست آیا۔ یہ وہ دن تھے جس میں بھرے گھر لٹے۔ فسادات لڑائی شروع ہو گئی لوگوں کو مارا جا رہا تھا آس پاس کے گاوں سے بری خبریں مل رہی تھی۔ چھابڑا خاندان نے فیصلہ کیا کہ ان حالات میں یہاں رہنا مشکل ہے اور انڈیا چلے جائیں لیکن گوردھن لعل کے والد چوتھا رام انڈیا جانے کو تیار نہ تھے وہ اپنی مٹی روڈی نہیں چھوڑنا چاہتے تھے اسی کشمکش میں حملہ ہو گیا گاوں میں چوتھا رام کے گھر والے زمہ والا میں چوتھا رام کے ایک پٹھان دوست کے گھر چلے گئے اور چوتھا رام روڈی میں ہی رہے باقی سارا خاندان انڈیا چلا گیا۔ چوتھا رام کسی قیمت میں روڈی نہیں چھوڑنا چاہتے تھے لڑتے رہے حملہ آوروں سے کہ آخر چوتھا رام کی لڑائی کے دوران ایک مسلمان بھی مارا گیا یہ نہیں معلوم کہ کس کی گولی سے اس کی جان گئی۔ چوتھا رام نے مسلمانوں سے بات کی اور اسلام قبول کرنا چاہا جس میں ثالث ڈالے گئے اور ان کی رضامندگی سے چوتھا رام کو گھر سے نکال کر ثالث کے پاس لے جایا جانے لگا کے ایک مسلمان نے گولی چلا کر چوتھا رام کی جان لے لی جس پر چوتھا رام کے ساتھ جو ہندو تھے لڑنے لگے تو ان کو بھی مار دیا گیا۔
چوتھا رام کی فیملی زمہ والا میں تھی جن کو خبر دے دی گئی لیکن وہ چوتھا رام کے دوست کے پاس ہی کچھ عرصہ رہے اور مسلمان ہو گئے۔ مسلمان ہونے کے بعد گوردھن لعل سے شیخ محمد دین ہوئے اور روشن لعل احمد دین ہوئے۔ کافی عرصہ زمہ والا مین رہنے کے بعد جب شیخ محمد دین روڈی واپس آئے تو پتا چلا کہ گھر سب مسلمانوں نے لوٹ لیے ہیں اور ان کے گھروں میں اب انڈیا سے آئے مہاجر آباد ہو گئے ہیں، ایک درد بھرا لمحہ تھا کہ گھر میں ہی بےگھر ہو گئے۔ شیخ محمد دین نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنی آٹ چکی کی کوٹھڑی میں رہے کیں اور ان کا بھائی بھی ان کے ساتھ وہی چلے گئے، لیکن اپنے کاشت کی زمین اپنے پاس رکھی۔جن چھابڑا خاندان نے روڈی میں دوسروں کو آباد ہونے کے لیے جگہ دی وہی گھر کی جگہ نہ ملنے پر کھلے آسمان تلے آگئے۔
شیخ محمد دین نے بعد میں کپڑے کی دکان بنالی۔ شیخ محمد دین کے زہن سے کبھی بھی اپنے والد کی بےدردگی کی موت نہیں نکلی اور اکثر اپنی انکھیں نم کرلیا کرتے تھے مگر شیخ صاحب نے کبھی زندگی میں ان مظالم کا کسی سے شکوہ تک نہ کیا۔ محمد دین 2012 میں فوت ہو گئے اور سارے درد اپنے دل میں لیے اپنے خالق کے پاس چلے گئے۔

انڈیا سے آئی رپورٹ میں جاری کی گئی کچھ باتیں جن کو تقسیم نے جنم دیا۔یہ یہاں سے جانے والوں نے جاری کروائی تھی اس وقت کہ و...
08/08/2026

انڈیا سے آئی رپورٹ میں جاری کی گئی کچھ باتیں جن کو تقسیم نے جنم دیا۔یہ یہاں سے جانے والوں نے جاری کروائی تھی اس وقت کہ وہ کسی بچھڑے کو ڈھونڈ سکیں دوبارہ۔ یہ رپورٹ تقریناً ضلع بھکر کی ہے۔
The Brahman station master of Shah Alam railway station was forcibly converted, and later on shot dead when he refused to swallow beef.
In Darya Khan 1,500 Hindus were forcibly converted.
In Sohla Wasti Sikhan of Bhakhar Tehsil, on 5 Sawan (beginning of September) a large number of Hindus and Sikhs were killed. 113 Hindus were forcibly converted and some women were abducted.
In Haidarbad Thal Area in Tehsil Bhakar, from the 25th August onwards villages Sadhwala, Manakera, Khin, Main,Dhinana, Wiri, Karloowala etc. were besieged and Hindus and the few Sikhs forced to quit their homes after great sufferings and being subjected to loot.
A Hindu-Sikh refugee train, which left Mianwali on the 13th
October, was repeatedly attacked on the way between Kundian and
Wan Bhuchran, at Sargodha and Shahdara. On the wav the
refugees suffered acutely for lack of water, which was not given to them.
Total 6150 people killed and misplaced from our lands of District Bhakkar

06/08/2026

Address

Bhakkar

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when The Bhakkar posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share