17/08/2026
نیاز احمد خان کی پیدائش 1920 ہوشیار پور میں ہوئی۔ آپ کا تعلق نیازی (پٹھان قبیلہ) سے تھا۔ آپ کے والد ہوشیارپور میں کاشتکاری کا کام کرتے تھے اور ساتھ ہی اپنے مویشی بھی پال رکھے ان کا کاروبار بھی کرتے۔ ابتدائی تعلیم کے لیے ہوشیارپور کے مقامی اسکول میں داخلہ لیا لیکن تعلیم میں زیادہ دلچسپی نہ ہونے کی وجہ سے اپنے والد کے ساتھ کاشتکاری شروع کر دی۔ نیاز احمد کے چار بھائی اور دو بہنیں تھی، بھائی نیاز احمد کی طرح اپنے والد کے ساتھ ہی کاشتکاری کرتے تھے۔ نیاز احمد خان نیازی اور منیر نیازی پاکستان کے مشہور شاعر کا ایک ہی خاندان تھا۔
وقت کچھ ایسا بدلا کہ ایک آواز اُٹھی مسلمان کی الگ ریاست جس میں نوجوان بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لینے لگے اور انہی نوجوانوں میں نیاز احمد خان نیازی بھی تھے۔ فسادات کھڑے ہوئے دن بدن مشکلات کھڑی ہوتی گئی۔ مسلمان ہوشیارپور کو چھوڑ کر الگ مسلمان ریاست کی طرف جانے لگے۔ نیاز احمد خان کے خاندان نے بھی فیصلہ کیا کہ اپنی مسلمان ریاست کی طرف جایا جائے اور اس طرح انہوں نے برسوں پورانے شہر کو چھوڑ کر پاکستان کے لیے چل دیے۔ کٹھن اور ذندگی کا سب سے مشکل سفر میں نیاز احمد خان کی ایک بیٹی اسی لڑائی میں شہید ہو گئیں لیکن اپنے سفر کو جاری رکھتے ہوئے پاکستان داخل ہو گئے۔ نیاز احمد خان کے خاندان پہلے گجرات کے قصبہ رتوال میں قیام پزیر ہوئے جس کے بعد ان کو بھکر میں رقبہ الاٹ کیا گیا اور پھر بھکر میں رہائش پذیر ہوے۔
بھکر میں نئی ذندگی کا آغاز کیا لیکن حالات بہت مشکل تھے۔ نیاز آحمد خان نے بھکر میں دوبارہ کاشتکاری شروع کی لیکن ہوشیارپور اور بھکر کی زمین میں بہت فرق تھا لیکن اپنی محنت کو جاری رکھا اور اپنے بچوں کا پیٹ پالتے رہے۔ اپنی محنت اور ہمت سے بچوں کی زندگی آسان بنائی۔ نیاز احمد خان نیازی 1994 میں اس دنیا سے رخصت ہوئے اور اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔
Mukaram Khan